Articles مضامین

جنگِ آزادی کا ایک عظیم مجاہد : مولوی سید علاؤالدین حیدر

 تحریر : عظیم انصاری ، جگتدل،  مغربی بنگال

      مغلوں نے ہندوستان پر تقریباً تین سو سال تک حکومت کی۔ اس کے بعد انگریزوں نے آہستہ آہستہ ہندوستان کو اپنے قبضے میں کرلیا اور یہاں کے باشندوں کو نہ صرف غلام بنایا بلکہ ظلم و جبر کی انتہا کردی۔ انھوں نے مغلوں کی طرح ہندوستان کو سنوارنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس سونے کی دھرتی کو لوٹ کھسوٹ کر برطانوی حکومت کی معیشت کو مضبوط کرنے کی غرض سے استحصال کی ایسی داستان رقم  کی جس کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی کہیں نہیں ملتی۔ یہ غلامی بالخصوص مسلمانوں کو راس نہیں آئی اور انھوں نے برادرانِ وطن کو ساتھ لے کر جہدِ آزادی کی شروعات کردی اور اس مشترکہ جدو جہد سے انگریزوں کا زوال شروع ہوا۔ جنگِ آزادی کے ان متوالوں نے 1857 میں ہی اپنے عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا اور پھر مڑ کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔ حصولِ آزادی کے لیے وہ لگاتار کوششیں کرتے رہے۔ ہندوستان نے ایک طویل جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی اور اس کے لیے ہمارے اجداد نے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ انھوں نے بادِ مخالف میں تحریکِ آزادی کی شمعیں جلائیں اور قید و بند کی بےشمار صعوبتیں جھیلیں، یہاں تک کہ ہنستے ہنستے تختۂ دار پر بھی چڑھ گئے۔ ان جانبازوں کے پر عزم حوصلوں اور امنگوں کی باتیں سن کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ اور یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ انگریزوں نے مظالم کے پہاڑ توڑے ڈالے۔ "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو” کی پالیسی اپنائی۔ فرقہ وارانہ ماحول پیدا کیا، منافرت پھیلائی، مطلب انھوں نے کچل ڈالنے کے لیے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا لیکن قربان جائیے ان بہادر اور جانباز مجاہدینِ آزادی کے متوالوں پر، جنھوں نے ہر حال میں انگریزوں اور ان کے ہم نواؤں کا جم کر مقابلہ کیا اور اپنی قربانیاں دیں جس کی وجہ سے ہمیں یہ آزادی نصیب ہوئی۔
     معروف مؤرخ اشوک مہتہ کے مطابق 1857 کی  بغاوت صرف ایک سپاہی بغاوت نہیں تھی بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی تھی۔ یہ ایک طرح کا آتش فشاں تھا اور اس کے دھماکے سے کچھ دبی ہوئی۔چنگاریوں کو بھی باہر آنے کا موقع نکل آیا۔  یہاں یہ بات واضح کردوں کہ انگریزوں نے اس جہدِ آزادی کو بغاوت کا نام دے رکھا تھا۔ نوآبادیاتی مورخین  اور بعد میں ان کے پیروکاروں کے ذریعہ 1857 کی جنگِ آزادی کو مقامی واقعہ کا رنگ دینے کی پرزور کوششیں کی گئیں اور انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شمالی ہندوستان کے میدانی علاقوں سے باہر کے خطوں پر اس کا اثر بہت کم رہا جبکہ بات ایسی نہیں تھی بلکہ بورا ہندوستان آزادی کے جذبے سے سرشار انگریزوں سے بر سرِ پیکار تھا۔ 1857 میں لکھنؤ ، جھانسی ، میرٹھ، کانپور(یوپی)، دلی، آرہ(بہار)، اور بارکپور(مغربی بنگال) میں جو بغاوت ہوئی اس سلسلے میں اکثر مورخین  نہ جانے کیوں چپی سادھ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شمالی ہندوستان سے باہر کے برادرانِ وطن نے کچھ کم ہمت نہیں دکھائیں۔ اگر ہم بہ نظرِ غائر مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ پورے ملک میں بہادری کی بےشمار مثالیں ملتی ہیں اور ہم ان کی شجاعت اور دلیری کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ حیدرآباد کے مولوی سید علاؤالدین حیدر کی انگریزوں کے خلاف بہادری کی لڑائی ایسی ہی ایک زبردست داستان ہے جسے بڑی حد تک فراموش کردیا گیا ہے۔ یاد گار کے طور پر کچھ اگر باقی بھی ہے تو ان کی قربانیوں کو دیکھ کر ہمیں کچھ کم ہی لگتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی عظیم قربانی کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔  سنٹر فار دکن اسٹڈیز کے سکریٹری سجاد شاہد کا کہنا ہے کہ طلباء کو ایسی اہم شخصیات سے متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے اور ساتھ ہی ان کی توجہ مبذول کرانے کے لیے آج تیزی سے بدلتی دنیا میں  نئے طریقے اپنانے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہئیے۔
   ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں مسلمانوں کا  کردار اہم اور نمایاں رہا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ رہی کہ انگریزوں نے مسلمانوں سے ہی اقتدار چھینا تھا۔ جنگِ آزادی کی ابتدا 1857 میں ہی ہوگئی تھی، اس بات سے زیادہ تر مورخ  متفق ہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ 1857 میں میرٹھ کی بغاوت کی خبر جب حیدرآباد پہنچی تو مسجدوں، مندروں۔ گرجا گھروں اور چوراہوں پر پوسٹر چسپاں نظر آئے جس میں نظام اور عوام سے یہ استدعا کی گئی تھی کہ وہ انگریزوں کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں لیکن نظام افضل الدولہ  نے اپنے امراء اور سرداروں کے ساتھ انگریزوں کا ساتھ دیا، ورنہ حیدر آباد کی تاریخ جنگِ آزادی کے پس منظر میں کچھ اور ہی ہوتی۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ نظام نے 1800 عیسوی میں ہی انگریزوں سے Subsidiary Alliance  کرلی تھی۔ ریاست حیدرآباد کا آصف جاہ دوئم  دوسری ( 1805-1803) اور تیسری مراٹھا جنگ ( 1819- 1817) اور اینگلو میسور جنگ میں برطانیہ کا اتحادی تھا اور 1857 کی جنگِ آزادی کو کچلنے میں اس نے انگریزوں کا ساتھ دیا ۔  اس زمانے میں طرہ باز خان اور مولوی علاؤالدین جیسے عظیم مجاہدِ آزادی بھی تھے جو جان و مال کی پرواہ کئے بغیر انگریزوں سے بھڑ گئے ۔
     مولوی علاؤالدین کا پورا نام سید علاؤالدین حیدر تھا۔ ان کے والد کا نام حفیظ اللہ تھا ۔وہ 1824 میں ریاست حیدر آباد میں پیدا ہوئے ۔ وہ ایک مبلغِ دین اور مکہ مسجد ، حیدرآباد کے امام  تھے ۔ان کے علم و تقویٰ کا ریاست حیدرآباد میں کافی شہرہ تھا۔ وہ فارسی ، اردو اور تیلگو  زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں انھیں مولوی علاؤالدین کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔  وہ غازی کی طرح جینا اور ابشہید کی طرح مرنا چاہتے تھے ۔1857 کی جنگِ آزادی
میں ان کا بہت اہم کردار رہا ہے ۔ 17 جولائی  1857 کو حیدر آباد  کی برطانوی ریزیڈنسی پر حملے میں ان کا اہم کردار تھ۔ اپنے دوست طرہ باز خان اور دیگر مجاہدینِ آزادی کے ساتھ مل کر کیا گیا حملہ سالار جنگ کی دھوکہ دہی کے بدولت ناکام رہا ۔ جس کے نتیجے میں برطانوی افواج نے انھیں گرفتار کرلیا اور عمر قید کی سزا سنائی۔ ریزیڈنسی  پر ہوئے حملے  کی خونی کہانی ان کے محب وطن ہونے  کا بین ثبوت ہے ۔ یہ پہلے قیدی اور مجاہدِ آزادی ہیں جنھیں انڈمان و نکوبار جزائر میں کالے پانی کی سزا دی گئی۔ ان کی گرفتاری کی کہانی بھی دلچسپ ہے ۔ریزیڈینسی کے حملے میں پسپا ہونے کے بعد وہ بھاگ کر کنڈا پہنچے اور پھر وہاں سے منگلی پلی پہنچے، جہاں وہ ڈیڑھ سال تک پیر محمد نام کے ایک شخص کے مکان میں روپوش رہے لیکن ایک وبا کے دوران جب انھوں نے بیماری سے شفا پانے کے لیے تعویذ دیا تو ان کی پہچان وہاں ظاہر ہوگئی اور پھر نظام کے فوجیوں کو انھیں گرفتار کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی ۔ تقریباً 30 سال جیل میں رہنے کے بعد ان کا انتقال ہوگیا ۔  آئیے ان کے کردار کو اجاگر کرنے سے پہلے حیدرآباد کی تحریک آزادی کا پس منظر بھی دیکھ لیں ۔
       نظام کے سپاہیوں میں جو ہندوستانی سپاہی تھے ، انھوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سپاہیوں کے خلاف بغاوت کردی ۔ ان باغیوں میں سب سے نمایاں نام جمعدار چیدا خان کا تھا ۔ ہوا یوں کہ حیدرآباد کی  3rd Cavalry کو جب دلی کوچ کرنے کا حکم نامہ ملا تو ان لوگوں نے اسے انگریزوں کی ایک سازش سمجھا  ۔ چیدا خان ، دوسرے 15 سپاہیوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا اس امید کے ساتھ کہ اسے نظام کی سرپرستی حاصل ہوجائے گی ۔ لیکن جیسے ہی وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حیدرآباد پہنچا , نظام کے وزیر میر توراب علی خان نے اسے گرفتار کرلیا اور  Resident کے حوالے کردیا  ۔ چیدا خان کے وفادار ساتھیوں میں جن کے نام تاریخ کے صفحات میں محفوظ رہ گئے ہیں ، وہ ہیں شیو چرن ، مادھو داس ، انوپ سنگھ ، کشن داس ، لال خان اور قادر خان ۔
مولوی علاؤالدین نے 17 جولائی 1857 کو جمعہ کی نماز میں مقتدیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیدا خان اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کی حمایت میں آگے بڑھیں اور اپنی جان کی پرواہ نہ کریں اور یہ بھی اعلان کیا کہ وہ خود بھی شہادت کے لیے تیار ہیں ۔ وزیر اعظم سالار جنگ نے ریزیڈینسی پر حملہ نہ کرنے کی تلقین کی لیکن مولوی علاؤالدین اپنے ہمنواؤں کے ساتھ بیگم بازار پہنچ گئے اور روہیلہ رہنما طرہ باز خان کے ساتھ مل کر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں لگ گئے ۔ اس بابت مورخ ڈاکٹر ڈی۔ آر سبرامنییم ریڈی نے لکھا ہے کہ طرہ باز خان اور دوسرے باغیوں نے اپنے ہاتھوں میں پرچم لئے ہوئے کوٹی (Koti) میں تعمیر شدہ  British Residency کو گھیر لیا اور پانچ ہزار روہیلوں، انگریز آمخالف طلباء اور عوام کو لے کر ریزیڈنسی پر حملہ کیا۔ اسی درمیان مولوی علاؤالدین بھی اپنے ہمنواؤں کے ہمراہ جنوب۔ مغرب کی طرف پٹلی ( Putli)  سے  نکلے اور طرہ باز خان کے ساتھ اس مہم میں شامل ہوگئے ۔ واضح ہو کہ طرہ باز خان مولوی علاؤالدین کو اپنا روحانی پیشوا مانتا تھا ۔
   ریزیڈنسی کے مغربی دیوار کی طرف عین صاحب اور جے گوپال داس کے گھر تھے ۔ ان لوگوں نے اس عظیم مہم کے لیے اپنے گھروں کو خالی کردئے اور شام ساڑھے چھ بجے مولوی علاؤالدین اور طرہ باز خان کے ہمنواؤں نے ریزیڈینسی کو چاروں طرف سے محصور کرلیا اور دیوار کو منہدم کرکے وہ ریزیڈینسی کے باغیچے کے دروازے سے اندر داخل ہوگئے لیکن وہاں  Major Cuthbert Davidson  پہلے سے ہی ان کا انتظار کررہا تھا کیونکہ نظام کے وزیر میر توراب علی خان نے اسے اس حملے کی خبر پہلے سے کر رکھی تھی ۔ طرہ باز خان اور مولوی علاؤالدین کے ساتھیوں کے پاس ہتھیار کم تھے اس کے باوجود انھوں نے جم کر مقابلہ کیا لیکن انگریزوں کے تربیت یافتہ سپاہیوں کے سامنے ان کا ٹکنا مشکل ہوگیا ۔ ساری رات مقابلہ جاری رہا لیکن صبح کے چار بجے ان کو پسپا ہونا پڑا ۔ اس حملے میں بہت سارے جانبازوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں  اور نتیجتاً یہ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ مولوی علاؤالدین پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں تھے بلکہ جامِ شہادت نوش کرنا چاہتے تھے لیکن طرہ باز خان نے انھیں سمجھایا کہ جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلا کت میں ڈالنا دانشمندی نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ اس طرح موت کو گلے لگانے سے شاید کفن بھی نصیب نہ ہو ۔ بہتر یہی ہوگا  کہ فی الحال پسپائی اختیار کرلیں اور مناسب وقت پر پھر انگریزوں سے ان کے مظالم کا بدلہ لیں۔  22 جولائی کو  طرح باز خان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ حیدرآباد کی عدالت میں سماعت ہوئی اور آخرکار ان کو کالا پانی کی سزا سنادی گئی۔ کالا پانی بھیجے جانے سے قبل ہی وہ جیل سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ عدالت میں سماعت کے دوران اس سازش میں مولوی علاؤالدین کے کردار کی بابت بار بار پوچھا گیا لیکن طرہ باز خان نے آخر آخر تک لاعلمی کا اظہار کیا اور ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی ۔ 18 جنوری 1859 کو یہ جیل سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ انگریزوں نے ان کی گرفتاری کے لیے پانچ ہزار روپئے کا انعام رکھ دیا۔ آخرکار وہ پکڑے گئے  اور ان کو 24 جنوری 1859 کو گولی مار دی گئی ۔ مارنے کے بعد ان کی لاش کو دوسرے انقلابیوں کے لیے بطور عبرت ریزیڈنسی کے باہر لٹکا دیا گیا۔ طرہ باز خان اور مولوی علاؤالدین اپنی اس بہادری کے لیے آج بھی حیدرآباد کی تاریخ میں احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی داستانِ جدوجہد ملک آزاد کرانے کے پرجوش عزم اور حوصلے سے واقف کراتی ہے ۔ وہ ایک باوقار مجاہدِ آزادی تھے جن کے کردار کی بلندی کے قائل خود انگریز بھی تھے ۔

Related posts

عصری تعلیم مسلمانوں کے لیے ضروری کیوں؟

Paigam Madre Watan

اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، محبوب نہیں رکھتا،کیا آپ ظالم ہیں؟

Paigam Madre Watan

جی ہاں، میں فلسطین ہوں

Paigam Madre Watan

Leave a Comment