Articles مضامین

وہم کی گرفت میں ایک حافظِ قرآن : مفتی اشفاق قاضی

وہم کی گرفت میں ایک حافظِ قرآن
image.png
مفتی اشفاق قاضی
ممبئی میں ایک مقام پر قرآنِ کریم کی تفسیر کا مستقل ایک  نظام ہمارا ہوا کرتا تھا، جہاں ہر ہفتے تفسیر کے حلقے ہوتے، آیات قرآنی پڑھ کر ان کے معانی ومفاہیم کا مذاکرہ ہوتا، اس تفسیر کی مجلس میں جہاں مرد حضرات شریک ہوتے، وہیں خواتین بھی ایک طرف شرعی پردے کے اہتمام کے ساتھ شریک رہتیں، چونکہ یہ مجالس ایک بڑے مکان کے دالان میں ہوا کرتی تھیں، اس لیے دالان کے ایک طرف مرد بیٹھتے اور دوسرے حصے میں خواتین ہوا کرتیں، تفسیر کے بعد مردوں کی طرف سے اور کبھی کبھار خواتین کی طرف سے بھی تفسیر و تشریح یا فقہ و فتاوی سے متعلق سوالات ہوا کرتے تھے، گھر ہونے کی وجہ سے بسا اوقات کچھ رشتہ دار بھی شامل درس ہوا کرتے، ایسے ہی ایک مرتبہ چنئی (فرضی نسبت) سے کچھ رشتہ دار درس میں شریک ہوئے ، جن میں ایک ۲۳سالہ حافظِ قرآن  نوجوان  بھی شامل تھا، نہایت خوش الحان انداز میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے والے، انتہائی نیک، متقی ،خوش اخلاق نوجوان تھا، وہ دینی تربیت کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے بھی آراستہ و پیراستہ تھا اور الحمدللہ ایم بی بی ایس کے آخری سال میں پہنچ چکا تھا، اس نے ملک کے نہایت مشکل سمجھے جانے والے نیٹ NEET امتحان میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کر کے سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ پایا تھا، تعلیم و تربیت دونوں اعتبار سے بھی وہ بہت اچھا تھا، مگر دوسری طرف اسے بہت عجیب و غریب وساوس آتے تھے، تفسیر کی مجلس ختم ہونے کے بعد، اس نوجوان نے درخواست کی کہ مجھے آپ سے تنہائی میں ایک مسئلہ عرض کرنا ہے، جب الگ بیٹھے تو اس نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں حافظِ قرآن ہوں، نماز کا پابند ہوں، لیکن اس کے باوجود میرے ذہن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں، قرآنِ کریم کے بارے میں اور اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں اتنے گندے، نامناسب بلکہ کفر پر مبنی خیالات آتے ہیں کہ میں ان کا ذکر نہیں کر سکتا، وہ یہ کہتے کہتے فرطِ جذبات میں بہت تفصیل سے باتیں کرنے لگا اور ان خیالات کا ذکر بھی کرنے لگا، اس ذکر کو سننا اور سمجھنا میرے لیے ضروری تھا، لیکن حقیقی صورتحال ایسی تھی کہ کسی عام آدمی کے لیے یہ سب سن کر اپنے آپ کو قابو میں رکھنا بھی مشکل ہو جائے، اس کی یہ اذیت محسوس کرکے میرا دل درد سے بھر گیا کہ کس طرح ایک اچھا بھلا انسان اس طرح کے وساوس میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس کی پوری گفتگو سننے کے بعد میرے لیے واضح ہو گیا کہ یہ ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے، جس میں انسان شکوک و شبہات اور وساوس کی دنیا میں بری طرح پھنس جاتا ہے، چنانچہ میں نے اس سے مزید سوالات کیے کہ یہ سب کس وقت زیادہ ہوتا ہے؟ تو کہنے لگا کہ امتحان کے زمانے میں یہ سوالات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں؛ امتحان کی تیاری کے دوران بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جنت کے بارے میں، آخرت کے بارے میں اور قرآنِ کریم جو کہ اللہ کا کلام ہے، اس کے بارے میں عجیب عجیب خیالات اچھلتے ہیں، دوران گفتگو وہ کہنے لگا کہ میرا عقیدہ اور میرا ایمان تو اللہ اور رسول ﷺپر بہت مضبوط ہے اور مجھے خود معلوم ہے کہ ان سب چیزوں کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے، انہیں اگنور کر کے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین رکھنا چاہیے، مگر میں مجبور ہو جاتا ہوں،  اس نے عالمی سطح کے بڑے بڑے شیوخ اور علماء کے نام لیے جن کے کورسز وہ کرچکا تھا اور اسلامی نقطۂ نظر سے اسے ان کورسز سے بہت زیادہ فائدہ بھی ہوا تھا، لیکن اس بیماری اور اس وسوسے سے اسے باہر نکلنا مشکل ہو رہا تھا، حالت یہ تھی کہ وہ قرآنِ کریم پڑھتے پڑھتے جب ان سوالات کا شکار ہوتا، تو اپنے آپ ہی لا حول ولا قوۃ الا باللہ  پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتا تھا اور سر پر بہت ہاتھ مارتا تھا، پھر اسے یہ خیال ستاتا تھا کہ اس طرح کے سوالات میرے ذہن میں آنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا اللہ تبارک و تعالیٰ مجھ سے ناراض ہے؟ اور اگر وہ ناراض ہے تو پھر میری دنیا و آخرت کا کیا ہوگا؟ میں نے اس کی یہ تمام تفصیلی باتیں بہت اطمینان، تحمل اور توجہ سے سنیں، یہاں میں ضمناً ایک بات عرض کروں جو کاؤنسلرز ہیں، علماء ہیں اور مفتیانِ کرام ہیں جن کے پاس لوگ اپنے ایسے مسائل لے کر آتے ہیں؛ ان کے لیے یہ بہت اہم موضوع ہے کہ وہ سامنے والے کی بات کو بہت اطمینان سے سنیں، اسے انگریزی میں ایکٹو لسننگ کہتے ہیں، سامنے والے کی بات کو بہت توجہ کے ساتھ، بہت درد مندی کے ساتھ اور اس کی تکلیف کا پورا احساس کرتے ہوئے سننا اس مسئلے کے حل میں بہت مفیدثابتہوتاہے، اگر سامنے والے کی آنکھوں میں آنسو ہوں، تو سننے والے کے دل پر بھی رقت کی کیفیت ہونی چاہیے، اس کیفیت کے ساتھ جب بات سنی جائے تو ہم اس شخص کے دل کے قریب ہوجاتے ہیں اور سائل کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شخص میرے درد اور میری تکلیف کو پوری طرح سمجھ رہا ہے، اسی کیفیت کے ساتھ میں دیر تک اس کی بات سنتا رہا، بات سننے کے بعد، چونکہ وہ خود میڈیکل کا طالب علم تھا، میں نے اس کے سامنے دماغ کے کام کرنے کے انداز کو طبی طریقہ کار سے سمجھایا کہ دماغ کے اعصابی نظام اور اس کے ردِّعمل کے تحت ہمارا یہ پورا نظام کس طریقے سے متحرک ہو جاتا ہے، اس کے اثرات دماغ پر کیسے پڑتے ہیں، اور پھر دماغ کس طرح پورے جسم کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے، میں نے اسے بتایا کہ’لا حول ولا قوۃ الا باللہ‘ پڑھنے کی صورت میں، بار بار سر پر ہاتھ مارنے کی صورت میں اور بار بار یہ سوچنے کی صورت میں تمہارا ذہن انہی خیالات میں مزید الجھتا چلا جائے گا اور یہی دائرہ مضبوط ہوتا جائے گا اور اس سے تمہارے مسائل مزید پیدا ہوں گے، اس لیے میں نے اس سے سردست یہ کہا کہ اب سے تم نہ اعوذ باللہ پڑھو اور نہ ہی لاحول پڑھو،اگر ذہن میں کوئی وسوسہ آئے، تو اس خیال کی جانب بھی خیال مت کرو؛ خیال آتا رہے گا، جاتا رہے گا، یہ صرف ایک خیال ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں، میں نے اسے فقہِ اسلامی کا ایک سنہرا اور مسلمہ اصول سمجھایا کہ ’’الیَقِینُ لَا یَزُولُ بِالشَّکِّ‘‘  یعنی یقین کبھی شک سے زائل نہیں ہوتا۔ شریعت میں یقین کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس لیے محض شک و شبہ کی کوئی مستقل حیثیت نہیں ؛ یقین مکمل طور پر شک کو زائل کر دیتا ہے، میں نے اسے نماز کی مثال دی کہ اگر کسی کو نماز میں یہ شک ہو جائے کہ میری تین رکعتیں ہوئی ہیں یا چار، تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ شک کو چھوڑ کر تین پر عمل کرے کیونکہ یقین تین پر ہے، میں نے اس طالب علم سے کہا کہ تم ایک پیپر (کاغذ) پر اپنی وہ تمام کیفیات لکھ کر رکھو جن پر تمہیں سو فیصد یقین ہے، جیسے مجھے اللہ کی وحدانیت پر یقین ہے، اللہ کے رسول کی رسالت پر یقین ہے، جنت پر یقین ہے، آخرت پر یقین ہے اور اس پر یقین ہے کہ یہ دنیا اللہ ہی نے بنائی ہے، اس یقینی کیفیت کو اپنے سامنے لکھ کر رکھو اور اب جو شک و شبہ آئے، اس کے لیے نہ کوئی علاج کرو، نہ کوئی ورد کرو اور نہ ہی کوئی توجہ دو؛ کیونکہ جب تم اس کے رد میں کوئی ورد یا وظیفہ کرتے ہو تو اس کا خیال آنا ضروری ہو جاتا ہے، پھر یہی خیالات دماغ کو مزید اسی دائرے میں الجھاتے چلے جاتے ہیں اور یہ مرض بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ بس اسے یکسر نظر انداز کرتے چلے جاؤ،الحمدللہ، دو سے تین تفصیلی مجلسوں کے بعد اسے بہت زیادہ اطمینان ہوا اور وہ اپنی اس کیفیت سے بہت حد تک باہر نکل آیا اور آہستہ آہستہ وہ اپنی مثبت مشغولیات اور پڑھائی میں مصروف ہوتا چلا گیا، اور اس مرض وسوسہ کی شدت بہت حد تک باہر نکلتا چلا گیا اور اس کے شب و روز معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے لگے، اس طرح وہ اپنی نوجوانی ہی میں اس کیفیت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا، الحمدللہ ایک مخلصانہ کوشش تھی جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں کامیابی دی، ان ہی تجربات کی بنیاد پر ہم نے فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر قائم کیا ہے تاکہ ایسے نوجوانوں اور خاندانوں کی دینی اور نفسیاتی دونوں پہلوؤں سے صحیح رہنمائی کی جا سکے، کیونکہ بہت سے لوگ بیماری کو ایمان کی کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ بروقت صحیح رہنمائی ان کی زندگی بدل سکتی ہے، ہمارا مقصد یہی ہے کہ ایسے دکھی انسانوں کو ان کا نفسیاتی پہلو دیکھ کر، انتہائی ہمدردی، رازداری اور درست علمی و نفسیاتی اصولوں کے تحت سنبھال لیاجائے، ایسے مریضوں کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ان کے وسوسوں کو ان کا ایمان نہ سمجھا جائے بلکہ ان کی بیماری سمجھ کر صحیح رہنمائی کی جائے، شریعت انسان کو مشقت میں ڈالنے نہیں بلکہ آسانی اور عافیت عطا کرنے آئی ہے، اس لیے ایسے مریضوں کو ملامت نہیں بلکہ محبت، صحیح رہنمائی اور مناسب نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ اضطراب کی جگہ اطمینان لے لے اور اللہ کی بنائی ہوئی شریعت کی آسانیاں ان کے لیے عافیت کا ذریعہ بن جائیں، بسا اوقات انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا وہم ہوتا ہے، اور اس کا سب سے مؤثر علاج اللہ تعالیٰ پر کامل یقین، صحیح رہنمائی اور صبر کے ساتھ معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ آنا ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے ظاہری و باطنی امراض سے محفوظ رکھے اور اپنی رحمت و عافیت نصیب فرمائے۔ آمین۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

Related posts

قرآن حکیم کے ساتھ ہمارا سلوک

Paigam Madre Watan

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو

Paigam Madre Watan

دو نوجوانوں کا بے دردانہ قتل۔ذمہ دار کون؟

Paigam Madre Watan