امیرؔ جمع ہیں احباب درد دل کہہ لے ۔ پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے
کسی بھی ادارے سے فراغت کے بعد ابنائے قدیم کا دوبارہ اجتماع ایک بڑا مشکل مسئلہ ہوتا ہے، ہر شخص کے اپنے مسائل اور مصروفیات ہوتی ہیں، اور اس بھاگ دوڑ کی زندگی میں ایسے پروگراموں کے لیے وقت نکالنا بھی کار دشوار ہے۔ مگر بھلا ہو ہمارے رفیق گرامی رفیع الہلال کا جنہوں نے فارغین جامعہ سلفیہ 2016 بیچ کے درمیان یہ تحریک پیدا کی کہ دس سال قبل فراغت یاب ہونے والے سلفی طلبہ ایک بار مادر علمی میں جمع ہوں اور ایسی مجلس جمے جہاں عہد ملاقات کی تجدید ہو اور جامعہ میں بتائے ہوئے شب وروز میں ایک بار پھر سے جیا جائے۔ چنانچہ رفیع الہلال کے اس منصوبے کو عاصم افضال نے آگے بڑھایا اور دیگر برادران نے شمولیت کے ذریعہ اس خاکےمیں رنگ بھرا۔
اجتماع کی تاریخ 24/جولائی بروز جمعہ طے ہوئی، جائے انعقاد کے لیے جامعہ سلفیہ بنارس سے زیادہ مناسب کوئی مقام نہیں تھا سو مادر علمی میں حاضری طے پائی۔ ہمارے بَیچ کے بہت سارے فارغین نے اس دعوت پر لبیک کہا اور رخت سفر باندھا، عتیق الصمد نے کیرلا سے، رفیع الہلال اور ظہیر نے بنگال اور جھارکھنڈ سے، مصطفی علی اورخبیب ظفر نے دہلی سے، صبیح عادل نے الہ آباد سے ، محمد نثار اور افضل نے جون پور سے، طارق اسعد، محمد عاصم اور حامد اقبال نے مئو سے حاضری دی۔ بنارس سے رفیق انصاری، احسن خطیب، ریاض احمد اور عبد اللہ انصاری پہلے ہی سے استقبال کے لیے موجود تھے۔ گر چہ یہ تعداد فارغین کی مکمل عدد نہیں تھی مگر پھر بھی ’’گندم اگر بہم نہ رسد بھس غنیمت است‘‘۔
ہماری فراغت-جیسا کہ ذکر ہوا- 2016 میں ہوئی تھی، اس بات کو ایک دہائی کا عرصہ بیت چکا تھا۔ ان دس سالوں میں ہم سب کے احوال بدل چکے تھے، کوئی فراغت کے بعد تدریس سے وابستہ ہو کر تشنگان علوم کو سیراب کر رہا ہے، بعض کا تعلیمی سلسلہ جاری ہے تو دیگر کچھ امامت وخطابت سے وابستہ ہیں، ہمارے رفقائ میں سے مصطفی علی نے سب سے پہلے ڈاکٹریٹ کا مقام حاصل کیا ، بلکہ فی الوقت وہ اکیلے ہی یہ اس ڈگری کے حامل ہیں۔
جمعہ کی نماز کے بعد سب ہی لوگ جامعہ پہنچ چکے تھے، پھر یہاں سے یہ ۱۵ رکنی قافلہ بھیلو پورہ میں واقع بریانی محل ریسٹورنٹ پہنچا اور انواع واقسام کے طعام سے لذت اندوز ہوا۔ کھانے سے فراغت کے بعد تقریبا ۳ بجے مدرسہ زید بن ثابت (جو جامعہ سلفیہ کی شاخ ہے اور یہاں پر حفظ کی تعلیم ہوتی ہے) پہنچے ، یہاں پہنچ کر سب نے سرسری طور پر اپنی موجودہ مشغولیت اور تجربات کا تبادلہ کیا۔ یہ ایک پر لطف محفل تھی جس میں سنجیدگی اور مزاح دونوں کا امتزاج تھا۔ ہر کسی کے پاس یادوں کی ایک زنبیل تھی، تجربات کا ایک خزانہ تھا، ان سب نے مجلس کے وقار کو مزید وقعت عطا کی، ابھی یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ عصر کی اذان ہوئی، مدرسہ زید بن ثابت کے مصلی ہی میں نماز ادا کی گئی اور نماز سے فراغت کے بعد تھوڑی دیر وہاں کے اساتذہ کے ساتھ گفت وشنید ہوئی۔ پھر استاد محترم مولانا عبد المتین مدنی کی دعوت پر آپ کے دولت کدے کا رخ کیاگیا جو مدن پورہ میں طیب شاہ مسجد کے سامنے ہے۔ استاد محترم نے بڑے خلوص اور محبت کے ساتھ ہمارا استقبال کیا اور عمدہ ضیافت فرمائی۔
استاد گرامی کے دولت کدے سے نکل کر اب ہمارا قصد ایک بار پھر مادر علمی کی طرف تھا، مغرب سے ایک گھنٹہ قبل جامعہ پہنچے اور جامعہ کے در و دیوار، سبزہ زاروں، گذر گاہوں، دارالاقامہ اور دیگر مقامات کو دیکھ کر پرانی یادیں تازہ کی گئیں، ہم میں سے جو طلبہ ہاسٹل میں مقیم تھے وہ اپنے پرانے کمروں میں پہنچ کر اپنے عہد رفتہ کی تصویر دیکھ رہے تھے، کچھ لمحوں کے لیے لگا کہ ہم دس سال قبل والے جامعہ میں پہنچ گئے ہیں جہاں ابھی ہم طالب علم تھے۔ جامعہ کے چپہ چپہ سے گذرتے ہوئے پرانے واقعات کو یاد کرنا اور اس کی لذت کو مشام جاں میں بسانا ایک الگ ہی قسم کا احساس تھا گویا:
قفا نبک من ذکری حبیب ومنزل
بسقط اللوی بین الدخول فحومل
بعد ازاں ہمارا یہ قافلہ شیخ الجامعہ واستاد گرامی مولانا محمد مستقیم سلفی کے کمرے میں فروکش ہوا اور ان سے جامعہ کے حال احوال نیز شیخ کی مشغولیات ومصروفیات معلوم کی، استاد محترم پیرانہ سالی کے با وجود تدریسی خدمات بخوبی انجام دے رہے ہیں، ساتھ میں تصنیفی وتالیفی سلسلہ بھی جاری ہے، علاوہ ازیں شیخ الجامعہ کی حیثیت سے جامعہ کے ادارتی امور کی ذمہ داری بھی آپ کے کندھوں پر ہے۔
مغرب کی نماز کے بعد استاد محترم شیخ عبد الکبیر مدنی سے تھوڑی دیر گفت وشنید ہوئی، بعد ازاں استاد گرامی مولانا اسعد اعظمی کے ساتھ جامعہ کی مسجد میں تقریبا پون گھنٹے تک علمی مجلس جمی، شیخ نے طلبہ کی موجودہ مشغولیات اور سابقہ تجربات کے بارے میں استفسار کیا اور تعلیم وتدریس کے حوالے سے بہت سارے مفید مشوروں سے نوازا۔
عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد عشائیہ کا دور چلا اور پھر دیر رات تک محفل جمی رہے، دنیا بھر کے موضوعات زیر بحث رہے، ہر کوئی اس ری یونین کو خوب انجوائے کر رہا تھااور یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ ایسا پروگرام گاہے بگاہے منعقد ہوتے رہنا چاہیے ۔ کل ملا کر دس سال کی طویل مدت کے بعد منعقد یہ مختصر اجتماع ایک یاد گار پر لطف اور قابل تحسین تجربہ رہاجس نے ایک طرف مادر علمی سے ہمارے انسلاک کو مضبوطی عطا کی تو دوسری طرف یادوں کے بہت سارے دریچے وا کیے، ہم میں سے ہر شخص خوش گوار یادوں کی برات لیے جامعہ سے واپس ہوا۔
یہ حرف برگزیدہ و شگفتہ کس زباں کا ہے
یہ نقش کس کی ندرت و لطافت بیاں کا ہے
یہی کلام حق وظیفہ قلب و جسم و جاں کا ہے
خدا گواہ بس اسی کے ذوق آشنا ہیں ہم
کہ گلشنِ رسول کے طیورِ خوشنوا ہیں ہم
*طارق اسعد*
فاضل جامعہ سلفیہ بنارس
See less





