National قومی خبریں

حیدر آباد : ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے منسلکہ اداروں کے کلینڈر کا اجرا

 ہماری رہنما کا وژن ملک بھر میں پہنچائیں گے:۔ساجدہ سکندر


نئی دہلی (نیوز ریلیز: مطیع الرحمن عزیز) ہماری رہنما اور قائد عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے وژن کو ہم ملک کے کونے کونے تک پہنچائیں گے اور ان کے اعلیٰ مقاصد و بلند عزائم کی تکمیل کے لئے چاہے وہ تعلیمی میدان میں ہو، سیاسی میدان اور سماجی میدان یا صحت کے میدان سمیت تمام شعبہ حیات میں بہتر کارکردگی کو ہم ملک کے عوام کے ہر فرد تک پہنچائیں گے۔ اس کے لئے چاہے ہمیں اپنی زندگیوں پر کیوں نہ کھیلنا پڑے مگر اس قائد جس کی زندگی کا ثمرہ ملک کی سالمیت اور حب الوطنی ہے اس کوشش میں ہم کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر دامے ،درمے ،سخنے ،قدمے ،قلمے ہر سطح پر ساتھ نبھائیں گے ۔ اس بات کا نہ صرف ہمارا عزم ہے بلکہ عہد و پیمان ہے کہ ہم ملک کے باشندوں میں بھائی چارہ کا سبق عام کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ ساجدہ سکندر تلنگانہ کور کمیٹی ممبر برائے آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی نے اپنے جاری بیان میں کیا ہے۔ ساجدہ سکندر عالمہ ڈاکٹر ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے منسلکہ اداروں کے کلینڈر 2024 کا اجرا اپنے کارکنان کے ساتھ حیدر آباد میں ایک تقریب کے درمیان کر رہی تھیں۔ شرکت کنندگان میں ساجدہ سکندر کے علاوہ جناب محمد شریف کرناٹک ایم ای پی صدر، عمران پہلوان کرناٹک ایم ای پی رکن، محمد مقبول حیدر آباد ایم ای پی رکن، جناب عنایت اللہ بھائی ودیگر کئی دوستوں نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ بھائی محمد مقبول کی لخت جگر کی شادی میں ملک بھر کے عوام وخواص تقریب نکاح حیدر آباد میں شرکت کر رہے تھے۔ ان تفصیلات کی جانکاری مطیع الرحمن عزیز نے دی ہے۔ مطیع الرحمن عزیز نے مزید بتایا کہ اس طرح کے بہت سارے کارہائے نمایاں عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی سرکردگی میں کیا جا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس طرح کے ہزاروں اور لاکھوں امور ہیں جن کو انجام دینا باقی ہے، جنہیں وقت کے ساتھ ساتھ تکمیل کو پہنچایا جائے گا۔ سماجی کارکن کے طور پر مشہور عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے عزائم میں وہ تمام ملک بھر کے امور اور پیچیدگیاں شامل ہیں جنہیں بہت پہلے انجام دے دئے جانے چاہئے ، لیکن ہمارے ملک کی بدقسمتی کہ پیارے وطن کو وہ جگر والے لوگ حاصل نہ ہو سکے۔ تفصیلی طور پر بتایا گیا کہ بچوں کی تعلیم کے متعلق لوگوں میں بیداری پیدا کرنا۔ خاص طور پر ملک کے ان حصوں میں تعلیمی مراکز کا قیام کرنا جہاں تعلیم کی شرح کم ہے یا معیار کے مطابق نہیں ہے۔ ان طلباءمیں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیداری اور حوصلہ افزائی کرنا جو اپنی انتہائی غربت کی وجہ سے درمیان میں ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ انتخابات عوامی مسائل اور ترقی کی بنیاد پر لڑنے کیلئے لوگوں کے اندر بیداری پیدا کرنا۔ خواتین کو ترقی کے سفر میں بہتر زندگی گزارنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں پراعتماد بنا کر تعلیم یافتہ ، ہنر مند اور خود انحصار بنانا۔ رشوت خوری اور بدعنوانی کے خلاف جدید ٹیکنا لوجی کے ذریعہ لوگوں کو بیدار کرنا۔ ملک کے تمام طبقہ کے لوگوں میں اتحاد اور ہم آہنگی کا احساس پیدا کرنا، کیونکہ ہمارا ملک مختلف مذاہب اور مختلف ثقافتوں اور روایات کا ملک اور امن کا گہوارہ ہے۔بینکوں کی طرف سے لوگوں کو سود پر قرض کی لعنت کو ختم کرنا اور ان کے درمیان سود سے پاک قرضوں کے نظام کو متعارف کرانے کیلئے لوگوں کے درمیان تعاون کا جذبہ پیدا کرنا۔ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو آئین کے بارے میں معلومات فراہم کرنا، جس میں ان کو بھارت کے آئین کے تحت دیے گئے دوسرے تمام شہریوں کی طرح برابر کے حقوق ملتے ہیں، اور انہیں اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں سب کچھ جاننے کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنا تاکہ وہ وقت پر اپنے حقوق کو حاصل کر سکیں اور ترقی کی رفتار میں خود کو شامل کر سکیں۔ تعلیم یافتہ بے روزگار افراد کو ملازمت سے منسلک کرنے کے لئے ماحول تیار کرنا۔دیہاتوں، محلوں، قصبوں، شہروں وغیرہ میں امن اور ہم آہنگی کے فروغ کیلئے حکومت سے تعاون کرنا کیونکہ امن اور ہم آہنگی آپسی بھائی چارہ ملکی سلامتی اور ترقی کے لئے بنیادی چیز ہے جسے برقرار رکھنے اور فروغ دینے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ایسی کالونیوںیا علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا مناسب انتظام کرنا جہاں انتظامیہ کی طرف سے پینے کا پانی مناسب طریقے سے فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔سود کی لعنت کے رواج کو ختم کرکے بغیر سود کے قرض فراہم کرانا اور آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والوں کو ہر ممکن طریقے سے ان کی ضروریات میں مدد فراہم کرنا ہے۔ایسے لوگوں کو قانونی مدد فراہم کرنا جو ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور اپنی غربت کی وجہ سے وہ کورٹ کچہری کے اخراجات کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ان کو مالی تعاون کے ساتھ قانونی مدد فراہم کرنا۔غریب اور محتاج لوگوں کو بہترین تجاویز اور بہترین مشورے دینا تاکہ مہنگائی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ان کو مدد فراہم کی جاسکے، کیونکہ اس وقت مہنگائی انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور ملک کا ہر شخص مہنگائی سے متاثر ہورہا ہے۔ شراب اور دوسری نشیلی چیزوںکے استعمال کے نقصانات اور اس کے استعمال کے خوفناک نتائج کے بارے میں آگاہ کرنا، ساتھ ہی ساتھ انہیں ان اشیا کا استعمال نہ کرنے اور اس سے بچاﺅ کے لئے رہنمائی کرنا۔

Related posts

تربیت ہی آگے چل کر کسی بچے کو سماج کے لیے اچھا یا برا انسان بنا سکتی ہے:شفاعت حسین

Paigam Madre Watan

ڈاکٹر امام اعظم ، ریجنل ڈائرکٹر کولکتہ ، مانو کا انتقال

Paigam Madre Watan

خودکش بم دھماکہ والے لونڈیں سب ایرانیین فنڈینگ سے بنتے ہیں، شیعہ مولانا حسن علی راجانی

Paigam Madre Watan

Leave a Comment