Blog

گاؤں ٹکریا : میرا مولد، میرا مسکن : تحریر : مطیع الرحمن عزیز

گاؤں ٹکریا : میرا مولد، میرا مسکن

ہر انسان کو اپنی جنم بھومی سے فطری محبت ہوتی ہے، لیکن میرے لیے میرا گاؤں ٹکریا صرف جائے پیدائش نہیں بلکہ میری شناخت، میری پہچان اور میری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ میرا بچپن یہیں گزرا، میری شخصیت کی بنیاد یہیں رکھی گئی، اور میری دلی خواہش ہے کہ زندگی کا آخری لمحہ بھی اسی سرزمین پر آئے۔
میرا گاؤں ٹکریا کئی اعتبار سے ایک عظیم اور قابلِ فخر مقام رکھتا ہے۔ یہ سرزمین علماء، محدثین، مفسرین، قراء، حفاظ، اساتذۂ کرام، انجینئرز، ڈاکٹروں، پروفیسروں اور اعلیٰ سرکاری افسران کی آماجگاہ رہی ہے۔ یہاں سے سیکڑوں علماء و فضلاء نے علومِ نبوت حاصل کیے اور دنیا بھر میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس اعتبار سے ٹکریا علمی، دینی اور سماجی شناخت رکھنے والا ایک ممتاز گاؤں ہے۔
ضلع سدھارتھ نگر کے بڑے اور معروف گائوں میں شمار ہونے والا ٹکریا ایک عظیم دینی مرکز بھی ہے۔ یہاں طلبہ و طالبات کے لیے ریاستی سطح کا علمی ادارہ قائم ہے، جہاں سے ہزاروں طلبہ نے دینی تعلیم حاصل کر کے ملک و بیرونِ ملک خدمتِ دین کا فریضہ انجام دیا۔
گاؤں میں مرد و خواتین دونوں کے لیے تین منزلہ خوبصورت جامع مسجد موجود ہے، جبکہ ہزاروں افراد کی نمازِ عید ادا کرنے کے لیے وسیع و عریض اور شاندار عیدگاہ بھی قائم ہے۔ یہی خصوصیات ٹکریا کو دیگر گائوں سے ممتاز بناتی ہیں۔
تاہم ہر معاشرے کی طرح ہمارے گاؤں میں بھی کچھ کمزوریاں موجود ہیں، جن پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بعض اوقات معمولی اختلافات اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ معاملات گاؤں سے نکل کر عدالتوں اور بیرونی اداروں تک پہنچ جاتے ہیں، جس سے وقت، دولت اور تعلقات تینوں کا نقصان ہوتا ہے۔ پردھانی کے انتخابات کے دوران بھی باہمی اختلافات اور گروہ بندی بڑھ جاتی ہے، جس سے بھائی چارے کی فضا متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے گاؤں میں مالی طور پر خوشحال اور بااثر افراد کی کمی نہیں، لیکن نوجوانوں کی تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور فلاح و بہبود کے لیے کوئی منظم اجتماعی نظام موجود نہیں۔ اگر ایک مضبوط سماجی و فلاحی تنظیم قائم ہو جائے تو نوجوانوں کی رہنمائی، پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم میں معاونت، کاروباری مواقع، اور معاشرے کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح غریب اور مستحق خاندانوں کی کفالت، بچیوں کی شادی میں تعاون، مقروض افراد کی مدد، مریضوں کے علاج اور یتیم و نادار بچوں کی تعلیم جیسے اہم کام بھی اجتماعی نظام کے ذریعے بآسانی انجام دیے جا سکتے ہیں۔
میرے گاؤں کے معززین، علماء، دانشوروں اور اہلِ ثروت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ٹکریا کی ترقی اور اتحاد کے لیے ایک مستقل اسکریننگ و مصالحتی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو باہمی تنازعات کو گاؤں کے اندر ہی خوش اسلوبی سے حل کرے۔ مسجد میں ایک معیاری لائبریری قائم کی جائے، نوجوانوں کے لیے مقابلہ جاتی امتحانات، پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنر مندی کی تربیت کا انتظام کیا جائے، اور مستحق طلبہ کی تعلیمی کفالت کے لیے ایک مستقل فنڈ بنایا جائے۔
میرا یقین ہے کہ اگر اہلِ گاؤں اخلاص، اتحاد اور اجتماعی سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں تو ٹکریا نہ صرف ضلع بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثالی اور خود کفیل گاؤں بن سکتا ہے۔ وسائل بھی موجود ہیں، صلاحیتیں بھی موجود ہیں، ضرورت صرف نیک نیتی، باہمی اعتماد اور منظم کوشش کی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گاؤں کو ہمیشہ امن، محبت، اتحاد، علم اور ترقی کا گہوارہ بنائے، اور ہمیں اس کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
تحریر: مطیع الرحمن عزیز
May be an image of ‎text that says "‎میراگاوَن طك ٹکريا ميرا مولد ميرا مسكن कैीਂ مطيعالر مطیعالرحمنعزیز الر حمن حمنعزیز عزیز میرامسکن ና میرامولد یراکاوں ر اپنی پهچان اپنی زمین اپنی شان‎"‎

Related posts

ہیرا گروپ سرمایہ کاروں کا ملک کے اعلیٰ عہدیداروں کو خط

Paigam Madre Watan

The annual convocation of Jamia Niswan Al-Salafiya Tirupati has concluded with resounding success, marking another milestone in its distinguished academic journey.

Paigam Madre Watan

فلم "فرے” کا "گھر پہ پارٹی” ٹریک آپ کی پارٹی میں مزید جوش و خروش پیدا کرے گا

Paigam Madre Watan