Blog

بلا تحقیق و جانچ پڑتال کے ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی؟ غیر منصفانہ و غیر قانونی اقدام کا خدشہ، مکمل جانچ پھر کارروائی کا مطالبہ

بلا تحقیق و جانچ پڑتال کے ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی؟
غیر منصفانہ و غیر قانونی اقدام کا خدشہ، مکمل جانچ پھر کارروائی کا مطالبہ

نئی دہلی / حیدرآباد (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز کی جائیدادوں کی نیلامی کے معاملے میں ایک بار پھر کئی اہم سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ قانونی ماہرین، متاثرہ سرمایہ کاروں اور ہیرا گروپ کی قانونی ٹیم کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے رکھا گیا ہے کہ جائیدادوں کی نیلامی کو حتمی شکل دینے سے قبل متعلقہ ریکارڈ، دعووں، سرمایہ کاری کی اصل رقم، سابقہ ادائیگیوں اور متعلقہ فہرستوں کی غیر جانب دارانہ اور مکمل جانچ کی جائے۔ یہ مطالبہ اس بنیادی اصول پر مبنی ہے کہ اگر کسی فہرست یا ریکارڈ کو ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی جائیدادوں کی نیلامی کی بنیاد بنایا جا رہا ہے تو اس فہرست کی صحت، درستگی اور قانونی حیثیت کا مکمل تعین پہلے ہونا چاہیے۔ اگر بنیادی اعداد و شمار ہی متنازع یا قابلِ تصدیق نہ ہوں تو اس بنیاد پر کی جانے والی کارروائی مستقبل میں مزید قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ہیرا گروپ معاملے میں جس فہرست کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں بعض نام ایک سے زیادہ مرتبہ درج ہیں۔ اسی طرح بعض IBG نمبرز کے بھی ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال ہونے کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اگر یہ اعتراضات ریکارڈ کی جانچ میں درست ثابت ہوتے ہیں تو پھر یہ طے کرنا ضروری ہوگا کہ ایسی تکراری اندراجات نے مجموعی دعووں کی رقم کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔ محض کسی فہرست میں درج مجموعی رقم کو حتمی واجب الادا رقم تصور کرنے کے بجائے ہر سرمایہ کار کے معاملے کی الگ الگ جانچ ضروری معلوم ہوتی ہے۔ اس میں اصل سرمایہ کاری، گروپ سے موصول ہونے والی رقم، منافع یا دیگر ادائیگیاں، بقایا رقم اور قانونی طور پر قابلِ قبول دعوے کا تعین شامل ہونا چاہیے۔
ہیرا گروپ کے معاملے میں تقریباً 500 کروڑ روپے کے دعووں کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم یہ ایک اہم سوال ہے کہ آیا یہ پوری رقم حقیقتاً موجودہ اور قابلِ ادائیگی اصل واجبات کی نمائندگی کرتی ہے یا اس میں ایسے دعوے بھی شامل ہیں جن کے حوالے سے پہلے ہی جزوی یا مکمل ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔ اگر کسی سرمایہ کار نے اپنی اصل سرمایہ کاری کے برابر رقم واپس حاصل کر لی ہو، یا بعض معاملات میں اس سے زیادہ رقم بطور آمدنی یا منافع حاصل کی ہو، تو ایسے معاملے میں موجودہ بقایا واجب الادا رقم کا ازسرنو تعین ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ”کل دعویٰ کتنے کروڑ روپے کا ہے؟“ بلکہ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اصل سرمایہ کاری کتنی تھی؟ اب تک کتنی رقم واپس کی جا چکی ہے؟ کتنی رقم آمدنی یا منافع کے طور پر ادا ہوئی؟ موجودہ بقایا رقم کتنی ہے؟ ایک ہی سرمایہ کار یا IBG نمبر کہیں ایک سے زیادہ مرتبہ تو شمار نہیں کیا گیا؟ کیا تمام دعووں کی آزادانہ دستاویزی تصدیق مکمل ہو چکی ہے؟ یہاں معاملے کا سب سے اہم پہلو جائیدادوں کی قدر اور مبینہ واجبات کے درمیان تناسب کا ہے۔ اگر مکمل اور غیر جانب دارانہ جانچ کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی اور قابلِ تصفیہ واجبات متنازع فہرست میں ظاہر کی گئی مجموعی رقم سے کہیں کم ہیں، تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ نسبتاً محدود مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی جائیدادوں کو فروخت کرنا کس حد تک متناسب، منصفانہ اور ضروری اقدام ہے۔ مثلاً اگر کسی حتمی اور قابلِ تصدیق جانچ کے بعد حقیقی بقایا واجبات تقریباً 100 کروڑ روپے کے اندر محدود رہتے ہیں، تو صرف اس رقم کی وصولی کے لیے اس سے کئی گنا زیادہ مالیت کے اثاثوں کو نیلام کرنے کا جواز، طریقہ کار اور تناسب عوام کے سامنے واضح کیا جانا چاہیے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ہیرا گروپ کی قانونی ٹیم کی جانب سے مبینہ طور پر یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ پہلے متعلقہ فہرستوں، دعووں اور واجبات کی جانچ مکمل کی جائے اور اس کے بعد جائیدادوں کی نیلامی کا فیصلہ کیا جائے۔ یہ مطالبہ بادی النظر میں ایک بنیادی قانونی و انتظامی اصول سے مطابقت رکھتا ہے۔ پہلے واجبات کا تعین، پھر اثاثوں کی وصولی۔ اگر کسی معاملے میں واجبات کی مقدار ہی زیرِ سوال ہو تو اثاثوں کی فروخت سے قبل واجبات کی حتمی تعیین زیادہ شفاف طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ بصورت دیگر یہ خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ایک متنازع یا غیر حتمی رقم کی بنیاد پر ایسے اثاثے فروخت ہو جائیں جن کی مالیت مبینہ واجبات سے کہیں زیادہ ہو۔ ہیرا گروپ معاملے میں صرف حکومت، تفتیشی ایجنسی یا کسی ایک فریق کے مفادات ہی زیرِ بحث نہیں ہیں۔ اصل توجہ ان سرمایہ کاروں کے حقوق پر بھی ہونی چاہیے جنہوں نے کمپنی میں اپنی رقم لگائی تھی۔ اگر کسی سرمایہ کار کا حقیقی واجب الادا حق موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق رقم ملنی چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ غلط، دہرے، غیر مصدقہ یا پہلے ہی ادا کیے جا چکے دعووں کو دوبارہ واجبات میں شامل نہ کیا جائے۔اس مقصد کے لیے ایک شفاف کمیٹی یا سرمایہ کار وار حساب کتاب انتہائی اہم ہو سکتا ہے، جس میں ہر سرمایہ کار کی اصل رقم، موصولہ ادائیگیاں اور موجودہ بقایا رقم واضح طور پر درج ہو۔
جائیدادوں کی نیلامی کو آگے بڑھانے سے قبل کم از کم درج ذیل سوالات کا جواب عوام اور متعلقہ فریقوں کے سامنے آنا چاہیے:اول: SFIO سے منسوب فہرست میں درج تمام نام اور IBG نمبرز کی مکمل تصدیق ہوئی ہے یا نہیں؟ دوم: کیا ایک ہی نام یا IBG نمبر ایک سے زیادہ مرتبہ شمار ہونے کے امکانات کو ختم کیا گیا ہے؟ سوم: تقریباً 500 کروڑ روپے کے مبینہ دعووں میں سے کتنی رقم واقعی موجودہ بقایا واجبات پر مشتمل ہے؟ چہارم: سرمایہ کاروں کو پہلے ہی ادا کی گئی اصل رقم، منافع یا دیگر ادائیگیوں کو موجودہ واجبات کے تعین میں کس طرح ایڈجسٹ کیا گیا ہے؟ پنجم: اگر حتمی واجبات نسبتاً کم رقم میں طے ہو جائیں تو کیا اتنی بڑی مالیت کی جائیدادوں کی نیلامی واقعی ضروری اور متناسب ہے؟
ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی کے معاملے میں کسی بھی فریق کو محض الزام یا دفاع کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے دستاویزی اور غیر جانب دارانہ جانچ کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر متعلقہ فہرست درست ہے تو مکمل جانچ کے بعد اس کی صحت ثابت ہو جائے گی۔ اگر اس میں غلطیاں، تکراری اندراجات یا حسابی تضادات ہیں تو ان کی اصلاح بھی اسی عمل کے ذریعے ممکن ہے۔ لہٰذا بہتر راستہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مکمل فرانزک آڈٹ، سرمایہ کار وار حساب کتاب، دعووں کی تصدیق اور اثاثوں کی آزادانہ قدر بندی کی جائے؛ اس کے بعد ہی جائیدادوں کی نیلامی یا کسی بھی بڑے مالی اقدام کو آگے بڑھایا جائے۔ کیونکہ اگر چند کروڑ یا محدود رقم کی وصولی کے لیے ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے اثاثے فروخت کر دیے گئے، اور بعد میں یہ ثابت ہوا کہ واجبات کی بنیاد بننے والی فہرست یا حساب میں نمایاں غلطی موجود تھی، تو اس کے نتیجے میں نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ تمام متعلقہ فریقوں کے لیے ایک نئی قانونی اور انتظامی پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ پہلے مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے، اصل واجبات کا تعین کیا جائے، سرمایہ کاروں کے حقیقی حقوق الگ کیے جائیں، اور اس کے بعد ہی جائیدادوں کی نیلامی یا دیگر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Related posts

انڈین یونین مسلم لیگ کے اراکین پارلیمان نے جنتر منتر کے احتجاجی مقام کا دورہ کرکے طلباء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا

Paigam Madre Watan

والد کے ہاتھوں فرزند کی کتاب "امت کی مجموعی ترقی کا لائحہ عمل” کا اجراء

Paigam Madre Watan

ساحلِ ہند (کوکن) کے گمنام مسلم مجاہدین آزادی ! : مفتی اشفاق قاضی

Paigam Madre Watan