National قومی خبریں

مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی، مولانا حلیم اللہ قاسمی مسودہ تیا رکرنے والی کمیٹی میں مسلم نمائندگی ضروری، ایڈوکیٹ نیاز احمد لودھی

مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی، مولانا حلیم اللہ قاسمی
مسودہ تیا رکرنے والی کمیٹی میں مسلم نمائندگی ضروری، ایڈوکیٹ نیاز احمد لودھی
ممبئی 27/ جولائی
بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مہاراشٹر سرکار نے مہاراشٹر میں یکسان سول کوڈ نافذ کرنے کے لیئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔حکومت مہاراشٹرنے اس تعلق سے سابق سپریم کورٹ جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی قیادت میں سات رکنی کمیٹی کمیٹی تشکیل دی ہے جواس کا مسودہ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی رائے ہموار کریگی۔اس تعلق سے آج دفتر جمعیۃ علماء مہاراشٹر میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی، نائب صدر جمعیۃ علماء مالیگاؤں ایڈوکیٹ نیاز احمد لودھی، قانونی مشیر ایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ایڈوکیٹ انصار تنبولی نے شرکت کی۔دوران میٹنگ ایڈوکیٹ نیاز احمد لودھی نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کے اس اقدام کی سخت مخالفت کی جانی چاہئے اور یہ مخالفت قانونی پہلوؤں پر مبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے تعلق سے بنائی گئی کمیٹی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹرکی نمائندگی ہونا چاہئے جس کے لیئے ابھی سے متعلقہ افراد سے خط و کتابت کرنا چاہئے۔ایڈوکیٹ نیاز احمد لودھی سے مخاطب ہوتے ہو ئے مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی ہر طرح سے مخالفت کی جائے گی نیز مسلمانوں کی نمائندگی کے لیئے یقینا کوشش کی جائے گی۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ اقلیتی طبقہ بالخصوص مسلمانوں کی مخالفت کے باوجود اگر حکومت یکساں سول کوڈ کا ریاست میں نفاذ کرتی ہے تو جمعیۃ علماء مہاراشٹر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع ہونے سے گریز نہیں کریگی۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ جب سے مہاراشٹر حکومت نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ابھی یہ کسی کو نہیں معلوم ہے ریاست میں یکساں سول کوڈ کس شکل میں آئے گا، اس کا دائرہ کار کیا ہوگا اور اس کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی اور مذہبی حقوق پر کیا اثر پڑے گا لیکن جس طرح کا یکساں سول کوڈ قانون اتراکھنڈ میں سرکار نے نفاذ کیا ہے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہونا فطری ہے۔مولاناحلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ یکساں سول کوڈ قانون کے نافذ ہوجانے سے مسلم پرسنل لاء کے تحت نکاح، مہر، طلاق، وراثت، سرپرستی اور دیگر خاندانی معاملا ت جو مذہبی اور فقہی روایت سے جڑے ہوئے ہیں ان میں بالراست مداخلت ہوگی۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ حکومت مہاراشٹر نے سات رکنی کمیٹی جو بنائی ہے اس میں مسلمانوں کو نمائندگی نہیں دی گئی اور نا ہی دیگر اقلیتوں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا۔ اگر حکومت واقعی ایک ایسا قانون بنانا چاہتی ہے جو تمام شہریوں پر یکساں نافذ ہو تواس کمیٹی میں تمام شہریوں کی نمائندگی ہونا چاہئے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے نافذ ہونے سے صر ف مسلمانوں کو نقصان نہیں ہوگا بلکہ صوبے میں رہنے والی دیگر اقلیتوں کو بھی اس سے شدید نقصان ہوگا۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ کمیٹی کی کارروائی میں زیادہ سے زیادہ شفافیت اختیار کرے، مجوزہ مسودہ عوام کے سامنے پیش کرے، عوامی رائے طلب کرے اور خصوصاً مسلمانوں کی نمائندگی کی یقینی بنائے کیونکہ شہریوں کی شناخت مختلف ہوسکتی ہے لیکن ان کے آئینی حقوق برابر ہیں۔

Related posts

भ्रष्ट ख्वाजा मोइनुद्दीन तेलंगाना वक्फ भूमि मामला अधिकारी

Paigam Madre Watan

اتحاد اللہ کی نعمت ہےاسلام کی ہر عبادت میں اجتماعیت اور اتحاد کاسبق ہے

Paigam Madre Watan

AMBASSADOR DR. M.A. NAJEEB CALLS FOR PEACEFUL UNITY TO SAFEGUARD WAQF PROPERTIES AND MUSLIM RIGHTS IN INDIA

Paigam Madre Watan