Articles مضامین

زکوہ و خیرات  اسلام میں معاشی نظام کا تصور ہے لیکن ۔۔۔۔۔

شہاب حمزہ 
اس دنیا کی تاریخِ معیثت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جس قوم کا معاشی نظام نہیں ہوتا ہے وہ قوم اس دنیا میں ذلیل و خار اور رسوا ہوتی ہے اور قوم کے بیشتر لوگوں کی زندگی مفلسی،تنگ دستی اور فاقہ کشی میں گزرتی ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی قوم  کی ترقی کے لئے دواولین  شرطیں ہیں ایک تو تعلیم اور دوسرا معاشی نظام ۔  جہان تک تعلیم کا تعلق ہے تو اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے اس دنیا والوں کو پہلی آیت یا یوں کہیں کہ  پہلا لفظ اقراء کے ساتھ ہی اس کی اہمیت کو بنا دیا ہے۔ جتنی جلدی ہم  یہ مان لیں کہ اقراء انسانی فلاح و بہبود کی  پہلی سیٹرھی ہے یہ ہمارے حق میں  بہتر ہوگا۔ اس دنیا میں سب سے زیادہ ریسرچ قرآن پر ہوتا ہے اور ہوا ہے اور ہو رہا ہے سے الگ سی بات ہے کہ مسلمانوں  سے زیادہ غیر مذہب کے لوگ آگ اس پر ریسرچ کرتے ہیں ۔ ہر وہ قوم جس نے قران پر ریسرچ کیا اس کے تعلیمات  کو اپنا یا حکومت ان ہی کے ہاتھوں میں  رہی ہے چاہے آج کا سیر پاور امریکہ ہی کیوں نہ ہو۔
جہاں تک زکوة و خیرات وغیرہ کا تعلق ہے تو یہ اسلام میں معیثت کا اولین تصور ہے۔ آخر کوئی تو بات ہے کہ اسلام  کے عروج  کے زمانے میں کئی ایسے اسلامی  حکومت  کے خطے تھے جہاں ایک بھی مومن غریب نہ تھا۔   کوئی ایسا گھر نہیں تھا جو زکوة دینے والا نہ ہو۔ بعض ایسے بھی واقعات ملتے ہیں جہاں اسلامی حکومت میں رہنے والے غیر مسلم بھی غریب اور مفلس نہیں تھے ۔ آخر اسکی وجہ کیا تھی؟ کوئی سونے کا پہاڑ  یا لا محدود خزانہ ان حکوموں کو اللہ نے عطا نہیں کیا بلکہ انہوں نے تجارت اور دیگر کاموں کے علاوہ زکوة و خیرات وغیرہ کا صحیح استعمال کیا اسے اسلامی معیت کی شکل دی اور ضرورت مندوں کو اس معیار اور مقدار میں اس کا حصہ دیا کہ اگلے بار وہ رکوة لینے والا ہی بلکہ دنے والا بن گیا ۔ جب تک آپ کے معاشرے میں زکوة لیے والے  زکوة دینے والوں میں نہیں بدل جاتے قوم کی ترقی کا خواب شرمندہء تعبیر نہیں ہو سکتا ہے ۔
زکوۃ اسلام میں معیشت کا اولین تصور ہے ۔ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زکوۃ نکالنے کا طریقہ اور اس کے خرچ کرنے کے آداب بھی بتائیں ہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کر کے دکھایا ہے ۔ بات بھلے ہی تلخ لگے لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہمارا معاشرہ اول تو زکوۃ اس طرح نہیں نکالتا جس طرح اس کا حق ہے۔ رمضان آیا تے سونے اور چاندی تولے جاتے ہیں ۔ آج کتنے لوگ ہیں جو منافع کی غرض سے کی گئی انویسٹمنٹ اور لی گئی پراپرٹی چاہے وہ جس شکل میں ہو اس کی زکوۃ ادا کرتے ہیں ۔ آپ یاد رکھیں وقت انسان کا ایک سا نہیں رہتا حالات بدلتے رہتے ہیں یہ دولت ایک جگہ ٹھہرنے والی چیز نہیں ۔ یہ خوش نصیبی کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو وہ مقام عطا کیا ہے کہ آپ زکوۃ نکالنے کے قابل ہیں ورنہ اس دنیا نے وہ مناظر بھی دکھائے ہیں جہاں بادشاہِ وقت بھی دانے دانے کو محتاج نظر آیا ہے ۔ بڑی بڑی حکومتوں کے بادشاہوں کی نسلیں بھیک مانگتے دیکھی گئی ہیں ۔ وقت بدلتا ہے تو زکوۃ دینے والے زکوۃ لینے والے میں بدل جاتے ہیں اللہ تعالی ایسے حالات سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے ۔
زکوۃ لینے والوں کی بھی عجیب کہانی ہے غیر ضرورت مند خود کو معذور اور محتاج بنا کر پیش کرتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق قوم کا تقریبا 30 فیصد رقم یہ لوگ وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ غیر مسلموں کا بھی ایک قافلہ پورے ملک میں رمضان کے مہینے میں خاص طور پر گھومتا ہے اور قوم کا پانچ سے 10 فیصد پیسہ اپنے حصے میں کر لیتا ہے۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو غیروں کے ٹرسٹ میں خود کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے اور شہرت کی غرض سے رقم دیتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ مدارس اور دیگر تنظیموں کی بات کروں ایک تلخ حقیقت آپ کے روبرو پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ میرے دوست الحاج امتیاز احمد بتاتے ہیں کہ چندہ کرنے والوں کی ایک پروفیشنل ٹیم ہوتی ہے جو مختلف علاقوں میں گھوم کر چندہ کیا کرتے ہیں آج کسی مدرسے کے لیے کل کسی اور کے لیے ۔ ہر علاقے میں چندہ خور ایسی ٹیم مصروف ہے ۔ جب انہوں نے ایک مدرسے کی چندہ کے تعلق سے ایسی ہی ایک ٹیم سے بات کی تو معلوم جو ہوا آپ سن کر حیران رہ جائیں گے ۔ اس ٹیم لیڈر نے کہا کہ ایک دن چندہ کر کے ہم آپ کو 500 روپے دیں گے ۔ انہوں نے کہا یہ تو بہت کم ہے جواب ملا یہی ریٹ چل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا مدرسہ تو بڑا ہے بتایا کہ ایک دم گنجائش نہیں ویسے آپ کے کہنے پر سات سے 800 تک دیا جا سکتا ہے ۔ فجر سے مغرب تک چندہ کر کے صرف اتنا ہی ؟ بتایا خرچ بھی بہت ہے آپ تو صرف بینر اور رسید دیجئے گا ۔ گاڑی کا کرایہ پانچ سے سات سو روپیہ تیل الگ ، ایک اناؤنسر کی تنخواہ  پانچ سے چھ سو روپے، چار لڑکے ڈور ٹو ڈور جانے والے 300 کے حساب سے 1200 روپے ، لوڈ سپیکر مائک وغیرہ 800 روپے بیٹری الگ ہے ، ہم لوگ دو آدمی ہیں ایک ڈرائیور کل اٹھ فرد کے کھانے پینے میں تقریبا 1200 کا خرچ آتا ہے اس طرح لگ بھگ پانچ ہزار کا خرچ ہوتا ہے ۔ ہم لوگ دو آدمی کو بھی 700 800 کر کے چاہیے ۔ پوچھے جانے پر پتہ چلا کہ سات سے آٹھ ہزار تک چندہ ہو جاتا ہے اور خرچ کو دیکھتے ہوئے 500 روپیہ طے کیا گیا ہے ۔ ذرا غور کریں 8 ہزار روپے قوم کے پیسے میں صرف آپ کا دیا ہوا 500 روپے اصل جگہ پر پہنچ پاتا ہے ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے جب چندہ میں شامل نوجوان لڑکوں سے حاجی صاحب نے بات کی تین – تین سو روپے ہم تم لوگوں کو روزانہ دیتے ہیں میرے ساتھ میری دکان پر رہو ۔ان کا جواب تھا اور پان گٹکا کے لیے کتنا دیجئے گا ؟ ان لڑکوں سے معلوم یہ ہوا کہ چندے کے دوران چار پانچ سو روپے کا بچے چائے ، پان اور گٹکا وغیرہ کھا جاتے ہیں ۔ اور تو اور چندے میں جو سکے ملتے ہیں وہ ان کا ہوتا ہے حساب میں شامل نہیں کیا جاتا ہے ۔ بتایا کہ پان گٹکا کھا کر بھی فی کش سو دو سو  روپے بچ جاتا ہے۔ یعنی تقریبا 10 ہزار روپے میں صرف 500 روپے مدرسے کو ملتے ہیں ۔ یہ سلسلہ سالوں بھر چلتا ہے آپ اندازہ لگا لیں کہ قوم کا پیسہ کس طرح برباد ہوتا ہے اور ہو رہا ہے ۔
مدارس اور مکاتب کے نام پر سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے جو لوگ آپ کے شہروں گاؤں اور قصبوں تک پہنچتے ہیں ۔اس لمبے سفر کے بعد جو شخص آپ کے پاس آیا ہو اگر یہ صحیح ہے تو بھی چندے کا صرف 40 سے 50 فیصد رقم صحیح جگہ پر پہنچ پاتا ہے باقی سفر کا خرچ کمیشن وغیرہ ۔ دوسری بات لمبے سفر سے آنے والوں کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں وہ کتنا صحیح ہے آپ کے پاس وقت بھی نہیں کہ آپ تحقیق کر سکیں ۔ ایک اور بات کی تقریبا 40 فیصد رسید ڈپلیکیٹ اور جعلی ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ  تصدیق نامے بھی پیسے کے بل پر مل جاتے ہیں ۔ ہاں ایسے بھی لوگوں کی علمائے کرام ، حفاظ کرام کی کمی نہیں جو صحیح طریقے سے آپ سے پیسہ وصول کر کے صحیح جگہ تک پہنچا دیتے ہیں ۔ لیکن اس پوری تفصیل کا حاصل مجموعی طور پر صرف اور صرف یہ ہے کہ ہر 10 ہزار قوم کے روپیے میں سے صرف 500 روپے صحیح جگہ تک پہنچ پاتا ہے ۔ لہذا یہ مقام فکر ہے کہ جس زکوۃ وغیرہ کو معاشی ستون بنایا گیا ہے اس کا کوئی تصور ہمارے معاشرے میں نہیں ہے ۔ قوم کا پیسہ لٹ رہا ہے برباد ہو رہا ہے یہی سبب ہے کہ معاشی اعتبار سے قوم زوال کی آخری سیڑھی پر کھڑی موت کی ہچکیاں لے رہی ہے۔ اب مزید غفلت نہیں بلکہ وقت  آ گیا ہے کہ ہر شہر میں ، ہر قصبے اور گاؤں میں بیت المال قائم کیا جائے۔ آپ جس فرقہ کو ماننے والے ہوں اپنے فرقے میں مضبوطی کے ساتھ قائم رہ کے بیت المال قائم کریں۔ الگ الگ مسلک اور فرقہ کا ہی صحیح ہر ضلع کی سطح پر بیت المال قائم کیا جائے ۔ جنہیں آپ نہ جانتے ہوں ہرگز چندہ نہ دیں۔ یہ دستور بنایا جائے کہ اپنے ضلع سے باہر چندہ نہ کیا جائے۔ بیماری کے نام پر شادی اور علاج کے نام پر مانگنے والوں کی آن دی اسپورٹ مدد کی جائے ۔ صدیوں سے چلی آرہی اس رواج کو بدلا جائے کیونکہ اے مسلمانوں ابابیل نہیں ائے گا ، کسی مسیحا کا انتظار مت کرو ۔ قوم کی رہبروں اٹھ جاؤ یہ دبے کچلے لوگ تمہارے انتظار میں ہیں ۔اے قوم کی نوجوانوں آگے اؤ اپنی ذمہ داری سنبھال لو کل ایسا نہ ہو قوم کا جنازہ تمہارے کاندھے پر ہو اور تم کاندھا دینے کے قابل نہ رہ سکو۔

Related posts

मैं हूं मोदी का परिवार नारा विपक्ष के लिए पड़ सकता है भारी

Paigam Madre Watan

کہیںزبان کی کمان سے نکلے لفظ تیرتوکہیں خوش کلامی کامرہم بنتے ہیں

Paigam Madre Watan

ہندوستان میں ملی تعمیر کا دس نکاتی لائحۂ عمل

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar