انگریزوں نے عدالتی تفتیش کے بغیر مولانا محمد باقر کو شہید کیا : شمیم منعمی
اردو میڈیا فورم کے زیر اہتمام مولانا باقر کے یوم شہادت کے موقع پر جلسہ خراج کا انعقاد

پٹنہ 18 ستمبر ( ) مولانا محمد باقر کو علماء اور پروفیسروں نے بھلا دیا، لیکن صحافیوں نے ان کے یومِ شہادت پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرکے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ مولانا باقر نے صحافت، عالمیت اور درس و تدریس، تینوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں اور انگریزی حکومت کے خلاف کھلم کھلا آواز بلند کی۔یہ باتیں مشہور خطیب اور خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشیں ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے جمعرات کو یہاں اردو میڈیا فورم کے زیر اہتمام منعقد کئے گئے جلسۂ خراجِ عقیدت کی صدارت کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا باقر پر نہ کوئی مقدمہ چلا نہ عدالت میں پیشی ہوئی۔ انہیں توپ کے سامنے کھڑا کرکے شہید کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انگریز ہندوستانیوں کو طاقت کے بل پر زیادہ دیر دبانے میں ناکامی کے بعد شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کر انہیں تقسیم کرنا چاہتے تھے مگر مولانا باقر نے اس سازش کو ناکام بنانے اور شیعہ سنی اتحاد کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ شیعہ گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کی جدوجہد مسلکی تفریق سے بالاتر قومی و ملی اتحاد کی علامت بن گئی۔مولانا محمد باقر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے انگریز ی حکومت کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کیا اور اپنے قلم کو عوامی مزاحمت کی آواز بنا دیا۔ انہوں نے صحافت کو محض خبروں کی اشاعت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے غلامی کے خلاف فکری جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی کے سجادہ نشیں پروفیسر سید شاہ حسین احمد نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے اکابرین کو یاد رکھتی ہیں ہمارے اسلاف ملک کو بچانے کیلئے جو کام کیا وہ ناقابل فراموش ہے ۔ مولانا باقر نے صحافت کو عبادت کا درجہ دیا اور اسے عبادت سمجھ کر پروان چڑھایا۔مولانا باقر صحافی کے ساتھ عالم بھی تھے۔ انہوں نے اپنے اخبار کو قوم کیلئے وقف کردیا تھا۔ مولانا باقر کے ساتھ انصاف نہیں ہوا جس کے وہ مستحق تھے ۔
مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونی ورسیٹی کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر توقیر عالم نے کہا کہ مولانا باقر کے والد بڑے عالم تھے ان کا خاندان ایران سے ہندوستان آیا تھا پہلے کشمیر میں قیام کیا بعد میں دہلی پہنچے ۔مولانا باقر صرف عالم ہی نہیں تھے بلکہ وہ انگریزی بھی خوب بہتر جانتے تھے دہلی کالج میں تعلیم حاصل کی اور استاد بھی بنے مولانا نوکری میں رہ کر کچھ کر نہیں سکتے تھے اس لئے انہوں نے نوکری کو الوداع کہہ دیا بعد میں انہوں نے اخبار نکالا اور انگریزوں کے خلاف پوری طاقت سے مقابلہ کیا انہوں نے تلواری سے انگریزوں کا مقابلہ کیاسب سے اہم یہ کہ اخبار نکلا کر قلم سے انگریزی حکومت ہلا کر رکھ دیا۔
جلسے کی نظامت اردو میڈیا فورم کے کار گزار جنرل سکریٹری پروفیسر صفدر امام قادری نے کی ۔انہوں نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ مولانا باقر نے 1837ء میں ’دہلی اردو اخبار‘ جاری کیا۔ اس اخبار نے دہلی اور شمالی ہند میں اردو صحافت کو ایک باقاعدہ سمت دی۔ اخبار میں سیاسی، سماجی، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر مضامین شائع ہوتے تھے۔ 1857ء کی بغاوت کے دوران مولانا باقر نے اپنے اخبار کے ذریعے برطانوی اقتدار کے خلاف پیدا ہونے والی صورتِ حال اور عوامی جذبات کی ترجمانی کی۔ اسی وجہ سے ان کا شمار اردو صحافت کے ان اولین صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحافت کو محض اطلاع رسانی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی شعور پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا۔ان کی شہادت نے ان کے خاندان کی عزت کو بھی تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب برطانوی اقتدار کے خلاف آواز اٹھانا انتہائی خطرناک تھا مولانا باقر نے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی قربانی اس بات کی علامت ہے کہ ایک خاندان کی علمی روایت صحافتی دیانت اور حق گوئی آنے والی نسلوں کے لیے عزت اور حوصلے کا باعث بن سکتی ہے۔مولانا باقر کا خاندان دہلی کے علمی و ادبی ماحول سے وابستہ تھا۔ ان کے فرزند مولانا محمد حسین آزاد اردو ادب کے معروف ادیب اور محقق بنے۔ اس طرح خاندان نے صحافت، تعلیم اور ادب کے میدان میں اپنی خدمات کے ذریعے اردو زبان و تہذیب کی خدمت جاری رکھی۔مولانا باقر کی قربانی صرف ایک صحافی کی شہادت نہیں، بلکہ اردو صحافت کی آزادی، قومی شعور اور حق گوئی کی ایک ایسی روشن مثال ہے جس نے ان کے خاندان کو تاریخ میں عزت و احترام کا مقام عطا کیا۔
خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر زاہد الحق نے کہا کہ اردو صحافت کو لیکر ہم لوگوں کو فکر مندضرورت نہیں ہے لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ جملے بازی بچنے کی ضرورت ہے ۔ اردو اخبارات میں معیار کو بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔ موجودہ وقت کی سیاست میں نااہلوں کی فوج کھڑی ہوگئی ہے اسی طرح صحافت میں ناواقف لوگوں کی بھیڑ سی لگی ہوئی ہے ۔ انہوں نے مالکان سے کہا کہ اپنے کارکنان صحافیوں کے حالات پر نظر رکھیں انہیں بہتر زندگی گزار نے کی موقع دیں۔ اردو صحافت کو بھی مین اسٹریم میڈیا میں لانے کی ضرورت ہے صحافت کی روشن تاریخ کو اپنانا ہوگا اور متحد ہوکر کام کرنا ہوگا ۔
اردو میڈیا فورم کے جنرل سکریٹری و مشہور صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے اردو میڈیا فورم کے غرض و غایت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اردو میڈیا فورم کا قیام دو سو سالہ جشن صحافت کیلئے عمل میں آیا تھالیکن ہم اس موقع پر پٹنہ میں کوئی بڑا پروگرام نہیں کر سکے لیکن چھوٹے کئی پروگرام منعقد کئے گئے جس نے فورم کی لاج رکھ لی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ہی اہم ہے کہ اس سال ہندی صحافت کے دوسو سال مکمل ہوگئے لیکن ہندی صحافیوں نے بھی اس موقع پر کوئی بڑا پروگرام نہیں کیا۔ لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عظیم آباد کی سرزمین بڑی ذرخیز ہے۔ یہاں جتنی تحریکیں چلی ہیں اتنی تحریکیں کسی دیگر ریاستوں میں نہیں چلی آ نے والے وقت میں ہم ضرور بڑے پیمانے پر اردو صحافت پر ایک بڑا پروگرام کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
وہیں صحافی جاوید اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا باقر نے انگریزی حکومت کے خلاف سینہ سپر ہوکر مقابلہ کیا اور اپنے قلم کی طاقت سے انگریزوں کے خلاف سماج کو متحد کرنے کی پوری کوشش کی۔ و صحافی انوار الہدیٰ نے کہا کہ مولانا باقر نے نامساعد حالات میں اخبار نکلا اور اس اخبار سے انگریزی حکومت کے خلاف پوری طاقت کے میدان عمل میں آگئےاور سچائی لکھنے کے پاداش میں انہیں شہید کردیا گیا۔
ڈاکٹر توقیر عالم توقیر صدر شعبہ اردو مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی نے کہا کہ مولانا باقر کی صحافتی زندگی سے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے قلم کے ذریعے تلوار کا کام کیا ہے۔ روز نامہ انقلاب کے بیورو چیف اسفرفریدی نے کہا کہ مولانا باقر اخبار کے مالک ومدیر تھے اخبار کے مالکان کو ان کے راستے پر چلنا چاہیے۔شعبہ صدر اردو پٹنہ یونیورسٹی ڈاکٹر عبد الباسط حمیدی نے کہا کہ مولانا باقر کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے انہوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیا ہے وہ آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ صحافی نواب عتیق الزماں نے کہا کہ اخبار نکالناموجودہ حالات میں بہت مشکل ہورہا ہے وسائل کی کمی نے اخبارات کے حالات کو پریشان کن بنا دیا ہے ۔ مولانا باقر نے اپنے اخبار کے ذریعے انگریزی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔اردو ایکشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری اشرف النبی قیصر نے کہا کہ صحافیوں کو ٹریننگ دی جانی چاہیے آج کے صحافیوں کی جو سوچ ہے وہ لکھ نہیں سکتے ہیں ۔
فاروقی تنظیم کے مدیر اقبال ظفر نے کہا کہ مولانا باقر نے انگریزی حکومت کے خلاف اپنے اخبار کے ذریعے سماج کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کی اور انہوں نے اپنے قلم سے صحافیوں کو پیغام دیا کہ سچائی کے سامنے لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنا ضروری ہے۔صحافیوں کو حالات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔گورنمنٹ اردو لائبریری کے سابق چیئرمین ارشد فیروز نے کہا کہ دہلی اردو اخبار کے مدیر مولانا باقر نے 1857 کی جنگ آزادی میں جو کردار ادا کیا ہے وہ سے مخفی نہیں ہے انہوں نے اپنے قلم کے جولانی سے انگریزی حکومت کو تہہ تیغ کردیاانگریزوں کے خلاف جم کر قلم چلائے اور لوگوں کو متحد ہونے پیغام دیا۔اس موقع پر حبیب مرشد خان اور انوار اللہ نے بھی خطاب کیا۔ اردو میڈیا فورم کے سرپرست اور کثیر الاشاعت اخبار قومی تنظیم کے مدیر اعلیٰ جناب ایس ایم اشرف فرید اپنی علالت کی وجہ سے پروگرام میں شریک نہیں ہو سکے ۔جلسہ خراج عقیدت میں شمیم قاسمی ‘ محمد افضل انجینئر‘ پرویز انور شاہ فیض الرحمن‘ شمس الزماں ‘ شرف الہدیٰ ‘ کاشف رضا امیتاز فریدی ‘ ضیاء الحسن حمیدی صفیہ جمیل ‘ سدرہ قادری ‘ ڈاکٹر افشاں بانو ‘ پرویز عالم ‘ آصف سلیم ‘ حسن امام رضوی ‘ معین گریڈیوی ‘ سعد احمد قاسمی ‘ محمد تکریم خان ‘ عرفان بلہاروی ‘ڈاکٹر ممتاز فرخ ‘ ذوالقرنین و دیگر معززین شہر موجود تھے۔


