National قومی خبریں

اویسی کا ہیرا گروپ کو برباد کرنے کے پیچھے چھپا ہوا مقصد

اویسی کا ہیرا گروپ کو برباد کرنے کے پیچھے مقصد

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز…. ہیرا گروپ سرمایہ کار

جب لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ ہیرا گروپ بذات خود غلط نہیں ہے، اسے برا اور اچھوت بنانے اور ہیرا گروپ کو برباد کر کے مسلم معیشت کو تہس نہس کرنے کے پیچھے اویسی کے درجنوں گھناﺅنے مقاصد ہو سکتے ہیں، مگر جو سب سے اہم ترین خطرناک وجوہات ہیں، وہ یہاں درج کرکے عوام کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ اپنی عارضی دنیا کے پیچھے کوئی تعلیم یافتہ کہلانے والا شخص کتنا اندھا ہو جائیگا، کہ اس کی اپنی کمیونٹی جس نے اسے پہچان اور شہرت و طاقت دی اسی کی معیشت یعنی مسلم معیشت کو تباہ کرکے اپنی گناہوں کی نگری کو ڈوبتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتا، یا اویسی کو باپ داداﺅں کے زمانے سے ہڑپی گئی زمینوں اور جاہ وحشمت کے مٹ جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ لیکن یہاں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا اویسی کی چار پیڑھیوں سے رکھی ہوئی تجارت، سیاست اور معیشت کی بنیاد اتنی کھوکھلی اور کمزور ہے کہ ملک اور شہر میں کسی دوسرے شخص کے عروج پر آجانے سے اس کی بنیاد نمک کی طرح بھیگ کر برباد ہو جائیگی؟ یا بیمار و گنہگار ذہنیت اور وجود یہ سب کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ حالانکہ صرف ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ ہی نہیں جن کے بڑھتے قدم کو کاٹنے کیلئے اویسی طاغوتی طاقتوں سے مل بیٹھے ہیں، بلکہ شہر حیدرآباد ہو کہ ملک کے دیگر حصے ہر جگہ مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے رہنما اور قائدین کو پس پشت ڈالنے کیلئے اویسی اینڈ کمپنی پہنچ کر پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ملیا میٹ کرنے کی کوشش کرتی ہے، آج ملک میں سیکڑوں ایسی کرسیاں خالی ہو گئی ہیں جہاں اویسی کے وجود کی ناپاکی پہنچ کر ہنستے بستے تختوں کو تاراج کرنے کا کام کیا ہے۔ لیکن یہاں ہم جائزہ لیں گے ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی اذیت، ذہنی حراسانی اور ان کے پیچھے سسک رہی لاکھوں کروڑوں بھولی بھالی مجبور عوام کی۔
تجارت : ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی کھڑی کی گئی تجارت ہیرا گروپ آف کمپنیز ۔ جس کا صدر دفتر ریاستی راجدھانی حیدر آباد ہوا۔ ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے سرمایہ کاروں کی کمپنی میں سرمایہ کاری ہوئی۔ جس سے شہر حیدر آباد سمیت پورے آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک اور مہاراشٹر سمیت ملک کے کونے کونے سے لوگ منسلک ہونا شروع ہوئے، جیسے جیسے ڈجیٹل دنیا آگے بڑھتی گئی، ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی تجارت نے اڑان بھرنا تیز کردیا، 1998 سے شروع ہوئی کمپنی نے 2008 تک کافی مقبولیت حاصل کر لی، مگر مقامی بینکوں اور اسد اویسی کے دارالسلام بینک کو اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ اگر اس قدر بڑے پیمانے پر پیسے بینکوں سے نکال کر عوام ہیرا گروپ کی تجارت میں لگانا شروع کر چکی ہے تو بہت جلد پیسوں کے وہ مقدار جو ابھی بینک کے خزانے میں موجود ہیں کم ہو جائیں گے۔ اس خدشے کا اثر اسد اویسی نے اپنے بینک دارالسلام پر کچھ زیادہ ہی محسوس کر لیا، اور 2008 سے ہیرا گروپ پر زور ڈالنا شروع کردیا کہ آیا انہیں بھی ہیرا گروپ پارٹنر بنایا جائے، لیکن ہیرا گروپ نے پہلے دن سے اس بات کا اعلان کردیا تھا کہ بڑے سرمایہ کاروں کو نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے دو چار لاکھ کے سرمایہ کاروں کو کمپنی میں لے گی، جس سے کہ کم پیسے والے عوام جو چند لاکھ روپئے ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر پاتے ان کو سہارا مل جائے، بوڑھوں کے علاج کا بندوبست ہو جائیگا اور طالبعلموں کی تعلیم میں سہارا اور چھوٹے بچوں کی لفالت میں مدد مل جائیگی۔ 2008 سے اپنی پارٹنر شپ کیلئے اسد اویسی اینڈ کمپنی نے بہت زور لگایا کہ انہیں کمپنی میں حصہ دار بنا لیا جائے، لیکن ہیرا گروپ جانتی تھی کہ اسی حیدرآباد میں قائم چار مینار کو آپریٹیو بینک میں بڑے بڑے سرمایہ کار اور پارٹنر بن کر انہی لوگوں نے اسے برباد کردیا، لہذا ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اسد اویسی کو ہیرا گروپ میں حصہ داری اور پارٹنرشپ دینے سے منع کردیا، جس کے بعد دھمکیاں، طاقت کی زور آزمائیاں اور دیگر طرح کے اذیتوں کارروائیاں ہیرا گروپ کیخلاف شروع کر دئے گئے اور یہ سلسلہ 2012 تک چلا۔
صحت اور میڈیکل سیکٹر : اسد اویسی کے ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے پیچھے پڑنے اور انہیں برباد کرنے کے پیچھے لگنے کا مقصد صحت اور میڈیکل سیکٹر بھی تھا، اسد اویسی کا فاطمہ اویسی اسپتال اور اسرا ہاسپٹل اس بات کو برداشت نا کرسکا کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ ہیرا میڈکل کالج بنا کر ایک طرف طلبا کو ڈاکٹر بنائیں اوردوسری جانب عوام کی سستے اور مفت قیمتوں پر علاج و معالجہ کریں، واضح رہے کہ ایک جانب اویسی ہاسپتل اور اسرا اسپتال کے پیچھے اویسی خاندان سالانہ اربوں کا بزنس کرتا ہے، وہیں پر ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی بڑھتی کامیابی اور عوامی مقبولیت نے اویسی خاندان کے سینے پر سانپ لوٹنے جیسا محسوس کیا اور ہیرا گروپ کی بربادی کی سازش کے پیچھے دوسری اہم وجہ ہیرا میڈیکل کالج کا مفت اور رعایتی علاج کیلئے میڈیکل کالج کا قیام تھا۔
تعلیم : تعلیم و تعلم میں بہبود کاری کا سیکٹر میں بھی اسد اویسی مہنگی ترین کمائی اور آمدن کا اچھا ذریعہ بنایا ہوا ہے، وہیں پر اسکولنگ اور تعلیمی بیداری کے میدان میں آندھرا پردیش میں ہیرا کالج، کرناٹک میں ہیرا انجینئرنگ کالج، اور مہاراشٹر و تلنگانہ میں ایجوکیشنل سیکٹر کے ہزاروں اسکولوں کو بہتر رہنمائی اور قیادت و تعاون نے اویسی اینڈ کمپنی کے راتوں کی نیند چھین لی اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ و ہیرا گروپ کے خلاف سازش کو جنم دینے کا ایک اور مقصد پیدا ہوا گیا۔
سیاست و لیڈر شپ : مندرجہ بالا تمام سیکٹر میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور ہیرا گروپ کی بے پایاں کامیابی نے اسد اویسی کو ذہنی دیوالیہ بنا دیا اور اسد اویسی نے 2012 میں ہیرا گروپ کیخلاف جانچ کیلئے حیدرآباد سی سی ایس میں آئی پی سی قانون کے تحت ایف آئی آر کرا دیا اور ہیرا گروپ و ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی جانچ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ہر اذیت ناک جانچ اور سختی کو برداشت کرتے ہوئے قانونی طور پر بھی اسد اویسی کو شکست فاش دی، بدلے میں اسد اویسی کی گردن میں کمپنی کو بے جابدنام کرنے اور نقصان پہنچانے کے عوض 100 کروڑ روپئے کا ہتک عزت مقدمہ درج ہو گیا۔ ان سب معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے نتیجہ اخذ کیا کہ ایک سیاستدان اپنی سیاست طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کسی کو بھی خدمت خلق اور پاک صاف کاروبار اور تجارت و مددگاری سے روک سکتا ہے، تو کیوں نا انہی چندے کے پیسے کو روک کر جس سے نیتاﺅں کو الیکشن میں تعاون کیا جاتا ہے اپنی بھی سیاسی طاقت بنائی جائے، ملک میں خیر خواہ ، ایماندار اور تعلیم یافتہ سیاستدانوں کو پروان چڑھایا جائے۔
ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا سیاسی میدان میں آنا بھی اسد اویسی کی تابوت میں آخری کیل محسوس کیا گیا، اور اسد اویسی نے ہیرا گروپ میں کچھ فرضی لوگوں کو سرمایہ کاری کرائی اور بعد میں حیدر آباد پولس کمشنر کے ذریعہ گرفتار کراکے کمپنی پر تالے لگا دئے گئے، ابھی گرفتاری ہوئی تھی کہ کمپنی کی ساخ کو مزید نقصان پہنچانے کیلئے حیدر آباد پولس کمشنر انجنی کمار سے نازیبا بیان دلوا کر ہیرا گروپ کے سرمایہ کاروں کو مزید خوف دلانے کی کوشش کی گئی۔ ایک جگہ سے ضمانت دستیاب ہوئی دوسری جگہ گرفتاری اور دوسری جگہ سے ضمانت ملی تو تیسری جگہ گرفتاری کرائی گئی، اور یہ ساری گرفتاریاں ان ہی مقامات پر ہوئیں جہاں اسد اویسی سیاسی طور پر مضبوط تھے یا ان لوگوں کے ذریعہ ایف آئی آر کرایا گیا جنہوں نے فی الفور یعنی کہ پلاننگ کے تحت سرمایہ کی تھی۔ ایف آئی آر کرنے والوں کو اپنے ایک بدنام زمانہ کرمنل ریپسٹ ایم آئی ایم شہباز احمد خان کے ذریعہ مفت قانونی مدد پہنچائی اور ایم آئی ایم شہباز احمد خان نے ملک بھر کی ریاستوں میں گھوم گھوم کر مفت قانونی مدد دے کر ایف آئی آر کرایا اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی زیادہ سے زیادہ گرفتاری کی کوشش کی گئی۔اسد اویسی نے ان سب معاملات کو انجام دینے کیلئے اپنے کرمنل دوست ایم آئی ایم شہباز احمد خان سے لے کر زمین مافیا طاقتوں (جنہوں نے چن چن کر ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی خالی زمینوں پر بلڈنگیں بنائیں اور عوام کو بیچ ڈالا اور فلیٹ و بنگلوں پر قبضے کرلئے) اور انتظامیہ جن میں آئی پی ایس پولس کمشنر انجنی کمار اور مرکزی طاقتوں و ایجنسیوں کا سہارا لیا گیا۔ لیکن ہیرا گروپ وہی ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ وہی ڈاکٹر نوہیرا شیخ ثابت ہوئیں جس نے 2016 میں ایک بیرسٹر کو ا ±س کے دائر مقدمے میں ہی شکست فاش سے دو چار کیا، 2018 میں گرفتاری اور کارروائی سے لے کر 2026 آگیا۔ 8 سال گزر جانے کے باوجود گرفتاری، عدالتی پیشی، ناجائز زمینوں کی نیلامی سے آگے بڑھ کر معاملے میں ٹرائل، چارج داخل ہونا یا جانچ پڑتال کی شروعات تک نا ہو سکی۔ یہاں تک کہ ایجنسیوں کے ہیرا گروپ زمین پر اٹیچمنٹ، دفتری ڈیٹا پر ڈکیتی اور قبضہ، اور بینک اکاﺅنٹس پر سیز کرکے نا بے تکے انداز میں سیکڑوں کروڑ روپئے عدالتی تحویل میں جمع کرنے کیلئے طلب کئے جا رہے ہیں۔ یہی ہے ہیرا گروپ اور اس کے پیچھے کارفرما طاقتوں کی کارروائی ، ناپاک منشا اور چھپی ہوئی سازش کا کچا چٹھا۔

Related posts

 ایس اے بلڈرس: حیدر آبادی سرزمین کا بے تاج زمین مافیا

Paigam Madre Watan

حیدر آباد قاضی نجم الدین مالک ٹریول پوائنٹ قتل معمہ

Paigam Madre Watan

Hon’ble Vice President of India exhorts BEL to lead semiconductor

Paigam Madre Watan