Articles مضامین

اجتماعیت انسان کی فطرت ہے

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسلم محمود ، مسقط (عمان) ،برائے رابطہ :9897334419


یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان فطری طور پر اجتماعیت پسند پیدا کیا گیا ہے۔ انسان ماں باپ کے اجتماعی تعاون سے ایک کمزوراور ناتو اں حالت سے پروان چڑھتا ہے۔ گھر، خاندان، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ان گنت لوگوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ ضروریات زندگی متعدد ہا تھوں سے گزر کر اس کو میسر ہوتی ہیں۔ جیسے غذا، مختلف انسانوں کی محنت ، تعاون اور اجتماعیت سے دستر خوان تک پہنچتی ہے، جس میں کسان ، بازار ، دکان دار اور چکی و بیکری وغیرہ شامل ہیں۔ بزنس ، آگنائزیشن ، اسکول، کالج ، یونیورسٹیاںاور دوسرے شعبوں کے لیے اجتماعی کوشش درکار ہوتی ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ دوسرے افراد کی معیت میں رہنا پسند کرتا ہے۔ خوشی اور غم کے موقعوں پر دوسروں کا ساتھ پسند کرتا ہے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ بھی انسانوں کو اجتماعی طور پر قرآن میں مخاطب کرتا ہے۔ جیسے اے مومنو! اے لوگو! وغیرہ۔ اللہ نے عبادات کا بھی اجتماعی طریقہ مرتب فرمایا ہے۔ نماز باجماعت ، رمضان کے روزے، اجتماعی زکوۃ اور حج اجتماعیت کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ چوں کہ انسان کی فطرت میں اجتماعیت ہے، اس لیے فرض عبادتیں اجتماعیت کے سبب ہلکی اور فطرت کے مطابق آسان ہو جاتی ہیں، ورنہ بغیر جماعت کے نماز ،بغیر رمضان کے روزے اور دوسرے فرائض کا ادا کرنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ لوگ اجتماعیت میں رہیں، متحدر ہیں، تفرقہ پیدا نہ کریں۔ اللہ جن افراد سے محبت کرتا ہے ان کومتحد کر دیتا ہے اور جن لوگوں سے ناراض ہوتا ہے ان کو تفرقہ کا شکار کر دیتا ہے۔انسان تنہائی پسند نہیں کرتا۔ اہل خانہ، رشتہ دار، پڑوسی اور دوست احباب وغیرہ کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ اس کی فطرت کواجتماعیت سے تسکین پہنچتی ہے۔ قیدیوں کو دوسری اذیتوں کے علاوہ قید تنہائی کی سزا بھی دی جاتی ہے، جو کہ قیدی کو سخت اذیت سے دو چار کرتی ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجتماعیت اختیار کرو اور انتشار سے بچو۔ شیطان کا آسان لقمہ فرد واحد ہوتا ہے نہ کہ متحد اور مجتمع لوگ۔ جس طرح اکیلی بکری بھیڑیے کا آسان شکار ہوتی ہے، اسی طرح اکیلا انسان بھی آسانی سے شیطان کاشکار ہو سکتا ہے۔اجتماعیت کی اہمیت کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اور بیش قیمت ارشادات مندرجہ ذیل ہیں:
٭ اللہ سبحانہ تعالیٰ جس کی قوم پر عذاب بھیجا ہے تو کبھی زمین سے اور کبھی آسمان سے اور کبھی ان کے اتحاد کوپارہ پارہ کر کے۔
٭ جو اجتماعیت سے ایک بالشت بھی ہٹا ، اس نے اسلام کا طوق اپنے گلے سے نکال دیا۔ یعنی وہ مسلمان نہیں رہا۔
٭ اگر دو یا تین لوگ سفر پر نکلیں تو آپس میں کسی ایک کو اپنا امیر بنالیں۔
٭ جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔
٭ اجتماعی عبادت 70 سال کی انفرادی عبادت سے بہتر ہے۔
٭ مل کر کھاؤ ، الگ الگ نہ کھاؤ، کیوں کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بغیر امیر کے کوئی جماعت نہیں ہوتی اور بغیر جماعت کے کوئی دین نہیں ہوتا۔ جس نے جماعت چھوڑی، اس نے اسلام چھوڑ دیا۔ایک گروہ کا دوسرے گروہ پر دبد بہ متحدہ افرادی قوت پر منحصر ہوتا ہے۔ آپس میں اختلافات ، رنجشیں اور عداوت رکھنے والے ہمیشہ بے اثر اور غیر اہم سمجھے جاتے ہیں۔اجتماعیت میں دین پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اجتماعیت میں رہ کر انسان کا اخلاق نکھرتا ہے۔ اکیلا انسان کس سے حسن اخلاق سیکھے گا اور کس پر اس کا مظاہرہ کرے گا۔ اجتماعیت کی اس قدر اہمیت ہے کہ نماز میں امام غلطی بھی کرے تو مقتدی جماعت نہیںچھوڑ سکتا۔انسان اجتماعی طور پر ہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ معرکہ، مشن ، جنگیں اور دوسری کامیابیاں اجتماعی طور پر ہی حاصل کی جاتی ہیں۔ اجتماعیت کا ہی رعب ہوتا ہے اور اجتماعیت میں ہی اللہ کی مدد میسر ہوتی ہے۔اجتماعیت کا پہلا مرحلہ اپنا گھر ہوتا ہے اور اس کے بعد خاندان، محلہ ، دوست و احباب، اہل شہر اور اہل ملک سے ہوتا ہوا تمام دنیا کے انسانوں تک وسیع ہے اور اسی میں امن ہے ، سکون ہے، رب کی خوشنودی ہے، نہ کہ جنگ و جدال ، فساد اور افراتفری میں۔اجتماعیت کے لیے ایک امیر ضروری ہے۔ اجتماعیت کی بقا کے لیے ہمارے گھر کا بھی ایک امیر ہونا چاہیے، جس کا سب سے بڑا حق دار والد ہے، اگر وہ نہ ہو تو بڑا بھائی اور شادی شدہ عورت کے لیے اس کا شوہر اس کا امیر ہے۔ اس کے برخلاف کوئی بھی ترتیب غیر اسلامی ہے اور وہ ترتیب اجتماعیت کا اصل حق ادا نہیں کر سکتی۔اجتماعیت نسل پرستی ، کالے گورے، امیر و غریب اور چھوٹے بڑے کی تفریق سے بالاتر ہو کر حاصل کی جاسکتی ہے، جس میں ہر انسان کے حقوق برابر ہوں اور ہر انسان دوسرے انسان کے لیے محترم ہو۔ہمارے لیے بحیثیت انسان اور مومن ضروری ہے کہ متحد ہو کر ر ہیں ، چاہے وہ گھر کے افراد کے بیچ یا گھر سے باہر۔ اس اتحاد کو معمولی ناراضگی، عیب جوئی، تنگ نظری اور مقابلہ آرائی میں ضائع نہ کریں۔ اجتماعیت کی فطرت کی تسکین کے لیے وسیع القلبی، عفوودرگزر اور معمولی باتوں پر چشم پوشی سے کام لیں۔ متحد رہیں، اللہ کے پسندیدہ بندے بن کر رہیں۔ قربانیاں دیں نہ کہ قربانیاں لیں،کیوں کہ لینے والے سے دینے والے کا ہاتھ بہتر ہوتا ہے۔

Related posts

امام اعظم رحمہ اللہ کا ایک سوال کا سبق آموزجواب

Paigam Madre Watan

شیخ عُبیداللہ طیّب مکّی رحمہ اللہ کا پیغام "بے لگام” لوگوں کے نام

Paigam Madre Watan

سعودی عرب کایوم تأسیس،یوم وطنی اور ہماری توقعات

Paigam Madre Watan

Leave a Comment