Education تعلیم

رفاہ چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری شاخ بیدر کی جانب سے ’’بزنیس میٹ‘‘ کا عظیم الشان پیمانے پر’انعقاد

بیدر(پی ایم ڈبلیو نیوز) اپنے کاروبار کو مضبوط بنانے کیلئے رفاہ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری شاخ بیدر کی جانب سے عظیم الشان پیمانے پر’’بزنیس میٹ‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا۔اس پروگرام میں ریاستِ کرناٹک ، گجرات اور تلنگانہ کے ممتاز و معروف و ماہر تجارت بطورمہمانانِ خصوصی رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بانیجناب توفیق اسلم خان صاحب،سید ممتاز منصوری صاحب کرناٹک آر سی سی آئی کے صدر،محمد یوسف علی خان صدر تلنگانہ آر سی سی آئی،قیوم خان صاحب صدر گجرات، اور ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب چیئرمین شاہین ادارہ جات بیدر پروگرام شریک رہے ۔ اس موقع پر رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شاخ بیدر کے صدر جناب محمد اشفاق صاحب نے افتتاحی اور استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ رفاہ بزنس میٹ ایک متحرک پلیٹ فارم ہے جہاں پیشہ ور افراد روابط استوار کرنے اور باہمی تعاون کے مواقع تلاش کرنے کے لیے متحد ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جو اپنا کاروبار شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، لیکن الجھن میں ہیں کہ کیا کریں یا کہاں سے شروع کریں؟۔ رفاہ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں ہم نئے آئیڈیاز کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع فراہم کرتے ہیں۔ایک کاروباری منصوبہ صرف آغاز کے مرحلے میں فنڈنگ کو محفوظ کرنے کے لیے ضروری نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کو اپنے کاروبار کو زیادہ مؤثر سے مؤثر طریقے سے منظم کرنے میں مدد کرنے کے لیے اہم مدد ہے۔ اسی مقصد کے تحت آج ہم یہاں ایک جگہ جمع ہوکر اس ضمن میں اپنے مفید تجاویز و مشوروں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کرناٹک کے ریاستی صدررفاہ چیمبرس آف کامرس اینڈانڈسٹری نے’’اسٹارٹ اپ اور کاروبار کا اسکیلو‘‘ سے متعلق اپنے خطاب میں بتایا کہ موجودہ کاروباری افراد کو ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ اپنے کاروبار کو اگلی سطح تک لے جانے سے قاصر ہوتے ہیں۔


مین پاور پلاننگ، ہائرنگ اور ریٹیننگ، انوینٹری مینجمنٹ، کیش فلو مینجمنٹ، کوالٹی پروڈکٹ بنانے اور بروقت ڈیلیوری کے مسائل وغیرہ جن کا کاروباری افراد کو سامنا ہو سکتا ہے وہ اہم مسائل ہیں۔رفاہ نے ویب سائٹ، کالز اور ذاتی ملاقاتوں کے ذریعے استفسارات حاصل کیے۔ ہمارا محکمہ رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ماہرین سے رہنمائی کرتا ہے یا ان سے رابطہ کرتا ہے قطع نظر اس کے کہ مسئلہ کاروبار شروع کرنے یا کاروبار کو اگلے درجے تک لے جانے کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیٹ ورکنگ کسی بھی کاروبار کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نیٹ ورک میٹس، تجارتی میلے، نمائشوں وغیرہ کا حصہ بنیں اور صنعتوں کے بارے میں مزید جاننے کا موقع حاصل کریں۔ یہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسٹمر بیس کو بڑھانے، حقیقی سرمایہ کاروں کی تلاش، اور نئے کاروباری روابط پیدا کرکے کاروبار کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔جب بات نیٹ ورکنگ کے لیے نیٹ ورک میٹس کی ہو تورفاہ کے پاس موجودہ کاروباری افراد کا ڈیٹا بیس موجود ہے جو مختلف پلیٹ فارمز پر کاروباری حوالہ جات اور نیٹ ورک کو وسعت دینے کا راستہ بناتا ہے۔ ہم تجارتی وفود کو تجارتی میلوں اور نمائشوں میں لے جاتے ہیں تاکہ مصنوعات کی نمائش، میٹنگز، کاروبار کی مارکیٹنگ اور تشہیر، کسٹمر اپروچ وغیرہ کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔فائنانس کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا‘ یہ واقعی کامیاب کاروباری کارروائیوں کی کلید ہے۔فائنانس کے مناسب انتظام کے بغیر کوئی بھی کاروباری ادارہ ترقی اور کامیابی کے لیے اپنی پوری صلاحیتوں کو استعمال نہیں کر سکتا۔ جناب یوسف علی خان صاحب RCCI صدر ریاست تلنگانہ نے’’بزنس نیٹ ورکنگ‘‘ متعلق بتایا کہ نیٹ ورکنگ اور میٹنگیں کسی بھی کاروبار کا لازمی جزو ہوتی ہیں۔ لہٰذا تجارتی میلے کا حصہ بننا اور صنعت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا موقع ملنا ضروری ہے۔ یعنی یہ معلوم رہنا چاہئے کہ اس وقت دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کونسی ٹکنالوجی ابھررہی ہے وغیرہ۔کیونکہ یہ چیزیں براہ راست یا بالواسطہ کسٹمر بیس میں اضافے، حقیقی سرمایہ کاروں کی تلاش اور نئے کاروباری رابطے پیدا کرکے کاروباری توسیع میں مدد کرتی ہیں۔ اگر بات نیٹ ورکنگ اور تجارتی میلوں پر کی جائے تو ہم تجارتی میلوں کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ پروڈکٹ ڈسپلے، بی ٹو بی میٹنگز، مارکیٹنگ اور کاروبار کی تشہیر، کسٹمر اپروچ وغیرہ کو پلیٹ فارم مہیا کیا جاسکے۔ اس بزنیس میٹ میں خصوصی طورپر بتایا گیا کہ پین انڈیا کنسلٹنسی فراہم کرنے میں 12 سال کے تجربے کے ساتھ سیمی کوالیفائیڈ سی اے کے ذریعہ ڈیجیٹل ادائیگی اور جی ایس ٹی کی تعمیل ضروری ہے۔جبکہ جناب رفیق احمد صاحب نیشنل ایگزیکٹو ممبررفاہ چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے اختتامی کلمات پیش کئے۔اور کہا کہ ہندوستان اور اس سے آگے کے کاروباری افق پر رفاہ کی اونچی نظریں قائم ہیں۔ اپنے کاروبار کو ترقی دینے کے لیے ہندوستان اور بیرون ملک کاروباری مواقع تلاش کریں۔ اپنے کاروبار کو ہائی ٹیک کو رفاہ میں شامل کرنے کے لیے غور وفک کریں۔رفاہ کی مدد سے اپنے کاروباری چیلنجوں سے نمٹیں۔ اپنے کاروبار کو فرنچائز ماڈل/ ڈیلرشپ میں تبدیل کریں۔رفاہ کو بااختیار بنائیں،ہندوستان کو بااختیار بنائیں۔رفاہ کے ساتھ اپنے کاروبار میں نظم و ضبط پیدا کریں۔ ہندوستان اور بیرون ملک کاروباری دورے وغیرہ۔ اپنا نیا کاروبار شروع کریں اور رفاہ کے ساتھ اپنے موجودہ کاروبار کو بڑھائیں۔ آپ کے کاروبار کی ترقی کے لیے ماہرین سے مشورہ لیں۔ جانیں کہ سرکاری اسکیموں، سبسڈیز اور مدد سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے۔ رفاہ کی مدد سے درآمد اور برآمد کا کاروبار شروع کریں۔رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسری کے ایکزیکٹیو ممبر جناب محمد سراج صاحب نے تمام شرکائے پروگرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 33 سے زیادہ شرکاء ایک وسیع پیشہ ورانہ نیٹ ورک کے ساتھ روانہ ہوئے، جو مشترکہ علم اور تجربات سے مالا مال ہوا،کاروبار کی دنیا میں، یہ اجتماعات ترقی کے لیے عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں، ایک ایسی کمیونٹی کو فروغ دیتے ہیں جہاں کامیابی صرف ایک انفرادی کامیابی نہیں ہے بلکہ ایک مشترکہ کوشش ہے،’’بزنیس میٹ‘کو کامیاب بنانے کے لیے رفاہ کی بیدر دسٹرکٹ ایڈوائزری کمیٹی کے ذمہ داران،ڈاکٹر نجیب فہمی صاحب،جناب احمد سیٹھصاحب،ڈاکٹر محمدفہیم قریشی صاحب،جناب احمد سیٹھ صاحب،جناب محمد مبشیر سندھے صاحب،جناب رفیق احمد صاحب،جناب محمدحبیب صاحب، جناب محمد اعجاز الحق صاحب، جناب شہریاز پٹیل صاحب اورتمام سے شرکائے اظہار تشکر کیا۔ رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری یونٹ کے بیدرضلع صدر جنابمحمد اشفاق احمد’عامر پاشاہ ضلعی نائب صدر’سراج الدین ایس کے ضلع کنوینر’محمد سراج آرگنائزنگ سیکرٹری’ شیخ شکیل احمد جعفرسیکرٹری ممبر شپ ڈرائیو’ جواد معین سیکرٹری ڈیجیٹل پروموشن’ محمد فیاض سیکرٹری سرپرست نے بہتر و عمدہ انتظامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

Related posts

ثقافتی سرگرمیاں طلبہ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہیں

Paigam Madre Watan

ہندوستان میں اسپینش سفیر جوس ماریا ریڈاؤ نے کیجریوال حکومت کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اسکول آف اسپیشلائزڈ ایکسیلنس کا دورہ کیا: آتشی

Paigam Madre Watan

ہائیر ایجوکیشن منسٹر آتشی نے کیجریوال کے دہلی فارماسیوٹیکل سائنسز اینڈ ریسرچ یونیورسٹی کے کانووکیشن تقریب میں شرکت کی، فارغ التحصیل طلباء کو ڈگری سے نوازا گیا

Paigam Madre Watan

Leave a Comment