Delhi دہلی

گلشن زبیدہ شکاری پور میں جشن یوم اطفال

آپ کے مستقبل کی تعمیر کسی ادارے پر منحصر نہیں ہے آپ کے ارادے اور جذبے پر منحصر ہے۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی


نئی دلی (پی ایم ڈبلیو نیوز)آج بہ روز منگل ۱۴؍نومبر۲۰۲۳ء؁ کو گلشن زبیدہ شکاری پور میں یوم اطفال کے موقع سے ایک جلسے کا انعقاد کیاگیا۔ اس جلسے کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے ادا کیے۔ اور حضرت مولانا مفتی محمد اظہرالدّین ازہرندوی قاضی شہر شکاری پور، الحاج فیاض احمد صاحب صدر ایچ،کے،فاؤنڈیشن شکاری پور، جناب فیاض احمد عمائد بلگاوی ، جناب انیس الرّحمان صاحب، نائب سرپرست گلشن زبیدہ شکاریپور، جناب انجیئر محمد شعیب صاحب، جناب نذراللہ مڈی صاحب سکریٹری کرناٹکا ار؎دو چلڈرنس اکا دمی کرناٹک، ماسٹر محمد سہیل صاحب، حافظ محمد سمیع عاقل صاحب، سید ابوطلحہ صاحب منیجر حافظ مہمان خانہ، حافظ محمد ناصر صاحب امام ہلیور مسجد شکاری پور، جناب رضوان باشاہ بانی وناظم مدرسہ سنبلۃ الخیر شیموگہ، جناب عبدالعزیز میرمدرس زبیدہ ہائیر پرائمری اسکول شکاری پور، جناب نصراللہ، اور جناب عنایت اللہ صاحبان نے اپنی شرکت سے اس مجلس کے وقار میں اضافہ کیا۔ مجلس کا آغاز حسب روایت قرأت کلام پاک سے ہوا، قرأت کلام پاک کا فریضہ محمد صفوان نے ادا کیا۔ یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ اس پروگرام کو آغاز سے انجام تک گلشن زبیدہ کے بچوں اور بچیوں نے نہایت خوش اسلوبی سے پہونچا یا ہے۔ نظامت کے فرائض ہائیرپرائمری جماعت کی بچی مہہ ناز نے اداکیے۔ حمد اسی جماعت کی ایک بچی ثمینہ نے نہایت خوش اسلوبی سے پڑھی۔ اور مدحت رسول کی خواندگی کا فریضہ مدیحہ نے ادا کیا۔ جبکہ مہمانوں کا استقبال ہائر پرائمری اسکول کی ایک طلبہ نورعین نے کیا ۔ اس موقع سے اسکول کے بچوں اور بچیوں نے کئی طرح کے ادبی اور ثقافتی پروگرام پیش کیے جن میں اداکاری گیت، بیت بازی، اور رباعیات بازی کے علاوہ تقریر وتحریر کا مقابلہ بھی تھا۔ اپنے اپنے فن کے مظاہرے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں اور بچیوں کو انعامات و اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ان بچوں کی خود اعتمادی، لہجے کی نفا ست، تلفظ کی ادائیگی، نظم اور اشعار پڑھنے کے سلیقے کو دیکھ کر اس بات کا احساس شدّت سے ہورہا تھا کہ حافظؔ کرناٹکی نے صرف کتابوں میں ہی ادب اطفال کا گلشن نہیں بسایا ہے بلکہ اسے زمینی سطح پر اتارکر اسے حقیقی زندگی سے جوڑ کر امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔ اس خصوصی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے صدر جلسہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے کہاکہ؛’’عزیز بچو! آپ کا یہ زمانہ جسے بچپن کا زمانہ کہا جاتا ہے نہایت سنہرا زمانہ ہے۔ یہ زندگی کا وہ موڑ ہے جو ساری زندگی کو نیا راستہ دکھانے کے کام آتا ہے۔ آج آپ سے سبھی پیار کرتے ہیں۔ آپ پر شفقت لٹاتے ہیں۔ آپ کی ایک ایک چیز کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ کے سونے، جاگنے، کھانے، پڑھنے لکھنے، صحت و تندرستی سب پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے کیوں کہ آپ آنیوالی زندگی کے معمار ہیں۔ آپ خود غور فر مائیے کہ اس وقت آپ کو کس قدر آزادی، تحفظ، اپنائیت اور محبت حاصل ہے، آپ کسی کے گھر میں بلاتکلف داخل ہوسکتے ہیں مگر عمر کی ایک منزل پار کرنے کے بعد آپ اس آزادی سے محروم ہوجائیں گے۔ آج آپ کو نیند کی میٹھی آغوش میں جانے میں ایک پل کی دیر نہیں لگتی ہے۔ مگر ایک وقت آئے گا کہ نیند کی گولی کھاکر نیند کی پریوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس لیے اس سنہرے وقت کو اپنے کام میں لگائیے۔ تعلیم و تعلّم کی نئی دنیا سجائیے، اور اپنے آپ کو سچ مچ ملک و قوم کا معمار بنائیے۔ یادرہے کہ آپ کے مستقبل کی تعمیر کسی ادارے پر منحصر نہیں ہے آپ کے ارادے اور جذبے پر منحصر ہے۔ اس لیے اپنے جذبے اور ارادے کی صحت وصلا بت کا خیال رکھیے ۔ اپنے آپ کو اللہ اور اپنے والدین کے ساتھ ساتھ قوم و ملّت کی امانت اور وراثت جانیے اور اس کی اسی طرح حفاظت کیجئے۔‘‘مولانا اظہرالدّین صاحب نے اپنے جادوبیان خطاب میں کہا کہ؛ ’’بچپن کا زمانہ یقینا بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اور اس کی قیمت کو حافظؔ جی بہت اچھے سے سمجھتے ہیں۔ استاد گرامی حافظؔ جی کی تربیت کا ہی فیضان ہے کہ آج مجھ جیسے کئی بچے مدرسے سے فراغت کے باوجود زبان و ادب کے شعور سے آگاہی رکھتے ہیں۔ میں بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ اس ادارے میں ہر سال اور ہر موقع سے فائدہ اٹھاکر جلسہ برپاکیاجاتا ہے۔ اور اس میں استادگرامی کی نظم و نثر کو پڑھااور پڑھایا جاتا ہے۔ جس سے اساتذہ اور بچے دونوں کی زبان میں نکھار پیدا ہوتاہے۔‘‘جناب فیاض احمد صاحب صدر ایچ،کے فاؤنڈیشن شکاری پور نے اپنے پرمغز خطاب میں فرمایاکہ’’گلشن زبیدہ بچوں کی تعلیم و تربیت کا ایک بہترین گہوارہ ہے۔ یہاں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اور پوری کوشش کی جاتی ہے کہ بچوں کی خصوصی خوبی کی شناخت کر کے اسے ایسی تعلیم اور تربیت دی جائے کہ وہ زندگی کے ہر امتحان میں کامیاب ہو، آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو اتنے اچھے ادارے میں پڑھنے کا موقع ملا۔‘‘جناب انیس الرّحمان صاحب نائب سرپرست گلشن زبیدہ شکاری پور نے اپنے نہایت سنجیدہ اور عالمانہ خطاب میں کہا کہ؛’’اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بچہ اس کائنات کا باپ ہے۔ اس لیے بچوں کے بچپن کی حفاظت کرنا اور اسے مثبت کام میں لگانا ہر بڑے کی ذمہ داری اور اس کے فرائض میں شامل ہے۔ بچوں کے بغیر زندگی کی مسرتوں کا تصوّر نہیں کیا جاسکتا ہے، اس لیے بچوں کی تعلیم و تربیت اور اس کی خوشی و مسرت کا ہر حال میں خیال رکھاجانا چاہیے۔ اور انہیں بہتر تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمدہ ماحول فراہم کرنا چاہیے۔‘‘جناب انجنئر محمد شعیب صاحب نے اپنی بصیرت افروز تقریر میں کہاکہ؛’’عزیز بچو! آپ غور فرمائیے کہ آپ کی طرح کے جو بچے اسکولوں تک نہیں پہونچ سکے ہیں۔ اور تعلیم سے محروم ہیں وہ آج کس طرح کی زندگی جی رہے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ان کی زندگی کو دیکھ کر خود آپ کو بھی ان پر ترس آتا ہوگا۔ اس تناظر میں اپنے بارے میں سوچیے اور اللہ کا شکر اداکیجئے کہ اللہ نے آپ کو علم کی دولت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے اور بچپن کی نعمتوں سے فیضیاب ہونے کی سعادت بخشی۔‘‘جناب سید ابوطلحہ نے کہا کہ؛’’یوم اطفال ہم سب کو مناتے رہنا چاہیے تا کہ ہمیں یاد رہے کہ ہم بال بچوں والے ہیں۔ اور ان بچوں کی ہم پر کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں۔‘‘جناب ماسٹر محمد سہیل نے کہا کہ؛’’بچوں کے ادب پر کام کرنے والوں کی بہت کمی ہے، خاص طور سے بچوں کے ادب کے لیے عملی طور پر کام کرنے والے لوگ بے حد کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں میں ادب کا جذبہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ بچوں کے ادب میں پیدا ہو نے والے اس ویرانے کو آبادی سے ہمکنار کرنے کے لیے حافظؔ کرناٹکی صاحب کی شخصیت ایک مثال ہے۔‘‘جناب حافظ ناصر صاحب نے اپنے مخصوص خطیبانہ انداز میں کہا کہ؛’’یوم اطفال کے موقع سے جلسہ برپا کرنے کا ایک فائدہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ والدین جو اپنی ذمہ داریوں کی ہراسانی میں اپنے بچوں کو تقریباً بھول سے جاتے ہیں انہیں اپنے بچوں کی یاد آجاتی ہے۔ اور اساتذہ کو بھی احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ محض بچوں کو پڑھانے کے اکتاہٹ والے کام میں نہیں لگے ہوئے ہیں بلکہ قوم کی مستقبل کی تعمیر کافریضہ انجام دے رہے ہیں۔‘‘جناب نذراللہ مڈی سکریٹری کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی نے اپنے نہایت اہم خطاب میں کہا کہ؛ ’’کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی بچوں کے ادب، تعلیم اور بچوں کی صلاحیتوں کے پروان کے لیے وقف ہے۔ یوم اطفال کے اس جلسے کو بھی اکادمی نے ایک اہم جشن کی شکل عطا کی ہے۔ کیوں کہ اکادمی کے بنیادی مقاصد میں بچوں کے بچپن کی حفاظت کے ساتھ اس کے حقوق کی حفاظت، مادری زبان اردو سے اس کی محبت کی تربیت شامل ہے۔ گلشن زبیدہ اس اعتبار سے ایک مثالی ادارہ ہے کہ یہاں بچوں کو علمی، ادبی اور عملی طور پر اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے پرچم لہرانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔‘‘حضرت محمد رضوان صاحب بانی و ناظم مدرسہ سنبلۃ الخیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ؛’’مدرسے دین کے قلعے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کی تعلیم کے ادارے بچوں کی معصومیت کے نگہبان و پاسبان بھی ہوتے ہیں۔ اور ان کی معصوم سوچوں کو لفظوں کا پیکر ادا کرنے والے تعلیمی درسگاہ بھی ہوتے ہیں یہ بہت اچھا ہوا کہ یوم اطفال کے موقع سے ان تمام باتوں پر گفتگو ہوئی جن کا براہ راست بچوں سے رشتہ اور تعلق ہے۔‘‘محمدنصراللہ نے کہا کہ؛’’ہم لوگوں نے اپنی صلاحیت اور استطاعت کے مطابق بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت محنتیں کی ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں اندازہ ہے کہ ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے تا کہ یہ بچے قوم کی تعمیر نو کے ضامن بن سکیں۔‘‘جناب فیاض احمد صاحب عمائد بلگاوی نے اپنے خصوصی انداز میں کہا کہ؛’’بچوں کی نفسیات کو سمجھ کر اس کی صلاحیتوں کو اس طرح ابھارنا کہ ان کی خوشی اور مسرت کے شیشے پر بال نہ پڑے بہت بڑی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری گلشن زبیدہ اداکررہی ہے۔‘‘شیخ محمد مدثر کیلی گرافی آرٹسٹ شکاری پور نے کہاکہ؛جناب حافظ سمیع عاقل بچوں کی گائیکی کے استاد نے اپنی تقریر میں کہا کہ جب ہم کو شعر و نغمہ کو درست انداز میں پٹرھنا آجاتا ہے تو اس کو سروں میں ڈھالنا بھی آسان ہو جاتا ہے یہ بہت ضروری ہے کہ بچوں کو ا بتدامیں ہی درست تلفظ سے آگاہ کر دیا جائے ’’بچے قدرت کی کیلی گرافی کے نادر نمونے ہیں۔ جب تک بچے اس دنیا میں آتے رہیں گے ہماری زندگیوں کی مسرتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اور ہر طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرکے بچوں کی روشن مستقبل کی تعمیر کا خواب سجاتے رہیں گے۔‘‘ عنایت اللہ ذمہ دار مدینۃ العلوم آفس نے اپنے خطاب میں کہا کہ؛’’ابھی میں بھی خود کو بچوں میں شمار کرتا ہوں، اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ بڑوں کو چاہیے کہ وہ بچوں کے دوست بنیں تا کہ بچے اپنے بچپنے سے لطف اندوز ہو سکیں۔‘‘ اخیر میں ہیڈ ماسٹر عبدالعزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ؛’’بہ حیثیت صدر مدرس کے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سبھی اساتذہ مل کر قوم و ملّت کی یہ امانت جسے بچے کہا جاتا ہے ہم اس کی حفاظت کریں۔ انہیں ہر طرح کی خیانت سے محفوظ رکھیں۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ میں آپ سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس مجلس میں شرکت کرکے اسے کامیاب بنایا۔‘‘

Related posts

وزیر ماحولیات گوپال رائے نے افسران کو بائیو ماس برننگ اور گاڑیوں کی آلودگی پر قابو پانے کی سخت ہدایات دیں

Paigam Madre Watan

اسٹیٹ تکمیل الطب کالج،لکھنؤ میں جشن یوم یونانی 2024کا انعقاد

Paigam Madre Watan

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں،اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar