Articles مضامین

دس منٹ پہلے سحری بند کروانے کے عمل کا تجزیہ

رمضان المبارک میں جہاں اُمہات العبادات ہوتی ہیں، اُس پر بڑے بڑے اجر کا وعدہ ہوتا ہے نیز جہنم سے نجات کا اعلان ہوتا ہے وہیں بعض خلافِ سنت اعمال بھی بعض لوگوں سے صادر ہوتے ہیں، اُنھیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سحری دس بارہ منٹ پہلے بند کروا دیا جاتا ہے جب کہ نبی مکرمﷺ سے افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر منقول ہے: عجِّلُوا الإفطارَ، وأخِّرُوا السُّحورَ.
افطار میں جلدی کرو اور سحری میں تاخیر کرو۔
(صحيح الجامع، ح3989)
افطار میں بھی بعض لوگ احتیاطاً تین منٹ تاخیر کرتے ہیں جب کہ تعجیل کا حکم ہے، آج کا ہمارا موضوع سحری سے متعلق ہے، دس بارہ منٹ پہلے بند کروانے کے سلسلے میں صحیح بخاری کی حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے پہلے وہ حدیث ملاحظہ کر لیں:
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُورِ قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کے ساتھ ہم نے سحری کھائی، پھر نبیﷺ صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں (انس رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ "سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا” تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں (پڑھنے) کے موافق فاصلہ ہوتا تھا۔
(صحیح بخاری، ح1921)

محَلِّ استشہاد "بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُورِ” ہے، یہاں "اذان” سے اذانِ امِّ مکتوم ؓ مراد لی جاتی ہے جو طلوع فجر پر دی جاتی تھی لہذا سحری اور اذان کے بیچ 50 آیات کے بقدر تقریباً دس منٹ پہلے سحری بند کروا دی جاتی ہے اور دلیل کے طور پر یہی حدیث پیش کی جاتی ہے کہ سحری اور اذان کے بیچ پچاس آیت پڑھنے کے موافق وقت ہونا چاہئے۔

🔵 معروضی تجزیہ:

🔷 ◀ بسا اوقات کسی لفظ کی تشریح دیگر احادیث میں موجود اور واضح ہوتی ہیں مگر ہمارے دائرۂ تحقیق میں نہیں آپاتیں یا پھر ہم ارادتاً اُس کو واضح نہیں کرتے تاکہ ہمارے مسلک کی تائید بنی رہے، (یہ بہت معیوب ہے اللہ تعالیٰ ہمیں کتمانِ علم سے محفوظ رکھے، آمین)
أحادیث میں لفظ "اذان” اقامت (تکبیر) پر بھی بولا جاتا ہے، اور کہاں کیا مراد ہے یہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے، مثلاً یہ حدیث ملاحظہ کریں:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ المُزَنِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ، ثَلاَثًا لِمَنْ شَاءَ.
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کہ ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان نماز ہے (تیسری مرتبہ فرمایا) جو شخص چاہے۔
(صحیح بخاری، ح624)

یہاں دو اذان سے، ایک اذان اور ایک اقامت (تکبیر) مراد ہے، اور پیش کردہ حدیثِ بالا میں لفظ "اذان” سے اقامت ہی مراد ہے نہ کہ معروف اذان، سيأتي ان شاء الله.

🔷 ◀ فریقِ ثانی کی مُستدل حدیث پر ائمہ کی تبویب:

کسی حدیث سے استدلال کا یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ دیکھا جائے کہ محولہ حدیث پر صاحبِ کتاب نے باب کیا قائم کیا ہے؟ حدیثِ بالا میں اگر اِس طرف ذرا بھی توجہ دی جاتی تو مسئلہ مِثل نیم روز واضح ہوجاتا کہ یہاں اذان سے مراد اقامت ہے نہ کہ اذانِ اوّل۔
آئیں ائمہ کی تبویب اور استدلال پر نظر ڈالتے ہیں:

1: امام بخاری رحمہ اللہ (م256ھ) نے حدیثِ بالا پر باب قائم کیا ہے: بَابٌ: قَدْرِ كَمْ بَيْنَ السَّحُورِ وَصَلاَةِ الفَجْرِ
باب ہے سحری اور فجر کی نماز کے درمیان کس قدر فاصلہ ہو۔

2: امام ابن بطال رحمہ اللہ (م449ھ) فرماتے ہیں: قال المهلب: هذا يدل على تأخير السحور ليتقوى به على الصوم.
مھلب نے فرمایا: یہ حدیث سحری کی تاخیر پر دلالت کرتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ روزے پر قوت حاصل کی جاسکے.
(شرح صحيح البخاري، ج4، ص44، ط: الرشد)

3: امام علي بن داود بن العطار الشافعي رحمہ اللہ (م724ھ) فرماتے ہیں: الظاهر أن المراد بالأذان هنا: الأذان الثاني.
ظاہر ہے یہاں اِس اذان سے دوسری اذان (اقامت) مراد ہے۔
(العدة في شرح العمدة، ج2، ص845، ط: دار البشائر)

4: امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ (م795ھ) فرماتے ہیں: ومقصود البخاري بهذا الحديث في هذا الباب: الاستدلال به على تغليس النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بصلاة الفجر، فإنه تسحر ثم قام إلى الصلاة، ولم يكن بينهما إلا قدر خمسين آية.
آگے فرمایا: وأكثر الروايات تدل على أن ذلك قدر ما بين السحور والصلاة
اِس باب میں اس حدیث سے امام بخاری ؒ کا مقصود یہ استدلال ہے کہ نبیﷺ کی نمازِ فجر اندھیرے میں ہوتی تھی، تو آپ سحری کرتے پھر نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے اور اُن دونوں (سحری اور نماز) میں پچاس آیات بقدر ہی (فاصلہ) ہوتا تھا، اور اکثر روایات سحری اور نماز کے دورانیہ پر دلالت کرتی ہیں۔
(فتح الباري، ج4، ص423، ط: الغرباء)
یعنی اکثر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سحری اور نماز کے درمیان کا وقت ہے۔

5: علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (م852ھ) فرماتے ہیں: "بَابٌ قَدْرُ كَمْ بَيْنَ السُّحُورِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ” أَيِ: انْتِهَاءِ السُّحُورِ وَابْتِدَاءِ الصَّلَاةِ.
باب ہے سحری اور فجر کی نماز کے درمیان کس قدر فاصلہ ہو، یعنی سحری کا اختتام اور نماز کی ابتداء (پچاس آیت پڑھنے کے بقدر)
(فتح الباري، ج4، ص138)

6: امام بدر الدین عینی حنفی رحمہ اللہ (م855ھ) فرماتے ہیں: "بابُ قَدْرِكَمْ بَيْنَ السُّحُور وصَلاَةِ الفَجْرِ”
أَي: هَذَا بَاب فِي بَيَان مِقْدَار الزَّمَان الَّذِي بَين السّحُور وَصَلَاة الصُّبْح.
باب ہے سحری اور فجر کی نماز کے درمیان کس قدر فاصلہ ہو، یعنی اِس باب میں سحری اور نمازِ فجر کے وقت کی مقدار کا بیان ہے۔
(عمدة القاري، ج10، ص298، ط: احياء التراث)

7: سليمان بن محمد اللهيميد حفظہ اللہ فرماتے ہیں: فهذا الحديث يدل على أنه يستحب تأخير السحور إلى قُبيل الفجر۔
آگے فرمایا: والمراد بالأذان الإقامة، سميت أذانًا لأنها إعلام بالقيام إلى الصلاة.
یہ حدیث فجر کی نماز سے تھوڑے وقت پہلے تک سحری کو تاخیر کرنے کے استحباب پر دلالت کرتی ہے۔ اور اذان سے اقامت مراد ہے، اذان اِس لئے نام رکھا گیا کیونکہ (اقامت) نماز کے قیام کا اعلان ہے۔
(شرح بلوغ المرام، ج2، ص202)

اِن تصریحات سے معلوم ہوا کہ حدیث کے اندر جو لفظ "اذان” آیا ہے وہ اقامت کے معنی میں ہے یعنی اُس سے مراد اقامت ہے۔

🔷 ◀ خصوصی أحادیث

ذیل میں، محولہ بالا حدیث اور لفظ "اذان” کی ایسی مکمل وضاحت ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
1: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُمْ تَسَحَّرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصَّلاَةِ، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ خَمْسِينَ أَوْ سِتِّينَ ، يَعْنِي آيَةً.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اُن سے بیان کیا کہ ان لوگوں نے (ایک مرتبہ) نبی کریمﷺ کے ساتھ سحری کھائی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے دریافت کیا کہ ان دونوں (سحری اور نماز) کے درمیان کس قدر فاصلہ رہا ہوگا؟ فرمایا کہ جتنا پچاس یا ساٹھ آیت پڑھنے میں صَرف ہوتا ہے اتنا فاصلہ تھا۔
(صحیح بخاری، ح575)

2: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ: تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا، قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَصَلَّى، قُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلاَةِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کھائی، پھر جب وہ سحری کھا کر فارغ ہوئے تو نماز کے لیے اٹھے اور نماز پڑھی۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبیﷺ کی سحری سے فراغت اور نماز کی ابتداء میں کتنا فاصلہ تھا؟ انھوں نے فرمایا کہ اتنا کہ ایک شخص پچاس آیتیں پڑھ سکے۔
(صحیح بخاری، ح576)

اِن دونوں حدیثوں میں باقاعدہ سحری اور نماز کا ذکر موجود ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ لفظ "اذان” جو اوپر کی حدیث میں موجود ہے اُس سے مراد اقامت ہے۔

🔷 ◀ عمومی أحادیث

جو لوگ اذان سے دس بارہ منٹ پہلے سحری بند کرواتے ہیں اُنھیں معلوم ہونا چاہئے کہ نبیﷺ نے اذانِ فجر تک سحری کھانے کا حکم دیا ہے اِس حکم کے باوجود اگر کوئی من مانی کرتا ہے یا اپنے مسلک کی تائید میں لگا رہتا ہے تو ایسا کرنا لائقِ گرفت و قابلِ مواخذہ ہے۔
1: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ . . . .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کچھ رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں تم کھاتے پیتے رہو کیوں کہ وہ صبح صادق کے طلوع سے پہلے اذان نہیں دیتے۔
(صحیح بخاری، ح1919)

یعنی صبح صادق کے وقت جو اذان ہوتی ہے اُس اذان تک سحری کا وقت ہوتا ہے اِس میں کسی قسم کا احتیاط کرنا مناسب نہیں ہے۔

2: عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَتِي أَنْ أُدْرِكَ السُّجُودَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں سحری اپنے گھر کھاتا پھر جلدی کرتا تاکہ نماز نبی کریمﷺ کے ساتھ مل جائے۔
(صحیح بخاری، ح1920)

یعنی سحری کرتے ہی نماز کے لئے نکل پڑتے تھے اور نکلنے میں جلدی کرتے تھے تاکہ جماعت مل سکے یہی وہ وقفہ ہے جسے پچاس آیت کے بقدر کہا گیا ہے یعنی سحری اور نماز کے درمیان کا وقفہ۔

🔷 ◀ دلیلِ قاطع

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ, فَلَا يَضَعْهُ، حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی اذان (فجر) سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے رکھے نہیں بلکہ اپنی ضرورت پوری کر لے۔‘‘
(سنن ابوداؤد، ح2350، حسن صحیح)

اِس حدیث میں غور کریں کہ سحری میں تاخیر کے سبب اگر کھاتے وقت اذان ہوجائے تو بھی بقدر ضرورت کھایا جا سکتا ہے، عموماً اذان ہوتے ہی سحری کھانا بند دینا چاہئے، کس قدر واضح حدیث ہے کہ اذان تک سحری کھا سکتے ہیں بلکہ اذان تک تاخیر کرنا نبی اکرمﷺ کا حکم ہے، جو لوگ اذان سے دس بارہ منٹ پہلے سحری کے ختم ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں اور اذان دس بارہ منٹ بعد دیتے ہیں اُن کا یہ عمل سنتِ رسولﷺ اور مقصودِ شریعت کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ رسولﷺ پر قائم رہنے کی توفیق بخشے۔

تحریر: سعیدالرحمٰن عزیز سلفی
تاریخ: 4 اپریل 2024 بروز جمعرات

Related posts

سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ: حیات و تعلیمات

Paigam Madre Watan

قرآن مجید کی تلاوت اور ہم فرزندان توحید

Paigam Madre Watan

تقسیم زکوٰۃ – چند گذارشات 

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar