Blog

"داڑھی کا شرعی معیار اور آج کا بدلتا ہوا ماحول” از  قلم : محمد طارق اطہر

"داڑھی کا شرعی معیار اور آج کا بدلتا ہوا ماحول” از  قلم : محمد طارق اطہر

ہم آج ایک ایسے پُرفتن دور سے گزر رہے ہیں، جس میں نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں۔ یہ فتنے نہ صرف شریعتِ مطہرہ کے خلاف ہیں بلکہ ان میں سے بعض صریح طور پر حرام و ناجائز امور پر مشتمل ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ عوام الناس ان فتنوں کو معمولی جان کر ان کی سنگینی کا ادراک نہیں رکھتے، بلکہ ان افعال کو یوں انجام دیتے ہیں جیسے یہ کوئی گناہِ صغیرہ ہوں یا سراسر مباح اور جائز عمل ہوں۔

ان میں ایک فتنہ داڑھی منڈوانے یا چھوٹی کرنے کا بھی ہے، جو کہ نہ صرف شریعتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے بلکہ فقہ حنفی کے مطابق کھلم کھلا حرام اور ناجائز فعل ہے۔ اسی طرح والدین کی نافرمانی، بھائیوں اور بہنوں کے حقوق کو پامال کرنا، رشتہ داروں کے ساتھ قطع تعلقی جیسے امور بھی عام ہو چکے ہیں، جو کہ واضح طور پر گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتے ہیں۔

فقہ حنفی کے مطابق ایک مشت (یعنی مٹھی بھر) داڑھی رکھنا واجب و لازم ہے، اور اس سے کم کرنا یا داڑھی مونڈ دینا ناجائز و حرام ہے۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جو شخص داڑھی منڈوائے، وہ فاسق شمار ہوتا ہے، اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا بھی درست نہیں، بلکہ ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے۔ یہ بات فقہ حنفی کی معتبر اور معتمد کتب میں وضاحت کے ساتھ مذکور ہے۔

سیدی اعلیٰ حضرت نے جد الممتار میں قرۃ العین میں موجود داڑھی کی تعریف کو اظہر قرار دیا، چنانچہ فرماتے ہیں:

’’والاظہر  ما فی قرۃ العین شرح فتح المعین من قولہ ( لحیۃ : ھی اسم ما نبت علی الذقن وھو مجتمع اللحیین وعذار: وھو  ما نبت علی العظم المحاذی للاذن وعا رض: وھو  ماانحط عنہ الی اللحیۃ‘‘

ترجمہ: (داڑھی کی ) اظہر تعریف وہ ہے جو قرۃ العین شرح فتح المعین میں ہے مصنف فرماتے ہیں: داڑھی وہ بال ہیں جو ٹھوڑی پر اگتے ہیں اور ٹھوڑی دونوں جبڑوں کے ملنے کی جگہ ہے اور عذار(پر اگتے ہیں): (عذار یعنی ) کانوں کے محاذی ہڈی پر اگتے ہیں اور عارض ( پر اگتے ہیں ): (عارض وہ ہے) جو عذار سے جبڑوں کی طرف نیچے کو آتا ہے۔ (جد الممتا ر جلد1، صفحہ 329

داڑھی کی حد کو مزید وضاحت سے بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی نے اس کی تین قسمیں بیان کیں، چنانچہ جد الممتار میں لکھتے ہیں

فقہا ئے کرام نے داڑھی کو تین حصوں میں تقسیم کیا ، داڑھی کی ابتدا کنپٹی کے نیچے  کانوں کے محاذی  گال کے حصے سے ہو تی ہے اور اس کی انتہا ٹھوڑی ہے، فقہا ئے کرام نے  اسے ( یعنی کنپٹی کے نیچے سے  ٹھوڑی  تک کو ) داڑھی کا نام دیا ہے، پہلاحصہ عذار کہلاتا ہے اور جو ان (عذار اورٹھوڑی )کے درمیان  گال کے حصے پر ہے وہ عارض ہے اور یہ تمام داڑھی کہلائے گی۔ (جد الممتا ر جلد1، صفحہ 329

علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: قبضہ سے جو بال زیادہ ہو اسے کاٹ دے، ایسا ہی منیہ میں ہے۔ اور ایک مشت سنت ہے جیسا کہ مبتغی میں ہے اور مجتبی و ینابیع وغیرہ میں ہے کہ جب داڑھی لمبی ہو جائے تو اس کے کناروں سے بال کاٹنے میں حرج نہیں۔ ( رد المحتار، جلد 2، صفحہ418

مگر افسوس کہ آج کے دور میں اکثر مسلمان اس مسئلے سے غفلت برت رہے ہیں اور داڑھی کاٹنے جیسے واضح حرام فعل کو معمولی سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ دین کے بنیادی احکامات سے بے خبری، دینی غیرت و حمیت کی کمی، اور دنیا پرستی نے لوگوں کو اس حد تک غافل کر دیا ہے کہ وہ نیکی کو نیکی اور گناہ کو گناہ سمجھنا بھی چھوڑ چکے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دین کے بنیادی مسائل کی صحیح معرفت حاصل کریں، اپنے اعمال کو شریعت کے سانچے میں ڈھالیں، اور ایسی روش اختیار کریں جس سے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو سکے۔ ہمیں چاہیے کہ خود بھی دین پر مکمل عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں،

داڑھی کے رکھنے کا حکم صرف فقہی اقوال یا اجتہادی آراء تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا امر ہے جس کی بنیاد متعدد صحیح و صریح احادیثِ نبویہ پر قائم ہے، اور جو تمام ائمہ مجتہدین کے نزدیک واجب اور اس کے ترک پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

صحیح بخاری شریف میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:”مونچھیں پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ” (صحیح بخاری)

ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:”مجوسیوں کی مخالفت کرو، مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ” (صحیح مسلم)

اسی مفہوم کی کئی احادیث مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ داڑھی رکھنا محض مستحب یا مستحسن نہیں، بلکہ یہ نبی کریم ﷺ کی مؤکد سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے "صحیح مسلم” اور کتبِ سنن میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”فطرت (یعنی دینِ فطرت یا طبعی سنتیں) دس چیزیں ہیں: مونچھیں اچھی طرح ترشوانا، داڑھی کو بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے جوڑ صاف کرنا، بغل کے بال صاف کرنا، زیرِ ناف بال مونڈنا، پانی سے استنجا کرنا۔”
راوی کہتے ہیں: **مصعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دسویں بات میں بھول گیا ہوں، غالباً وہ کلی کرنا ہے۔ (صحیح مسلم)

ان احادیثِ مبارکہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ داڑھی رکھنا سنتِ فطرت ہے، اور اسے منڈوانا یا جان بوجھ کر کتروا کر ایک مشت سے کم کرنا سنتِ نبوی اور فطرتِ سلیمہ دونوں کے خلاف ہے۔

ائمہ اربعہ — امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ  سب اس بات پر متفق ہیں کہ داڑھی منڈوانا حرام اور ناجائز ہے۔

سنن ابوداؤد کے مشہور شارح، علامہ سبکی رحمہ اللہ "المنہل العذب المورود” میں لکھتے ہیں:”داڑھی منڈوانا ائمہ اربعہ کے نزدیک حرام ہے۔”

یہی نہیں، بلکہ متعدد دیگر محدثین و فقہائے کرام نے بھی داڑھی منڈوانے کو فاسقانہ عمل قرار دیا ہے، اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہِ تحریمی اور بعض نے واجب الاعادہ فرمایا ہے۔

یہ تمام دلائل اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ داڑھی رکھنا دین کا ایک جُز ہے، نہ کہ محض کوئی ثقافتی علامت۔ اور جو شخص دانستہ طور پر داڑھی منڈواتا ہے یا ایک مشت سے کم کرتا ہے، وہ نہ صرف سنتِ نبوی ﷺ کا تارک ہے بلکہ فقہِ اسلامی کے نزدیک فاسق بھی قرار دیا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس سنتِ نبوی کی عظمت کو پہچانیں، اپنی زندگیوں میں اس کو اپنائیں، اور نئی نسل کو بھی اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ کیونکہ یہ وہ شعارِ اسلامی ہے جو نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی پہچان رہا ہے۔

یعنی اس طرح فقہ کی معتبر کتابوں میں بھی یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مکتبہ فکر حنفی میں کم سے کم ایک مشتہر داڑھی رکھنا ضروری ہے۔ ہدایہ کی عبارت اس طرح ہے  ایک مشت داڑھی سنت ہے

امام ابن ہمام نے اپنی معروف تفسیر "فتح القدیر” میں فرمایا کہ "اگر داڑھی اتنی چھوٹی ہو کہ اسے بڑھانے کی ضرورت ہو، تو اس کا لینا جائز نہیں ہے۔” یہ قول تمام جلیل القدر علما کے نزدیک مسلم ہے، جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی اور دیگر مشہور فقہاء احناف نے اس پر متفق ہو کر اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اس حوالے سے کوئی بھی اختلاف نہیں پایا گیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ احناف کا یہ متفقہ اور مضبوط فیصلہ ہے۔

اگر زید واقعی ایک حنفی مقلد ہے تو اس کے لیے یہ فیصلہ کافی ہے، کہ جو علماء احناف کا اجماع ہے، وہی اس کے لیے قابلِ عمل ہوگا۔ لیکن اگر وہ ظاہراً حنفی دکھتا ہے اور در حقیقت غیر مقلد ہے تو پھر معاملہ پیچیدہ ہو جائے گا۔

غیر مقلدین کا مؤقف یہ ہے کہ چاہے داڑھی اتنی بڑھ جائے کہ وہ ناف تک لٹک جائے، پھر بھی اس کا کاٹنا جائز نہیں۔ یہ ان کا مخصوص نظریہ ہے جسے انہوں نے اپنے اجتہاد سے وضع کیا ہے۔

 

یقیناً یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کسی بھی عمل کے حرام ہونے کا فیصلہ صرف اس صورت میں نہیں کیا جاتا جب قرآن یا حدیث میں صاف طور پر لفظ "حرام” استعمال کیا جائے، بلکہ بہت سی جگہوں پر یہ حکم اشارے کے طور پر بھی دیا گیا ہوتا ہے، جس کا مفہوم اس قدر واضح ہوتا ہے کہ وہ عمل حرام یا فرض کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں جو احکام بیان کیے گئے ہیں، ان کے درجات اور مراتب کو جاننے کا اصل ذریعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ کی تشریحات ہیں۔ یہی وہ اصحاب ہیں جو براہِ راست پیغمبر اکرم ﷺ کے زیرِ تعلیم رہے، وحی کے نزول کے گواہ تھے اور دین کی سمجھ میں ان کا شوق بھی بے حد تھا۔ ان کی بصیرت اور علم نے دین کو اس طرح سمجھا کہ وہ جو کچھ آپ ﷺ سے سیکھتے، اسے بلاشبہ اور پوری امانت داری سے امت تک پہنچاتے۔

چونکہ رسول اللہ ﷺ نے داڑھی رکھنے کی خود بھی بھرپور تعلیم دی اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ معمول تھا، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس پر عمل کیا۔ اگرچہ بعض صحابہ کرام نے داڑھی کو ایک مشت تک درست کیا، مگر اس سے کم داڑھی رکھنے کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ ﷺ نے جس طرح داڑھی بڑھانے کا حکم دیا، صحابہ کرام نے اسی حکم کو فرض سمجھا اور اس پر عمل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے عمل کے ذریعے آنے والی امت کو یہ امانت پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔

یہاں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ کبھی کسی حکم کو اس کے درجہ تک پہنچانے کا فیصلہ نہیں کرتے جب تک کہ ان کے پاس قرآن و حدیث کی کوئی واضح یا اشارہ کنندہ دلیل نہ ہو۔ اس کے بغیر وہ کسی نئی رائے قائم نہیں کرتے اور نہ ہی اجتہاد کرتے ہیں۔

اور عقلی دلیل یہ بھی ہے کہ داڑھی ایک مرد ہونے کی حقیقی علامت ہے، کیونکہ داڑھی صرف اور صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے، اس لیے یہ مرد کی شان، اس کی عزت، اس کی عظمت اور اس کی مردانگی کا روشن نشان بھی ہے۔ کچھ لوگ جو یہ غلط اور جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ داڑھی رکھنے کے بعد چہرہ اچھا نہیں لگتا، یہ سراسر بے بنیاد اور بے حقیقت بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ داڑھی رکھنے کے بعد چہرہ نہ صرف خوبصورت اور دلکش نظر آتا ہے، بلکہ وہ ایک خاص نورانی چمک سے بھی منور ہو جاتا ہے، اور یہ نور کیوں نہ ہو، جب کہ یہ ہمارے عظیم نبی ﷺ کی سنت ہے، جو کہ مکمل طور پر فطرت کے مطابق تھی، اور تمام انبیاء کرام کی بھی یہی سنت تھی۔ داڑھی رکھنا تمام اولیاء کرام، ولی اللہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر جلیل القدر علمائے کرام و مفتیانِ عظام کا طریقہ رہا ہے۔ ان کا چہرہ اس داڑھی کی برکت سے اور بھی زیادہ نورانی، دل آویز اور جاذب نظر لگتا ہے، جو کہ ان کی روحانیت، تقویٰ اور اللہ کے ساتھ قربت کا غماز ہے۔ اس لیے جو لوگ اس سنت سے دور ہیں، انہیں اپنے دل و دماغ میں اس حقیقت کو سمجھنا اور اپنانا چاہیے کہ داڑھی صرف ایک ظاہری علامت نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بھی ہے، جو ایک مرد کی شخصیت کو مکمل اور باعزت بناتی ہے

اور داڑھی کاٹنا صرف حنفی مسلک کی مخالفت ہی نہیں بلکہ شریعتِ مطہرہ کی بھی مخالفت ہے، اور اسی طرح حضورِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی بھی مخالفت ہے اور تمام انبیاء کرام کی بھی مخالفت ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس ناجائز اور حرام فعل سے بچیں اور دوسروں کو بھی اس فعل سے بچانے کی کوشش کریں-

 

 

آج کل بہت سے لوگ خود تو شریعت سے دور ہوتے جا رہے ہیں، لیکن افسوس کہ جو اللہ کے نیک بندے حضورِ اقدس ﷺ کی سنتوں کی پیروی کرتے ہیں، ان کا مذاق اُڑاتے ہیں، خصوصاً داڑھی جیسی عظیم سنت کا۔ داڑھی سنتِ متواترہ اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، اس لیے اس کی توہین یا استہزا صرف ناجائز نہیں بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے۔ اگر کوئی شخص ’’بکرا داڑھی‘‘، ’’برش‘‘ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ اس نیت سے کہے کہ سنتِ رسول ﷺ کا مذاق اڑا سکے، تو وہ شدید گناہ میں مبتلا ہوتا ہے اور اہلِ علم نے واضح لکھا ہے کہ ایسی نیت کے ساتھ توہین خارج از ایمان کرنے والی ہے۔ البتہ اگر نیت سنت کی توہین کی نہ ہو بلکہ جہالت یا لڑائی جھگڑے کی شدت میں سخت جملہ نکل جائے تو حکم کفر نہیں، مگر پھر بھی یہ سخت حرام اور باعثِ ایذا ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: داڑھی کے ساتھ استہزا ضرور کفر ہے… داڑھی شعارِ اسلام ہے اور شعارِ اسلام سے استہزا اسلام سے استہزا ہے(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، صفحہ 215،)۔ اسی طرح فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: داڑھی سننِ متواترہ میں سے ہے… اس کی توہین بالاجماع کفر ہے، لہٰذا جس عورت نے داڑھی کی توہین کی اور شوہر نے اس کی تائید کی دونوں پر علانیہ توبہ ضروری ہے اور نکاح دوبارہ پڑھا جائے(فتاویٰ فیض الرسول، جلد 3، صفحہ 266)۔ امیرِ اہل سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ: داڑھی کو برش کہنا یا داڑھی والے کو ‘داڑھی والا بکرا’ کہنا دونوں کفریہ کلمات ہیں(کفریہ کلمات، صفحہ 421-422،)۔

شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر داڑھی کی اہانت اس نیت سے ہو کہ یہ سنتِ رسول ہے اور اسی حیثیت سے اس کی تحقیر کی جائے تو یقیناً کفر ہے؛ اور اگر محض کسی کی ذات کو چڑانے یا غصّے میں سخت جملہ کہا جائے تو کفر نہیں، مگر توبہ لازم اور صاحبِ داڑھی سے معافی ضروری ہے (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 356-359)۔ مزید برآں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے عام مسلمانوں کی ایذا رسانی کو سخت منع فرمایا اور حدیث پاک نقل کی کہ: جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی، اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی(فتاویٰ رضویہ، جلد 19، صفحہ 270-271)۔ اس سے معلوم ہوا کہ سنتِ رسول ﷺ کا مذاق بنانا تو بہت بڑا جرم ہے ہی، لیکن کسی مسلمان کی بلاوجہ دل آزاری بھی اللہ اور رسول ﷺ کی ناراضی کا سبب ہے۔

 

اسلام میں نہ صرف داڑھیمونڈوانا بلکہ داڑھی مونڈنا بھی یکساں طور پر ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ جب ایک عمل شریعت میں سخت منع ہو تو اس فعل کے کرنے والے اور کروانے والے دونوں اس گناہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا بھی ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ فقہ کی معتبر کتاب مجمع الانہر میں ہے: گناہ کے کاموں پر اجرت لینا جائز نہیں… اگر کسی نے اجرت دے کر یہ کام کروایا اور اجیر نے اسے لے لیا تو یہ مال اس کے لیے حلال نہیں اور واجب ہے کہ اس کے مالک کو واپس کرے(مجمع الانہر، جلد 3، صفحہ 533)۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حرام فعل کی اجرت میں جو کچھ لیا جائے وہ بھی حرام ہے کہ اجارہ نہ معاصی پر جائز ہے نہ اطاعت پر(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، صفحہ 187)۔ اسی طرح مفتی محمد وقار الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: داڑھی مونڈنا حرام ہے، یہ کام کرنا بھی حرام ہے، کروانا بھی حرام اور اس کی اجرت بھی حرام ہے(وقار الفتاویٰ، جلد 3، صفحہ 427)۔ اگر یہ اجرت جن لوگوں سے لی گئی تھی، ان کا علم باقی نہ رہے تو بہارِ شریعت میں حکم یہ درج ہے کہ ایسے ’’خبیث مال‘‘ کو صدقہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ ناجائز کام کی آمدنی کا یہی شرعی حکم ہے۔

 

اگر کوئی کمپنی داڑھی سمیت کام کرنے کی اجازت دے تو بہتر ہے، ورنہ ایسی غیر شرعی شرط پر نوکری چھوڑ دینا ہی دینداری کا تقاضا ہے، کیونکہ نافرمانی کے ذریعے رزق حاصل کرنا کبھی خیر کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو…“(سورۃ الطلاق، آیت 2-3)۔ بخاری شریف میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: “مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو“(صحیح البخاری، جلد 5، صفحہ 2209، حدیث 5553)۔ ائمۂ فقہ بھی واضح لکھتے ہیں کہ داڑھی مٹھی سے کم کرنا کسی کے نزدیک مباح نہیں، جیسا کہ علامہ ابنِ ہمام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “داڑھی ایک مشت سے کم کرنا اسے کسی نے بھی مباح نہیں کہا‘‘(فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 348)۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ: “داڑھی کتروا کر ایک مشت سے کم رکھنا حرام ہے‘‘(فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 98)۔ نیز حدیثِ مبارک میں ارشاد ہے: “اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں‘‘(بخاری شریف، حدیث 6830) اور فتاویٰ رضویہ میں بھی یہی حکم درج ہے کہ “معصیت میں کسی کا اتباع درست نہیں‘‘(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، صفحہ 188)۔ اس سے واضح ہوا کہ نوکری، معاش یا کسی کا حکم، اللہ و رسول ﷺ کی سنت کے مقابلہ میں معتبر نہیں، بلکہ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ بندہ ہر حال میں شریعت کے مطابق زندگی گزارے، چاہے اس کے لیے وقتی طور پر کوئی دنیاوی سختی کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔

یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ اگر کوئی شخص نوکری کے دباؤ میں آکر اپنی داڑھی شرعی حد سے کم کرواتا ہے، تو اُسے چاہیے کہ ایسی نوکری ترک کر دے، کیونکہ ایسی ملازمت کا کیا فائدہ جو انسان کو شریعتِ مطہرہ کے خلاف عمل پر مجبور کرے یا سنتِ نبوی ﷺ کی مخالفت میں ڈال دے؟ اللہ عزوجل اور رسولِ کریم ﷺ کی نافرمانی دنیا کی کسی بھی ملازمت کے بدلے میں جائز نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی ادارے میں داڑھی کے ساتھ کام کرنے کی گنجائش مل جائے تو بہتر ہے، اور اگر وہ زبردستی داڑھی کم کرانے پر مجبور کریں تو یہ ان کا ظلم ہے؛ ایسی صورت میں بندہ اللہ کے بھروسے پر کسی اور جائز ذریعۂ معاش کی تلاش کرے، جہاں ایسی غیر شرعی شرط نہ ہو۔ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے—ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان اس کی نافرمانی کرے تو رزق ملے اور اگر اس کی رضا کے لیے سنت پر قائم رہے تو رزق کم ہو جائے۔ قرآنِ کریم میں واضح ارشاد ہے: “اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے نجات کی راہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے”(سورۃ الطلاق: آیت 2–3)۔ لہٰذا ایمانی شان یہی ہے کہ بندہ تقویٰ اور سنت کا دامن تھامے رکھے، کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق بہتر سے بہتر راستہ ضرور بناتا ہے۔

"بالجملہ داڑھی کا نہ رکھنا نہ صرف فقہِ حنفی کی صریح مخالفت ہے، بلکہ شریعتِ محمدیہ کی روشن تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ لازم ہے کہ انسان کسی کے دباؤ، استہزا یا مذاق کی بنا پر اس سنتِ مطہرہ کے ترک کا خیال تک دل میں نہ آنے دے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس نامناسب عمل سے محفوظ فرمائے، ہمیں سنتِ نبوی پر خلوص و استقامت کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور محض قول و سماع کے بجائے حقیقی عمل کی دولت سے سرفراز فرمائے۔”

از  قلم : محمد طارق اطہر

جامعہ دار الہدیٰ اسلامیہ، کیرالا

رابطہ نمبر:7878801997

Related posts

”تیار ہیں ہم“ کا نعرہ لگا کر کانگریس اقلیتی شعبے نے ’ بھارت جوڑو نیائے یاترا کی کامیابی کے لئے خم ٹھونکا

Paigam Madre Watan

ماسٹر محمد رضاء الہدیٰ رحمانی طویل تعلیمی خدمات کے بعد سبکدوش

Paigam Madre Watan

مادرِ علمی جامعہ سلفیہ بنارس کی ترقی و خوشحالی کے لیے طلبہ کا کردار اہم ہے: افروز عالم ذکراللہ سلفی

Paigam Madre Watan