Delhi دہلی

گستاخانہ بیانات کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کا سخت احتجاج، جے جے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کا مطالبہ

ممبئی، 23 جون (پریس ریلیز):نازیہ الٰہی خان اور دیا سنگھ کی جانب سے مبینہ گستاخانہ بیانات کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سر جے جے پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت پیش کی اور فوری طور پر ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی کی ہدایت پر ایک وفد، صدر جمعیۃ علماء ساؤتھ زون ممبئی سراج الدین خان کی قیادت میں سر جے جے پولیس اسٹیشن پہنچا اور پولیس حکام کو چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد میں مولانا حیات اللہ خان قاسمی اور مولانا معراج الحق قاسمی سمیت دیگر ذمہ داران شامل تھے۔ عرضداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ مبینہ گستاخی کے مرتکب افراد کو فوری طور پر گرفتار کرکے بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 299 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سر جے جے پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر کلیم شیخ نے درخواست وصول کرتے ہوئے مناسب قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ نازیہ الٰہی خان اور دیا سنگھ نے ایک ویڈیو میں حضور نبی کریم ﷺ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شان اقدس میں توہین آمیز کلمات استعمال کیے، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
عرضداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی ایسی نازیبا حرکت کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقدس شخصیات کی توہین کے مرتکبین کے خلاف خصوصی اور مؤثر قانون بنایا جائے جس میں سخت سزاؤں( جیسے دس سال سے لیکر عمر قید تک ) کی گنجائش ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانونی دفعات ناکافی محسوس ہوتی ہیں، کیونکہ اشتعال انگیز بیانات دینے والے افراد کی گرفتاری کے باوجود انہیں جلد ضمانت مل جاتی ہے، جس سے ایسے واقعات کی مکمل روک تھام نہیں ہو پاتی۔اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف مقدمات درج تو ہوتے ہیں لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا کیونکہ جن دفعات کے تحت مقدمات درج ہوتے ہیں وہ قابل ضمانت ہوتی ہیں۔  اس کے بر عکس اگر گستاخی کرنے والوں کے خلاف ناقابل ضمانت دفعات کا استعمال کیا جائے تو ایسے متنازع بیانات دینے سے قبل وہ دس با سو چیں گے ،کیونکہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاسکتا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین ہند کسی بھی شہری کو مقدس شخصیات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا، لیکن بعض عناصر اظہارِ رائے کی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے کروڑوں لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اپنے بیان میں کہا کہ سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے محبت و عقیدت مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی جز ہے۔ مسلمان اپنے نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے والہانہ محبت رکھتے ہیں اور ہر دور میں اہلِ ایمان نے اس محبت کے بے شمار عملی نمونے پیش کیے ہیں۔

Related posts

18 جنوری کے انتخابی نتائج ملک کا موڈ پیش کریں گے: راگھو چڈھا

Paigam Madre Watan

مرکزی بی جے پی حکومت پارلیمنٹ کے ارکان کے لیے بھی تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ۔ ایس ڈی پی آئی

Paigam Madre Watan

ہیراگروپ اور سی ای او کی قربانی ضائع نہیں جائیگی

Paigam Madre Watan