حفاظِ قرآن کی شاندار علمی کامیابی: نیٹ 2026 میں شاہین کے 22 حفاظ طلبہ و طالبات نے بہترین مظاہرہ کرکے نئی تاریخ رقم کر دی
بیدر۔17؍جولائی۔ قرآنِ کریم کے حافظ ہونے کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی تعلیم میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنا یقیناً محنت، استقامت، نظم و ضبط اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کا مظہر ہے۔ بیدر کے شاہین پری یونیورسٹی کالج کے 22 حفاظِ قرآن طلبہ نے قومی اہلیت و داخلہ امتحان (NEET-2026) میں نمایاں نشانات حاصل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ دینی علوم اور عصری تعلیم ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ باہم معاون اور تکمیل کرنے والے دو روشن راستے ہیں۔اس شاندار کامیابی پر ادارے، اساتذہ، والدین اور پوری ملتِ اسلامیہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ کامیابی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ اگر طلبہ کو دینی تربیت کے ساتھ معیاری عصری تعلیم، مناسب رہنمائی اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے تو وہ قومی سطح کے مشکل ترین مسابقتی امتحانات میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔جاری کردہ نتائج کے مطابق حافظ محمد اعجاز عالم نے 593 نشانات حاصل کرتے ہوئے حفاظ میں سب سے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ان کے بعدحافظ عاطف فیاض اورحافظ ذکوان ضیاء نے 586، 586 نشانات، جبکہ حافظ فرحان خان نے 584 نشانات حاصل کیے۔اسی طرح حافظ سعید احمد نے 575، حافظ یوسف خان نے 570، حافظ حنیف بدرنے 559، حافظ عبداللہ نے 551، حافظ محمد ناصر نے 548 اور حافظ ارسلان عبدالسلام۔ کے نے بھی 548 نشانات حاصل کرکے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔دیگر کامیاب حفاظ میں حافظ محمد انس نے 546، حافظ احمد عمارنے 541، حافظ شمس الدجی نے 539،حافظ محمد سعد نے 534، حافظہ نازیہ خاتون نے 536، حافظہ امِّ حبیبہ نے 525، حافظ عبداللہ شیخ نے 522، حافظ محمد اعجازنے 521، حافظ حنجالہ نے 519، حافظ پی۔ انیس الیاس نے 504، حافظ اجواد اکبرنے 503 اور حافظ محمد ساجدنے 500 نشانات حاصل کرکے ادارے کا نام روشن کیا۔نیٹ جیسے انتہائی مسابقتی امتحان میں حافظِ قرآن طلبہ و طالبات کی یہ کامیابی اس تصور کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ قرآنِ کریم کی تعلیم انسان میں نظم، یکسوئی، یادداشت اور مستقل مزاجی جیسی غیر معمولی صلاحیتیں پیدا کرتی ہے، جو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ میدانوں میں کامیابی کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز گزشتہ کئی برسوں سے حفظِ قرآن اور عصری تعلیم کو یکجا کرنے کے منفرد تعلیمی ماڈل پر کام کر رہا ہے۔ اسی متوازن نظامِ تعلیم کے نتیجے میں ہر سال بڑی تعداد میں حفاظ طلبہ انجینئرنگ، میڈیکل اور دیگر قومی سطح کے مسابقتی امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ نیٹ 2026 کے نتائج نے ایک بار پھر اس تعلیمی وژن کی کامیابی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔یہ کامیابی صرف ان طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے باعثِ مسرت نہیں بلکہ پوری ملت کے لیے ایک امید افزا پیغام بھی ہے کہ قرآنِ کریم کی دولت سے مالا مال نوجوان جدید سائنسی علوم میں بھی نمایاں مقام حاصل کرکے قوم و ملت کی خدمت کر سکتے ہیں۔ ایسے حفاظِ قرآن نئی نسل کے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں کہ دینی وابستگی، اعلیٰ اخلاق، سخت محنت اور معیاری تعلیم کے امتزاج سے کامیابی کی نئی منزلیں سر کی جا سکتی ہیں۔

