کیا یہی اسلام ہے؟
تبلیغ کے نام پر گھر میں دو بیٹیوں کو تنہا چھوڑ کر جانے والے ایک جاہل تبلیغی کے گھر کی المناک کہانی
کچھ دن پہلے کی بات ہے اور واقعہ یوپی کے ضلع بجنور کی ایک بستی کا ہے۔
ایک بھگوا لَو ٹریپ کے معاملے میں بجنور کے ہی ایک گاؤں جانا ہوا۔ ہمیں خبر ملی تھی کہ ایک لڑکی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ چلی گئی ہے۔ لیکن اس کے جانے کے 24 گھنٹے بعد ہی اسے ایک جگہ سے ڈھونڈ کر واپس لے آئے ہیں۔
مگر لڑکی ضد پر اڑی ہوئی تھی کہ اسے اسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ بہر حال ہم لڑکی کو سمجھانے اور معاملے کی گہرائی جاننے کی نیت سے، لڑکی کے والد سے اجازت لے کر ان کے گھر حاضر ہوئے۔
لڑکی کے والد دیکھنے میں بہت دیندار لگتے تھے۔ داڑھی، کرتا، جیب میں مسواک اور ہاتھ میں تسبیح تھی۔
باپ کے ساتھ میں بیٹھ کر ہم نے بات کی
بات کو مختصر کر کے گھر والوں سے ہم نے کہا: "لڑکی سے 5 منٹ تنہائی میں بات کرنی ہے”۔
اجازت ملی تو لڑکی سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ اس نے بھی ہم سے سوال جواب کیے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ بات کیسے شروع ہوئی تھی۔
پھر میں نے اس سے یہ شرط رکھی کہ میں اپ سے ایک مرتبہ بھی یہ نہیں کہوں گا اپ اس لڑکے کے ساتھ نہ جائیں، اپ کی مرضی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بنا اس کو بولنے کا موقع دیے میں نے چند باتیں کی جیسا کہ
اپ خود سمجھدار ہیں اور اگر اپ جانا چاہ رہی ہیں تو یقینا اپ کی کوئی مجبوری ہوگی ۔ جس کے ماں باپ عزت دار ہوں ان کی بیٹی بے حیا کیسے ہو سکتی ہے، بے شرم کیسے ہو سکتی ہے، اتنی نادان کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کے ساتھ چلی جائے، اپ خود پڑھی لکھی ہیں اپ کو تو ایمان کی قیمت معلوم ہے، اپ کو تو حضرت بلال کا واقعہ معلوم ہے
خیر بہت ساری شخصیت کے بارے میں، صحابہ کرام کے بارے میں اس کو بتایا۔ اس کے جذبات کو ابھارا ، تو وہ اپنے جذبات کو قابو نہ رکھ سکی اور اس نے تڑپ کر یہ سوال کیا
"کیا یہی اسلام ہے؟”
جی ہاں۔ اس لڑکی نے روتے ہوئے پوچھا: "بھائی جان سچ بتانا، کیا یہی اسلام ہے جس پر میرے گھر والے عمل کرتے ہیں؟”
میں نے پوچھا: "کیا ہوا؟”
اس نے بتایا:
"میری والدہ نے 40 دن، 6 بار تبلیغی جماعت میں لگائے ہیں۔ دو مرتبہ چار مہینے بھی لگائے ہیں، میرے والد 16 سال سے تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں کتنی مرتبہ وقت لگا چکے۔ دونوں تہجد کے پابند ہیں۔ لوگوں سے رویہ بہت اچھا ہے۔ لیکن گھر میں یہ ظالم ہیں۔
ہم صرف 2 بہنیں ہیں۔ بھائی 1 تھا جس کا انتقال ہو گیا۔ ہماری عمر 26 اور 29 سال ہے۔ نکاح کا کوئی نام نہیں۔ ہمارے کچھ رشتہ داروں نے نکاح کے لیے اصرار کہا تو انہوں نے ان سے بولنا ہی چھوڑ دیا۔
گھر میں پیسے بھی نہیں، کام بھی نہیں کرتے۔ 2 عالموں کے رشتے خود آئے تھے، والد کے ساتھی نے بتایا تھا۔ لیکن صرف برادری الگ ہونے کی وجہ سے انکار کر دیا۔ کچھ جگہ یہ کہہ کر منع کر دیا کہ لڑکے کے پاس چھوٹا گھر ہے۔
اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ہمیں تنہا گھر میں چھوڑ کر دونوں تبلیغی جماعت میں چلے جاتے ہیں۔ ہم نے کئی بار منع کیا کہ سامان کون لائے گا؟ لیکن والد کہتے ہیں: اللہ خود حفاظت کے لیے موجود ہے، فکر کی ضرورت نہیں۔
ایک بار دونوں تبلیغ میں چلے گئے۔ ہمارے پاس پیسے ختم ہو گئے۔ بینک میں پرابلم ہو گئی، پیسے نکل نہیں پائے۔ چونکہ ہم ان لائن پیمنٹ والد صاحب کے اکاؤنٹ سے کرتے تھے بینک والوں نے منع کر دیا کہ جس کا اکاؤنٹ ہے اس کا ہونا ضروری ہے اس لیے بینک سے بھی کچھ نہیں ہو پایا ۔ محلے سے مدد مانگی، کسی نے نہیں کی۔ یہ تو موبائل بھی گھر پر چھوڑ کر جاتے ہیں، بات نہیں کرتے کہ تبلیغ کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔
پھر میں نے اپنی دوست کو کال کی، جو اس لڑکے کی بہن ہے۔ اس نے فوراً مدد کی۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ گھر آئی اور کہا: کوئی پریشانی ہو تو بتانا۔ بس یہیں سے بات شروع ہوئی۔
وہ شام کے وقت میں گھر پہ ائے تھے اور اس روز زور کا طوفان ایا ، بارش ائی، تو ہم نے ان کو گھر پر روک لیا، رات کو ہماری کافی باتیں ہوئی۔ ایک دوسرے کا نمبر بھی ہم نے لے لیا۔
لڑکے کو موقع مل گیا ، مجھے اسلام کے خلاف کھڑا کرنے کا۔ ہم سے دن رات باتیں ہوئیں۔ ہم دونوں بہنیں اسلام چھوڑ چکی ہیں۔ میری بہن لڑکے کے ایک دوست سے بات کرتی ہے۔ ہمارا ارادہ ہندو رسم و رواج سے مندر میں شادی کرنے کا تھا۔
لیکن بھائی، آپ نے امید دلائی، جہنم سے ڈرایا۔ میرے ضمیر کو جگا دیا جو مر چکا تھا،
میں توبہ کرتی ہوں۔ اب کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاؤں گی جو اسلام اور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہو۔”
یہ کہہ کر وہ بہن مجھ سے گلے لگ کر چیخ چیخ کر رونے لگی۔
الحمدللہ دونوں بہنوں نے توبہ کی، تجدید ایمان کیا اور 02/07/2026 کو والدین کے حق میں گواہی بھی دی۔
لیکن سوال ابھی بھی مجھے جھنجھوڑ رہا ہے: کیا یہی اسلام ہے؟
اسی لیے کہتا ہوں: علماء کی نگرانی میں تبلیغ کریں۔
ایسے گھر کے بارے میں کسی بھی مفتی کا فتویٰ یہ نہیں ہوگا کہ "آپ تبلیغ میں جائیں”۔
بلکہ بیٹی کے ایمان و عزت کی حفاظت کرنا، حلال کمائی کر کے انہیں کھلانا، یہی اس مرد کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔
اگر تبلیغ فرض ہے تو ایمان کی حفاظت کیا ہے؟ مال کی حفاظت کیا ہے؟ جان کی حفاظت کیا ہے؟
بدبخت ہے وہ انسان جو تبلیغ نہیں کرتا، لیکن پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تبلیغ کیا ہے۔اج ہمارا معاملہ الگ ہو گیا مدرس کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ تبلیغ نہیں کرتا امام کو ہم سمجھتے ہیں وہ تبلیغ نہیں کرتا

