Blog

گرتی مسجدیں و مدرسے۔ ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم ہیں

گرتی مسجدیں و مدرسے۔ ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم ہیں

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

مسجد تو بنا لی پل بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے۔ من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نا سکا۔ علامہ اقبال نے سیکڑوں سال پہلے یہ اشعار کہے تھے، لیکن آج دنیا اور خاص طور سے بھارت میں نریندر مودی اور یوگی کی سرکار میں مسجدوں پر بلڈوزر چلا کر علامہ اقبال کے اشعار کی اہمیت اور دور اندیشی اور جہاں بینی کا پتہ دیتے ہیں۔ ایک ایک گاﺅں میں چار چار مسجدیں ایمان کی حرارت والوں نے بنا ڈالی، بقول شخصے: مسجدیں پانچ وقت چھپ کر دعا اور بد دعا کرنے کی جگہ کے طور پر منتخب کر دی گئی ہے، اب تو معاشرے میں یہ بات عام طور پر رائج ہو چکی ہے کہ مسجد کا جب وقت ہوگا تو ہی کھلے گی، مسافرین اور حاجت روائی کیلئے گھروں سے نکلنے والے افراد یا تو مسجد کے باہر کھڑے ہوکر مسجد کے کھلنے کا انتظار کریں گے یا پھر چائے، و کافی کے ٹھیکوں پر چلے جائیں، مالداروں نے اپنی والدہ، اپنے دادی دادا کے نام سے امینہ، سفینہ، کرینہ کے نام سے مسجد بنا لی اور جاگیرداری کے طور پر اس پر حکمرانی قائم کر لی، ایک یا دو امام رکھ دئے، امام صاحب ہفتے میں جمعہ پڑھا کر گھر چلے جاتے ہیں، اور دوسرے امام صاحب صرف نماز نماز پڑھانے کیلئے مسجد کھولتے اور بند کرتے ہیں، مسجد کمیونٹی سینٹر، مسجد تعلیم گاہ، مسجد مسلمانوں کیلئے عدالت، اپنے مسائل کے حل کرنے کیلئے کمیونٹی سینٹر، شادی ویواہ اور نکاح خوانی کا مرکز اور تعلیمی درسگاہ، لوگوں کے آپسی ملاقات کی جگہ ہونے کے بجائے چائے کے ہوٹلوں پر من چاہی گفتگو اور قہقہے مارتے مجمعے۔ آخر کیا یہ مسجدیں ہمیں بددعا نہیں دیتی ہوں گی، ان رویوں پر کیا اغیار ہماری مسجدوں کو بدنظری کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے، مزاروں اور قبروں پر جمعرات کے دن خواتین کے لئے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، شرک وبت پرستی کے اڈے آباد ہوتے ہیں، لیکن مسجد کو خواتین کے لئے مختص کرنے کو لوگ فتنے کی جگہ قرار دے بیٹھے ہیں، بازاروں میں خواتین کے بے پردہ ہونے کو تو جائز قرار دیا جاتا ہے، لیکن مسجدوں سے دوری فرض عین سمجھا جاتا ہے۔ میرے گاﺅں میں چار مسجدیں ہیں، لیکن میری عمر کے چالیس سال گزر جانے کے باوجود کبھی میں نے مسجد میں کوئی تنازعہ حل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، کبھی کوئی سادگی کا نکاح ہوتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
اغیار پر تمام ذمہ داریاں انڈیلنے والے لوگ اپنی گریبان میں جس دن جھانکنے کے قائل ہوں گے انہیں سمجھ میں آئے گا کہ مسجدیں ہم پر بددعا کرتی ہوں گی، جس کے سبب مسجدوں کے مسمار ہونے کا یہ سانحہ ہمارے سامنے روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، مسجدوں کو تعلیم گاہ نا بنانے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کشادہ اور کثیر منزلہ مسجد ہونے کے باوجود ہمارے نونہال اور نوجوان بے روزگار اور غیر تعلیم یافتہ ہیں، مسجدوں کے دروازے بچیوں اور بچوں کے لئے نا کھولنے کے سبب ہی ہمارے نوجوان گلی گلی اور سڑک و چائے ٹپری پر سگریٹ، حقہ اور بیڑی پھونکتے نظر آتے ہیں، ہمارے علما اس بات پر کب مل کر بیٹھیں گے کہ مسجدوں کے الگ الگ فلور کو ان بچوں کے ٹیوشن اور کیریئر گائیڈ سینٹر و مطالعہ گاہ لائبریری بنا کر پیش کیا جائے۔ بچیوں کے ملحد ہوکر غیر مسلموں کے ساتھ بھاگنے کو تو ہر کوئی کف افسوس ملتے ہوئے شکوہ کنا ہوتا ہے، مگر محلہ اور شہر کے ذمہ داروں کو یہ بات کب سوجھے گی اپنے دادا دادی اور اماں ابا کے نام سے بنائی گئی کثیر منزلہ مسجدوں کو ٹیوشن سینٹر اور کوچنگ سینٹر کے طور پر بھی قائم کیا جائے۔ جن مسجدوں کے ذمہ دار بے حد بیدار مغز ہیں وہ محض عصر بعد سپارے اور اردو کے لئے چند گھنٹے مختص کرتے ہیں، باقی فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا کے بعد اگر الگ الگ موضوعات کے دروس و پروگرام رکھیں تو یہ مسجدیں قائم آباد اور ہر طرح سے مفید ہوں گی۔
علامہ اقبال کا ایک شعر اور بھی ہے کہ ”بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی۔ مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے! جب جب کوئی ظلم ہوتا ہے ہم امید کی نظروں سے انہیں اغیار کی سمت دیکھتے ہیں، قانون کی دہائی دیتے ہیں۔ اکابرین کا یہ قول لوگ بھول گئے، کہ قانون کچھ نہیں ہے سوائے مکڑی کے جالے کے۔ کہ اس میں کمزور کیڑے مکوڑے اور حشرات تو پھنس جاتے ہیں، مگر مضبوط اور توانان جانور اس کو توڑ پھاڑ کر باہر نکلتے جاتے ہیں۔ قانون کچھ نہیں ہے سوائے کاغذ پر لکھے ہوئے کالے سیاہ حروف کا مجموعہ کے۔ اگر آپ کی نسوں میں وہ طاقت نہیں ہے کہ آپ اپنے حقوق حاصل کرسکو، تو کوئی سات سمندر پار سے تمہارے حقوق دلانے کیلئے نہیں آئے گا۔ تمہیں خود اپنے حقوق کی حصولیابی کے لئے جدوجہد اور وسائل پیدا کرنے ہوں گے۔ یہ مسجد، یہ مدرسے جب تک قائم ہیں، یہاں سے قانون کے محافظ پیدا کرلو۔ جو حالات ناگہانی آنے پر آپ کے لئے کھڑے ہو سکیں ایسے آفیسر مسجدوں سے بنائے جا سکتے ہیں۔ تمہاری نسلیں بھیک نا مانگیں اس کے لئے مسجدوں میں بیت المال قائم کرلو۔ بیٹیاں اغیار کے ہتھے نا چڑیں اس کے لئے انہیں مسجدوں میں کوچنگ اور ٹیوشن سینٹر قائم کرلو۔ مضبوط اور پڑھنے میں ماہر ہنر مند طلبا کو انہیں مسجد اور مدرسوں سے اعلیٰ تعلیم کے لئے تیاری کراکے حکومت کے ایوان بالا تک پہنچانے کا کام کرڈالو۔
"نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندوستاں والو! تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں” آپسی تنازعات کو مسجدوں میں بیٹھ کر حل کرلو۔ جتنے مقدمات ہیں آپسی سمجھوتے کی مدد سے ختم کرا لو۔ محلے اور علاقے کے تھانوں میں بہن بیٹیوں کو بے پردہ کھڑے ہونے سے پہلے مسجد کے امام اور قوم کے تعلیم یافتہ لوگوں سے اپنے مسائل حل کرا لو۔ یہ چند جھلکیاں ہیں جس کے ذریعہ مسلم امہ فلاح پا سکتی ہے، ورنہ مسلم آبادی کی بہنیں اغیار کے خالی کمروں تک پہنچتی رہیں گی، محلوں کے دکھ سکھ کے لئے مسجدوں کے دروازوں کو کھول دو۔ آپسی تنازعات میں دوسری کے بہن بیٹیوں کی عزت کو کھلواڑ سمجھنے سے پہلے فتنوں کی لپٹ خود تک پہنچنے سے پہلے کوئی نا کوئی بندوبست کر ڈالو۔ ورنہ واللہ سات سمند پار سے آپ کا ہاتھ پکڑ کر چلانے والا کوئی نہیں آئے گا۔ یہ مسجدیں یہ مدرسے بہت بڑی امانت اور بہت بڑی وراثت ہیں، ان کی قدر کرو۔ اور اگر ان سے روگردانی کرتے رہو گے تو روز ایک مسجد کے اضافہ سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس کا بہترین استعمال عمل میں لانا ہوگا۔
اس سلسلے میں ایک اور اہم پہلو مسجدوں کے انتظام اور جواب دہی کا ہے۔ مسجد کسی فرد، خاندان یا گروہ کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ پوری ملت کی امانت ہے۔ اس لیے مسجد کے چندے، تعمیراتی اخراجات، وقف کی آمدنی اور دیگر مالی معاملات میں شفافیت ہونی چاہیے۔ محلے کے معتبر، دیانت دار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ایک باقاعدہ کمیٹی ہو جو حساب کتاب مرتب کرے اور اہلِ محلہ کو اعتماد میں لے۔ جس مسجد میں مالی شفافیت اور اجتماعی مشاورت ہوگی، وہاں اختلافات اور بدگمانیوں کے امکانات بھی کم ہوں گے۔اسی طرح بہت سی مسجدوں کے ساتھ موجود وقف کی زمینیں اور املاک اگر صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کی جائیں تو وہ پوری بستی کے لیے مستقل تعلیمی اور فلاحی وسائل پیدا کرسکتی ہیں۔ ہر وقف جائیداد کو صرف آمدنی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اس سے اسکول، لائبریری، ہنرمندی کے مراکز، طلبہ کے مطالعاتی کمرے اور مستحق خاندانوں کی مدد کا مستقل نظام قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے قانونی تقاضوں اور وقف کے اصل مقصد کی پابندی بھی ضروری ہے۔مساجد میں کتب خانے اور مطالعاتی مراکز قائم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جس نوجوان کو موبائل فون اور سوشل میڈیا نے گھنٹوں اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، اسے اگر مسجد میں اچھی کتاب، اخبار، رسالہ، مسابقتی امتحانات کا مواد اور خاموش مطالعے کی جگہ مل جائے تو مسجد اس کی فکری زندگی بدل سکتی ہے۔ قرآن کے ساتھ سائنس، تاریخ، زبان، قانون، معاشیات، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کا مطالعہ بھی نوجوانوں کو وسیع ذہن عطا کرسکتا ہے۔
مسجدوں کو ہنر مندی اور روزگار سے جوڑنے کی بھی ضرورت ہے۔ کمپیوٹر، زبان، اکاو ¿نٹنگ، گرافک ڈیزائن، ٹیکنیکل کام، چھوٹے کاروبار اور دیگر مفید ہنروں کی بنیادی تربیت کے لیے مقامی ماہرین ہفتے میں چند گھنٹے رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ ہر نوجوان کو صرف ملازمت تلاش کرنے والا نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بنانا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ایک اور اہم ضرورت مساجد کے درمیان باہمی تعاون ہے۔ ایک ہی علاقے میں کئی مسجدیں ہوں تو انہیں ایک دوسرے کی حریف بنانے کے بجائے ایک مشترکہ تعلیمی و فلاحی منصوبے کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایک مسجد میں لائبریری، دوسری میں کوچنگ، تیسری میں ہنر مندی کی تربیت اور چوتھی میں فلاحی مرکز قائم کرکے پورے علاقے کو ایک مربوط نظام دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح عمارتیں الگ رہیں گی مگر مقصد ایک ہوجائے گا۔مسجد کے امام کو بھی صرف نماز پڑھانے والے فرد تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ امام معاشرے کا اخلاقی اور تربیتی رہنما بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مناسب تعاون، تربیت اور وقت فراہم کیا جائے۔ خطبات میں صرف وقتی سیاسی اور جذباتی موضوعات کے بجائے تعلیم، اخلاق، خاندان، نوجوانوں کی تربیت، منشیات سے بچاو، والدین کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، قانون کی پابندی اور معاشرتی ذمہ داری جیسے موضوعات بھی مستقل طور پر زیرِ بحث آئیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ مسجدوں کے بارے میں کوئی ایسا طرزِ عمل اختیار نہ کیا جائے جس سے معاشرے کے کسی طبقے کو بلاوجہ دوری محسوس ہو۔ خواتین، بزرگوں، بچوں اور خصوصی ضرورت رکھنے والے افراد کے لیے شرعی حدود، مقامی حالات اور انتظامی اصولوں کے مطابق سہولتوں پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ مسجد اگر محلے کی اجتماعی زندگی کا مرکز بنے گی تو اس کے دروازے علم، خیر، اصلاح اور خدمت کے لیے وسیع ہونے چاہئیں۔
سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسجد کی حفاظت صرف اس کی عمارت کو بچانے کا نام نہیں۔ مسجد کے مقصد، حرمت اور پیغام کو زندہ رکھنا بھی مسجد کی حفاظت ہے۔ اگر ایک خوب صورت عمارت تعمیر ہوگئی لیکن وہاں سے علم، اخلاق، اتحاد، انصاف، خدمت اور تربیت کا چراغ روشن نہ ہوا تو ہم نے مسجد کی دیواریں تو بنا دیں، مگر مسجد کی روح کو زندہ نہ کرسکے۔اس لیے اب وقت صرف نئی مسجدیں تعمیر کرنے کا نہیں، بلکہ موجودہ مسجدوں کو آباد، فعال، بااثر اور معاشرے کے لیے مفید بنانے کا ہے۔ ایک مسجد اگر ایک بچے کو علم دے، ایک نوجوان کو ہنر دے، ایک خاندان کا جھگڑا ختم کرائے، ایک ضرورت مند کا سہارا بنے، ایک طالب علم کو اعلیٰ تعلیم تک پہنچائے اور ایک بستی میں اتحاد پیدا کرے تو اس کی افادیت صرف چند نمازوں تک محدود نہیں رہتی۔ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ آنے والی نسلیں جب ہماری مسجدوں اور مدرسوں کو دیکھیں گی تو کیا انہیں صرف بڑی بڑی عمارتیں نظر آئیں گی، یا وہاں سے نکلنے والے علما، اساتذہ، وکلاء، ڈاکٹر، انجینئر، منتظمین، سماجی کارکن اور دیانت دار شہری بھی نظر آئیں گے؟مسجد اور مدرسہ ہماری کمزوری کی علامت نہیں، ہماری اجتماعی قوت کا مرکز بن سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم انہیں ماضی کی یادگار سمجھنے کے بجائے مستقبل کی تعمیر کا ادارہ بنائیں۔ عمارتیں اللہ کے نام پر بنانا یقیناً نیکی ہے، مگر ان عمارتوں سے انسان بنانا، علم پھیلانا، مظلوم کا سہارا بننا اور معاشرے میں خیر کو عام کرنا اس نیکی کو کہیں زیادہ بامعنی بنا دیتا ہے۔

Related posts

بتیسواں "مذاکرہ علمیہ” دو روزہ اجلاس عام و سیمینار زیر اہتمام دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار میں فضیلۃ الشیخ خورشید احمد سلفی حفظہ اللہ شیخ الجامعہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال کا خطاب شروع

Paigam Madre Watan

 ای ڈی اور اس کے حمایتی محکمہ جات ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی منظم تباہی کے مرکزی کردار

Paigam Madre Watan

دہلی حکومت نے 22 ہزار کروڑ کا چاول گھوٹالہ رچایا: سوربھ بھردواج

Paigam Madre Watan