Articles مضامین

راگھو چڈھا: عوام کے اعتماد کا کیا ہوگا؟

تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالا

موجودہ دور کی سیاست ایک نہایت حساس اور پیچیدہ مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں رہنماؤں کے فیصلے، عوامی جذبات اور سماجی حالات آپس میں گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ جب کوئی نمایاں سیاسی شخصیت اپنا راستہ بدلتی ہے یا نئی جماعت میں شامل ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف اس فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے میں ایک بحث کو جنم دیتا ہے۔ خاص طور پر جب اقلیتوں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوامی نمائندگی جیسے اہم مسائل زیرِ بحث ہوں تو ایسے فیصلوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ عوام اپنے رہنماؤں سے اصول پسندی، دیانت داری اور استقامت کی توقع رکھتے ہیں، اسی لیے کسی بھی اچانک تبدیلی کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ واضح رہے کہ ہم اور آپ جس لیڈر کو اپنا سچا محافظ اور حقیقی قائد مانتے تھے، جس کے بارے میں ہمارا یقین تھا کہ وہ ملک کے غریبوں کی آواز ہے، ظلم و زیادتی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے، کرپشن کے خلاف بولتا ہے، مزدوروں کے حقوق کی حمایت کرتا ہے اور عورتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی بات کرتا ہے وہی لیڈر اگر اچانک اپنا راستہ بدل لے تو یہ بات عوام کے لیے نہ صرف حیران کن بلکہ انتہائی مایوس کن بھی ہوتی ہے۔ ہم اسے ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے تھے جو عام آدمی کے مسائل، مہنگائی، بے روزگاری اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے اہم موضوعات کو سنجیدگی سے اٹھاتا تھا اور پارلیمنٹ میں ان کی بھرپور نمائندگی کرتا تھا۔ ایسے حالات میں اگر وہی رہنما اچانک ایک ایسی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائے جس کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں پہلے ہی کئی سوالات اور خدشات موجود ہوں، تو اس کے فیصلے پر تنقید ہونا ایک فطری عمل ہے۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آیا یہ واقعی نظریے کی تبدیلی ہے یا پھر سیاسی مفاد اور ذاتی فائدے کے تحت اٹھایا گیا قدم۔ کیونکہ ایک سچا رہنما وہی ہوتا ہے جو مشکل حالات میں بھی اپنے اصولوں اور نظریات پر قائم رہے، نہ کہ حالات کے مطابق اپنا مؤقف بدلتا رہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی سیاست دان کی کامیابی کے پیچھے اس کی جماعت، اس کے ساتھیوں اور اس کے رہنماؤں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ جب ایک شخص کو موقع دیا جاتا ہے، اسے آگے بڑھایا جاتا ہے اور وہ عوام میں اپنی پہچان بناتا ہے، تو اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسی وفاداری کے ساتھ اپنے راستے پر قائم رہے گا۔ لیکن اگر وہی شخص آگے بڑھ کر اپنی بنیاد کو چھوڑ دیتا ہے تو بہت سے لوگ اسے بے وفائی اور اعتماد شکنی کے طور پر دیکھتے ہیںاور یہی کا م راگھو چڈا نے کیا ہے۔وہ عام آدمی پارٹی کو چھوڑ کر ب جے پی جوئن کر لیا ہے جو باعث شرمناک ہے کیوں کہ اسی عام آدمی پارٹی نے اسے سیاست کی دنیا میں لایا، سیاست کرنا سکھایا اور سیاست میں کامیاب بننے کا طریقہ بتایا آج اسی پارٹی کو اس دلال نے چھوڑ دیا ہے اور غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں بانڈھ لیا ہے ۔
ایسے فیصلے نہ صرف ایک فرد کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوام کے سیاسی نظام پر اعتماد کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید سیاست میں نظریات کی کوئی اہمیت نہیں رہی، بلکہ سب کچھ مفاد کے گرد گھومتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے فیصلے ہمیشہ بحث کا موضوع بنتے ہیں اور عوام یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا یہ واقعی نظریہ بدلنے کا معاملہ ہے یا محض راستہ بدلنے کا۔ وقت ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ یہ قدم درست تھا یا غلط، لیکن فی الحال یہ عوام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ضرور بن چکا ہے۔
میں تمام مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج کے اس عصرِ جدید میں ہندو دھرم کا کوئی بھی لیڈر ہمارا ہرگز نہیں ہو سکتا، چاہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہو یا کانگریس کا ہو یا عام آدمی پارٹی کا۔ ہر ہندو لیڈر اپنی قوم کی بات کرے گا، اپنی تہذیب کی بات کرے گا، اپنے مذہب کی بات کرے گا، لیکن مسلمانوں کی حفاظت، ان کے حقوق اور ان کی آزادی کے لیے ہرگز، ہرگز، ہرگز، قطعاً آواز نہیں اٹھائے گا۔ اسی لیے سیاسی طور پر اگر کوئی جماعت ہمیں قوت، طاقت، عظمت، عزت، رفعت، شان و شوکت، اعلیٰ مرتبہ اور وقار دے سکتی ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ بیرسٹر اسد الدین اویسی کی جماعت ہے، اور اس کے علاوہ کوئی اور جماعت ہو ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ اے آئی ایم آئی ایم کے علاوہ باقی تمام جماعتیں مسلمانوں کی کھلی دشمن ہیں۔ آج سب ہمیں کھلے دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں، بس فرق اتنا ہے کہ کوئی جماعت ہمیں کھلم کھلا، برملا، ڈنکے کی چوٹ پر نشانہ بناتی ہے مارتی ہے، پیٹتی ہے، ہماری زمینیں ہڑپ لیتی ہے، مدرسوں، مکتبوں، مساجد اور قبرستانوں کو منہدم کر دیتی ہے، اور انہیں غیر قانونی قرار دے کر ہم سے چھین لیتی ہے تو مخفی طور پر ۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں، چاہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہو یا کانگریس، لیکن صرف ایک ہی جماعت ہے جو مسلمانوں کی بات کرتی ہے، اور وہ ہے اسد الدین اویسی کی جماعت یعنی اے آئی ایم آئی ایم۔
اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہی کتنے مسلمان اپنے ذاتی مفاد، اپنی ترقی اور اپنی وقتی خوشی کے لیے جابر، ظالم اور سفاک جماعتوں کے رہنماؤں کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وقتی فائدہ ہمیشہ دائمی کامیابی نہیں دیتا۔ آج اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مفاد کے لیے اپنے ہی معاشرے کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو کل اسے اپنے عمل کا جواب بھی دینا پڑے گا۔ تاریخ ہمیشہ گواہ رہتی ہے کہ کون حق کے ساتھ کھڑا تھا اور کون باطل کے ساتھ۔ چاہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کریں یا کانگریس کی، ہر اس مسلمان کو جواب دینا پڑے گا جو ان جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور اگر واقعی آپ اپنے انجام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے، تو ایک ہی جماعت ہے جس کی حمایت آپ کے لیے باعثِ اطمینان ہو سکتی ہے، اور وہ ہے اے آئی ایم آئی ایم، یعنی اویسی کی جماعت، جو مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتی ہے اور ان کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔
راگھو چڈھا نے اپنے حالیہ فیصلے سے بہت سے لوگوں کو حیران کیا ہے۔ جب کوئی رہنما جسے عوام نے اعتماد دیا ہو، اسے آگے بڑھایا ہو، اور اسے ایک مقام تک پہنچایا ہو، وہی رہنما اچانک اپنا راستہ بدل لے تو یہ بات لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے۔ اس فیصلے کو بعض لوگ ایک سیاسی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ اسے بے وفائی اور اعتماد شکنی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں عوام کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ آیا یہ واقعی نظریے کی تبدیلی ہے یا محض اقتدار اور فائدے کے حصول کی ایک کوشش۔
تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ ہم پر مختلف ادوار میں ظلم ہوتا رہا ہے۔ کبھی ہم بیرونی طاقتوں کے زیرِ اثر رہے اور کبھی اندرونی ناانصافیوں کا شکار ہوئے۔ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، غریبوں پر ہونے والے مظالم، اور کمزور طبقات کے استحصال کی خبریں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، جس نے معاشرے کے حساس طبقے کو ہمیشہ بے چین رکھا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ جب دوسری قومیں اپنے مفاد کے لیے متحد ہو سکتی ہیں تو ہم مسلمان ایک راستے پر کیوں نہیں آ سکتے؟ کیوں ہم ایک ایسے رہنما کا ساتھ نہیں دے سکتے جو ہمارے حقوق کی بات کرتا ہو اور ہمارے مسائل کو کھل کر بیان کرتا ہو؟
تاہم اس ساری بحث میں یہ بات بھی نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے حقائق کو سمجھیں اور ہر بات کو تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھیں۔ کسی بھی جماعت یا فرد کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت اعتدال، انصاف اور سچائی کو مقدم رکھنا ہی دانشمندی ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اتحاد، شعور اور باہمی احترام ہی کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اپنے فیصلوں میں سنجیدگی لائیں، اور یہ طے کریں کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیںحق، انصاف اور سچائی کے ساتھ یا محض جذبات اور وقتی نعروں کے ساتھ۔
اس مضمون میں،میں نے ایک خاص سوچ اور نقطہ نظرکو پیش کیا ہے، جس میں جذباتی اپیل، اتحاد کی دعوت اور اپنے حقوق کے تحفظ کا پیغام نمایاں ہے۔ تاہم تنقیدی جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ مضبوط مؤقف کے لیے صرف جذبات کافی نہیں ہوتے بلکہ اعتدال، تحقیق اور متوازن اندازِ بیان بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر دلائل کو حقائق کے ساتھ پیش کیا جائے اور زبان میں توازن رکھا جائے تو بات نہ صرف زیادہ مؤثر بنتی ہے بلکہ وسیع تر حلقے تک بھی پہنچتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ ساتھ عقل و شعور کو بھی ساتھ لے کر چلیں تاکہ ایک بہتر اور مثبت سمت کا تعین کیا جا سکے۔

Related posts

مجادِآزادیٔ اول ’’بہادر شاہ ظفر‘‘

Paigam Madre Watan

بہترین سیاست

Paigam Madre Watan

حقوق اقلیت کی پامالی میں اضافہ

Paigam Madre Watan