اویسی حیدرآباد کی 9 شہید مساجد پر کبھی نہیں بولے
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
حیدرآباد میں عرصہ تک کے سی آر کی حکومت تھی، اور حکومت میں ایم آئی ایم پارٹی شریک تھی، اس درمیان حیدرآباد میں 9 مساجد شہید ہوئیں لیکن بابری مسجد اور ملک کی شہید مساجد پر واویلا مچانے والے اویسی اپنے گھر کی 9 شہید مسجدوں پر ایک لفظ نہیں بولے، آخر کیوں؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ ملک بھر میں اور خاص طور سے بابری مسجد معاملے پر اویسی اس لئے بولتے ہیں تاکہ ملک میں ہندو مسلم نفرت اور اشتعال کا ماحول گرم کیا جائے، یا یوں کہیں کہ لاشوں پر سیاست کرنے کی ہدایت آگے سے دی گئی ہے، ظاہر سی بات ہے، جس متشدد پارٹی نے مسجدوں کو گرایا اس کا اہم مقصد اپنے شدت پسند حامیوں کو خوش کرنا ہوتا ہے، لیکن اکیلی بی جے پی سے بات دور تک پہنچ نہیں سکتی اس لئے اویسی کو اس پر زوردار تقریر کرنے اور ٹی وی ڈبیٹ میں شرکت اور پلیٹ فارم مہیا کرائی جاتی ہے، کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بابری مسجد گرا کر بی جے پی نے کبھی سرکار بنایا تو کبھی رام مندر بنانے کے نام پر بی جے پی کو اقتدار ملی اور کبھی رام مندر بن گئی اس لئے بی جے پی سرکار بنا سکی، اسد اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے بابری مسجد کا سودا کیا ہے، لیکن انہوں نے مسجد میں قرآن سر پر رکھ کر قسم کھائی اور کہا کہ میں نے سودا نہیں کیا، لیکن یہ بات مشہور ہے کہ جہاں دھواں ہو وہاں آگ ضرور ہوتی ہے، لہذا الزام ہے تو حقیقت کچھ نا کچھ ضروری ہوگی، اور اب بیٹے نے بابری مسجد کی شہید ہڈیوں اور بوسیدہ ملبے پر اویسی بولتے رہتے ہیں، جب کہ ان کے آبائی شہر حیدرآباد میں 9 مساجد شہید کی گئیں لیکن دنیا نے کبھی اس کا ذکر کرتے ہوئے اویسی کو نہیں دیکھا کیونکہ اپنے ہی شہر اور اپنی ہی الائنس والی حکومت کے کرتوت پر بولیں گے تو خود نقصان میں پڑ جائیں گے، لہذا سوال اٹھتا ہے کہ اویسی کی شہید مسجدوں پر اشتعال انگیز تقریر کہیں بی جے پی حمایتیوں کو متحد کرنے کے لئے تو نہیں، کیونکہ سابق وزیر اعلیٰ دہلی نے ثبوت کو بنیاد بناتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اویسی وہی بولتے ہیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی اور امت شاہ و نریندر مودی دفتر سے لکھ کر انہیں بھیجا جاتا ہے، جن مسجدوں کو حیدرآباد میں شہید کیا گیا ان کے نام (1) مسجد یک خانہ (امبرپیٹ) (2) مسجد ہاشمی (سیکٹیریٹ) (3)مسجد دفتیار (سکٹیریٹ) (4) قطب شاہی مسجد (سمیرپیٹ) (5)مسجدنوری (شمشا آباد) (6)مسجد خواجہ محمود (شمشاآباد) (7) قطب شاہی مسجد (جلال گوڈہ) (8)قطب شاہی مسجد (حیات نگر) (9) کوٹھا گودام فارسٹ مسجد ہیں۔
حیدرآباد کو دکن کی تہذیب، تاریخی مساجد اور اسلامی آثار کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ برسوں کے دوران شہر اور اس کے اطراف میں بعض مساجد کے انہدام، منتقلی، خستہ حالی یا ترقیاتی منصوبوں کی زد میں آنے کے واقعات نے مسلم معاشرے میں مختلف سوالات پیدا کیے۔ ان سوالات میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ان معاملات پر کب، کس سطح پر اور کس انداز میں آواز اٹھائی؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اویسی قومی سطح پر بابری مسجد، مساجد کے تحفظ، وقف املاک اور مذہبی مقامات سے متعلق معاملات پر مسلسل سیاسی اور قانونی موقف پیش کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ حیدرآباد کی مقامی مساجد کے معاملات میں ان کے کردار کا جائزہ لینا ایک قابلِ فہم عوامی سوال ہے۔ 2014 کے بعد کے سی آر کی قیادت والی ٹی آر ایس، جو بعد میں بی آر ایس بنی، اور ایم آئی ایم کے درمیان قریبی سیاسی تعلقات اور باہمی تعاون کا ریکارڈ موجود ہے۔ 2018 میں خود کے سی آر نے ایم آئی ایم کو ”فرینڈلی پارٹی“ قرار دیا تھا، جبکہ 2023 میں بھی انہوں نے ایم آئی ایم کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات جاری رکھنے کی بات کی۔ رپورٹس کے مطابق ایم آئی ایم نے اسمبلی کے اندر اور باہر بی آر ایس کی حمایت کی اور جی ایچ ایم سی میں میئر کے انتخاب کے دوران بھی بی آر ایس کی مدد کی۔
یہی سیاسی پس منظر اس سوال کو مزید اہم بناتا ہے کہ ریاستی حکومت کے دور میں مذہبی مقامات سے متعلق حساس واقعات پر ایم آئی ایم اور اس کی قیادت کا ردعمل کیا تھا۔ حیدرآباد کے پرانے سیکریٹریٹ میں موجود مسجدِ ہاشمی اور مسجدِ دفاترِ معتمدی/دفاترِ محمدیہ جولائی 2020 میں پرانے سیکریٹریٹ کمپلیکس کی مسماری کے دوران منہدم ہوئیں۔اس معاملے پر تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواستیں بھی دائر ہوئیں۔ عدالت کے سامنے یہ معاملہ آیا کہ دو مساجد کو نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر کے سلسلے میں منہدم کیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ نئی سیکریٹریٹ عمارت میں مساجد دوبارہ تعمیر کی جائیں گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر حیدرآباد کی مختلف مساجد کے انہدام یا تحفظ کے معاملات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کیا اویسی کی سیاسی اور عوامی مہم ہر معاملے میں ایک جیسی شدت کے ساتھ سامنے آئی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف سیاسی تقریروں سے نہیں بلکہ ہر مسجد کے واقعے، تاریخ، سرکاری کارروائی، عدالتی ریکارڈ، ایم آئی ایم کے بیان، مقامی احتجاج اور تعمیرِ نو کی صورتِ حال کو الگ الگ دیکھ کر ہی دیا جاسکتا ہے۔ذکر کردہ فہرست میں درج مساجد میں مسجد یک خانہ، امبرپیٹ کا معاملہ قابلِ ذکر ہے۔ دستیاب تاریخی رپورٹ کے مطابق 2017 میں سڑک کشادگی کے دوران تاریخی ایک خانہ مسجد کو منہدم کیے جانے پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسجد انتظامیہ نے کہا تھا کہ انہدامی ٹیم نے انہیں مناسب اطلاع نہیں دی۔اسی طرح مسجدِ نوری، شمش آباد کے بارے میں 2020 میں تلنگانہ وقف بورڈ نے NHAI سے مسجد کو سڑک کشادگی کے منصوبے کے تحت منہدم نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ وقف بورڈ نے اسے مذہبی طور پر اہم مقام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے منہدم یا منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔
شمش آباد کی مسجدِ خواجہ محمود کا واقعہ بھی خاص توجہ کا حامل ہے۔ اگست 2022 کی رپورٹس کے مطابق شمش آباد میونسپل حکام نے پولیس کی موجودگی میں مسجد کو منہدم کیا۔ مقامی افراد کے مطابق مسجد میں باقاعدگی سے نماز ادا کی جاتی تھی، جبکہ حکام کے حوالے سے اسے غیرقانونی تعمیر سے متعلق معاملہ بتایا گیا۔ انہدام کے بعد احتجاج ہوا اور ایم آئی ایم کے مقامی کارکنوں اور ارکان کی جانب سے بھی احتجاج کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس واقعے سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ”حیدرآباد میں مسجد کے انہدام پر ایم آئی ایم نے کبھی کوئی ردعمل نہیں دیا“ جیسا عمومی دعویٰ بہت وسیع ہے اور اسے ہر واقعے کے الگ ریکارڈ سے جانچنا ضروری ہے۔مسجد کے تحفظ کا مسئلہ صرف بلڈوزر سے انہدام تک محدود نہیں۔ بعض تاریخی مساجد مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بھی شدید خستہ حالی کا شکار ہوئی ہیں۔مثلاً 2021 میں ایک تقریباً 400 سال قدیم قطب شاہی دور کی مسجد کی خستہ حالت پر رپورٹ شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ تاریخی مسجد کی دیواریں، مینار اور دیگر حصے خراب ہوچکے تھے اور عمارت کو فوری توجہ کی ضرورت تھی۔تلنگانہ کے محکمۂ ہیریٹیج کے ریکارڈ میں بھی حیات نگر کی مسجد سمیت متعدد تاریخی مذہبی عمارتوں کے تحفظ اور مرمت کے کام درج ہیں۔اس لیے ”مساجد کا تحفظ“ ایک وسیع موضوع ہے جس میں انہدام، تجاوزات، سڑک کشادگی، سرکاری تعمیرات، وقف زمین، تاریخی ورثہ اور بحالی—سب شامل ہیں۔
اویسی قومی سیاست میں بابری مسجد اور ایودھیا کے معاملے پر مسلسل سیاسی موقف اختیار کرتے رہے ہیں۔ ان کی تقاریر اور بیانات میں بابری مسجد، آئین، مذہبی آزادی اور مسلمانوں کے حقوق کے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد کے مقامی واقعات کے حوالے سے بعض ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قومی سطح پر مذہبی مقامات کے معاملات پر بلند آواز سیاسی مہم چلانے والی قیادت کو اپنے شہر میں پیش آنے والے واقعات پر بھی اسی معیار سے جواب دینا چاہیے۔ یہ سوال سیاسی تنقید کے دائرے میں آتا ہے؛ تاہم اس کا جواب ”اویسی نے کبھی بات نہیں کی“ جیسے قطعی دعوے سے نہیں بلکہ واقعات کی مکمل دستاویزات سے تلاش کیا جانا چاہیے۔اویسی اور BJP کے درمیان مبینہ سیاسی مفاہمت یا باہمی فائدے کے الزامات بھی وقتاً فوقتاً سیاسی میدان میں سامنے آتے رہے ہیں۔2016 میں سابق بی جے پی رکن اسمبلی یتن اوزا نے الزام لگایا تھا کہ امیت شاہ اور اویسی کے درمیان بہار انتخابات سے قبل ایک خفیہ سیاسی سمجھوتا ہوا تھا اور اویسی کی تقریروں کو مبینہ طور پر بی جے پی کے مفاد میں استعمال کیا جانا تھا۔لہٰذا اس دعوے کو حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ”سابق BJP رکن اسمبلی کا الزام“ کہنا صحافتی طور پر زیادہ درست ہے۔ فراہم کردہ مواد میں درج نو مساجد یہ ہیں:مسجد یک خانہ — امبرپیٹ۔مسجد ہاشمی — سیکریٹریٹ۔مسجد دفاتر — سیکریٹریٹ۔قطب شاہی مسجد — شمیرپیٹ۔ مسجد نوری — شمش آباد۔ مسجد خواجہ محمود — شمش آباد۔ قطب شاہی مسجد — جلال گوڈہ۔ قطب شاہی مسجد — حیات نگر۔ کوٹھا گودام فارسٹ مسجد۔ اب اصل ضرورت یہ ہے کہ حیدرآباد کی دیگر مساجد کے بارے میں بھی اسی طرح تاریخ وار، مقام وار اور دستاویزی تحقیق سامنے آئے۔ اس تحقیق سے یہ واضح ہوسکے گا کہ کہاں سیاسی نمائندگی ہوئی، کہاں قانونی کارروائی ہوئی، کہاں حکومت نے تعمیرِ نو کا وعدہ کیا اور کہاں کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔

