Articles مضامین

ہندوستانی مسلمان جوتا پالش کرنے اور جھاڑو لگانے کے لیے تیار رہیں

عبدالغفار صدیقی


میں نے اس ہفتہ جس موچی سے جوتا پالش کرایا اس کی عمر کوئی ساٹھ سال تھی ،چہرے سے ضعیفی کے آثار نمایاں تھے ۔میں نے پوچھا :۔’’ بابا تمہارے بچے نہیں ہیں کیا؟‘‘وہ بولا :۔’’ بچے تو ایشور کی کرپا سے چھ ہیں ،چار لڑکے اور دولڑکیاں ۔‘‘ میں نے دوسرا سوال کیا :۔’’ لڑکے کیا کرتے ہیں ؟‘‘ اس نے بتایا کہ ایک لڑکادہلی میںفیکٹری میں کام کرتا ہے ،ایک اسی شہر میں بیج بھنڈار کی دوکان پر نوکری کرتا ہے ،تیسرا الیکٹرک رکشہ چلاتا ہے اور چوتھا پڑھ رہا ہے،ایک لڑکی کی شادی ہوگئی ،دوسری کی مارچ میں ہوگی ۔اس نے ایک ہی سانس میں پوری تفصیلات سے مجھے آگاہ کردیا ۔مگر میں نے تیسرا سوال داغ دیا ۔کیابچوں کو لکھایا پڑھایا نہیں ؟اس سوال پر اس نے اپنا سر فخر سے بلند کرتے ہوئے کہا :’’ سب کو انٹر کرادیا ہے ۔اب آگے وہ خود پڑھ رہے ہیں ۔‘‘میں نے کہا کہ آپ نے سب بچوں کو جوتا گانٹھ کر پڑھا دیا ،اس نے جواب دیا ’’ہاں صاحب یہ ہمارا داد الٰہی کام ہے ‘‘میں نے کہا کہ آپ کے لڑکے یہ کام جانتے ہیں ۔اس نے بتایا کہ نہیں صاحب کوئی بچہ نہیں جانتا،وہ اس کام کو پسند نہیں کرتے ۔یہ بات میں نے اپنے گھر پر بتائی تو مجھے بتایا گیا کہ ہمارے اسکول میں جو صفائی کرنے آتی ہے اس کا بچہ انجینئرنگ کی کوچنگ کررہا ہے ،وہ کہتی ہے کہ میں نہیں چاہتی کہ میرے بچے بھی گندگی اٹھانے کاکام کریں ۔
یہ دونوں واقعات سماج کے دو ایسے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں کہ بعض شریف زادوں کو ان کا نام لینے سے بھی قے آنے لگتی ہے ۔یہ جوتا گانٹھنے والا موچی ہریجن ہے اور صفائی کرنے والی مہترانی بالمیکی ذات سے تعلق رکھتی ہے ۔ہریجن اور بالمیکی مہذب الفاظ ہیں جو ان کے لیے استعمال ہوتے ہیں ورنہ ان کے قدیم ناموں سے کون واقف نہیں ہے ۔یہ واقعات صرف ایک دو گھر انے کے نہیں ہیں بلکہ ان کی کاسٹ کے بیشتر گھرانوں کایہی حال ہے ۔اس کے برعکس غریب مسلمانوں کی تو چھوڑیے ،کسی رکشہ پولر اور ٹھیلہ ریڑھی والے مسلمان سے یہ امید لگانا فضول ہے کہ اس کے چھ بچے انٹرمیڈیٹ تک حاصل کرلیں گے ۔وہ تو اسکول کا منہ ہی دیکھ لیں تو غنیمت ہے۔میں اپنے متمول مسلمانوں کو دیکھتا ہوں کہ ان کے یہاں تعلیم کی شرح کیا ہے ؟تو افسوس ہوتا ہے ۔گائوں دیہات میں نوے فیصد لڑکے پرائمری پاس بھی نہیں ہیں ،شہروں کا حال بھی کچھ خاص بہتر نہیں ہے ۔ لڑکیوں کی خواندگی کا تناسب اگر کچھ بہتر بھی ہے تو شادی کے بعد ان کی تعلیم کا فائدہ سماج اور معاشرہ کو حاصل نہیں ہوتا۔
جب سماج کے وہ طبقات تعلیم حاصل کرلیں گے جو جوتے گانٹھنے اور گندگی اٹھانے کا کام کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ اپنا آبائی کام نہیں کریں گے ۔جب کہ دنیا کا نظام چلانے کے لیے ان دونوں کاموں کے لیے افراد کی ضرورت ہمیشہ رہے گی ۔میری اس بات کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ سماج کے ان طبقات کو علم حاصل نہیں کرنا چاہئے ۔میں تو کائنات میں جاری اصول کی طرف اشارہ کررہا ہوں جس کے مطابق ہر کام کے لیے ہمیشہ افراد کی ضرورت رہتی ہے ۔مثال کے طور پر زراعت اورتعمیرات کے لیے مزدوروں کی ،گندگی صاف کرنے کے لیے صفائی کرمچاریوں کی ،جوتا پالش کرنے کے لیے موچی کی ،لوڈنگ کے لیے محنت کشوں کی ہمیشہ ضرورت رہے گی ۔سوال یہ ہے کہ جب آج کے موچیوں اور صفائی کرمیوں کی نئی نسل لکھ پڑھ جائے گی تو وہ یہ ادنیٰ درجہ کے کام کیوں کرے گی ۔جب وہ یہ کام نہیں کرے گی توپھر یہ کام کون کرے گا ؟یہ کام وہ لوگ کریں گے جو تعلیم یافتہ نہیں ہوں گے یا سماج میں دوسرے طبقات کے مقابلہ پر کم تعلیم یافتہ ہوں گے اور اس فہرست میں مسلمان اول نمبر یعنی ٹاپ پوزیشن پر ہیں ۔حکومتی اداروں کے تمام سروے رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ناخواندگی کی شرح میں مسلمان سب سے اوپر ہیں ۔
مسلمانوں میں تعلیمی شرح میں کمی کے جوچند اسباب ہیں ان میں سے ایک سبب یہ ہے کہ مسلمان دینی اور دنیاوی تعلیم کی تقسیم کا شکار ہوگئے ۔علماء دین نے ان کو عصری تعلیم سے برگشتہ کردیا ۔ان کی تمام تر کوششیں مسلمان بچوں کو دینی تعلیم کے نام پر مدارس میں لانے پر مرتکز ہوگئیں ۔مساجد کے منبر سے اوردینی جلسوں میں ،مسلمانوں کو دینی تعلیم کے حصول کے جانب راغب کیا جانے لگااور دنیاوی علوم کے لایعنی ہونے پر زوردیاجانے لگا ۔اگرچہ دین کا علم حاصل کرنے کی اہمیت و ضروریت سے کسی کو انکار نہیں ۔ہر مسلمان کو ضروری دینی تعلیم حاصل کرنا چاہئے لیکن دینی تعلیمی اداروں میں جو نصاب فراہم کیا گیا اس نے فارغین مدارس کو مسجد کاامام اور محصل زکاۃ بنانے کے علاوہ کہیں کا نہیں چھوڑا۔اگرچہ اس جانب بھی صرف چار فیصدلوگ متوجہ ہوئے ۔لیکن چھیانوے فیصد کا ذہن اس غلط فہمی کا شکار ہوگیا کہ دنیا کی تعلیم کا حصول بے سود ہے ۔مدارس نے اپنے نظام تعلیم کو زمانے سے ہم آہنگ نہیں کیا ۔سرکاری تعلیمی نظام کرپشن کا شکار ہوکر ٹھپ ہوگیا ،مسلم پرائیویٹ کالجیز کمیٹیوں کے ارکان کی رسہ کشی کی نذرہوگئے ،مشنری اسکولوں میں پڑھانے والوں پر فتوے لگنے لگے ،اس طرح مسلمان نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ۔
ایک سبب یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ سرکاری نوکریوں میں تعصب کا رویہ اختیار کیا گیا ۔جس نے ان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی پیدا کردی ۔ گریجویٹ نوجوان پرائیوٹ اسکولوں میں ٹیچر بن کربہت کم اجرت پاتے رہے ،جاہل اور ان پڑھ الیکٹریشن ،کارپینٹر ،ڈارئیور،اور مزدور بن کر اچھا پیسہ کمانے لگے ۔اس طرح گھر اور سماج میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی قدر کم ہوتی گئی اور یہ خیال تقویت پانے لگا کہ ’’ جب نوکری نہیں ملے گی تو پڑھ کر کیا کریں گے ؟‘‘ اس خیال نے مسلمانوں میں تعلیم کی طرف سے بے رغبتی اورلاپرواہی پیدا کرنے میں اہم رول ادا کیا ۔
تعلیم سے دوری کا ایک سبب مسلمانوں کی معاشی کمزوری بھی رہا ۔آزادی کے بعد جس طرح پے در پے مسلمان مصائب کا شکار ہوئے ،اس نے مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کردیا ۔گھر کی ضروریات اس قدر بڑھیں کہ باپ کو اپنے بیٹوں کے سہارے کی ضرورت پڑی ،جس نے اسکول کی طرف جانے والے قدم روزی کمانے کی طرف موڑ دیے ۔سماج میں اس بات کا نظم نہیں تھا کہ باصلاحیت بچوں کو وظائف دیے جائیں یا ان کی تعلیم کے لیے الگ سے معقول نظم کیا جائے ۔یہ نظم آج بھی نہیں ہے ۔سیکڑوں ملی تنظیمیں تعلیمی امور انجام دینے کی رپورٹیں شائع کرتی ہیں ،ہزاروں بچوں کو وظائف دینے کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں ،لیکن میں دیکھتا ہوں کہ پورے پورے شہر اور بستیوں میں ایک بھی طالب علم نہیں ملتا جس کو ان تنظیموں سے فائدہ پہنچا ہو۔واللہ اعلم کہ ان سے کون لوگ مستفید ہورہے ہیں یا تو ساری اسکیمیں بھائی بھتیجہ واد کی نظر ہیں یا صرف کاغذ پر ہی موجود ہیں ۔اگر بالفرض ایک دو تنظیمیں اخلاص اور ایمان داری سے کام کرتے ہوئے تعلیمی وظائف دے بھی رہی ہوں تو اتنے بڑے ہندوستان میں ان کے اثرات کہاں نظر آئیں گے ؟
کیا آپ علم کے بغیر دنیا میں باعزت زندگی کا تصور کرسکتے ہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کو حضرت آدم ؑ کو علم سکھانے کی ضرورت نہ ہوتی اور نوری فرشتے کیوں خاک کے پتلے کی اطاعت کا دم بھرتے ۔کیوں کہا جاتا کہ اہل علم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے اورحصول علم فرض کیوں کیا جاتا؟صفہ نبوی کو پہلا مدرسہ ہونے کا اعزاز کیوں حاصل ہوتا اور سب سے اہم بات یہ کہ وحی کا آغاز ’’ پڑھو‘‘ کے حکم سے کیوں ہوتا ۔ایک وہ قوم جس کی مذہبی کتابیں اس کو حصول علم سے روکتی ہیں اور سماج کی سیوا کرنا اس کا دھرم بتاتی ہیں ،جس کے مذہبی رہنما اس کی نجات اسی میں بتاتے ہیں کہ تم ہماری سیوا کرتے رہو ۔اس قوم نے حصول علم میں اس قوم سے بازی مارلی جس کا پیغمبر معلم ہونے پر فخر کا اظہار کرے ،جس کی آسمانی کتاب حصول علم ،کائنات میں غورو تدبر اور تحقیق و جستجو پر زور دے ،جس کی اپنی پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہو کہ جب وہ علمی میدان کے شہسوار رہے فتحیاب رہے ۔
آپ برا نہ مانیں تو ایک بات عرض کروں ۔آپ آزادی کے بعد سے جو کتاب پڑھ رہے ہیں ،اور آپ کی مساجد میں جس کتاب کو ’’افضل الکتاب‘‘ کی حیثیت حاصل ہے،اس کو جس مقام تقدس پر آپ نے رکھ چھوڑا ہے اس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں میں وہ اعلانیہ ایک آسمانی کتاب کا درجہ حاصل کرلے گی ،اس لیے کہ غیر اعلانیہ تو اس کتاب کو یہ مقام آج بھی حاصل ہے۔ اس کتاب میں نماز ،روزے ،حج ،زکوۃ اور صدقات کے فضائل تو ہیں لیکن علم کی فضلیت میں کوئی باب (چیپٹر ) نہیں ہے ۔اس میں تجارت کے اصول تو کیا ہوتے بلکہ بازار میں جانے کو شیطانی عمل بتایا گیا ہے ۔اس میں والدین کے حقوق ،سماج کے تئیں ایک مومن کی ذمہ داریاں ،مملکت چلانے کے اصول وغیرہ پر کوئی ایک جملہ تک نہیں ہے ۔(دوسری کسی کتاب کی طرف آنکھ اٹھاکر دیکھنے کی اجازت بھی نہیں دیتے )آپ کی تین نسلیں اس کو پڑھ اور سن کر جوان ہوگئی ہیں ۔معاف کیجیے آپ کی پسماندگی میں اس کتاب کا بڑا رول ہے ۔
ابھی بھی وقت ہے کہ آپ اُس کتاب کوپڑھئے جس کو صحابہ کرامؓ نے پڑھا تھا ،جس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ :’’ یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بعض قوموں کو رفعت و سربلندی عطا کرے گااور اس کو ترک کردینے کے سبب بعض اقوام کو ذلیل وخوار کرے گا‘‘۔جس کے بارے میں رسول ﷺ میدان حشر میں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں فرمائیں گے ۔’’ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا ۔‘‘ (الفرقان ۔30)کیا قرآن کو سمجھ کر نہ پڑھنا اس کو چھوڑ دینا نہیں ہے ۔کیا اس کے مقابلہ پر کسی کتاب کو اہمیت دینا قرآن کو ترک کردینے کے مترادف نہیں ہے اور کیا ہم جس ذلت و رسوائی اور پسماندگی کا شکار ہیں اس کا سبب قرآن کو چھوڑ دینا نہیں ہے ۔کیا آپ ان واضح تعلیمات کے بعد بھی اپنی مساجد کے ائمہ اور دینی لیڈر شپ سے یہ مطالبہ نہیں کریں گے کہ ’’ حضرت ہمیں خدا کی کتاب تو سمجھادیجیے ۔‘‘ اب تو الحمد للہ بڑی تعداد میں مساجد کے ائمہ مفتی اور مولوی ہیں ۔اگر آپ اس مطالبہ کی ہمت نہیں کرپارہے ہیں تو اپنی مکمل غلامی کا انتظار کیجیے اور اپنی نسلوں کو جوتا گانٹھنے ،پالش کرنے اور جھاڑو لگانے کی ٹریننگ دینا شروع کردیجیے ۔

Related posts

ہندوستان کی کثیر آبادی کو درپیش مسائل

Paigam Madre Watan

قرآن حکیم کے ساتھ ہمارا سلوک

Paigam Madre Watan

کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے!

Paigam Madre Watan

Leave a Comment