Articles مضامین

عنوان: جنسیت بطور ہتھیار: اسرائیلی پروپیگنڈے کا شرمناک باب

ازقلم: اسماء جبین فلک

 

عصرِ حاضر کے معرکے اب فقط توپ، تفنگ اور تیغ و سناں کے بل بوتے پر نہیں لڑے جاتے؛ زمانہ بدل چکا ہے، اور میدانِ کارزار ذہن و ادراک، شعور و خیال اور رائے عامہ کے اکھاڑوں میں منتقل ہو چکا ہے۔ اس لڑائی میں پروپیگنڈا وہ آتشیں حربہ ہے جو فولاد کی سختی کو بھی موم کر ڈالے، اور اسرائیل نے اس فن کے استعمال میں وہ مہارت دکھائی ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ لیکن، اس کی تمام شعبدہ بازیوں اور فریب کاریوں میں سب سے زیادہ قبیح، شرمناک اور دل دوز باب وہ ہے جہاں صنفِ نازک کی حرمت اور جنسیت (Sexuality) کو ریاستی مقاصد کی بے دردیسے بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ ظلم و استبداد کی وہ دو دھاری تلوار ہے جس کی کاٹ ہڈیوں سے گزر کر روح تک اترتی ہے۔

ایک طرف تو وہ اپنی حسین سپاہی خواتین کی آزاد روی اور جنسیت زدہ تصویروں کا شوروغل مچاتا ہے تاکہ دنیا کی آنکھوں میں خود کو ایک روشن خیال اور مغربی تہذیب کا علم بردار ثابت کرے؛ یہ عمل، جسے آج کی دنیا "پنک واشنگ” (Pinkwashing) کہتی ہے، دراصل خون کے دھبوں پر گلاب کا عطر چھڑکنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب، یہی ریاست فلسطینیوں کی روح کو کچلنے، ان کی غیرت کو خاک میں ملانے اور ان کے معاشرتی تانے بانے کو تار تار کرنے کے لیے منظم جنسی تشدد اور "تولیدی نسل کشی” کا وہ شیطانی کھیل کھیلتی ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملے گی۔ ہالی ووڈ کی "ونڈر وومین” کی چکاچوند سے لے کر غزہ کے عقوبت خانوں کی تاریکیوں تک، یہ اسرائیلی قومی شناخت کی صنفی تشکیل کا وہ سیاہ کارنامہ ہے جو تہذیب کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔

اسرائیل کی پروپیگنڈا مشین، جسے وہ بڑی نزاکت سے "ہسبرہ” یعنی عوامی سفارت کاری کا نام دیتا ہے، نے 2005 میں "برانڈ اسرائیل” نامی ایک مہم کا صور پھونکا۔ مقصد یہ تھا کہ اسرائیل کا تصور اب جنگ و جدل کی سرزمین نہیں، بلکہ جدت، ثقافت اور فکرِ نو کا گہوارہ ہو۔ اس شعبدہ بازی کا مرکزی محور اسرائیلی عورت کی تصویر بنی۔ 2007 میں امریکی مردوں کے رسالے "میکسِم” کے صفحات پر اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے تعاون سے ایک ایسی قیامت خیز تصویری کہانی چھپی جس میں اسرائیلی فوج کی سابق ماڈل سپاہی خواتین کو نیم برہنہ لباس میں ہتھیاروں کے ساتھ جلوہ گر کیا گیا۔ یہ ایک ایسا تیر تھا جس کا ہدف امریکی مردوں کے دل و نگاہ تھے، تاکہ اسرائیل کی آہنی اور عسکری شبیہ پر ریشم کا پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ پوری حکمتِ عملی اس "تقاطعی” (Intersectional) تصور پر استوار تھی کہ ایک حسین، آزاد اور مغربی اقدار کی حامل عورت کی تصویر ہی اسرائیل کو اس کے "پسماندہ” اور "قدامت پسند” مسلم پڑوسیوں سے ممتاز کرے گی۔

اسرائیلی حکام اپنی صفائی میں یہ راگ الاپتے ہیں کہ "ہم تو محض اپنی جدید اور متنوع فوج کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھاتے ہیں،” مگر یہ نغمہ اس وقت بے سُرا ہو جاتا ہے جب خود اسرائیلی فوج کے اندر خواتین کی حالتِ زار پر نظر پڑتی ہے۔ جہاں عورت کو بااختیار بنانے کے دعوے ہیں، وہیں جنسی ہراسانی اور امتیازی سلوک کی ایسی شرمناک داستانیں رقم ہیں کہ انسانیت سر پیٹ لے۔ 2020 میں جنسی زیادتی کی 1,542 شکایات درج ہوئیں، لیکن فردِ جرم فقط 31 پر عائد ہوئی! یہ اعداد و شمار اس منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ عورت کا جسم یہاں بااختیاری کی علامت نہیں، بلکہ ریاستی مفادات کی قربان گاہ پر سجایا گیا ایک دیدہ زیب مجسمہ ہے۔ سوشل میڈیا کے طوفان نے اس حکمتِ عملی کو ایک نئی جہت عطا کی۔ "کامبیٹ کیوٹیز” (Combat Cuties) کی اصطلاح اسی رجحان کی غماز ہے، جہاں اسرائیلی سپاہی لڑکیاں ہتھیاروں کے سائے میں مسکراتی، دلکش انداز میں تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرتی ہیں۔ یہ دراصل "صنفی بیانیے کی عسکریت پسندی” کا وہ ہولناک مظاہرہ ہے جہاں جنگ کی وحشت کو حُسن کے نقاب میں چھپا دیا جاتا ہے۔ یہ پروپیگنڈے کو "کُول” بنانے کی ایک ایسی بھونڈی کوشش ہے جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو مسحور کرنا اور جنگی جرائم کے شور کو حُسن کے نغموں میں دبانا ہے۔

اسرائیلی امیج سازی کا سب سے روشن اور دل فریب چہرہ بلاشبہ گال گیڈوٹ کا ہے، جو بیک وقت سابق فوجی، اداکارہ اور ہالی ووڈ کی "ونڈر وومین” ہیں۔ جب عالمِ عرب و عجم کے کئی ممالک نے اس فلم پر پابندی عائد کی تو مغرب کے دانش کدوں میں تنگ نظری کا ماتم بپا ہو گیا۔ مگر اصل سبب گال گیڈوٹ کا یہودی یا اسرائیلی ہونا نہ تھا، بلکہ غزہ پر ہونے والے حملوں کے دوران اسرائیلی فوج کے لیے ان کی والہانہ اور آتشیں حمایت تھی۔ ان کی عالمی شہرت کو اسرائیل نے ایک ایسے طلسمی آئینے کے طور پر استعمال کیا جس میں اس کی فوج کے خون آلود ہاتھ بھی پھول برساتے نظر آئے۔ ان کی شخصیت ایک ایسے "مثالی اسرائیلی” کا روپ دھار گئی جو حسین بھی ہے، طاقتور بھی اور وطن پرست بھی: یہاں جنسیت، نسل اور قومیت کا ایسا تقاطعی امتزاج تیار کیا گیا جو اسرائیلی بیانیے کو تقویت بخشتا ہے۔

مگر تصویر کے اس روشن رُخ کے پیچھے جو اندھیرا ہے، وہ روح فرسا ہے۔ جہاں ایک طرف اپنی عورتوں کی نمائش کرکے دنیا کو مسحور کیا جاتا ہے، وہیں فلسطینی مردوں اور عورتوں پر جنسی تشدد کا وہ قہر توڑا جاتا ہے کہ انسانیت کانپ اٹھے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی مارچ 2025 کی رپورٹ چیخ چیخ کر گواہی دیتی ہے کہ "7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی افواج نے فلسطینیوں کی تذلیل اور ان کے جذبۂ حریت کو کچلنے کے لیے جنسی تشدد کو ایک منظم جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔” یہ صرف جسمانی حملہ نہیں، یہ "تولیدی انصاف” (Reproductive Justice) پر کاری ضرب ہے۔ غزہ میں زچگی کے مراکز اور تولیدی صحت کے کلینکس کو مسمار کرنا دراصل ایک پوری نسل کے مستقبل پر حملہ ہے: یہ "تولیدی نسل کشی” کا وہ لرزہ خیز منصوبہ ہے جس کا مقصد فلسطینی قوم کی جڑیں کاٹنا ہے۔

اسرائیلی پروپیگنڈے کا ایک اور ستون فلسطینی مرد کی "منظم غیر انسانی تشکیل” (Systematic Dehumanization) ہے۔ مغربی میڈیا بھی اکثر اسی ساز پر رقص کرتا نظر آتا ہے، جہاں فلسطینی مرد کو ایک "دہشت گرد” اور "غیر معقول جنگجو” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ قابض فوج کے خلاف اس کی مزاحمت کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جب خبروں میں بار بار "خواتین اور بچوں” کی ہلاکتوں پر آہ و بکا کی جاتی ہے تو گویا یہ تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ فلسطینی مرد ایک جائز ہدف ہے۔ یہ "تقاطعی جبر” (Intersectional Oppression) کی وہ شکل ہے جہاں اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور صنفی تعصب مل کر ایک انسان کو محض ایک ہدف میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ امر بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسرائیل کی یہ "پنک واشنگ” حکمت عملی نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف ایک سنگین جرم ہے، بلکہ یہ عالمی حقوقِ نسواں کی تحریک کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ جب کوئی انصاف پسند آواز اس منافقت کو بے نقاب کرنے کی جرأت کرتی ہے تو اس پر "یہود دشمنی” کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔

الغرض، جنسیت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی یہ اسرائیلی روش اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔ یہ ایک ایسا شرمناک باب ہے جہاں عورت کا جسم دو محاذوں پر استعمال ہوتا ہے: اپنی شبیہ سنوارنے کے لیے اور دشمن کی روح کو مسلنے کے لیے۔ "ونڈر وومین” کی مصنوعی تابانی سے لے کر "تولیدی نسل کشی” کی حقیقی ظلمت تک، یہ حکمت عملی اس بات کا اعلان ہے کہ پروپیگنڈے کی جنگ میں اخلاقیات کا کوئی گزارہ نہیں۔ یہ "صنفی بیانیے کی عسکریت پسندی” اور "قومی شناخت کی جنس کاری” کا وہ زہریلا نمونہ ہے جس نے جبر و استحصال کو نئے اسلوب عطا کیے ہیں۔ اس فریب کے پردے چاک کرنا اور اس کے پیچھے چھپی حقیقت کا ادراک کرنا آج کے انسان کا اولین فریضہ ہے، تاکہ انصاف اور انسانیت کے تقاضے پورے ہوں اور کوئی قوم حقوقِ نسواں کا مقدس نام لے کر ظلم و بربریت کا بازار گرم نہ کر سکے۔

Related posts

کیا واقعی ہم اس دنیا میں کسی بھی چیز کے مالک نہیں؟ 

Paigam Madre Watan

علامہ عبد الحمید رحمانی: جن کی نیکیاں زندہ ہیں، جن کی خوبیاں باقی

Paigam Madre Watan

    اویسی کے ناجائز قبضہ میں وقف کی 3 ہزار کروڑ کی جائیداد

Paigam Madre Watan

Leave a Comment