Delhi دہلی

پروفیسر ابوذرعثمانی کا انتقال ، اردو زبان وادب کا ناقابل تلافی نقصان : سید احمد قادری

نئی دہلی (پی ایم ڈبلیو نیوز)پروفیسر ابوذرعثمانی کا مورخہ 18 ؍ نومبر 23 ء کی صبح رانچی میں انتقال ہو گیا ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کے دار فانی سے کوچ کئے جانے سے اردو زبان و ادب کے ساتھ ساتھ اردو تحریک کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ، جس کا مستقبل قریب میں پُر ہونا مشکل ہے ۔ اردو کے معروف افسانہ نگار اور صحافی داکٹر سید احمد قادری نے پروفیسر ابوذرعثمانی کے وصال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پروفیسر ابوذرعثمانی ان کے ہم وطن تھے اور ان سے قریبی رشتہ داری کی وجہ کر ان سے بہت قریب تھے ۔ پروفیسر ابوذرعثمانی نے اورنگ آبا دمیں 3 ؍ جنوری 1937 ء کو آنکھیں کھولیں ۔ ان کے والد مولانا ایوب عثمانی اپنے زمانے کے جید عالم تھے ۔ ان کی کئی کتابیں ملک اور بیرون ملک کے نصاب میں شامل رہی ہیں ۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ پروفیسر ابوذرعثمانی کو بچپن سے ہی علم و ادب کا ماحول ملا اور اسی ماحول میں پلے اور بڑھے ۔ لیکن افسوس کہ نوجوانی میں ہی پروفیسر ابوذرعثمانی کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا ، جس کے نتیجہ میں انھیں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ زندگی کے سرد و گرم کو جھیلتے ہوئے ابتدا ٔ میں انھوں نے کوآپریٹو سوسائیٹی میں انسپکٹر کی نوکری کی ، لیکن انھیں شروع ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق تھا ، اس لئے یہ ملازمت انھیں پسند نہیں آئی او راس سے استعفیٰ دے کر وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مصروف ہو گئے اور آخر کار کافی جستجو کے بعد رانچی کالج ، رانچی کے شعبۂ اردو میں ان کی تقرری ہوئی ۔ پروفیسر ابوذرعثمانی کی اردو تنقید سے گہری وابستگی تھی اور وہ ازرا پاؤنڈ کے اس خیال کے ہمیشہ اسیر رہے کہ کوئی بھی تنقید نگار بغیر کسی نظرئیہ تنقید کے نقاد کا باوقار درجہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ ان کی پہلے تنقیدی مضامین کے مجموعہ ’’فن سے فنکار تک‘‘ کے تقریباََ تمام مضامین ان کے ا س خیال کو واضح کرتے ہیں ۔ اس دوران انکے کئی تنقیدی مضامین کئی معیاری رسائل کے زینت بنتے رہے جواردو تنقید کی سمت ورفتار میں اضافہ کے سبب بھی بنے ۔ ان مضامین کا ایک انتخاب ’’ ادب اور فن ‘‘ کے نام سے جلد ہی شائع ہونے ولا تھا ۔ تنقید نگاری کے ساتھ ساتھ پروفیسر ابوذرعثمانی کی اردو تحریک سے گہری وابستگی تھی ۔ انجمن ترقی اردو، بہار کے بعد جھارکھنڈ میں صدر کی حیثیت سے اردو کے حقوق کی بازیابی کے لئے انھوں نے سخت جد و جہد کی اور کامیاب رہے ، جو اب یقینی طور پر جھارکھنڈ اردو تحریک کی تاریخ کا اہم حصہ ہے کہ کس طرح اپنے حقوق حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ آج جھارکھنڈ کے طول و عرض کی درس گاہوں میں اردو اساتذہ درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ، ا س کے لئے پروفیسر ابوذرعثمانی کی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ڈاکٹرسید احمد قادری کے مطابق پروفیسر ابوذرعثمانی کے انتقال نے پورے جھارکھنڈ کو ہی نہیں پوری اردو آبادی کو سوگوار کر دیا ہے ۔ اللہ پاک انھیں جوار رحمت میں جگہ دے ۔ آمین ، ثم آمین

٭٭٭٭٭٭

Related posts

بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سے خوفزدہ ہیں اور اسی لیے انہیں جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنا چاہتی ہے: سوربھ بھردواج

Paigam Madre Watan

‘کنونشن ہال دھماکوں کی آواز سے گونج اٹھا’، اجلاس میں موجود لوگوں کا پہلا ردعمل۔

paigammw.com

وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دہلی کے کارکنوں سے ملاقات کی جنہوں نے اترکاشی ٹنل آپریشن کو کامیاب بنایا

Paigam Madre Watan

Leave a Comment