Articles مضامین

نشے کی طویل جنگ کے بعد عاصم کی نئی صبح : مفتی اشفاق قاضی

نشے کی طویل جنگ کے بعد عاصم کی نئی صبح

image.png

مفتی اشفاق قاضی

انسان کی زندگی میں بعض اوقات ایک غلط قدم ایسا موڑ بن جاتا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ برسوں تک دکھائی نہیں دیتا، ابتدا میں محض شوق، تجسس یا غلط صحبت میں اٹھایا گیا ایک قدم رفتہ رفتہ ایسی زنجیر بن جاتا ہے جو انسان کی صحت، سوچ، کردار، روزگار اور رشتوں سب کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے،  نشہ صرف ایک فرد کی تباہی کا نام نہیں، بلکہ اس کے اثرات گھر کی چار دیواری سے نکل کر پورے خاندان کے سکون کو متاثر اور تہ وبالا کردیتے ہیں،خاندان کا ایک فردجب نشے کی قید میں گرفتار ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اس کی بیوی، بچے، والدین اور بہن بھائی بھی ایک طویل آزمائش سے گزرتے ہیں، ایسا ہی ایک نشے کی لت میں مبتلا شخص کا درد بھرا معاملہ ۱۶اپریل ۲۰۲۶کو فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں آیا، جہاں دو خواتین ایک نشے کے شکار شخص کی اہلیہ اور دوسری اس کی بڑی بہن ،انتہائی پریشانی، بے بسی اور امید کے ملے جلے جذبات کے ساتھ ہمارے مرکز پہنچیں، ان کے چہروں پر برسوں کی اذیت اور دل میں ایک ہی سوال تھا کہ کیا ان کا عزیز اس تباہ کن عادت سے نجات حاصل کر سکتا ہے؟ انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک اپنے گھر کے حالات، درپیش مشکلات اور اس کرب کا ذکر کیا جس سے وہ مسلسل گزر رہے تھے، انہیں حوصلہ دیا گیا کہ نشہ اگرچہ ایک خطرناک بیماری ہے، لیکن مناسب علاج، مسلسل رہنمائی اور مضبوط ارادے کے ذریعے اس سے باہر نکلنا ممکن ہے، انہیں مشورہ دیا گیا کہ متاثرہ شخص کو مرکز لایا جائے تاکہ اس کی اصل صورتحال کو سمجھ کر مناسب طریقۂ علاج اختیار کیا جا سکے، جب ۳۸سالہ عاصم شیخ (فرضی نام)، ساکن ناگپاڑہ، ہمارے سامنے آئے تو ان کی زندگی کے پچیس سالہ سفر کی ایک تلخ تصویر سامنے آئی،طبی و نفسیاتی اعتبار سے وہ متعدد نشوں کے استعمال کی بیماری (پولی سبسٹنس یوز ڈس آرڈر) کا شکار تھے، کم عمری ہی میں، تقریباً ۱۰سے ۱۲سال کی عمر میں، نشے کی دنیا میں قدم رکھنے والے عاصم گزشتہ کئی برسوں سے تمباکو، چرس، گانجا، بٹن، ایم ڈی اور براؤن شوگر (گرد) جیسے خطرناک نشوں کے استعمال میں مبتلا تھے، پچیس سال کی اس طویل جدوجہد نے ان کی زندگی کے کئی شعبوں کو متاثر کر دیا تھا، روزگار ختم ہو چکا تھا، قرض کا بوجھ بڑھ گیا تھا، بیوی بچوں کے ساتھ تعلقات میں دوریاں پیدا ہو گئی تھیں اور معاشرتی عزت بھی شدید متاثر ہورہی تھی، کبھی جو شخص اپنے خاندان کے لیے سہارا بن سکتا تھا، وہ خود ایک ایسی بیماری میں گرفتار تھا جس سے نکلنے کے لیے مدد اور رہنمائی کی ضرورت تھی، فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے تجربہ کار کاؤنسلر معین الدین پیٹی والا نے عاصم کے ساتھ تفصیلی نشست کی، سب سے پہلے ان میں بیماری کی حقیقت کو سمجھنے اور اپنی موجودہ حالت کا جائزہ لینے کی صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دی گئی، انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ نشہ محض ایک بری عادت نہیں بلکہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کی سوچ، صحت، مالی حالت اور خاندانی زندگی کو متاثر کر دیتی ہے،اس کے بعد ترغیبی کاؤنسلنگ کے ذریعے ان کے اندر تبدیلی کی خواہش پیدا کرنے پر کام کیا گیا، انہیں نشے کے جسمانی، ذہنی، مالی اور خاندانی نقصانات سے آگاہ کیا گیا اور یہ سمجھایا گیا کہ زندگی کو دوبارہ سنوارنے کے لیے ایک مضبوط اور فیصلہ کن قدم اٹھانا ضروری ہے، چونکہ براؤن شوگر اور دیگر خطرناک نشوں کا طویل استعمال صرف مشورے یا گفتگو سے ختم ہونا آسان نہیں تھا، اس لیے طبی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انہیں اوپیئڈ سبسٹی ٹیوشن تھراپی (او ایس ٹی) کے لیے گوکل داس تیج پال اسپتال ریفر کیا گیا، وہاں ان کا باقاعدہ علاج شروع ہوا، فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے کاؤنسلر جناب معین الدین پیٹی والا صاحب نے علاج کے دوران بھی ان سے مسلسل رابطہ رکھا، ان کی حوصلہ افزائی کی اور اہلِ خانہ کو بھی ضروری رہنمائی فراہم کرتے رہے، تقریباً ۱۵سے ۲۰دن کے علاج کے بعد جب عاصم اسپتال سے واپس گھر آئے تو ان کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آچکی تھی، انہوں نے براؤن شوگر، چرس، گانجا، ایم ڈی اور دیگر خطرناک نشوں سے مکمل دوری اختیار کرلی تھی، تمباکو کی عادت میں بھی نمایاں کمی آئی، جس پر مزید بہتری کے لیے ٹوبی کو سسیشن کے ذریعے کام جاری ہے، علاج کے ساتھ ساتھ عاصم نے اپنی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے بھی کوشش شروع کی اور اسپتال سے واپسی کے تقریباً ایک ماہ کے اندر نئی ملازمت حاصل کرلی، آج تقریباً تین ماہ بعد وہ ایک متوازن اور صحت مند زندگی گزار رہے ہیں، روزگار سے وابستہ ہیں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ دوبارہ محبت، اعتماد اور سکون کا رشتہ قائم کر رہے ہیں،حالیہ مذاکرہ میں ان کی اہلیہ اور بڑی بہن نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جس شخص کے مستقبل سے کبھی مایوسی نظر آرہی تھی، آج وہی انسان دوبارہ اپنے خاندان کے درمیان موجود ہے، بروقت رہنمائی، درست علاج اور مسلسل حوصلہ افزائی نے ایک بکھرتی ہوئی زندگی کو نئی سمت عطا کر دی ہے، عاصم کی داستان صرف ایک شخص کے نشہ چھوڑنے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے خاندان کی جدوجہد کی تصویر ہے جس نے مایوسی کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑا، یہ ایک ایسے سفر کی داستان ہے جس میں علاج، رہنمائی اور عزم نے مل کر ایک تاریک راستے کو روشنی میں بدل دیا۔ ۲۵برس تک جاری رہنے والی یہ کشمکش آخرکار ایک نئی صبح پر ختم ہوئی، جس گھر میں کبھی بے بسی، قرض اور آنسوؤں کا سایہ تھا، وہاں آج محنت، علاج اور امید کی روشنی نظر آتی ہے، عاصم کی واپسی اس بات کی مثال ہے کہ نشہ انسان کو توڑ ضرور سکتا ہے، مگر صحیح وقت پر ملنے والی مدد اور مضبوط ارادے کے سامنے اس کی گرفت بھی کمزور پڑ جاتی ہے، قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے: کی اللہ سے ناامید نہ ہو۔انسان کتنی ہی گہری آزمائش میں کیوں نہ گھِر جائے، واپسی کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا، شرط یہ ہے کہ وہ اپنی حالت کا اعتراف کرے، اصلاح کا عزم کرے اور مدد کے لیے صحیح دروازہ کھٹکھٹائے، بعض اوقات ایک بروقت مشورہ، ایک مخلص رہنمائی اور ایک مضبوط ارادہ کسی کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے، نشہ صرف ایک عادت نہیں، بلکہ ایک ایسی آزمائش ہے جو فرد کے ساتھ پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے؛ لیکن علاج، صبر، محبت اور اللہ تعالیٰ پر یقین کے ساتھ اس آزمائش سے نکلنا ممکن ہے،آج عاصم کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہےکہ مایوسی کے اندھیروں کے بعد امید کی روشنی ضرور آتی ہے،جس انسان کو کبھی اپنے ہی وجود سے شکست کا احساس ہونے لگے، اگر اسے وقت پر سہارا مل جائے تو وہ دوبارہ اپنے خاندان کا سہارا بن سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر مبتلا انسان کو صحیح راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہر گھر کو نشے اور تباہ کن عادتوں سے محفوظ رکھے اور بکھری ہوئی زندگیوں کو سکون، صحت اور عزت کے ساتھ دوبارہ آباد فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

Related posts

پہلے نکاح یا پہلے ایجوکیشن اور کیرئیر؟؟؟

Paigam Madre Watan

مالی شمولیت کے از سر نو تصور کا افتتاح ہیرا گروپ: ایک اخلاقی مالیاتی استحکام کی علامت

Paigam Madre Watan

نکاح کے اغراض ومقاصدشریعت مطہرہ کی روشنی میں

Paigam Madre Watan