✍️: محمد سعد شاد سیوہاروی
موبائل نمبر:7217245404
حسن فطرت اور مظاہر قدرت انسان کو ہمیشہ سے خالق کائنات کی عظمت و حکمت کی جانب متوجہ کرتے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بار بار مظاہرِ قدرت پر غور و فکر کرنے کی تلقین ملتی ہے، قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی تخلیق کی نشانیوں میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے، تاکہ انسان اس کے ذریعے خالقِ کائنات کی عظمت اور حکمت کو پہچان سکے۔
ارشاد باری تعالٰی ہے:
اَوَ لَمۡ یَنۡظُرُوۡا فِیۡ مَلَکُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ
سورۃ الأعراف آیت نمبر 185
ترجمہ: اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں
اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی شفیع صاحب معارف القرآن میں رقم طراز ہیں: "اس آیت میں لوگوں کو دو چیزوں کی طرف دعوت فکر دی گئی ہے، اول اللہ تعالیٰ کی مخلوقات آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بیشمار مصنوعات عجیبہ میں غور و فکر۔ دوسرے اپنی مدت عمر اور فرصت پر نظر۔- مصنوعات قدرت میں ذرا بھی عقل و فہم کے ساتھ غور کیا جائے تو ایک موٹی سمجھ والے انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کی شان قدرت کی معرفت اور نظارہ ہونے لگتا ہے، اور ذرا گہری نظر کرنے والے کے لئے تو عالم کا ذرہ ذرہ قادر مطلق اور حکیم کی حمد و ثنا کا تسبیح خوان نظر آنے لگتا ہے، جس کے بعد اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ایک فطری تقاضہ بن جاتا ہے۔” انتہیٰ۔
اس حقیقت کا انکشاف کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ اپنے کلام میں انسان کی عقل و بصیرت اور مطالعۂ قدرت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فماتے ہیں:
"جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانی
کوئی شے چھپ نہیں سکتی کہ یہ عالم ہے نورانی”
اور ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
(اقبال)
کائنات اور اس کے ذرے ذرے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے کیا ہی خوب فرمایا تھا:
انقلاباتِ جہاں, واعظِ رب ہیں سن لو
ہر تغیر سے صدا آتی ہے فَافْہَمْ فَافْہَمْ
(کہ مظاہر قدرت میں غور و فکر کرو! اور قادر مطلق کو سمجھو!)
چاندنی رات کا روحانی مشاہدہ
مطالعہ کائنات کی اہمیت و افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے گذشتہ شب بندۂ عاجز تراویح سے فارغ ہوکر دیدار حسن فطرت اور مطالعۂ مظاہر قدرت کے لئے اپنی چھت پر گیا تو دیکھا کہ رات اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہر سو بکھری ہوئی تھی۔
رمضان المبارک کی چودھویں شب تھی،
وہ شب جس میں چاند اپنے شباب پر ہوتا ہے اور ہر چیز کو اپنی چاندنی میں نہلا دیتا ہے، اس کی ٹھنڈی روشنی میں دل کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔
جس رات بدری نور کا ایک سیلاب آسمان سے زمین پر اترتا ہے،
ہر چیز میں روشنی کی ایک لطیف جھلک پیدا ہو جاتی ہے،
فضا میں ایک عجیب روحانی تازگی رچ بس جاتی ہے۔ وہ شب جس میں نور کا ایک سیلِ رواں آسمان سے زمین پر اترتا ہے، جب فضا میں ایک غیر محسوس لطیف سی روشنی ہر ذی روح کو چھو لیتی ہے۔ اس شب آسمان نیلگوں مخمل کی مانند تھا، اور اس کے دامن میں چمکتے ہوئے ستارے یوں معلوم ہوتے تھے جیسے شب کے سیاہ آنچل میں جڑے بے شمار الماس۔ مگر ان سب کے بیچ میں، چودھویں کے چاند کی تابانی اپنی انتہا پر تھی۔
چاند اپنے شباب پر تھا،
چاندنی کا جادو ہر شے پر طاری تھا،
اس پرکیف و پر نور منظر میں مجھے یاد آئی یہ آیت کریمہ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖؕ
ترجمہ:اور سورج، چاند اور ستارے سب کے سب اس(اللہ)کے حکم سے(ایک مقرر،منظم اور منضبط نظام کے)تابع بنا دیے گئے ہیں۔ (سورۃ الاعراف،:54)
اور حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مروی وہ طویل حدیث جس میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے دوبڑی نشانیاں ہیں۔ (صحیح بخاری، 1063)
پھر میں نے کچھ دیر کے لیے آیت کریمہ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ (سورۂ رحمان آیت نمبر 5) پڑھ کر آنکھیں بند کرلیں تصور کیا کہ میں ایک چٹیل میدان میں ہوں جہاں کوہ و صحرا دریا، میرا رب اور میں ہوں، تو عالم تخیل میں دیکھا کہ دریاؤں کی سطح پر چاند کا عکس ایک چمکدار نقرئی راستے کی مانند بچھا ہوا تھا،
پہاڑ اور درخت بھی اس روشنی میں نہا کر کسی خوابیدہ تصویر کا حصہ معلوم ہو رہے تھے۔
میں اس سحر میں گم تھا، فطرت کی اس مسحور کن تجلی کا مشاہدہ کر رہا تھا، ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے حسنِ فطرت میرے قلب پر دستک دے رہا ہو۔ لیکن اچانک، دل کے نہاں خانے میں ایک اور یاد نے کروٹ لی…
ایسی یاد، جس کے لیے قرآن کریم بار بار تدبر و تفکر کی دعوت دیتا ہے،
ایسی یاد، جس کے بغیر ہر حسن ادھورا ہے،
ایسی یاد، جس کے نور کے سامنے چودھویں کا چاند بھی ماند پڑنے لگا۔ گویا ایک ایسی یاد اور روشنی نے میرے وجدان میں جگہ بنا لی جس کے سامنے چودھویں کا یہ چاند بھی ماند پڑنے لگا۔
میں نے چاند کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ کہا:
اے چاند! تو واقعی حسین ہے، تیری چمک دل کو مسحور کر دیتی ہے،
تیری روشنی سے راتیں نکھر جاتی ہیں،
مگر کیا تُو جانتا ہے کہ ایک اور چاند بھی ہے؟
وہ چاند جو نہ صرف زمین بلکہ آسمانوں کی زینت ہے،
وہ چاند جس کی روشنی صرف آنکھوں کو نہیں،
بلکہ دلوں کو بھی منور کرتی ہے،
وہ چاند جس کے نور سے کائنات کا ذرہ ذرہ جگمگا اٹھا ہے۔”
اے چاند! میں وجہ تخلیق کائنات، فخر موجودات، پیکرِ حسن و جمال، رشکِ شمس و قمر، امام الانبیاء، آمنہ کے چاند جنابِ رسول اللہ ﷺ کی بات کر رہا ہوں!
آمنہ کے چاند ﷺ کی بے مثال روشنی
چودھویں کے چاند کی چمک وقت کے ساتھ گھٹنے لگتی ہے،
ہر پندرہویں رات کے بعد اس کا حسن کم ہوتا چلا جاتا ہے،
لیکن آمنہ کے چاند ﷺ کی روشنی ہمیشہ باقی ہے!
اس کے جمال کی چمک ہر دور میں ایک جیسی ہے،
ازل سے ابد تک۔
یہ وہ نور تھا جس کے سبب جہالت کی گھٹائیں چھٹ گئیں،
ظلم کے اندھیرے مٹ گئے،
شرک کے سائے زائل ہو گئے،
اور حق و صداقت کا آفتاب طلوع ہوا۔
مولانا الطاف حسین حالیؒ نے بدر کامل ﷺ کے طلوع کی کیا ہی خوب منظر کشی کی ہے:
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
عرب کی زمین جس نے ساری ہلا دی!
یہ وہ نور تھا جس نے نہ صرف مکہ و مدینہ بلکہ پورے عالمِ وجود کو منور کیا۔ دفعتاً یاد آیا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے چاند کو بھی پیدا کیا، اور آمنہ کے چاند محمد عربی ﷺ کو بھی!
مگر کیا ہی نرالی بات ہے کہ چاند کی تخلیق پر احسان نہیں جتلایا،
مگر جب آمنہ کے چاند ﷺ کو مبعوث فرمایا، تو اسے اپنا سب سے بڑا احسان قرار دیا!
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ” (آلِ عمران: 164)
ترجمہ: "بے شک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجے، جو ان پر اس کی آیات پڑھتے ہیں، انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔”
یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی بعثت کو اللہ کا ایک عظیم احسان قرار دے رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت اہلِ ایمان کے لئے ایک عظیم نعمت ہے، کیونکہ یہ رسول انہیں ہدایت اور فلاح کی راہ دکھانے کے لیے بھیجے گئے۔
یہ بعثتِ مصطفیٰ ﷺ ہی ہے، جو کائنات کی سب سے بڑی نعمت اور دولت ہے، سب سے منور روشنی ہے، سب سے بڑی رحمت اور سب سے بڑا انعام ہے!
بعثتِ مصطفیٰ ﷺ – وہ نعمت ہے جو ساری کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے۔
"یہ وہ احسان ہے جسے خود خدا نے جتلایا، یہ وہ احسان ہے_جس پر ہر نعمت قربان ہے!”
یہ وہ احسان ہے، جس کے بغیر دنیا بے نور، دل بے قرار اور روح بے سکون رہتی! اللہ کی سب سے بڑی بخشش، سب سے عظیم نوازش، سب سے بڑے کرم پر لاکھوں کروڑوں سلام
پھر مجھے یاد آیا، حضرت جابر بن سمرہؓ کا وہ ایمان افروز بیان، جب انہوں نے کہا تھا:
رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِيْ لَيْلَةِ إِضْحِيَانٍ، وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَىْ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ وَإِلَىْ الْقَمَرِ، فَلَهُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرِ
(ترجمہ: میں نے ایک روشن رات میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے سرخ چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ میں کبھی آپ ﷺ کو دیکھتا اور کبھی چودھویں کے چاند کو، مگر آپ ﷺ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ حسین تھا)۔
(سنن الترمذی: 2811)
حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک یوں تو چودھویں کے چاند کی مانند تھا، مگر حقیقت میں چاند کی چمک میں کہاں وہ جاذبیت، کہاں وہ دلکشی، کہاں وہ نورانیت ہے جو رحمت عالم ﷺ کے چہرۂ انور پر جھلکتی اسی نکتے کو بیان کرتے ہوئے شیخ ظہیر الدین حاتم نے یہ شعر لکھا تھا؛
چاند سے تجھ کو جو دے نسبت سو بے انصاف ہے
چاند کے منہ پر ہیں چھائیں تیرا مکھڑا صاف ہے
اور حضرت کامل شطاری نے بھی نبی کریم ﷺ کی بے مثال نورانیت اور ان کے حسن و جمال کی برتری کا بیان کرتے ہوئے درج ذیل شعر لکھا تھا
انھیں چاند سورج سے تشبیہ کیا دوں
جو ہے رشکِ شمس و قمر، اللہ اللہ
رسول اللہ ﷺ کا حسن اور نورانیت ایسی ہے کہ خود سورج اور چاند ان پر رشک کرتے ہیں۔ یعنی عام چیزوں کو تو چاند یا سورج کے حسن سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، لیکن نبی کریم ﷺ کا جمال اتنا بلند و بالا ہے کہ چاند اور سورج بھی ان کے حسن پر حیران و ششدر ہیں۔
کیونکہ چہرہ اقدس زمین پر خدا کی سب سے حسین تخلیق تھا، اس کا نور بیک وقت جمال کا کمال بھی تھا اور حقیقت کا اتمام بھی!
اور افتخار نسیم کا یہ شعر بھی بے ساختہ زبان پر آ گیا:
"ان کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا!”
کہ چاند بہت حسین ہے مگر حضور اقدس ﷺ کے چہرۂ انور کے سامنے اس حسن پھیکا پڑ جاتا ہے، اور چاند جیسی دلکشی بھی حضور ﷺ کے جمال کے سامنے سادہ دکھائی دیتی ہے۔
اور ایک چاند ہی کیا ہزاروں چاند چہرہ اقدس ﷺ سامنے ہیچ ہیں ۔ کائنات کا سارا حسن و جمال محبوب خدا ﷺ کے صدقے ہے۔ حضور اقدس ﷺ کی ذات گرامی ہی سر چشمۂ حسن و جمال ہے۔ اس لئے حضور ﷺ کے چہرۂ انور کو کسی چیز سے بھی تشبیہ دینا محال ہے۔
آپ ﷺ کا حسن ایسا بے مثل و بے نظیر ہے کہ کائنات کا ہر حسن اس کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے۔
حضورِ اقدس ﷺ کی ذاتِ والا صفات ہی حسن و جمال کا حقیقی مرکز و سرچشمہ ہے۔ ان کی جمیل سیرت و صورت کے آگے نہ صرف یہ کہ دنیاوی مظاہرِ حسن ہیچ ہیں، بلکہ خود صحابۂ کرامؓ بھی قسمیں کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ ایسا جمالِ جہاں تاب نہ کسی نے پہلے دیکھا، نہ بعد میں دیکھ سکے گا۔
ایک اردو شاعر نے اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں یوں بیان کیا ہے:
غرض کونین میں اس جسمِ اطہر کا نہیں ثانی
سراپا صرف وہ تھے مظہرِ آیاتِ قرآنی
حسیں ان سے کوئی شے ہو تو دے تشبیہ اس سے ہم
دو عالم سے نرالے ہیں مرے سرکارِ دو عالم
یہ اشعار اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اگر دنیا میں کوئی شے حسن میں نبی کریم ﷺ کی برابری کر سکتی، تو شاید کوئی تشبیہ ممکن ہوتی، مگر جب تمام جہانوں میں ایسا کوئی نہیں تو پھر کائنات کا ہر حسن آپ کے جمالِ جہاں تاب کی دہلیز کا سوالی ہے۔
اور ایسا کیوں نہ ہو؟
کائنات تمام حسین جمیل اشیاء کا حسن و جمال بشمول چاند و سورج کی روشنی آمنہ کے چاند ﷺ کے نور کے صدقے ملی ہے!
اور آمنہ کا چاند وہ ہے، جو علم و ہدایت کی شمع بھی ہے،
یہ وہ نور ہے، جس کی ضیا سے قلوب میں ایمان کا نور اترتا ہے،
یہ وہ روشنی ہے ، جو جنت کے راستے کا چراغ ہے!: یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال نے جواب شکوہ کے اخیر میں مسلمانوں کی پستی کا علاج اور کے اسباب بتاکر مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو واپس لانے اور پستی کو بلندی سے بدلنے کی دعا کرتے ہوئے یہ شعر لکھا ہے؛
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
اور یہ شعر عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی قوت اور اس کے انقلابی اثرات کو بیان کرتا ہے کہ عشقِ رسول ﷺ ایک ایسی طاقت ہے جو کسی بھی پست و کمزور چیز کو بلندی عطا کر سکتی ہے۔ یعنی اگر کوئی فرد، قوم، یا امت زوال کا شکار ہو، تو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی بدولت وہ دوبارہ عروج پا سکتی ہے۔
اور اسمِ محمد ﷺ روشنی، ہدایت اور انقلاب کی علامت ہے۔
یعنی اگر دنیا میں تاریکی، ظلم، اور گمراہی ہے، تو رسول اللہ ﷺ کے نام کی برکت اور ان کی سیرت کی روشنی سے ہر جگہ اجالا کیا جا سکتا ہے۔
چاند کا اعترافِ حقیقت
میں نے دوبارہ چاند کی طرف دیکھا،
جیسے وہ میری بات سن کر خود بھی خاموش ہو گیا ہو،
جیسے وہ بھی اعتراف کر رہا ہو کہ واقعی،
مدینے کا چاند ﷺ اس سے زیادہ حسین، اس سے زیادہ کامل، اس سے زیادہ منور ہے!
میں نے چاندنی میں بھیگی رات میں آنکھیں موند لیں،
درود شریف میرے لبوں پر جاری ہو گیا،
اور دل میں یہ دعا مچلنے لگی کہ کاش،
ایک دن، میں بھی مدینے کے اس چاند کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو روشن کر سکوں،
اس حسنِ لازوال کو دیکھ سکوں، جس کے سامنے کائنات کی ہر روشنی ماند پڑ جاتی ہے!
میں سوچنے لگا کہ کاش! وہ دن بھی میری زندگی میں آئے،
جب مدینے کی گلیوں میں کھڑا ہو کر،
آنکھوں کو اس چاند کی روشنی سے منور کر سکوں،
وہ چاند… جس کے سامنے دنیا کے چاند و سورج بھی ماند پڑ جائے،
وہ حسن… جس کے سامنے کائنات کی ہر روشنی بے معنی لگتی ہے۔
پھر میں نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی کہ یا اللہ!
اللہ ہمیں حضور ﷺ کی محبت، اطاعت اور ان کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرما،
ہمیں نور محمدی سے مستفید و مستنیر فرما، ہمیں مطلع مہر نبوت شہر رحمت اللعالمین مدینہ طیبہ میں بابار حاضری کی سعادت نصیب فرما،
ہمیں قیامت کے دن اس چہرۂ مقدس کی زیارت نصیب فرما!
یا اللہ! ہمیں حوض کوثر پر اس ہستی کے دست مبارک سے جام کوثر نصیب فرما!
یا اللہ! ہمیں ذات اقدس ﷺ کے صدقے جنت الفردوس میں داخلہ عطا فرما!
آمین! یا رب العالمین!