فضیلۃ الشیخ مولانا محمد شاہد جنید سلفی بنارسی رحمہ اللہ
حیات، علمی خدمات، انتظامی کردار اور شخصی اوصاف
عبد الرحمن انصاری
جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم) بنارس کی تاریخ ان مخلص اور جاں نثار شخصیات کی خدمات سے روشن ہے، جنہوں نے مختلف ادوار میں علم و دعوت کی اس عظیم درسگاہ کی تعمیر، استحکام اور ترقی کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کیں۔ ان میں بعض شخصیات نے تدریس و تصنیف کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں، بعض نے دعوت و اصلاح کے ذریعے دینی رہنمائی کا فریضہ ادا کیا، جبکہ بعض نے حسنِ انتظام، دوراندیشی اور خاموش خدمت کے ذریعے ادارے کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا۔
فضیلۃ الشیخ مولانا محمد شاہد جنید سلفی بنارسی رحمہ اللہ کا شمار بھی انہی برگزیدہ شخصیات میں ہوتا ہے، جن کی زندگی دینی اداروں سے وابستگی، حسنِ انتظام اور متوازن قیادت سے عبارت تھی۔
نام، نسب اور خاندانی پس منظر
آپ کا نام و نسب اس طرح ہے: محمد شاہد جنید بن الحاج محمد فاروق بن محمد اسماعیل بن تاج محمد ۔
آپ کی والدۂ محترمہ کا نام صفیہ بی بی تھا۔آپ کا تعلق بنارس کے معروف "تاجا بیوپاری” گھرانے سے تھا، جو بنارسی ساڑی کی تجارت کے ساتھ دینی، علمی اور سماجی خدمات میں بھی نمایاں مقام رکھتا تھا۔ اس گھرانے کی پہچان صرف کاروباری کامیابی نہ تھی، بلکہ دین سے وابستگی، اہلِ علم کی قدر افزائی، دینی اداروں کی اعانت اور رفاہی سرگرمیوں میں بھرپور تعاون بھی اس کا امتیاز تھا۔
اسی دینی مزاج اور خدمتِ خلق کے جذبے کے باعث یہ گھرانہ بنارس کے علمی و دینی حلقوں میں ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔
آپ کے والد محترم الحاج محمد فاروق رحمہ اللہ اگرچہ باقاعدہ عالمِ دین نہیں تھے، لیکن علم، مطالعہ اور اہلِ علم کی صحبت سے غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔ کتابوں کے مطالعے کا انہیں خاص شوق تھا۔ زندگی کے آخری دور میں جب بینائی کمزور ہوگئی، تب بھی ان کا علمی ذوق کم نہیں ہوا، بلکہ وہ گھر والوں سے کتابیں پڑھوا کر سنتے اور اپنے مطالعے کا سلسلہ جاری رکھتے تھے۔
آپ کے والد محترم الحاج محمد فاروق رحمہ اللہ اگرچہ باقاعدہ عالمِ دین نہیں تھے، لیکن علم، مطالعہ اور اہلِ علم کی صحبت سے غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔ کتابوں کے مطالعے کا انہیں خاص شوق تھا۔ زندگی کے آخری دور میں جب بینائی کمزور ہوگئی، تب بھی ان کا علمی ذوق کم نہیں ہوا، بلکہ وہ گھر والوں سے کتابیں پڑھوا کر سنتے اور اپنے مطالعے کا سلسلہ جاری رکھتے تھے۔
علماء سے ان کے گہرے روابط تھے، بالخصوص محدثِ جلیل علامہ عبیداللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ سے ان کا خصوصی تعلق تھا۔
جب علامہ عبیداللہ رحمانی رحمہ اللہ نے اپنی عظیم تصنیف "مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح” کی پہلی جلد مکمل کی اور اس کی اشاعت کے لیے مالی تعاون کی ضرورت پیش آئی، تو الحاج محمد فاروق رحمہ اللہ نے بھرپور تعاون کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی اہلیہ کے زیورات تک فروخت کر دیے تھے۔
جامعہ رحمانیہ بنارس کی علمی ترقی سے بھی انہیں خصوصی دلچسپی تھی۔ مولانا نذیر احمد رحمانی املوی رحمہ اللہ کو جامعہ رحمانیہ میں تدریسی خدمات کے لیے دعوت دینے اور آمادہ کرنے میں ان کا اہم کردار تھا۔ وہ علماء اور دینی اداروں کے بڑے قدردان تھے۔
جماعتِ اہلِ حدیث بنارس کی متعدد مساجد، مدارس اور دینی منصوبوں میں ان کی مالی و عملی معاونت شامل رہی۔
الحاج محمد فاروق رحمہ اللہ کے بڑے بھائی الحاج محمد صدیق رحمہ اللہ سخاوت اور سماجی خدمات کے لیے معروف تھے، جبکہ الحاج محمد صالح بن محمد فاروق رحمہ اللہ کئی برس تک بنارس کے میئر کے منصب پر فائز رہے۔
ولادت اور ابتدائی تربیت
مولانا محمد شاہد جنید سلفی رحمہ اللہ کی ولادت 11 جولائی 1950ء (مطابق 24 رمضان المبارک 1369ھ) کو بنارس کے معروف محلہ مدن پورہ میں ہوئی۔
آپ کی عمر ابھی تقریباً دس برس ہی تھی کہ والد محترم کا سایۂ شفقت اٹھ گیا۔ کم عمری میں والد کی وفات ایک بڑا صدمہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی تربیت کے لیے ایک نیک، دیندار اور باہمت والدہ عطا فرمائی۔ اس کے بعد آپ کی پرورش اور تربیت والدۂ محترمہ صفیہ بی بی کی نگرانی میں ہوئی۔
صفیہ بی بی نہایت دیندار، عبادت گزار اور دعوتی ذوق رکھنے والی خاتون تھیں۔ خواتین میں اصلاحِ عقیدہ، دینی تعلیم اور سنت کی دعوت ان کی زندگی کی نمایاں مصروفیات میں شامل تھیں۔ وہ گھر گھر جا کر خواتین کو دین کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کراتیں، عقائد کی اصلاح، بدعات سے اجتناب اور سنت کی پیروی کی تلقین کرتی تھیں۔
ان کی دعوتی سرگرمیاں صرف مقامی سطح تک محدود نہ تھیں، بلکہ سفرِ حج کے دوران بھی وہ خواتین کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ حج کے موقع پر انہیں سابق امامِ حرم شیخ محمد بن عبداللہ السبیل رحمہ اللہ کی اجازت سے مسجد حرام میں خواتین کے لیے مناسکِ حج اور دینی مسائل پر دروس دینے کا شرف حاصل ہوا۔
حصولِ تعلیم اور علمی سفر
ابتدائی تعلیم گھر کے دینی ماحول میں حاصل کرنے کے بعد، والد محترم کی وصیت کے مطابق آپ کو جامعہ رحمانیہ بنارس میں داخل کیا گیا۔ اس زمانے میں جامعہ رحمانیہ دینی تعلیم کا ایک اہم مرکز تھا اور مولانا نذیر احمد رحمانی املوی رحمہ اللہ کی علمی نگرانی میں ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔
جامعہ رحمانیہ میں آپ نے ابتدائی اور متوسط دینی تعلیم حاصل کی اور وہاں کے ممتاز اساتذہ سے علمی استفادہ کیا۔ آپ کو مولانا عبدالحمید رحمانی، مولانا عبدالوحید رحمانی، مولانا عبدالسلام رحمانی اور مولانا قرۃ العین مبارک پوری رحمہم اللہ جیسے اہلِ علم سے فیض حاصل ہوا۔
سنہ 1967ء میں آپ نے جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم) بنارس میں داخلہ لیا۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے آپ کی ذہانت، سنجیدگی اور علمی استعداد نمایاں تھی۔ آپ کے اساتذہ اور معاصرین آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے تھے۔ چنانچہ سنہ 1970ء میں عالمیت کے امتحان میں آپ نے جامعہ میں نمایاں کامیابی حاصل کی، جبکہ سنہ 1972ء میں فضیلت کی سند امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی۔
جامعہ سلفیہ میں آپ نے اس دور کے ممتاز اساتذہ سے علم حاصل کیا، جن میں مولانا محمد ادریس آزاد رحمانی، مولانا عبدالمعید بنارسی، مولانا شمس الحق سلفی، مولانا عظیم اللہ مئوی، مولانا محمد رئیس ندوی اور ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہم اللہ قابلِ ذکر ہیں۔ اسی طرح جامعہ میں تدریس کے لیے آنے والے بعض عرب علماء سے بھی استفادہ کیا، جن میں شیخ ربیع بن هادی المدخلی، شیخ عبداللہ الغنیمان اور شیخ صالح العراقی شامل ہیں۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا سفر
فضیلت کے زمانۂ تعلیم ہی میں سنہ 1971ء میں آپ کا داخلہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں منظور ہوگیا۔ اسی سال والدۂ محترمہ کے ہمراہ آپ کو فریضۂ حج کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
حج کے دوران آپ مدینہ منورہ پہنچے، جامعہ اسلامیہ میں داخلے کی ضروری کارروائیاں مکمل کیں اور کچھ عرصہ وہاں کے علمی ماحول سے فائدہ اٹھایا۔ لیکن چونکہ آپ حج کے ویزے پر گئے تھے اور مقررہ مدت کے اندر وطن واپسی ضروری تھی، اس لیے آپ کو ہندوستان واپس آنا پڑا۔
بعد میں دوبارہ مدینہ منورہ جا کر تعلیم جاری رکھنے کی خواہش موجود رہی، لیکن خاندانی ذمہ داریوں اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر یہ ممکن نہ ہوسکا۔ چنانچہ آپ نے جامعہ سلفیہ واپس آکر اپنی تعلیم مکمل کی۔
بعد میں دوبارہ مدینہ منورہ جا کر تعلیم جاری رکھنے کی خواہش موجود رہی، لیکن خاندانی ذمہ داریوں اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر یہ ممکن نہ ہوسکا۔ چنانچہ آپ نے جامعہ سلفیہ واپس آکر اپنی تعلیم مکمل کی۔
تدریسی زندگی اور کاروباری مصروفیت
جامعہ سلفیہ سے فراغت کے بعد آپ نے کچھ عرصہ جامعہ رحمانیہ بنارس میں اعزازی طور پر تدریسی خدمات انجام دیں۔ تاہم، خاندانی حالات کے تقاضے کے تحت آپ کو تدریس کا سلسلہ موقوف کر کے تجارتی ذمہ داریاں سنبھالنی پڑی۔
آپ نے کاروبار کو ذریعۂ معاش ضرور بنایا، لیکن علم و دین سے اپنا تعلق کبھی کمزور نہیں ہونے دیا، بلکہ اسے بھی خدمتِ خلق اور خیر کے کاموں کا ذریعہ بنائے رکھا۔
کاروباری معاملات میں دیانت، حسنِ معاملہ، وسعتِ ظرف اور لوگوں کے ساتھ خیرخواهی نے آپ کو اہلِ علم اور اہلِ خیر کے درمیان ایک قابلِ اعتماد اور محترم شخصیت بنا دیا۔
جامعہ سلفیہ کی نظامت اور انتظامی خدمات
جامعہ سلفیہ کی انتظامی تاریخ میں آپ کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ سنہ 1989ء میں جامعہ کے ناظمِ اعلیٰ مولانا عبدالوحید سلفی رحمہ اللہ کی علالت کے زمانے سے آپ نے ادارے کے انتظامی امور میں تعاون شروع کیا۔
سنہ 1990ء میں مجلسِ شوریٰ کے انتخاب کے ذریعے آپ کو باقاعدہ ناظم الامور مقرر کیا گیا۔ ابتدا میں آپ اس ذمہ داری کو قبول کرنے میں متردد تھے، لیکن اکابر کی ترغیب اور خصوصاً شیخ الحدیث علامہ عبیداللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ کی حوصلہ افزائی پر آپ نے یہ ذمہ داری قبول کرلی۔
آپ کے دورِ نظامت کا نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ نے شخصی فیصلوں کے بجائے مشاورت، اعتدال، دیانت اور ادارہ جاتی اصولوں کو بنیادی اہمیت دی۔ آپ کے انتظامی کردار میں یہ حقیقت پوری طرح نمایاں تھی کہ کسی بھی دینی ادارے کی اصل قوت عمارتوں یا مادی وسائل سے زیادہ مضبوط نظم، باہمی اعتماد، اہلِ علم کے احترام اور اجتماعی فیصلوں میں مضمر ہوتی ہے۔
بعد میں کاروباری مصروفیات کے باعث آپ نے ناظم الامور کی ذمہ داری سے سبک دوشی اختیار کی، لیکن جامعہ سلفیہ سے آپ کی محبت اور ادارے کی فکری و انتظامی سرپرستی کا سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا۔
جامعہ سلفیہ کی صدارت اور دیگر دینی خدمات
ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ اور ڈاکٹر جاوید اعظم رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد اکتوبر 2010ء میں مجلسِ شوریٰ نے آپ کو باقاعدہ رئیس الجامعہ (صدر جامعہ سلفیہ) منتخب کیا۔ آپ تاحیات اسی منصب پر فائز رہے۔
جامعہ سلفیہ کے علاوہ بھی آپ نے متعدد دینی اداروں کی خدمت میں حصہ لیا۔ مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند کی مجلسِ عاملہ کے رکن رہے۔ جامعہ رحمانیہ بنارس، کلیۃ اُمہات المؤمنین اور دیگر دینی اداروں کی سرپرستی اور اعانت میں بھی آپ کا نمایاں کردار تھا۔
آپ دینی اداروں کی مدد کو صرف مالی تعاون تک محدود نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ان کے علمی معیار، انتظامی مضبوطی اور دینی وقار کی حفاظت کو بھی ضروری خیال کرتے تھے۔ جہاں ضرورت محسوس کرتے، اپنے تجربے اور مشوروں سے بھرپور رہنمائی فراہم کرتے تھے۔
اخلاق و خصائل اور علمی ذوق
آپ کی شخصیت میں وقار، تواضع، سنجیدگی اور شفقت نمایاں تھی۔ بلند انتظامی مناصب پر فائز ہونے کے باوجود نہایت منکسر المزاج، خوش اخلاق اور سادہ طبیعت انسان تھے۔ نمود و نمائش سے دور رہتے اور خاموشی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کو پسند کرتے تھے۔
آکم گو، متین اور معاملہ فہم شخصیت کے مالک تھے۔ گفتگو میں نرمی، رویے میں شائستگی اور فیصلوں میں اعتدال آپ کی نمایاں صفات تھیں۔ اختلافی امور میں بھی تحمل اور حکمت کا دامن نہیں چھوڑتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہوں۔
اہلِ علم سے آپ کو خاص محبت تھی۔ اپنے تمام اساتذہ کا احترام آپ کی زندگی کا مستقل وصف رہا۔ خصوصاً مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ سے آپ کو خصوصی تعلق تھا۔ آپ اپنے اساتذہ کی علمی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کا ذکر احترام کے ساتھ کرتے تھے۔
آخری عمر تک مطالعہ اور اہلِ علم کی صحبت سے آپ کا شغف برقرار رہا۔ دینی کتابوں سے تعلق، علمی گفتگو میں دلچسپی اور دین کے کاموں کی فکر آپ کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔
علالت، وفات اور تدفین
زندگی کے آخری برسوں میں آپ مختلف عوارض اور علالت کا شکار رہے۔ بڑھتی ہوئی کمزوری اور طبعی نقاہت نے آپ کو جسمانی طور پر نڈھال کر دیا تھا۔
بالآخر 14 اپریل 2025ء (بروز پیر) صبح تقریباً آٹھ بجے آپ نے 75 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی۔ آپ کی وفات سے جامعہ سلفیہ بنارس اور جملہ دینی حلقوں نے ایک مخلص، صاحبِ بصیرت اور خاموش خدمت گزار شخصیت کو کھو دیا۔
نمازِ جنازہ اسی روز بعد نمازِ عشاء جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم) بنارس میں ادا کی گئی، جس میں علماء، طلبہ، متعلقین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں آپ کو آبائی قبرستان "سکرا کے باغ” میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ مولانا محمد شاہد جنید سلفی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی حسنات کو قبول فرمائے، بلند درجات سے نوازے اور ان کی تمام علمی، دینی، انتظامی اور رفاہی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
حوالہ جات
١. تاریخ جامعہ رحمانیہ مدن پورہ، بنارس
٢. کاروان سلف حصہ ششم
٣ . ماہنامہ ‘محدث’ بنارس، اپریل ۱۹۹۰ء
٤. پندرہ روزہ جریدہ ‘ترجمان’ یکم تا ۱۵ مئی ۲۰۲۵ء
٥. متفرق مضامین و تعزیتی پیغامات


