Articles مضامین

اللہ اور اس کے ر سول کا دشمن مسلمانوں کا ہمدرد کیسے؟

اسد الدین اویسی کے سودی بینک دارالسلام کے تناظر میں

 تحریر ….9911853902 ….مطیع الرحمن عزیز

آگ اور پانی ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں، زمین اور آسمان کا ایک ساتھ اکٹھا ہوجانا ممکن ہے، پورب پچھم کا ایک ساتھ جمع ہوجانا ممکنات میں شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن منافق کا ایماندار ہونا، اللہ اور اس کے رسول کے دشمن کا مسلمان ہونا اور اور امت محمدیہ کے لئے ہمدردی رکھنا یہ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ اللہ کے فرامین کو ٹھکرانے والا، اپنے سودی کاروبار کے عوض اپنی ماں سے زنا جیسے فعل قبیح کا ارتکاب کرنے والا مسلم قوم کا حمایتی، ہمدرد اور مخلص ہونا ممکن نہیں ہے۔ ایک جانب انسان اللہ کے فرامین کی کھلی خلاف ورزی کرے اور دوسری طرف چیخ و پکار کرتے ہوئے قوم مسلم کو فلاح کی طرف بلائے یہ ممکنات سے پرے ہے۔ گزشتہ روز ایک مضمون دیکھا جس میں اسد اویسی کا مسلمانوں کیلئے ہمدرد ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جب کہ اللہ اور اس کے رسول کا خائن اور دشمن اللہ کے بندوں کا اسی طرح ہمدرد نہیں ہو سکتا جیسے رزیل ابلیس کو اللہ نے پھٹکار لگائی اور کہا کہ نکل جا میرے دربار سے اور تا قیامت تو رزیل و مردود پکارا جائے گا۔ اسی طرح سے سود خود اور اس کے حامیوں کے لئے بھی اللہ اور اس کے رسول کے فرامین بہت سخت ہیں۔ اسد الدین اویسی اپنے بینک دارالسلام کے گیارہ برانچیز میں بڑے پیمانے پر سودی کاروبار میں ملوث ہیں۔ اور اس سودی کاروبار کے لئے ہر شخص کو کچلنے سے باز نہیں آتے۔ جب کہ آج دین و شریعت کا علم رکھنے والا شخص بہت بہتر انداز میں جانتا ہے کہ بلاشبہ سود اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، کیوں کہ یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری، حرص و طمع، خود غرضی، شقاوت و سنگ دلی، مفاد پرستی، جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں، بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا ذریعہ بھی ہے، اسی وجہ سے قرآنِ مجید میں سود سے منع کیاگیا ہے:”اے ایمان والو سود مت کھاو ¿ (یعنی مت لو اصل سے) کئی حصے زائد (کرکے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔”(سورة آلِ عمران، رقم الآیت:130، ترجمہ:بیان القرآن)
سود خور کا مقصد طمع و حرص وہ لالچی فریب ہے جس کے عوض انسان انسانیت کے زمرے سے نکل کر اپنے ہی قبیل کے لوگوں کے خون پسینے کی گاڑھی کمائی کو مفت خوری کے عوض کھاتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں جب نوٹ بندی کے عوام شروع ہوئے اسی وقت اسد اویسی کے آبائی بینک دارالسلام بینک کے 7 برانچیز آنا فانا افتتاح عمل میں آنا۔ جس کا صاف سا مطلب ہے کہ حکومت کے دیوس اور مسلم دشمن عناصر سے اویسی قبیلے کے بہت پرانے ساٹھ گانٹھ ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ جہاں چار دہائیوں میں یہ بینک صرف دو اور تین برانچیز پر قائم تھا نوٹ بندی کے محض چند ہفتے پہلے اس کے 7برانچیز کا اچانک کھل جانا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ ظاہر سی بات ہے ملک میں حکومتی اقتدار پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ اس طرح کے معجزات ہوئے تھے اور آنا فانا پیسوں اور نوٹوں کی کھپت ہو گئی تھی۔ خیر یہاں موضوع اسد اویسی صاحب کے سودی کاروبار میں ملوث ہونے کے عوض اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کے ٹھکرانے کے عوض دائر اسلام سے خروج اور اللہ اور اس کے رسول کا دشمن اور حکم الاہی کے فرامین کو ٹھکرانے کے بدلے جنگ کا اعلان اس بات پر بات چیت ہو رہی ہے تو بھلا جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کھلا دشمن ، اللہ کے فرامین کی نافرمانی کرنے والا ہوگا لہذا اس کے محبوب بندوں اور نبی کے امتی پر مہربانی کیسے ہوسکتا ہے۔
شریعت مطہرہ نے نہ صرف سود کو حرام قرار دیاہے، بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دینے کے ساتھ مختلف وعیدوں کا بھی ذکر کیا۔ جیسے کہ قرآنِ مجید میں ہے: "اور جو لوگ سود کھاتے ہیں نہیں کھڑے ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی حیران و مدہوش)، یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے، حال آں کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے۔ پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے (لینا) ہوچکا ہے وہ اسی کا رہا اور (باطنی) معاملہ اس کا خدا کے حوالہ رہا اور جو شخص پھر عود کرے تو یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔”(سورہ البقرة، رقم الآیت:275، ترجمہ:بیان القرآن)
جیسا کہ بتایا گیا کہ سود خور موقع پرست ہوتا ہے۔ سود خور ہر اس موقع کے تلاش میں ہوتا ہے کہ لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا جائے۔ انسان جب مجبور ہوتا ہے تو سود جیسے قبیح عمل کا ارتکاب کرتا ہے اور سودی کاروبار کرنے والے ایسے ہی موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں، کہ کب حالات ناگہانی کا سامنا ہو، لوگ پریشان ہوں اور گہنے و جائیداد لے کر ان کے چوکٹھوں پر پہنچیں اور وہ اس کے عوض موٹی موٹی موٹی کمائی کریں۔ جب کرونا کی لہر نے دنیا کے تمام شہروں کو اپنی چپیٹ میں لے لیا تو موقع پرستوں اور خاص طور سے سود خوروں کے مزے آگئے۔ اسی طرح سے دارالسلام بینک میں بھی حیدر آبادی عوام کا سود پر قرض لینے کے لئے تانتا لگ گیا۔ 14فیصد اور 17فیصد رقم پر سود دیا حالت یہ ہے کہ کرونا کو گئے ہوئے تین سال گزر گئے ہیں لیکن رہن پر رکھائے گئے زیور اور جائیدادوں کا خلاصہ اب تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ اویسی کے دارالسلام بینک کا مسلم امہ اور عوام کو سود کے عوض اپنے چنگل میں پھنسا لینا امت سے کسی دوستی کی مثال نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو ٹھکرانے اور نافرمانی کے عوض کے امت محمدیہ کے خون کو چوسنے کا ارتکاب ہے۔ اور جو لوگ اس ممانعت کے باوجود بھی سود جیسے قبیح عمل کرتے ہیں تو ان کے اس عمل پر قہر وغضب کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو اللہ اور ان کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا ہے، قرآن مجید میں ہے:” پھر اگر تم (اس پر عمل) نہ کرو گے تو اعلان سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے (یعنی سود خور کے خلاف جنگ ہوگا) اور اگر تم توبہ کرلو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاو ¿ گے اور نہ تم پر کوئی ظلم کرنے پائے گا۔”(سورة البقرة، رقم الآیت:279، ترجمہ:بیان القرآن)
حیدر آبادی عوام سودی کاروبار کرنے والے اویسی کے آبا واجداد اور خود اویسی برادران کے قصے بتاتے ہیں کہ حیدر آباد میں کتنے سارے بینکوں کو دارالسلام بینک کی افزائش کے مقصد سے تہس نہس کر دیا گیا۔ ہلاکت اور بربادی عوام کی ہوئی کہ جن لوگوں کے پیسے دیگر بینکوں میں جمع تھے وہ لوٹ لئے گئے کیونکہ اپنے سودی بینک کو پروان چڑھانا مقصد تھا۔ چار مینار کو آپریٹیو بینک اس سانحہ کا سب سے بڑا مثال ہے۔ اسی طرح سے درجنوں کمپنیاں حیدر آباد کی سرزمین پر ایسی ہیں جنہیں نیست و ناپود کر دیا گیا۔ مقصد دارالسلام بینک میں سودی شرح میں نقصان کا ڈر تھا۔ اس بات کے لئے ہیرا گروپ آف کمپنیز سب سے بڑی مثال ہے، جس میں دو لاکھ کے قریب سرمایہ کار شامل ہیں۔ بیسیوں برس سے ہیرا گروپ آف کمپنیز سے لوگوں کو روزی روٹی ملا کرتی تھی، لیکن چونکہ تجارت میں پیسے لگ جانے سے سودی کاروبار کو نقصان ہوتا ہے اس لئے ہیرا گروپ کی سی ای او کو جیل کرا کے کمپنی بند کرا دی گئی۔ امت محمدیہ سے اویسی سود خور کی یہ کیسی دوستی ہے کہ ہیرا گروپ آف کمپنیز میں سرمایہ کار صرف مسلمان تھے اور اس کمپنی کے خلاف شب خون مارا گیا۔ جس کا مقصد صاف انداز میں درالسلام بینک میں سودی کاروباری کی افزائش مقصد تھی۔ آپﷺ نے سود کو ہلاکت خیز عمل قرار دیا ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے: "حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کو ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔”(صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالی ان الذین یاکلون اموال الیتامی، رقم الحدیث:2766، ج:2، ص:242، ط:المکتب الاسلامی)

Related posts

تابِ سخن”  ____  ایک مطالعہ

Paigam Madre Watan

’15 मिनट पुलिस हटा दो ‘ पुस्तक पर टिप्पणी

Paigam Madre Watan

خوف خدا- گناہوں سے روکنے کی شاہ کلید 

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar