Articles مضامین

ہاں میں نے ووٹ دیا

ڈاکٹر علیم خان فلکی


چونکہ اِس بار ہمارے سیاسی و نیم سیاسی دانشوروں اورجماعتوں نے ہی نہیں بلکہ مولویوں و مشائخین نے خصوصی مہم چلائی تھی، بلکہ فتوے بھی دیئے تھے کہ ووٹ ڈالنا ہمارا دینی، قومی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اب جب ہمارے اخلاق کو للکارا گیا تھا تو ہم نے بغیرکسی حجّت یا بحث کے، خاموشی سے ووٹ ڈال آنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ انہی علما و مشائخین کے اکابرین و سلف کے وہ فتوے بھی ہمارے پاس موجود ہیں جن میں جمہوریت کو شرک اور ووٹ ڈالنے کو کفر کہا گیا تھا۔ خیریہ ہماری بدقسمتی ہے کہ امّت میں دانشوری پیدا ہوتے ہوتے کئی سال لگتے ہیں۔ لاؤڈاسپیکر، پرنٹنگ مشین، ٹی وی، ریڈیو، ویڈیو، کیمرہ، انٹرنیٹ، موبائیل، تعلیمِ نسواں، انگریزی تعلیم، بنک ، انشورنس وغیرہ پیدا ہوتے ہی حرام ہوگئے تھے، لیکن یہ چیزیں جب بڑھ کر جوان ہوئیں تو پھرکئی سال بعد اِن مولویوں اور مشائخین کی سمجھ میں آیا کہ یہ چیزیں تو بقائے انسانی کے لئے جزوِلاینفک ہیں، تب اِن کو جائز کرنے کے جواز ڈھونڈھ کر لائے گئے۔ اسی طرح ووٹ بھی نہ صرف جائز ہوگیا بلکہ دینی فریضہ ہوگیا۔ بلکہ کچھ مولاناؤں نے تو قرآن و حدیث سے بھی ووٹ ڈالنے کا لزوم ثابت کردیا۔ شرط یہ لگادی گئی کہ آپ ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ یہ جملہ اُن پارٹیوں کے لوگ بھی تقریروں میں فرمانے لگے جن سے خود ضمیر پناہ مانگتا ہے۔ جس طرح جب لوگ چور کے پیچھے چور چور پکارتے ہوئے پکڑنے دوڑتے ہیں تو چور خود بھی چور چور چِلّانے لگتا ہے، اسی طرح کے کئی لوگ الیکشن سے پہلے ضمیر ضمیرضمیر چلّارہے تھے۔ اب سوال یہ آگیا کہ ووٹ دوں تو کسے دیں؟ یہ ضمیربھی عجیب شئے ہے۔مفاد جس چیز میں ہو ضمیر اس کے حق میںضرور گواہی دیتا ہے بلکہ جواز بھی فراہم کرکے دیتا ہے۔ اسی لئے خود مولویوں اور ملاوں کے ضمیر بھی اُنہی کے مسلکوں کی طرح منقسم تھے۔ ہر ایک کے ضمیر کا انتخاب ایک الگ پارٹی کے حق میں تھا۔لیکن ان کے مریدوں یا شاگردوں کا ضمیر مرشد یا استاذ کی اطاعت کے حق میں تھا۔ یہ اختلاف بہرحال قوم کے حق میں فائدہ مند ہی تھا، اختلاف میں رحمت ہے یہ ثابت ہوگیا۔ کوئی نہ کوئی پارٹی تو یقینا حکومت بنائیگی، کوئی تو ہمارے ایسے بھی لوگ ہوں جو کام پڑنے پر جاکر اُن جیتنے والوں سے کہہ سکیں کہ ہم نے آپ کے لئے ووٹ کی سفارش کی تھی۔
ہم نے اپنے ضمیر کو ٹٹولا، وہ کسی کو ووٹ ڈالنے تیار ہی نہ ہوا۔ پھر عقل درمیان میں آگئی۔ عقل نے کہا کہ تم تو غلام ہو۔ 1857 میںہندوستان میں غلام ہوئے تھے پھر 1948 میں دکن میں غلام ہوگئے۔ غلاموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ چاہے وہ ووٹ دیں یا نہ دیں، آقا کبھی نہیں بن سکتے۔ اسمبلی یا پارلیمنٹ میں دو چار سیٹیں تو جیت سکتے ہیں لیکن پاؤورہاوز میں اِن کا داخلہ نہیں ہوسکتا۔ وہ دو چارسیٹیں بھی اس لئے دی جاتی ہیں کہ غلاموں کو قوم کو اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی، اوقاف وغیرہ جیسے اقلیتی اداروں کے ڈائرکٹر بننے کے لئے امیدواروں کو کتّوں کی طرح لڑا کر انہیں مصروف رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ کسی کو طاقتور منسٹر یا کسی کارپوریشن یا ڈپارٹمنٹ کا ہیڈ نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر کہیں کوئی غلام آقا کا منہ بولا غلام بن بھی جائے تو اس کو ایک ایسا وزیرِداخلہ بھی بنایا جاسکتا ہے جس کے اختیارات ایک کانسٹیبل کے اختیارات سے زیادہ نہیں ہوتے۔ اس لئے اب ہم جیسوں کو اگر ضمیر کی آواز پر ووٹ ڈالنا ہی پڑے تو صرف ایک جواز پر کہ کس آقا کے راج میں غلامی، محکومی اور بے بسی کا احساس ذرا کم ہوگا ، کون سا امیدوار ذرا کم فرقہ پرست ہوگا، اگر مسلمان بھی ہے تو کتنا کم بکاؤ ہے۔ پیٹھ میں چھرا کون ذرا کم مارنے والا ہے، کس کی مار پر تکلیف ذرا کم ہوگی، سرکاری خزانے کو ، کون ذرا کم ہڑپ کرنے والاہے، کس کی کمائی ذرا کم حرام کی ہے، ہم یہ تو توقع نہیں کرسکتے کہ جس امیدوار نے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپئے لٹا کر الیکشن جیتا ہے وہ پہلے اپنا سرما یہ واپس نکالنے کے بجائے آپ کے مسائل حل کرنے میں لگ جائے گا۔ اگر وہ جلد سے جلداپنا سرمایہ کئی گُنا زیادہ پروفِٹ کے نکالنے کے بجائے آپ کی سڑکوں، کچہروں کے ڈھیروں، اردو کی ترقی یا قبرستانوں کی تعمیر پر لگ جائے گا تو انہ اس کو پارٹی آئندہ الیکشن میں ٹکٹ دے گی اور نہ وہ خود ترقی کرے گا۔ اب دیکھنا یہی ہے کہ عوام کو، کون کم سے کم دے کر زیادہ سے زیادہ وعدوں پر خوش رکھنے کا فن جانتا ہے۔ ضمیر بازارِ مصر میں یوسف کی طرح بے بس کھڑا ہے۔ کس کے ہاتھ بِکے۔ بِکنا مجبوری ہے۔ اگر نہ بِکے تو آقاؤں کو بہت سارے دوسرے مل جائیں گے جن کو راشن کارڈیا ایک کانسٹیبل یا ٹیچر کی نوکری یاپھر قریبی پولیس اسٹیشن میں تھوڑی بہت داداگیری کی پرمیشن مل ہی جائیگی۔ آقاؤں کو اب ہمارے ضمیر کی ضرورت نہیں۔ اب ہم اُن کی ضرورت نہیں رہے۔ وہ دور چلا جائیگا جب ہمارے نام نہاد دانشور کہا کرتے تھے کہ بچھڑی ذاتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلو۔ہماری قوم تو کبھی نہیں چلی، مگر وہ چل گئے، اب وہ اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ اگر آپ کو چلنا ہے تو ان کے ہاتھ پکڑ کر چلئے ورنہ صدیوں پیچھے ہوجائیں گے۔ زبان، دین، کلچر، شناخت سب کچھ تو ختم ہوچکے ہیں، اب تو بس نام عبدالقدیر، عبدالسلام رہ گئے ہیں جس کے ساتھ ہی دہشت گرد کا لیبل لگ چکا ہے۔ اب ضمیرکرے بھی تو کیا کرے؟ کیا اس میں اتنا دم ہے کہ اِس کی آواز پر ووٹ دے کر آپ اس پارٹیوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں جنہوں نے سقوطِ حیدرآباد، ہاشم پورہ، نیلی سے لے کرگجرات مظفرنگر،مئو، میوات، آسام، تری پورہ ، آلیر، میرٹھ وغیرہ میں لاشوں کے انبار لگائے ہیں، مسجدوں کو ڈھا کر وہاں بت خانے بنائے ہیں۔آپ کو وفاداری اور اپنی شہریت ثابت کرنے کے کام پر لگادیا ہے۔ کیا ااپ اُن پارٹیوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں جنہوںنے نچلی ذاتوں کو انصاف اور مساوات دلانے کا دعویٰ کیا اور اونچی ذات کے اور اونچے غلام بن گئے۔ یا ان پارٹیوں کو ووٹ دینگے جو آپ کی اپنی ہیں لیکن اُس کے قائدین آپ ہی کی اوقاف کی جائدادوں کے دلّال بن گئے اور اربوں روپیہ کماکر آقاؤں کی بی ٹیم بن گئے۔
اگر جذبہ صادق ہوتو اہلِ ضمیر اب بھی کچھ زندہ ہیں جو کچھ نہ کچھ کرسکتے ہیں لیکن اس کے لئے جیب میں مال بھی چاہئے۔ ناانصافی مفت ملتی ہے لیکن انصاف بہت مہنگا ہے۔ بے ضمیری مفت میں سوشیل میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہنچ سکتی ہے لیکن ضمیر کو گھر گھر پہنچانے اربوں روپیہ چاہئے۔ روپیہ اِس قوم کے پاس ہے لیکن یہ روپیہ شادیوں، نفل عمروں، ہر قسم کی بدعات، منکرات اور اسراف کے لئے ہے ، اہلِ ضمیر کو کھڑا کرنے کے لئے نہیں۔ برسہابرس سے بے چارے خطیب جمعہ کے خطبوں میں کربلا، جنگِ بدر، صلاح الدین ایوی اور ارتغرل کے قصے سنا کر غیرت دلارہے ہیں، لیکن ’’ہتیار ڈالنے کو ہتیار بھی نہیں‘‘، اب بے چارہ ضمیر کیا کرے؟

Related posts

زوالِ حیدرآباد ۔ ایک عبرت

Paigam Madre Watan

علماء کرام کو تجارت کرنی چاہیے‎

Paigam Madre Watan

تو اے مسافر شب خود چراغ بن اپنا

Paigam Madre Watan

Leave a Comment