Blog

ہم ایک دوسرے سے جڑ کر بھی تنہا کیوں ہیں؟ سوشل میڈیا کے عہد میں رشتوں کی خاموش ہوتی ہوئی دنیا غلام مزمل عطاؔ اشرفی

ہم ایک دوسرے سے جڑ کر بھی تنہا کیوں ہیں؟
سوشل میڈیا کے عہد میں رشتوں کی خاموش ہوتی ہوئی دنیا
غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638
آج کا انسان بظاہر تاریخ کے ہر دور سے زیادہ باخبر، زیادہ متحرک اور زیادہ لوگوں سے مربوط ہے۔ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا شخص چند لمحوں میں دوسرے کونے تک اپنی آواز پہنچا سکتا ہے۔ ایک انگلی کی جنبش سے ہزاروں میل کا فاصلہ سمٹ جاتا ہے، اجنبی چہرے مانوس ہوجاتے ہیں، دور بیٹھے لوگ روزانہ ایک دوسرے کی زندگیوں میں جھانک سکتے ہیں، مگر اس حیرت انگیز سہولت کے باوجود ایک عجیب سا خلا ہماری اجتماعی زندگی میں پھیلتا جارہا ہے۔ ہم جتنے زیادہ لوگوں سے جڑ رہے ہیں، اتنے ہی زیادہ اپنے قریب کے انسانوں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ہمارے پاس رابطے کے ذرائع بے شمار ہیں، مگر گفتگو کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں؛ ہمارے پاس دوستوں کی فہرست طویل ہے، مگر دل کی بات سننے والا شاید پہلے سے بھی کم ہے۔
یہ ہمارے عہد کا ایک ایسا سماجی المیہ ہے جس پر ابھی پوری سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا۔
گھر میں چند افراد بیٹھے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے، کوئی سماجی رابطے کی کسی ویب سائٹ پر مصروف ہے، کوئی مختصر ویڈیوز دیکھ رہا ہے، کوئی پیغامات کا جواب دے رہا ہے اور کوئی اپنے سامنے موجود لوگوں سے بے نیاز ایک ایسی مجازی دنیا میں گم ہے جہاں اسے ہر لمحہ نئی آوازیں، نئے چہرے اور نئی مصروفیات اپنی طرف متوجہ کرتی رہتی ہیں۔ بظاہر سب ایک دوسرے کے قریب ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے جزیرے پر کھڑا ہے۔
ایک وقت تھا جب گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ گفتگو، تربیت، تجربات اور جذبات کے تبادلے کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ دن بھر کی تھکن شام کی مجلس میں اترتی تھی، بزرگوں کی باتیں بچوں کے لیے تجربے کا سرمایہ بنتی تھیں، والدین اپنے بچوں کے چہروں سے ان کے دل کا حال پڑھ لیتے تھے اور دوست ایک دوسرے کی آواز سے اندازہ کرلیتے تھے کہ سامنے والا خوش ہے یا پریشان۔ آج ہماری زندگی کی رفتار اتنی تیز ہوگئی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھنے کے بجائے اسکرینیں دیکھنے لگے ہیں۔ ہم اپنے قریب بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھنے کے بجائے اس کے آن لائن ہونے سے اس کی خیریت کا اندازہ لگاتے ہیں۔
یہ تبدیلی صرف عادت کی تبدیلی نہیں؛ یہ انسانی تعلق کے مزاج میں تبدیلی ہے۔
ٹیکنالوجی کو اس صورتِ حال کا واحد مجرم قرار دینا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ موبائل فون بذاتِ خود کوئی برائی نہیں، سوشل میڈیا بھی بذاتِ خود کوئی لعنت نہیں۔ یہی ذرائع علم کے دروازے کھول سکتے ہیں، دنیا کے مختلف حصوں میں موجود لوگوں کو قریب لاسکتے ہیں، کاروبار، تعلیم اور ابلاغ کے نئے امکانات پیدا کرسکتے ہیں اور ضرورت کے وقت فوری مدد کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں وسیلہ مقصد بن جاتا ہے اور سہولت زندگی پر غالب آجاتی ہے۔
موبائل ہمارے ہاتھ میں رہنا چاہیے، ہماری زندگی ہمارے موبائل میں نہیں۔
اصل بحران ٹیکنالوجی کا نہیں، توجہ کا ہے۔ انسان جس چیز کو اپنی توجہ دیتا ہے، رفتہ رفتہ اس کی زندگی اسی کے گرد منظم ہونے لگتی ہے۔ اگر ہماری توجہ کا بڑا حصہ ہر چند لمحوں بعد آنے والی اطلاعات، پیغامات، ویڈیوز اور مجازی سرگرمیوں میں تقسیم ہوتا رہے تو ہمارے پاس اپنے رشتوں کے لیے وہ یکسوئی کہاں سے آئے گی جس کے بغیر کوئی تعلق گہرا نہیں ہوسکتا؟
رشتے صرف موجودگی سے نہیں بنتے، توجہ سے بنتے ہیں۔
کسی گھر میں والدین اور اولاد ایک ہی چھت کے نیچے رہ سکتے ہیں، مگر اگر ان کے درمیان گفتگو نہیں تو چھت قربت کی ضمانت نہیں۔ ایک نوجوان کے پاس سینکڑوں آن لائن رابطے ہوسکتے ہیں، مگر اگر اس کی پریشانی سننے والا کوئی نہیں تو یہ ہجوم اس کی تنہائی ختم نہیں کرسکتا۔ انسان کو محض لوگوں کی موجودگی نہیں چاہیے؛ اسے یہ احساس چاہیے کہ کوئی اسے سمجھتا ہے، اس کی بات سنتا ہے اور اس کی خاموشی میں بھی چھپی ہوئی آواز کو محسوس کرسکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوشل میڈیا کی چمک اور حقیقی زندگی کی حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہر شخص اپنی زندگی کا بہترین حصہ دکھاتا ہے۔ خوشیاں تصویروں میں محفوظ کی جاتی ہیں، کامیابیاں نمایاں کی جاتی ہیں، سفر دکھائے جاتے ہیں، تقریبات سجائی جاتی ہیں، مسکراہٹیں بانٹی جاتی ہیں۔ مگر زندگی صرف ان خوب صورت لمحوں کا نام نہیں۔ اس میں ناکامیاں بھی ہیں، خوف بھی، تنہائی بھی، مالی مشکلات بھی، گھریلو پریشانیاں بھی اور ایسے آنسو بھی ہیں جنہیں دنیا کے سامنے دکھانا انسان پسند نہیں کرتا۔
جب ہم دوسروں کی زندگی کے منتخب اور روشن لمحوں کا موازنہ اپنی پوری زندگی سے کرنے لگتے ہیں تو بے اطمینانی جنم لیتی ہے۔
ہمیں دوسروں کی کامیابی نظر آتی ہے، اس کے پیچھے چھپی ہوئی برسوں کی محنت نہیں۔ ہمیں کسی کی مسکراہٹ دکھائی دیتی ہے، اس کے پیچھے چھپی ہوئی پریشانی نہیں۔ ہمیں کسی کی آسائش نظر آتی ہے، اس کی قیمت نہیں۔ نتیجہ یہ کہ انسان اپنی زندگی کو کم تر سمجھنے لگتا ہے اور ایک ایسی حقیقت کے ساتھ مقابلہ شروع کردیتا ہے جو حقیقت کا مکمل عکس ہی نہیں۔
یہ احساسِ محرومی خصوصاً نوجوان ذہن پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ نوجوانی ویسے بھی شناخت، قبولیت اور مستقبل کے سوالات سے بھرا ہوا زمانہ ہے۔ ایسے میں اگر ہر طرف کامیابی، خوب صورتی، دولت، شہرت اور آسائش کے مصنوعی معیار مسلسل سامنے آتے رہیں تو ایک عام نوجوان کے لیے اپنی زندگی کو قبول کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
پھر پسندیدگی کے چند نشان اور تبصروں کے چند الفاظ خود اعتمادی کا پیمانہ بننے لگتے ہیں۔
کسی تصویر کو کتنے لوگوں نے پسند کیا؟ کتنے لوگوں نے تعریف کی؟ کتنے افراد نے پیغام بھیجا؟ بظاہر یہ معمولی چیزیں ہیں، مگر جب انسان اپنی قدر کا احساس دوسروں کے ردِعمل سے وابستہ کرلیتا ہے تو اس کی خوشی بھی دوسروں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ تعریف ملے تو خوشی، نظرانداز کیا جائے تو مایوسی؛ توجہ ملے تو اطمینان، خاموشی ملے تو بےچینی۔
یہ خود اعتمادی نہیں، دوسروں کی توجہ پر قائم ایک نازک عمارت ہے۔
اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ ذمہ داری گھر کی بنتی ہے۔ ہم اکثر نوجوانوں سے شکایت کرتے ہیں کہ وہ موبائل چھوڑتے نہیں، مگر یہ سوال کم کرتے ہیں کہ وہ موبائل کی طرف بار بار دیکھتے کیوں ہیں۔ کیا اس کے پیچھے صرف عادت ہے یا کبھی کبھی گھر میں گفتگو کی کمی بھی ہوتی ہے؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو ایسا ماحول دیا ہے جہاں وہ اپنی الجھن، ناکامی، خوف اور سوالات بلا جھجھک بیان کرسکیں؟
بچے کو صرف اچھے نمبر، کامیاب مستقبل اور درست رویے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ اسے یہ یقین بھی چاہیے کہ اگر وہ کبھی کمزور پڑ جائے تو گھر اس کے لیے محفوظ جگہ رہے گا۔
ہم اپنے بچوں کو اکثر ہدایت دیتے ہیں کہ "کسی اجنبی سے بات مت کرنا”، مگر آج کا بچہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہوچکا ہے جہاں اجنبی اس کے فون کی اسکرین پر ہر وقت موجود ہیں۔ ہمیں صرف یہ نہیں سکھانا کہ کس سے بات نہ کریں؛ ہمیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کس بات پر یقین کریں، کس بات کو نظرانداز کریں، اپنی نجی زندگی کی حفاظت کیسے کریں اور اختلافِ رائے کے باوجود شائستگی کیسے برقرار رکھیں۔
یہی حقیقی ڈیجیٹل تربیت ہے۔
ہم نئی نسل کو ٹیکنالوجی سے دور نہیں کرسکتے اور نہ کرنا چاہیے۔ آنے والا زمانہ مزید ڈیجیٹل ہوگا۔ تعلیم، کاروبار، صحافت، طب، تحقیق اور ابلاغ—زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جو ٹیکنالوجی سے محفوظ رہے۔ اس لیے حل یہ نہیں کہ موبائل چھین لیا جائے؛ حل یہ ہے کہ انسان کو موبائل کا غلام بننے سے بچایا جائے۔
ضرورت پابندی سے زیادہ شعور کی ہے۔
ہمیں اپنے گھروں میں دوبارہ گفتگو کا کلچر پیدا کرنا ہوگا۔ کھانے کی میز پر اگر پانچ لوگ بیٹھے ہوں تو ضروری نہیں کہ پانچوں کی نظریں پانچ اسکرینوں پر ہوں۔ کبھی موبائل ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کی عادت بھی ڈالنی چاہیے۔ بچوں سے صرف ان کے نمبروں، اسکول اور مستقبل کے بارے میں سوال نہ کیے جائیں؛ کبھی ان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ آج انہیں کس بات نے خوش کیا، کس بات نے پریشان کیا اور وہ کس چیز کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
بعض اوقات ایک سوال وہ کام کردیتا ہے جو لمبی نصیحت نہیں کرسکتی۔
اسی طرح ہمیں اپنے بزرگوں کے لیے بھی وقت نکالنا ہوگا۔ ہماری تیز رفتار زندگی نے سب سے زیادہ نقصان شاید اسی نسل کو پہنچایا ہے جس کے پاس تجربہ تو بہت ہے مگر سننے والا کم۔ بزرگوں کی گفتگو کو غیر ضروری سمجھنا دراصل اپنے ہی ماضی سے رابطہ توڑنا ہے۔ نسلوں کے درمیان گفتگو ختم ہوجائے تو صرف الفاظ نہیں مرتے، تجربہ بھی منتقل ہونا بند ہوجاتا ہے۔
معاشرے کا مستقبل صرف جدید سڑکوں، بلند عمارتوں اور تیز رفتار انٹرنیٹ سے نہیں بنتا؛ معاشرہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کے دکھ کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر خاموش شخص مطمئن نہیں ہوتا۔ بعض لوگ ہنستے ہوئے بھی اندر سے تھکے ہوئے ہوتے ہیں، محفل میں بیٹھے ہوئے بھی تنہا ہوتے ہیں اور روزانہ سینکڑوں لوگوں سے رابطے میں رہتے ہوئے بھی اپنی اصل کیفیت کسی کے سامنے بیان نہیں کرپاتے۔ اس لیے ہمیں اپنے معاشرتی رویے میں ایک بنیادی تبدیلی لانی ہوگی: انسان کو صرف اس کے ظاہری رویے سے نہیں، اس کے باطن کی ممکنہ کیفیت سے بھی دیکھنا ہوگا۔
شاید ہمارے اردگرد بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں مشورے سے پہلے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو خاموشی سے ان کی بات سن لے۔
ہمیں اپنے وقت کی سب سے بڑی سہولت کو اپنے عہد کی سب سے بڑی محرومی نہیں بننے دینا چاہیے۔ سوشل میڈیا ہمیں دنیا سے جوڑ سکتا ہے، مگر رشتوں کی جگہ نہیں لے سکتا۔ پیغام گفتگو کا متبادل نہیں، تصویر ملاقات کا بدل نہیں اور پسندیدگی محبت کا ثبوت نہیں۔
انسان کو آخرکار انسان ہی چاہیے۔
وہ ہاتھ جو مشکل وقت میں تھام لے، وہ آواز جو پریشانی میں کہے "میں سن رہا ہوں”، وہ شخص جو کامیابی کے دن مبارک باد دے اور ناکامی کے دن بھی ساتھ کھڑا رہے—یہ سہولت کوئی الگورتھم فراہم نہیں کرسکتا۔
شاید ہمیں اپنی زندگی میں روزانہ کچھ ایسے لمحے واپس لانے ہوں گے جن میں کوئی اسکرین ہمارے اور دوسرے انسان کے درمیان نہ ہو۔ کچھ دیر کتاب کے ساتھ، کچھ دیر اپنے والدین کے ساتھ، کچھ دیر بچوں کے ساتھ، کچھ دیر دوست کے ساتھ اور کچھ دیر اپنے آپ کے ساتھ۔
کیونکہ زندگی کا اصل حسن یہ نہیں کہ ہماری آواز کتنے لوگوں تک پہنچتی ہے؛ اصل حسن یہ ہے کہ ہماری خاموشی کتنے لوگ سمجھتے ہیں۔
ہم ایک دوسرے سے جڑنے کے لیے دنیا بھر کی ٹیکنالوجی حاصل کرچکے ہیں، اب صرف اتنا کرنا باقی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو وقت بھی دیں۔
دنیا سے رابطہ آسان ہوگیا ہے، مگر دل تک پہنچنے کا راستہ آج بھی وہی ہے—توجہ، احساس، گفتگو اور خلوص۔
اور شاید ہمارے عہد کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم ایک بار پھر یہ سیکھیں کہ آن لائن ہونا اور کسی کے ساتھ ہونا ایک ہی چیز نہیں۔

Related posts

Owaisi’s motive behind destroying the Heera Group

Paigam Madre Watan

مادرِ علمی جامعہ سلفیہ بنارس کی ترقی و خوشحالی کے لیے طلبہ کا کردار اہم ہے: افروز عالم ذکراللہ سلفی

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ: حیدرآباد کی رئیل اسٹیٹ میں آرام و آسائش کی نئی جہت

Paigam Madre Watan