National قومی خبریں

 مظلومیت کی داستان ۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور اعظم خان

 مظلومیت کی داستان ۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور اعظم خان

نئی دہلی / حیدرآباد (رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے حقوق، انصاف اور مساوی سلوک سے متعلق بحث مسلسل جاری رہی ہے۔ مختلف سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ بعض معاملات میں مسلمانوں کو قانونی، انتظامی اور سماجی سطح پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دوسری جانب حکومت اور متعلقہ ادارے ان کارروائیوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ یہی اختلافِ رائے ملک کے سیاسی اور سماجی منظرنامے کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ متعدد مواقع پر انکاونٹر، بلڈوزر کارروائیاں، گرفتاریوں، طویل عدالتی مقدمات اور انتظامی اقدامات نے متاثرہ خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ ان کا موقف ہے کہ مقدمات کے فیصلوں سے پہلے ہی بعض افراد کو عوامی سطح پر مجرم تصور کر لیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کے اہل خانہ بھی معاشی، سماجی اور ذہنی دباو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں قانون اور عدالتی نگرانی کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔
اسی تناظر میں دو شخصیات کے نام اکثر زیرِ بحث آتے ہیں، ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور اعظم خان۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دونوں نے تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے طبی تعلیم اور دیگر تعلیمی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی، جبکہ اعظم خان نے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے قیام کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے خلاف مالی بے ضابطگیوں اور سرمایہ کاری سے متعلق مختلف مقدمات قائم ہوئے، جبکہ سرکاری اداروں نے ان الزامات کی بنیاد پر قانونی کارروائیاں کیں۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہیں اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کارروائیاں سیاسی اور ذاتی محرکات پر مبنی ہیں۔ دوسری جانب متعلقہ تحقیقاتی ادارے اپنے موقف پر قائم ہیں کہ کارروائیاں دستیاب شواہد اور قانون کے مطابق کی گئیں۔ ان مقدمات کے مختلف پہلو عدالتی مراحل سے گزرتے رہے ہیں۔
اسی طرح اعظم خان کے خلاف بھی متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ ان پر قائم کیے گئے کئی مقدمات سیاسی انتقام کی مثال ہیں، جبکہ حکومت اور تفتیشی ادارے ان مقدمات کو قانونی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ ان مقدمات کے حوالے سے بھی مختلف عدالتوں میں سماعتیں ہوتی رہی ہیں اور متعدد معاملات میں عدالتی فیصلے سامنے آ چکے ہیں۔
ان دونوں شخصیات کے حامیوں کا استدلال ہے کہ اگر ان کے تعلیمی اور سماجی منصوبے پوری رفتار سے جاری رہتے تو ہزاروں طلبہ کو معیاری تعلیم، سینکڑوں افراد کو روزگار اور معاشرے کو بہتر تعلیمی و طبی سہولیات حاصل ہوتیں۔ ان کے مطابق طویل قانونی کارروائیوں اور انتظامی مسائل نے ان منصوبوں کی رفتار کو متاثر کیا، جس کے اثرات براہِ راست ان سے وابستہ افراد پر بھی مرتب ہوئے۔
دوسری جانب ناقدین یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی بھی فرد یا ادارے پر مالی یا قانونی بے ضابطگیوں کے الزامات ہوں تو ان کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں، تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد یہی ہے کہ ہر شہری کو قانون کے مطابق منصفانہ سماعت، دفاع کا مکمل حق اور غیر جانبدار عدالتی عمل میسر ہو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، طبقے یا سیاسی جماعت سے ہو۔
بھارت جیسے متنوع اور جمہوری ملک میں انصاف، قانون کی حکمرانی، مساوات اور آئینی حقوق کا تحفظ ہی قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔ اگر کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کا ازالہ قانون اور عدالتوں کے ذریعے ہونا چاہیے، جبکہ اگر کوئی الزام ثابت ہو تو اس کے مطابق قانونی کارروائی بھی بلاامتیاز ہونی چاہیے۔ یہی رویہ ملک کے جمہوری تشخص، عوامی اعتماد اور قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

Related posts

چنئی میں ہزاروں مسلمانوں نے وقف ترمیمی بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا

Paigam Madre Watan

Will the Telangana Congress Government teach a lesson to the corrupted Khawaja Moinuddin Telangana Waqf Property Affairs Officer? : Matiur Rahman Aziz

Paigam Madre Watan

یہ بی جے پی ہے جس نے 60 کروڑ کا گھوٹالہ کیا ہے، اس کے منی ٹریل کے واضح ثبوت ہیں: سنجے سنگھ

Paigam Madre Watan