Articles مضامین

کرپٹو کرنسی :شرعی نقطۂ نظر اورمعاصر فقہی مباحث کا  جامع خاکہ (قسطِ اول) :مفتی یحییٰ معین

کرپٹو کرنسی :شرعی نقطۂ نظر اورمعاصر فقہی مباحث کا  جامع خاکہ (قسطِ اول)

image.png
مفتی یحییٰ معین
اکیسویں صدی کے آغاز میں رونما ہونے والے ٹکنالوجی انقلاب نے جہاں انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا، وہاں معاشی نظام اور لین دین کے روایتی طریقوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں برپا کیں۔ ان تبدیلیوں میں سب سے زیادہ متنازع اور معاصر فقہاء کے لیے فکری چیلنج بن کر ابھرنے والا موضوع ’کرپٹو کرنسی‘ (Cryptocurrency) کا ہے۔ کرپٹو کرنسی کی حقیقت اور اس کے شرعی حکم کو درست طور پر سمجھنے کے لیے سب سے بنیادی مقدمہ یہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اسے محض ایک عام مالیاتی پراڈکٹ یا ایک ہی نوعیت کے مادی اثاثے کے طور پر دیکھنا علمی و فنی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ درحقیقت، کرپٹو کرنسی ایک انتہائی وسیع اور کثیر الجہت اصطلاح ہے، جس کی چھتری تلے مختلف معاشی، قانونی، ساختی اور تکنیکی خصوصیات رکھنے والی متعدد مصنوعات آتی ہیں۔ ان تمام مصنوعات کا نہ تو معاشی ڈھانچہ یکساں ہے، نہ ان کا قانونی مقام برابر ہے، نہ ان کا استعمال اور مروجہ افادیت ایک جیسی ہے اور نہ ہی ان سے وابستہ خطرات یکساں ہیں۔ چنانچہ جب یہ تمام داخلی و خارجی عوامل ایک دوسرے سے مختلف ہیں، تو ان سب کا شرعی حکم بھی لازماً ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر علمی و فقہی دائروں میں اس موضوع پر ہونے والی بحثیں اب محض ’حلال و حرام‘ کے سادہ فتوے سے آگے بڑھ کر ایک وسیع، گہرے اور مسلسل ارتقا پذیر اجتہادی دائرے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں فقہی اصولوں کے ساتھ ساتھ معاشی، قانونی، تکنیکی اور اخلاقی پہلوؤں کا بیک وقت گہرا جائزہ لیا جا رہا ہے۔معاصر فقہی و علمی بحثوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کے قائل علماء کے دلائل اور اسباب بھی یکسر مختلف ہیں۔ بعض اہل علم کے نزدیک کرپٹو کرنسی کی اپنی ذاتی اور حقیقی ساخت کے اندر ہی ایسی بنیادی شرعی خرابیاں موجود ہیں جو اسے سرے سے لائقِ اعتنا نہیں بناتیں۔ اس کے برعکس، بعض دیگر علماء ایسے ہیں جو اس کے وجود کو بذاتِ خود باطل نہیں کہتے، لیکن اس سے وابستہ خارجی خطرات، شدید اتار چڑھاؤ، قیاس آرائی، مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال، صارفین کے ساتھ دھوکے اور فراڈ کے امکانات، اور حقیقی معیشت سے اس کے عدم تعلق کو بنیاد بنا کر اس سے ممانعت کا حکم صادر کرتے ہیں۔ بعض محققین مقاصدِ شریعت کے عظیم الشان اصول، خصوصاً ’حفظِ مال‘ (جان و مال کی حفاظت) کے تحت اس کے معاشرتی و اجتماعی نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے ممانعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لہٰذا، اس ارتقا پذیر بحث کو کسی ایک حتمی نقطے پر مقفل کرنے کے بجائے اس کے تمام جہات کا احاطہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس موضوع کو منظم انداز میں سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے کرپٹو کے دائرے میں آنے والی انواع اور ان کے مابین موجود باریک تکنیکی و معاشی فرق کو سمجھنا ہوگا۔
ڈیجیٹل اثاثہ جات (Digital Assets) کی دنیا میں داخل ہوں تو ہمیں انواع و اقسام کے ٹوکنز اور نظام نظر آتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور اور پہلا نام ’بٹ کوائن‘ (Bitcoin) کا ہے، جو بغیر کسی مادی پشت پناہی کے بلاک چین نیٹ ورک پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ادائیگیوں کے لیے استعمال ہونے والے پیمنٹ ٹوکنز (Payment Tokens)، کسی مخصوص پلیٹ فارم یا سروس تک رسائی فراہم کرنے والے یوٹیلیٹی ٹوکنز (Utility Tokens)، کسی ڈیجیٹل گورننس یا ووٹنگ کا حق دینے والے گورننس ٹوکنز (Governance Tokens)، اور ڈالر یا دیگر روایتی کرنسیوں کے ساتھ منسلک اسٹیبل کوائنز (Stablecoins) شامل ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ سیکیورٹی ٹوکنز (Security Tokens)، حقیقی دنیا کے اثاثوں کی نمائندگی کرنے والے ٹوکنائزڈ ریئل ورلڈ اثاثے (Tokenised Real-World Assets)، منفرد ڈیجیٹل ملکیتی ثبوت یعنی نان فنجیبل ٹوکنز (NFTs) اور اب مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی طرف سے جاری کردہ ڈیجیٹل کرنسیاں (CBDCs) بھی اس دائرے کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان تمام اقسام کے مابین فرق صرف نام کا نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود اثاثوں، جاری کنندہ کے خلاف حاملِ ٹوکن کو حاصل ہونے والے قانونی حقوق، ٹوکن کی حقیقی افادیت، اس کی قیمت کے تعین کے طریقے، گورننس اور ووٹنگ کے حقوق، اور اس ٹوکن کو حقیقی مال یا کرنسی میں تبدیل (Redeem) کرنے کی صلاحیت کا ہے۔ ان تمام باریکیوں کا ناگزیر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بٹ کوائن، اسٹیبل کوائن، سیکیورٹی ٹوکن اور نان فنجیبل ٹوکن (NFT) کو ایک ہی معاشی اور شرعی زمرے میں رکھ کر ان پر یکساں حکم صادر کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ ہر منصوبے، ہر ٹرانزیکشن اور ہر ٹوکن کا شرعی جائزہ انفرادی طور پر لیا جانا ضروری ہے۔کسی بھی نئے ڈیجیٹل اثاثے یا کرپٹو کرنسی کا درست اور جامع شرعی جائزہ لینے کے لیے معاصر فقہاء نے کم از کم پانچ بنیادی سطحیں مقرر کی ہیں، جن پر تحقیق کیے بغیر کوئی بھی رائے قائم کرنا ادھورا کام شمار ہوگا۔پہلی سطح ڈیجیٹل اثاثے کی قانونی اور معاشی حقیقت کا فہم ہے۔ اس سطح پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ کرپٹو اثاثہ حقیقت میں کس چیز کی نمائندگی کر رہا ہے؟ کیا یہ اسلامی فقہ کے معیار کے مطابق ’مال‘ ہے؟ کیا اسے کوئی تجارتی اثاثہ یا عروض مانا جا سکتا ہے؟ کیا یہ رائج الوقت کرنسی ہے یا محض ایک مالی حق (Intangible Right)، کوئی منفعت، قرض، سیکیورٹی، لائسنس ہے یا پھر صرف ایک خیالی، مصنوعی اور تخمینی ڈیجیٹل انٹری ہے؟ اس کے حامل کو عملی اور قانونی طور پر کیا حق حاصل ہو رہا ہے؟دوسری سطح اس مخصوص منصوبے اور اس کے اجرا کے طریقے (Tokenomics) کی جانچ پڑتال ہے۔ اس میں یہ تحقیق کی جاتی ہے کہ کرپٹو کس منصوبے کے تحت اور کس مقصد کے لیے جاری کیا گیا؟ اس کا جاری کنندہ کون ہے اور کیا وہ قانوناً معلوم اور جواب دہ ہے؟ کیا ٹوکن کی سپلائی کا فارمولا اور اس کی تقسیم کا نظام شفاف ہے یا اس کے پیچھے بانیوں (Founders) نے اپنے لیے کوئی خفیہ حصے مختص کر رکھے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے کوئی معتبر کاروبار، حقیقی منصوبہ یا قابلِ استعمال نیٹ ورک موجود ہے؟
شرعی جائزے کی تیسری سطح حصول اور تجارت کے معاملے (Transaction Structure) سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ کرپٹو کس شرعی عقد یا معاہدے کے ذریعے خریدا اور بیچا جا رہا ہے؟ کیا یہ خرید و فروخت حقیقی اور فوری طور پر وقوع پذیر ہو رہی ہے یا یہ مؤجل (ادھار)، بیعِ سلم، لیوریجڈ ٹریڈنگ (Leveraged) یا ڈیریویٹوز (Derivatives) کی شکل میں ہے، جہاں خریدار کو سرے سے حقیقی ملکیت ہی حاصل نہیں ہوتی؟ کیا اس معاملے میں سود (ربا)، غرر (غیر یقینی صورتحال)، قمار (جوا)، دھوکہ یا مارکیٹ کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے کی کوئی ناپاک کوشش شامل ہے؟چوتھی سطح ایکسچینج، پلیٹ فارم اور تحویل (Custody) کے نظام کی مانیٹرنگ ہے۔ جس پلیٹ فارم سے یہ اثاثہ خریدا جا رہا ہے، کیا وہ قانونی طور پر لائسنس یافتہ ہے؟ کیا صارف کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے اثاثے کو اپنے نجی والٹ (Private Wallet) میں منتقل کر کے اس پر حقیقی کنٹرول حاصل کر سکے، یا اس کا کنٹرول محض ایکسچینج کے پاس ہی رہتا ہے؟ کیا ایکسچینج صارفین کے اثاثوں کو اپنے ذاتی اثاثوں سے الگ رکھتی ہے یا انہیں دوسرے صارفین کو قرض دینے یا اپنی سرمایہ کاری میں لگا کر ضائع کرنے کا ریسک لیتی ہے؟پانچویں اور آخری سطح اس کے وسیع تر قانونی، اخلاقی اور مقاصدی اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ اس سطح پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ متعلقہ ملک میں اس اثاثے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا حکومت نے اس پر پابندی عائد کی ہے، اسے ریگولیٹ کیا ہے یا عام اجازت دی ہے؟ کیا اس کا رواج پبلک انٹرسٹ (مصلحتِ عامہ) کے حق میں ہے یا اس سے سوسائٹی میں کوئی بڑا بگاڑ، مالی جرائم، منی لانڈرنگ یا عام لوگوں کی جمع پونجی کے برباد ہونے کا کوئی خدشہ پیدا ہو رہا ہے؟ ان پانچوں نکات پر تفصیلی بحث کے بعد ہی ہم کسی حتمی فیصلے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔اس پورے علمی خاکے کا سب سے نازک اور معرکہ آراء سوال یہ ہے کہ کیا کرپٹو کرنسی شرعی اعتبار سے ’مال‘ کہلانے کی حقدار ہے یا نہیں؟ فقہ اسلامی  میں ’مال‘ کا تصور مادی اشیاء تک محدود نہیں ہے، بلکہ معاصر فقہاء کے نزدیک غیر مادی اور ناقابلِ لمس حقوق و منافع بھی مال کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی غیر مادی چیز کو مال تسلیم کرنے کے لیے چند سخت شرعی اور عرفی معیارات پر پورا اترنا ضروری ہے۔ ان معیارات میں سب سے پہلا معیار ’جائز اور متعین منفعت‘کا ہے؛ یعنی کیا اس ڈیجیٹل ٹوکن کے اندر کوئی واضح اور شرعاً حلال فائدہ موجود ہے؟ دوسرا معیار ’عرفی قدر‘کا ہے؛ یعنی کیا لوگوں کے عرف اور بازار کی عام سمجھ بوجھ میں اسے ایک قیمتی چیز مانا جاتا ہے اور اس کی طلب فرضی کے بجائے حقیقی ہے؟ تیسرا معیار ’اختصاصی کنٹرول‘ کا ہے؛ یعنی کیا کوئی شخص اس پر ایسا کنٹرول حاصل کر سکتا ہے کہ وہ دوسروں کو اس میں تصرف کرنے سے روک سکے؟ چوتھا اور پانچواں معیار ’انتقال، حوالگی اور ملکیت کا ثبوت‘ ہے؛ یعنی کیا بلاک چین ریکارڈ یا نجی کیز (Private Keys) کے ذریعے اس کی ملکیت اور دوسرے کو اس کی حوالگی اس طرح ممکن ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہ رہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ کیا یہ ٹوکن کسی حقیقی اثاثے، خدمت، قرض یا سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے یا یہ محض کمپیوٹر اسکرین پر نظر آنے والی ایک بے حقیقت ڈیجیٹل انٹری ہے جس کی اپنی کوئی بنیاد نہیں؟انہی سوالات کی بنیاد پر معاصر فقہی اداروں کی آراء میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ملائیشین سیکیورٹیز کمیشن کی شرعی مشاورتی کونسل (SAC) بعض مخصوص اور ریگولیٹڈ ڈیجیٹل ٹوکنز کو مخصوص شرائط کے ساتھ مال اور قابلِ تجارت اثاثہ (Tradable Asset) تسلیم کرتی ہے۔ اس کے برعکس، برصغیر کے معتبر اداروں، جیسے دارالعلوم دیوبند، جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی اور بعض دیگر اہم فقہی مجالس کا متفقہ موقف یہ ہے کہ مروجہ کرپٹو  کرنسیاں شرعی معیار کے مطابق معتبر مال نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک یہ کرپٹو کرنسیاں نہ تو حقیقی مال ہیں، نہ درست محلِ بیع (جس کی خرید و فروخت جائز ہو) ہیں، نہ ان پر شرعی اعتبار سے قبضہ تام (صحیح قبضہ) ممکن ہے اور نہ ہی انہیں عرفِ عام میں کوئی مستحکم اور حقیقی معاشی حیثیت حاصل ہے۔ ان شدید فقہی اختلاف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کرپٹو کا مال ہونا ایک متفق علیہ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ دور کا ایک پیچیدہ اجتہادی مسئلہ ہے جس کی گتھیاں سلجھانے کے لیے مسلسل تحقیق کی ضرورت ہے۔کیا کرپٹو کرنسی کو محض مادی اثاثہ کہنے کے بجائے ایک ’حقِ مالی‘ (Financial Right) یا ڈیجیٹل لائسنس مانا جا سکتا ہے؟ بعض محققین کا خیال ہے کہ کرپٹو ٹوکن دراصل کسی مادی جائیداد کے بجائے ایک غیر مادی حق کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب یہاں یہ تجزیہ کرنا ہوگا کہ ٹوکن ہولڈر کو قانوناً اور عملاً کس نوعیت کا حق حاصل ہو رہا ہے۔ کیا اسے جاری کنندہ کے خلاف کوئی معاہداتی دعویٰ (Contractual Claim) حاصل ہے؟ کیا اس کا اس نیٹ ورک کے ریزرو فنڈ میں کوئی حصہ ہے؟ کیا یہ ٹوکن اسے کسی سروس یا پلیٹ فارم تک رسائی کا ڈیجیٹل لائسنس فراہم کر رہا ہے؟ یا پھر یہ کسی کمپنی کے منافع، ووٹنگ رائٹس یا حقیقی سونے اور جائیداد کی ٹوکنائزڈ نمائندگی کر رہا ہے؟ شرعی اصول یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی چیز کا صرف نام یا ظاہری شکل اہم نہیں ہوتی، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس کا حامل عملی طور پر کس حق کو نافذ (Enforce) کروا سکتا ہے۔ اگر کسی ٹوکن کے پیچھے کوئی قانونی دعویٰ یا قابلِ نفاذ حق موجود ہی نہ ہو، اور اس کی قیمت صرف اس وہم پر کھڑی ہو کہ کوئی اور شخص اسے مہنگے داموں خرید لے گا، تو ایسے ٹوکن کی شرعی حیثیت شدید ترین شبہات کی زد میں آ جاتی ہے۔ ان تمام مباحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کرپٹو کی حقیقت کا سفر ابھی جاری ہے اور اس کے شرعی حکم کی تفصیلات مزید علمی ابواب کی متقاضی ہیں۔
(مضمون نگار جید عالمِ دین، ممتاز شریعہ اسکالر، صاحبِ بصیرت تجزیہ نگار، فائنانس ایکسپرٹ اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر بمبئی کے ڈائریکٹر ہیں)

Related posts

دنیا بھی سنور جائے ا ور آخرت بھی!

Paigam Madre Watan

تابِ سخن”  ____  ایک مطالعہ

Paigam Madre Watan

برکت والا ہاتھ

Paigam Madre Watan