Articles مضامین

نہ جانے کیا کمی رہ گئی ہمارے اخلاق میں صاحب

✍️⁩ از:- افتخار ساقی،البرکات، علی گڑھ


    یارب! میرے بھارت میں محبت کی فضا ہو
پودے وہ کھلیں جو گلِ تر بھول گئے تھے۔

 بر صغیر ہند میں مسلمانوں کا مستقبل دن بدن جتنا بھیانک ، مشکوک اور مایوس کن ہوتا جا رہا ہے۔ وہ کسی پر مخفی نہیں ہے۔ایک ثابت شدہ حقیقت کی طرح اب یہ بات بحث و دلیل کے مرحلے سے بہت آگے نکل چکی ہے کہ مسلمانوں کی ہر شام و سحر کسی بھی وقت اچانک ٹوٹ پڑنے والے خطرے کے نشانے پر ہے۔ جو لوگ اس ملک کا نظامِ حکومت چلا رہے ہیں یا تو دیدہ و دانستہ وہ مسلمانوں کے مسائل سے چشم پوشی کرتے ہیں یا مسلمانوںکے مسائلکو تعصبکی نذرکر دیتےہیں، دونوں حالتوں میں سے کوئی بھی حالت ہو، نا اہلیت، سنگ دلی اور فرض نا شناسی کی انتہائی بد ترین مثال ہے۔اب حالات کی سنگینی نے مسلمانانِ ہند کو اس نازک مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ مایوسی کے اتھاہ ساگر میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔ جان و مال کی تباہی اگر اتفاقی حادثوں کی طرح پیش آنے والی کوئی بات ہوتی تو اپنے دل کو سمجھایا جا سکتا تھا، لیکن اب زعفرانی اقتدار کے بلوائیوں کے لیے شب و روز کا معمول بن چکا ہے۔ نہ اب کسی طبقے کی تخصیص ہے نہ کسی خطے کا استثنا، سارا ہندوستان بلا تفریق لرزہ خیز مظالم کا خو گر بنتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف حکومتوں کی شرمناک بے بسی کا عالم یہ ہے کہ ملک کی سرحدوں پر دشمنوں کی صفیں الٹنے کے لیے ان کے پاس فوج اور اسلحے کی قوت  سب کچھ موجود ہے۔ لیکن آبادیوں کے اندر امن و سلامتی کے غارت گروں کا رخ پھیرنے کے لیے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اب عوام کی محافظ پولیس خود بلوائیوں کے لیے دیوارِ پناہ بن جاتی ہے چہ جائے کہ وہ عوام کی حفاظت کرتی۔ چوروں سے نپٹا جا سکتا ہے، لیکن پاسبانوں سے نپٹنا بہت مشکل ہے۔ مسلمانوں پر بلوائی بھی ظلم و زیادتی کرتے ہیں اور پولیس بھی اپنی سنگینیوں کا نشانہ بناتی ہے۔ ان حالات میں مسلمانوں کے لیے سوا اس کے اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ وہ اپنی تاریخ کی معنوی قوتوں پر اعتماد کر کے انتہائی پامردی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں۔ خود کے اندر ہمت و حوصلہ پیدا کریں،  سیاسی سماجی، تعلیمی اور معاشی اعتبار سے خود کو مضبوط کریں۔ ویسے بڑے سے بڑے قہر وستم کے لیے بھی سندِ جواز تلاش کر لی جاتی ہے اگر اس کے پیچھے ہیجان خیز اور اشتعال انگیز جرائم کے دستاویز موجود ہوں، لیکن وائے گردشِ ایام کی نیرنگی! کہ بھارت کے مسلمان صرف اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا پا رہے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا قصور یہی ہے کہ آج انہوں نے اپنے وطنِ عزیز کے خلاف دشمن ملکوں کے ساتھ کسی طرح کی سازش نہیں کی۔ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بغیر یہ دیکھے ہوئے کہ نشانے پر کون ہے۔انہوں نے آگ برساتی ہوئی توپوں کے دہانے کھول دیے۔ انہوں نے ننگے مظالم اور کھلی ہوئی نا انصافیوں کے خلاف سات دہائیوں میں نہ کبھی جلوس نکالا، نہ احتجاجی مظاہرے کیے، نہ لائن کی پٹریاں اکھاڑیں، نہ ٹرینوں اور بسوں کو جلایا، نہ نظامِ حکومت میں تعطل پیدا کیا، نہ سرکاری اَمْلاک اور ارباب وطن کی جائدادوں کو کوئی نقصان پہنچایا۔ ظلم و ستم کی آگ میں تپتے رہے لیکن ایک شریف، مہذب اور خیر پسند شہری کی طرح انہوں نے کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔

نہ جانے کیا کمی رہ گئی ہمارے اخلاق میں صاحب
دل کو جتنا بھی صاف رکھا اتنا ہی ہمیں ستایا زمانہ نے۔

         آج میں بہت افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ہندوستان نے دیگر تمام ملکوں میں اپنا وقار کھو دیا ہے۔ اور یہاں کی عوام اور ملکوں کی عوام کی بنسبت زیادہ شرپسندوں کے شکار ہیں۔  جب سے بی جے پی ہندوستان کی گَدِّی پر آئی ہے۔ تب سے مسلمان طرح طرح کے مصائب کا سامنا کرتے نظر آ رہے ہیں۔ لوگوں کے درمیان پھوٹ پیدا کرنے کے لیے ہندو مسلم کا نعرہ بلند کیا، بہت سے ایسے نا قابل برداشت کام کیے جن کا الزام مسلمانوں پر تھوپ ڈالا ، مندروں میں اپنے بلوائیوں کے ذریعے اسلامی جھنڈا لہرایا، اس کا الزام مسلمانوں پر تھوپ ڈالا، اس ظالم حکومت نے مسلمانوں پر بہت اتیاچار کیا۔ ابھی حال ہی (2019) میں *تبریز انصاری* جو کہ بے قصور تھا اسے مار ڈالا۔ ہندوؤں کے لیے کوئی قانون نہیں؟ صرف مسلمانوں کے لیے قانون؟ آخر کب تک ہم ظلم و ستم کے سمندر میں غوطہ لگاتے رہیں گے۔ ابھی ماضی قریب میں دہلی کے ” مصطفٰی آباد، چاند باغ، شیو وہار، کروال نگر، موج پور، گونڈہ چوک، نور الہٰی ” اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں پر حملہ پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی۔ فساد کے وقت کے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ لوگ مزاروں کو آگ کے کپڑے پہنا رہے ہیں، مسجد کے اماموں کو کبھی پیٹ رہے ہیں تو کبھی تیزاب ڈال کر انکے حسین جسموں کو بے حسن کر رہے ہیں۔ اور مسجدوں کو توڑ رہے ہیں، اور انہیں اپنا شمشان گھاٹ بنا رہے ہیں، اور مسجدوں میں مندر کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ان جیسے حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔


گھٹتی ہوئی پر امن زمینوں سے ہوں بے چین
بڑھتی ہوئی آتش کے شرر دیکھ رہا ہوں۔


         قارئینکرام! آپ نے ملاحظہ کیا، ہندوستان کی حکومت ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ کس طرح ظلم و زیادتی کر رہی ہے۔ کسی ملک کا پی ایم اپنی عوام کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتا ہے؟ مسلمانوں نے کبھی کسی بےگناہ کی روح اس کے جسم سے جدا کی ہے؟ لیکن شرپسندوں نے تبریز انصاری کی پیاری جان اس کے جسم سے جدا کر ڈالی۔ کیا کسی مسلمان نے کبھی مندر کے پنڈتوں کو پیٹا؟ لیکن شرپسندوں نے مسجد کے اماموں کو پیٹا۔ ہم نے کبھی پٹریاں اکھاڑیں؟ ہم نے کبھی ٹرین، بسوں کو جلایا؟ سب کچھ شرپسندوں نے کیا۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود انہیں جیل میں ڈالا گیا؟ میڈیا آئی؟ پولیس آئی؟ اگر بجائے ان کے مسلمان ہوتے تو مسلمان کو جیل میں ڈالا جاتا، میڈیا آتی، اور پولیس بھی آتی۔ آخر ایسا کیوں؟ ایسا اس لیے کہ پولیس اور میڈیا گویا حکومت کے در کے سگ ہیں ہیں۔ جو سوائے اپنے مالک اور اسکے ہمنواؤں کے ہر ایک پر بھوکتے ہیں۔


       ظلم خود مار دیتا ہے ظالم کو بھی
خود کشی کر کے ہٹلر چلا جاتا ہے۔


       اب صرف آرزوؤں دعاؤں اور نیک تمناؤں سے کام نہیں چلے گا۔ تسلیوں اور خوش فہمیوں کا دور ختم ہو گیا اب تو اپنے مستقبل کو خطرے سے بچانے کے لیے ہمیں جاگنا ہوگا۔ بہت ظلم و ستم کے سمندر میں غوطہ لگا لیے۔ لیکن اب اور غوطہ نہیں لگائیں گے۔ ہمیں شرپسندوں اور بلوائیوں کو اپنے آباو اجداد کا دور دکھانا ہوگا۔ ہمیں ایک ہونا پڑےگا، ابھی نہیں تو کب ہونگے؟ ہمیں ایک ہوکر اپنی ایکتا کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، ابھی نہیں تو کب کریں گے؟ ابھی اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی عظمتِ رفتہ کو بحال کرنے کی فکر کریں اور قوم کو آگے بڑھائیں۔

قوت جنہیں حاصل ہے وہ افراد ہیں خاموش
مدَّھم سی صداؤں کا گزر دیکھ رہا ہوں۔

Related posts

حقوق اقلیت کی پامالی میں اضافہ

Paigam Madre Watan

امام اعظم رحمہ اللہ کا ایک سوال کا سبق آموزجواب

Paigam Madre Watan

گنگا کنارے خانقاہ منعمیہ کے دوارے

Paigam Madre Watan

Leave a Comment