Blog

آپ کا احتجاج، سرکاری زمین کو پارک، اسکول اور اسپتال کے لیے استعمال کرنے کا مطالبہ

آپ کا احتجاج، سرکاری زمین کو پارک، اسکول اور اسپتال کے لیے استعمال کرنے کا مطالبہ

رکن اسمبلی وشیش روی کی قیادت میں سی پی ڈبلیو ڈی ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ، ڈائریکٹر جنرل کے نام میمورنڈم پیش
باپا نگر، دیو نگر، ریگر پورہ اور کرول باغ میں لاکھوں کی آبادی کے لیے نہ پارک، نہ اسکول اور نہ اسپتال: وشیش روی

نئی دہلی، 21 ستمبر: عام آدمی پارٹی نے پیر کے روز سی پی ڈبلیو ڈی ہیڈکوارٹر کے باہر پُرامن احتجاج کرتے ہوئے سرکاری زمین کو پارک، اسکول اور اسپتال کے لیے استعمال کرنے کا مطالبہ کیا۔ کرول باغ کے رکن اسمبلی وشیش روی کی قیادت میں کیے گئے احتجاج کے بعد ایک وفد نے سی پی ڈبلیو ڈی کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کی اور ڈائریکٹر جنرل کے نام مطالباتی میمورنڈم پیش کیا۔وشیش روی نے کہا کہ کرول باغ کے باپا نگر، دیو نگر، ریگر پورہ اور بیڈن پورہ سمیت پورا علاقہ گنجان آبادی والا ہے، جہاں تقریباً 50 لاکھ کی آبادی رہتی ہے۔ حکومت نے یہاں کوئی اسپورٹس کمپلیکس، اسپتال، پارکنگ کی سہولت یا اسکول فراہم نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب اسی آبادی کے درمیان سی پی ڈبلیو ڈی کی ہزاروں مربع میٹر زمین کھنڈر کی شکل میں پڑی ہوئی ہے اور برباد ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سی پی ڈبلیو ڈی اپنی ہزاروں مربع میٹر خستہ حال اور خالی پڑی زمین پر عوام کے لیے بنیادی سہولیات اور عوامی مفاد کے منصوبے قائم کرے۔ وشیش روی نے کہا کہ سال 2014-15 تک یہاں جو لوگ رہتے تھے، وہ جا چکے ہیں اور اس کے بعد سے یہ زمین بالکل خالی پڑی ہوئی ہے۔ اب یہ جگہ کھنڈر میں تبدیل ہو چکی ہے اور سماج دشمن عناصر اس عمارت اور زمین پر سرگرم رہتے ہیں۔ ہم گزشتہ تقریباً سات سے آٹھ سال سے سی پی ڈبلیو ڈی کے ساتھ اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہم مسلسل خطوط لکھ رہے ہیں، کئی مرتبہ افسران سے ملاقات کر چکے ہیں اور متعدد بار فون پر بھی بات ہو چکی ہے۔ ہم نے اپنے علاقے میں اسی معاملے پر دستخطی مہم بھی چلائی تھی اور لوگوں کو اس مہم سے جوڑنے کے لیے ایک یاترا بھی نکالی تھی، لیکن اس کے باوجود جب کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو مجبوراً آج یہاں آ کر افسران کو میمورنڈم دینے کا پروگرام طے کرنا پڑا۔وشیش روی نے کہا کہ ہم نے سی پی ڈبلیو ڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ باپا نگر، دیو نگر اور ریگر پورہ سمیت پورے علاقے کی تقریباً 50 لاکھ آبادی کے لیے اس کھنڈر اور خالی پڑی زمین کو عوامی سہولت اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ آج ہمارے یہاں آنے کے بعد محکمہ ہمارے مطالبے کو سنجیدگی سے لے گا اور ہماری درخواست پر کارروائی کرے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو مستقبل میں عوام سے بات چیت کرکے اس معاملے پر مزید فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے لیے چاہے عوامی تحریک چلانی پڑے، غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کرنی پڑے یا آمرن انشن کرنا پڑے، عوام جس راستے کی رہنمائی کریں گے، ہم اسی سمت میں آگے بڑھیں گے۔ تاہم، ہمیں امید ہے کہ آج یہاں آنے کے بعد محکمہ ہمارے مطالبات ضرور سنے گا۔ دوسری جانب میونسپل کارپوریشن کے کونسلر مہیش کھیچی نے کہا کہ ہم یہ میمورنڈم اس لیے دینے آئے ہیں کیونکہ دیو نگر میں سی پی ڈبلیو ڈی کی کئی ہزار مربع میٹر زمین کافی عرصے سے خالی اور بنجر پڑی ہوئی ہے۔ یہاں پہلے سی پی ڈبلیو ڈی کے کوارٹرز ہوا کرتے تھے، جن میں افسران اور ملازمین رہتے تھے، لیکن گزشتہ 12-13 سال سے یہ کوارٹرز خالی پڑے ہیں۔ آج ان کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے اور وہ منہدم ہونے کے قریب ہیں۔ لوگ وہاں غیر قانونی اور نامناسب سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں، جبکہ کچرا اور ملبہ ڈال کر گندگی پھیلائی جا رہی ہے۔ مہیش کھیچی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان خستہ حال اور کھنڈر بن چکے کوارٹرز کو فی الحال منہدم کرکے کم از کم زمین کو ہموار کیا جائے۔ ہم اس سلسلے میں پہلے بھی افسران کو مطلع کر چکے ہیں اور سال 2017 سے مسلسل افسران سے ملاقات کرکے اس معاملے کو اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے علاقے میں تقریباً 50 لاکھ لوگ رہتے ہیں، لیکن ان کے لیے یہاں کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ نہ کوئی اسپتال ہے، نہ قریب میں کوئی اسکول ہے اور نہ ہی کوئی اسپورٹس کمپلیکس۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس زمین کو عوام کے استعمال میں لایا جائے۔ مہیش کھیچی نے کہا کہ ہم انہی مطالبات کو لے کر افسران کو میمورنڈم دینے آئے ہیں۔افسران کہتے ہیں کہ وہ کام کر رہے ہیں، لیکن سات سے آٹھ سال گزر جانے کے باوجود ان کی جانب سے کوئی عملی پیش رفت یا کارروائی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کام کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اگر سی پی ڈبلیو ڈی کے افسران ایسا نہیں کرتے ہیں تو ہم اس تحریک کو ایک بڑی تحریک میں تبدیل کریں گے۔ ہمارے ساتھ پوری عوام اور پورے علاقے کی حمایت ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ اس زمین کو عوام کے مفاد میں استعمال کیا جائے۔ جب تک ہمارے مطالبات نہیں سنے جائیں گے، ہم بھوک ہڑتال اور آمرن انشن پر بیٹھیں گے۔

Related posts

اظہارِ خیال کی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی تو خاموش نہیں بیٹھیں گے — ٹی یو ڈبلیو جے کے احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں کا متفقہ انتباہ

Paigam Madre Watan

Heera Group supporters write to the President. Letter to the Prime Minister and Chief Justice. Demand for investigation into the agencies’ unfair and unconstitutional actions

Paigam Madre Watan

آسام سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کا مرحلہ توجہ وامداد کا محتاج – مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اعلیٰ سطحی راحتی وفد کے سہ روزہ دورے سے واپسی پروفد کے تاثرات

Paigam Madre Watan