Articles مضامین

مشرقی علوم ومعارف کے علمبردار: علامہ اقبال

از قلم : ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ(ناظم جامعۃ الحسنات دوبگا ،لکھنؤ، رابطہ نمبر8175818019)

شاعر مشرق اور عظیم مفکر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9نومبر 1877 کو اقبال منزل سیالکوٹ میں پیدا ہوئے انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور پھر لاہور کا رخ کیا۔ 1899 میں ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور اس دوران آپ پورے آ ب و تاب کے ساتھ اپنی شاعری کو بھی پروان چڑھاتے رہے آپ کواُردوکے ساتھ ساتھ فارسی زبان میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ لہٰذا آپ نے فارسی زبان کوہی اپنی شاعری کاذریعہ بنایا آپ کا شمار اردو اور فارسی کے ممتازشعراء میں ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے ’سارے جہان سے اچھا‘ اور’ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ جیسے شہرہ آفاق ترانے لکھے جبکہ شکوہ اور جواب شکوہ جیسی مایاناز نظموں خوب داد سمیٹی آپ کی اردو اور فارسی زبانوں میں تصنیفات کے مجموعات میںبالِ جبریل، بانگ درا ،اسرار خودی ،ضرب کلیم ،جاوید نامہ ،رموز ہے خودی ،پیامِ مشرق ،زبورِ عجم اور ارمغان حجاز شامل ہیں۔ آپ کا بھوپال سے بڑا گہرا تعلق تھا آپنے اپنی زندگی میں چار مرتبہ بھوپال کا سفر کیا آپ نے بھوپال میں قیام کے دوران چودہ شاہکار نظمیں بھی لکھیں ان نظموں کو مدھیہ پردیش اقبال مرکز نے نگاہ نام سے ایک کتاب بھی شائع کی ہے اور سب سے خاص اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہر بھوپال کو غزل کے شہر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ آپ نے وہاں کوئی غزل نہیں لکھی جبکہ چودہ نظمیں لکھیں۔ علامہ اقبال نے 1905 میں برطانیہ کا رخ کیا جہاں پہلے انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا اور پھر معروف تعلیمی ادارے لنکنزاِن میں وکالت کی تعلیم حاصل کی بعد ازاں آپ نے جرمنی کا سفر کیا جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر محمد اقبال نے 1910 میں وطن واپسی کے بعد وکالت کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا۔ آپ کی شاعری میں نوجوان نسل کے لئے حوصلہ ہوتا تھا اور اُنہیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے آپ نے اپنی شاعری کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور ان کے لئے اپنی شاعری میں ایک پیغام چھوڑ ا۔اقبال نے اپنی شاعری سے سوئے ہوئے ذہنوں اور انسان کی خودی کو بیدارکرنے کا کام کیا ہے۔کہتے ہیں کہ: خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔اقبال نسل نو سے نئی تحقیق نئی جستجو کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔کائنات کی تسخیر کرنے اور قدرت کے رموز ونکات کو سمجھنے کے لئے ستاروں پر کمند ڈالنے کے بھی متمنی ہوتے ہیں۔چنانچہ خود کہتے ہیں:ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔اقبال نے مشرقی علوم ومعارف کو شاعری میں جس خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ ان کے معاصرین میں کم کم ہی دکھائی دیتی ہے۔اقبالؒ نوجوانوں کو شاہین صفت دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ نسلِ نو کو ترقی اور کامیابی کا زینہ سمجھتے تھے انہوں نے قوم کی بنیاد تلوارکے بجائے علم و عرفان کو قرار دیا۔ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہے، جس قوم کے نوجوان بیدار و باشعور ہوں، اس کا مستقبل محفوظ اور تابناک ہوتا ہے، جب کہ اس کے برعکس جس قوم کے نوجوان غیرفعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہوں، وہ قوم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ نوجوانوں کا فعال کردار ہی قومی ترقی کا ضامن ہے۔آج جس قدر امتِ مسلمہ بے بسی کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ امت کے نوجوانوں کی تن آسانی کے ساتھ ہی تہذیب بھی ہے۔ اس تہذیب کی پیروی نے نوجوانوں کو منزل سے دور کردیاہے۔اقبال علیہ الرحمہ کی شاعری کسی ایک دور کے جوانوں کیلئے مختص اور محدود نہیں ہے، جب بھی مسلم نوجوان غفلت میں پڑیں گے، اقبال کی شاعری ان کے لیے مشعل راہ بنے گی۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان مغرب کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے اسلاف کی زندگیوں کو قابل تقلید بنائیں۔ وہ مغربی تہذیب کی عارضی چکاچوند کو مسلم نوجوانوں کیلئے انتہائی نقصان دہ سمجھتے تھے، کیوں کہ یہ ظاہری چمک دمک رُوحانی اقدار سے ہٹ کر مادی ترقی کی طرف لے جاتی ہے، جب کہ اسلامی تہذیب اور ہمارے اسلاف کی تعلیمات ایک پائیدار رُوحانی ترقی اور انسانی بھلائی کے دروازے کھولتی ہیں۔ اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے علامتوں کا لباس اختیار کیا ہے ان میں شاہین کا تصور ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔قرآن حکیم کے بارے میں اقبال اپنے والد محترم کی نصیحت پر تادم حیات سختی کے ساتھ عمل پیرا رہے۔ کلام اقبال کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے شاعرانہ تخیل میں انقلابی افکار کی آمد تعلیم قرآن کے مرہون منت ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری میں پنہاں فکر وآگہی انہیں منفردشاعر ثابت کرتی ہے۔ اپنے وقت میں وہ مظلوم اقوام کی سب سے مضبوط آواز بن کر ابھرے۔اور آج بھی ان کی انقلابی شاعری ہمیں زندگی کا پیغام دے رہی ہے۔’’اقبال کا سارا کلام پڑھنے کے بعد ایک سیدھی سادی بات جو ایک عام آدمی کی سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کو پہچانے اور ان سے کام لے۔خدا اور اس کے رسول ؐ سے عشق رکھے۔اسلامی تعلیمات کی روح کو سمجھے اور اس پر عمل کرے تو وہ حقیقت میں خدا کا جانشین بن سکتا ہے اور اپنی تقدیر کا آپ مالک بن سکتا ہے‘‘۔ہم دیکھتے ہیں کہ اقبال کی پو ری اردو شاعری انہیں اپنے فن کا ایک بڑا مصور بنا دیتی ہے۔ ان کی کلیات کو ایک شاندار آرٹ گیلری کہا جائے تو غلط نہ ہو گا جس میں انہوں نے اپنے ہنر قلم اور جذبات شدت سے اپنے کلام میں مختلف قسم کی تصا ویر اجاگر کی ہیں جن کے ذریعے اپنی سو ئی ہوئی قوم کو بیدار کیا۔ ان کے مردہ جسم میں جان ڈالی اور ان میں جدو جہد کا جذبہ بیدار کیا اور21 اپریل1938ء کو اپنی ذخیرۂ شاعری کو اپنی قوم کیلئے چھوڑ کر یہ رہبر قوم ہمیشہ کیلئے مالک حقیقی سے جا ملا۔

Related posts

کتاب ’ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور‘ پر ایک نظر

Paigam Madre Watan

ازدواجی زندگی میں باہمی اختلافات کے بچوں پر منفی اثرات

Paigam Madre Watan

سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ: حیات و تعلیمات

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar