Blog

والد کے ہاتھوں فرزند کی کتاب "امت کی مجموعی ترقی کا لائحہ عمل” کا اجراء

قیام الدین قاسمی سیتامڑھی خادم مشن تقویتِ امت
بڑے دنوں سے منتظر تھا کہ کب گھر جاؤں اور کب والد محترم کو اپنی کتاب ہدیہ دوں کہ میری کامیابی کی سب سے پہلی سیڑھی تو میرے والدین ہی ہیں جن کی بدولت میں سات سال کی عمر میں حافظ اور اٹھارہ سال کی عمر میں عالم اور آج اس مقام تک پہنچ پایا اور مصنف بن پایا، بالآخر عید کی برکت سے وہ مبارک موقع ہاتھ آیا، ابو کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے فرط مسرت میں ڈھیر ساری دعاوں سے نوازا، اور ہم نے لگے ہاتھوں والد صاحب اور اپنے چھوٹے بھائی عزیزم مولانا نظام الدین قاسمی سلمہ کے ساتھ ایک تصویر بھی کھنچوالی، چھ افراد پر مشتمل ہماری فیملی (والدین دو بھائی اس کے بعد دو بہنوں) میں تین مرد حضرات ہیں اور الحمدللہ ہم تینوں کو اللہ نے قاسمیت کی سند سے سرفراز فرمایا ہے اسی مناسبت سے ہم نے اپنے گھر کا نام بھی قاسمی منزل رکھا ہوا ہے، اللہ ہمیں حقیقتاً قاسم العلوم و الخیرات بنادے۔
والد صاحب کا مختصر تعارف
مفتی اسماعیل صاحب قاسمی ابن بشیر الدین انصاری مرحوم پیدائش: 1973 میں ضلع سیتامڑھی بہار انڈیا کے گاؤں بگہا پوسٹ کنہولی وایا میجرگنج میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم: بگہا مدرسے میں مولانا ہاشم صاحب و دیگر اساتذہ کے پاس حاصل کی بعدہ اپنے برادر کبیر قاری غلام الرحمٰن رح کے ساتھ مدرسہ عربیہ سراج العلوم تیلہٹا بازار سیوان چلے گئے جہاں 80-82 تین سال قیام پذیر رہے اور دو سال حفظ اور ایک سال دور میں صرف کیا۔ پھر قاری صاحب کے ساتھ ہی مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی چلے آئے، جہاں دوبارہ دور بھی سنایا اور فارسی اول اور دوم تک پڑھائی کی اور تیسرے سال عربی اول کی کتابیں ختم ہونے کے بعد حفظ قرآن کے لیے مشہور و معروف مدرسہ سمرا چلے آئے جہاں حافظ طاہر صاحب کے پاس دور کیا اور آخری میں رجب کا دور قاری بشیر صاحب کو سنایا۔ سنہ 86ء میں عربی دوم کے لیے مدرسہ اشرف العلوم کنہواں آئے، اور یہاں 86-88تین سال عربی چہارم تک حصول علم میں مشغول رہے اور پھر پنجم کے لیے دوبارہ سراج العلوم سیوان کا رخ کیا۔ سنہ 90 میں ششم کے سال دارالعلوم میں داخلہ لیا اور 92 میں سند فراغت سے سرفراز ہوئے جس سال بابری مسجد کا سانحہ پیش آیا تھا۔ سنہ 93ء میں دارالعلوم حیدرآباد افتا کے لیے چلے گئے جہاں مولانا عاقل حسامی صاحب ناظم تھے، والد صاحب نے مفتی یحی صاحب سریا رتن پوری صاحب جیسے جبل العلم کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا جو کہ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رح اور اشرف العلوم کنہواں کے سابق ناظم مولانا زبیر رح کے ساتھیوں میں تھے اس وقت سراجی مفتی اختر امام عادل صاحب پڑھاتے تھے سال کے اخیر میں بیڑ سے مولانا عبد الشکور حسینی صاحب آئے تو مولانا اختر امام عادل صاحب کی ایماء پر وہ والد صاحب کو سنہ 94 ء میں بطور مدرس اپنے مدرسے دارالعلوم یوسفیہ بیڑ مہاراشٹر لے آئے۔
سنہ 95ء میں بیڑ میں ہی ایک جوڑ تھا جہاں مولانا یونس رح کی نیابت کرنے ان کے نواسےمفتی شاکر صاحب قاسمی آئے اور مفتی صاحب کو دارالعلوم نپانی بلگام کرناٹک کے لیے علیا کے اساتذہ کی ضرورت تھی، انہوں نے اپنے ساتھی مولانا عبد المجید صاحب بیڑ سے تذکرہ کیا، والد صاحب کی مولانا عبد المجید صاحب سے اچھی رسم و راہ تھی اور وہ ابو کی صلاحیتوں سے واقف تھے تو انہوں نے مفتی شاکر صاحب کے سامنے ابو کا نام پیش کیا، تو مفتی صاحب نے پونہ بلاکر اپنے کتب خانے میں کچھ کتابوں کا امتحان لیا اور مطمئن ہونے کے بعد تقرری نامہ سونپ دیا، اور یوں والد صاحب دارالعلوم نپانی بلگام کرناٹک میں مسند تدریس پر فائز ہوئے اور دو ہی تین سال کے قلیل عرصے بعد اپنی قائدانہ و منتظمانہ صلاحیتوں کی بنا پر ناظم تعلیمات کے عہدے پر فائز کئے گئے اور اپنی علمی استعداد و فضل خداوندی کے توسط سے شیخ الحدیث کے منصب جلیلہ پر فائز ہوکر کئی سالوں تک طالبان علوم نبوت کو چشمہء فیض نبوی سے سیراب کیا، ان دنوں اس مدرسے کے طلبا کی تعداد تقریباً چھ سو سے ہزار کے درمیان ہوتی تھی، آج مہاراشٹر و کرناٹک کے اکثر اضلاع کے مدارس میں و مساجد اور دیگر مراکز دینیہ میں آپ کو والد صاحب کے شاگرد قوم و ملت کی خدمت انجام دیتے نظر آجائیں گے۔ چند سالوں بعد والد صاحب کچھ گھریلو حالات کی بناپر بہار تشریف لائے اور اس وقت سے لے کر اب تک ان مدارس میں خدمت انجام دے چکے ہیں:
1 بہار کے سب سے معیاری مدارس میں سے ایک مدرسہ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی (بطور استاذ فقہ و حدیث)۔ یہ میری بھی مادر علمی ہے اور والد صاحب کی بھی، اس وقت کے طلبا کے درمیان مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی ابو کے شاگردانِ رشید ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے اور ہندوستان و بیروں ملک میں اپنے اپنے کسب معاش میں مصروف ہونے کے باوجود والد صاحب کو کال کرنا اور کبھی میری معرفت سلام بھجوانا نہیں بھولتے۔
2 بیت العلوم کونڈوا پونے مہاراشٹر (بطور استاذ و ناظم)
3 مدرسہ امداد العلوم یوسفیہ دونڈ پونے مہاراشٹر (بطور شیخ الحدیث، اس وقت مولانا عبد الرشید رح مدرسے کے ناظم ہوا کرتے تھے)۔
4 مدرسہ ضیاء القرآن ملکاپور کراڈ ساتارہ مہاراشٹر (بطور ناظم و مدرس)
والد صاحب بطور معبر
والد صاحب کو اللہ نے خوابوں کی تعبیر کا ہنر عطا فرمایا ہے، اور والد صاحب کی بتائی ہوئی تعبیریں حقیقت سے اتنی قریب ہوا کرتی ہیں کہ پورے علاقے میں ان کا شہرہ پھیلا ہوا ہے، ایک بار والد صاحب کا ایکسیڈینٹ ہوا تو پونے کے ایک ہاسپیٹل میں بھرتی کیا گیا جہاں زائرین و عیادت کرنے والوں کی اتنی کثرت تھی کہ ہاسپیٹل کا مالک یہ پوچھنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ کہیں کے ایم پی ایم ایل اے ہیں کیا جو اتنے لوگ ان کی عیادت کو آرہے ہیں؟ یہ محبت تھی جو اللہ تعالٰی نے اس پورے علاقے والوں کے دلوں میں والد صاحب کے تئیں ودیعت فرمائی تھی، مہاراشٹر، کرناٹک، گجرات، آندھرا پردیش، اترپردیش اور بہار جیسے کئی صوبوں سے لوگ آج بھی فون کرکے ان سے خوابوں کی تعبیر معلوم کرتے ہیں اور والد صاحب اپنے مطالعے اور خدا کے عطا کردہ ملکہ کی روشنی میں نبوت کے چالیسویں حصے یعنی خواب کی تعبیروں سے ایک امت کو مستفید فرماتے ہیں، اللہ والد محترم کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے اور ایک امت کو ان کے علوم و معارف سے سیراب فرمائے۔
والد صاحب کا تعلق مع اللہ
ابو کا اصلاحی تعلق حضرت مولانا اظہار الحق صاحب سے ہے جو اس وقت اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی کے ناظم ہیں، چوں کہ میں ابو کے ہی کمرے میں سوتا تھا اس لیے میں ان کی شب بیداری کا عینی شاہد ہوں، تہجد کے وقت اذکار و وظائف کی پابندی اور تلاوتِ قرآن ان کا معمول ہے، مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے جامعۃ المومنات رامپور کے ناظم و شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ قاسمی صاحب لکھتے ہیں:
"سنہ 2019 یا 2020 میں آپ کے والد صاحب الیکشن ڈیوٹی پر ہمارے گاؤں رامپور خورد تشریف لائے تھے۔ اور ہم نے انکو نہ پہچانتے ہوئے بھی اپنے مدرسے جامعۃالمؤمنات رامپور ضلع سیتامڑھی بہار میں ایک شب قیام کرایا تھا اور ہم نے جان بوجھ کر انکو دفتر میں اکیلا ہی چھوڑ دیا تھا اور دوسرے کمرے میں سونے چلے گئے۔۔ رات کو 3 بجے ہی جب ہم نے انکی شب بیداری آہ و زاری دیکھی تبھی ہم انکی ولایت کے قائل ھوگئے تھے۔ آج آپ کی تحریر نے انکی زندگی کے مزید گوشوں سے پردہ اٹھایا۔ اللھم زد فزد۔آپ ان سے میرے لئے دعاء کی درخواست کردیں۔
350 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 330 ہے، کورئیر چارج فری ہے، نیز چار یا اس سے زائد کتابیں خریدنے پر 250 میں دست یاب کی جائے گی، فہرست دیکھنے اور کتاب خریدنے کے لیے رابطہ کریں

Related posts

Dr. Nowhera shaikh determines to enhance educational standards in India through elevated teaching methodologies.

Paigam Madre Watan

عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ: حیدرآباد کے سیاسی منظر نامے پر امید کی کرن

Paigam Madre Watan

برادرم فیاض احمد کتاب ’’ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور ‘‘ کے ساتھ

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar