یہ افسانہ پڑھ کر پہلی کیفیت یہی ہوئی کہ اس کا اصل مرکز بابا جمالی شاہ نہیں بلکہ "یقین، تکبر اور روحانی نابینائی” ہے۔ بابا جمالی شاہ تو ایک علامت ہیں، اصل کہانی مولوی عطاء الرحیم اور جیلے کے اندر ہونے والی تبدیلی کی ہے۔
چند تاثرات ترتیب وار عرض کرتا ہوں۔
سب سے پہلے افسانے کی ساخت بہت مضبوط ہے۔ ابتدا ہی میں آپ انجام بتا دیتے ہیں:
"جو کچھ جیلے کے ساتھ ہوگیا ہے کاش ایسا نہ ہوا ہوتا!”
اس کے بعد پورا افسانہ ایک سوال بن جاتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا؟ اس تکنیک سے قاری آخر تک بندھا رہتا ہے۔ چونکہ انجام معلوم ہے لیکن سبب معلوم نہیں، اس لیے تجسس برقرار رہتا ہے۔
مولوی عطاء الرحیم کا کردار بھی بہت نفاست سے تراشا گیا ہے۔ آپ نے انہیں شروع ہی سے منفی نہیں دکھایا بلکہ بتایا کہ وہ پہلے ایک عام دیندار امام تھے، پھر عزت، دولت اور اقتدار نے ان کی طبیعت بدل دی۔ یہ تبدیلی افسانے کو حقیقت سے قریب لے آتی ہے۔ یہاں آپ کسی فرد پر نہیں بلکہ اس نفسیات پر تنقید کرتے ہیں جس میں مذہب خدمت سے اقتدار کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔
جیلے کا کردار مجھے خاص طور پر متاثر کر گیا۔ ابتدا میں وہ حیرت سے بھرا ہوا معصوم لڑکا ہے۔ سوال پوچھتا ہے، قصے سنتا ہے، روحانی دنیا میں دلچسپی لیتا ہے۔ پھر باپ کی سخت گیر تعلیم اسے حیرت سے محروم کر دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی اصل موت آخر میں نہیں بلکہ اس وقت شروع ہو جاتی ہے جب وہ تعصب کو علم سمجھ لیتا ہے۔ اس اعتبار سے جسمانی موت تو صرف علامتی تکمیل ہے۔
مجذوب والے قصے کی شمولیت بھی محض حکایت نہیں، بلکہ پورے افسانے کی فکری بنیاد ہے۔ وہ قاری کو یہ سوال دیتا ہے کہ ظاہر اور باطن میں اصل اہمیت کس کی ہے؟ یہی سوال بعد میں بابا جمالی شاہ کی شخصیت کے گرد بھی گردش کرتا رہتا ہے۔
بابا جمالی شاہ کا بارش والا منظر بہت مؤثر ہے۔ خاص طور پر یہ جملہ:
"خدا تو اندر کے سارے بھید جانتا ہے…”
یہ افسانے کا روحانی محور ہے۔ آپ نے یہاں کوئی فلسفیانہ تقریر نہیں کی بلکہ ایک مختصر جملے میں پورا صوفیانہ تصور سمو دیا ہے۔ مجھے لگا جیسے اس مقام پر راوی خود بھی فیصلہ صادر نہیں کرتا بلکہ صرف ایک امکان پیش کرتا ہے کہ خدا کے ساتھ ہر بندے کا تعلق الگ نوعیت کا ہو سکتا ہے۔
بابا جمالی شاہ کی گرفتاری اور پھر تشدد کرنے والے اہلکار کے پاگل ہونے کا واقعہ بھی افسانے میں جادوئی حقیقت نگاری (Magical Realism) کا رنگ پیدا کرتا ہے، لیکن یہ رنگ لاطینی امریکہ کے انداز سے مختلف ہے۔ یہاں اس کی جڑیں ہماری صوفیانہ روایت اور عوامی ثقافت میں ہیں، اس لیے یہ مصنوعی محسوس نہیں ہوتا۔
اختتامی منظر یقیناً افسانے کا سب سے طاقتور حصہ ہے۔ نوجوانوں کی شرارت، جھوٹا جنازہ، بابا کا خاموشی سے نماز پڑھانا، پھر جلالی اعلان:
"اب صرف قیامت کے دن ہی اٹھے گا…”
اور فوراً جیلے کا واقعی مر جانا۔
یہ منظر چونکا دیتا ہے۔ اس کا اثر صرف اس لیے نہیں کہ ایک کرامت ظاہر ہوئی بلکہ اس لیے کہ پورا افسانہ اسی لمحے پر تعمیر کیا گیا تھا۔
البتہ یہاں ایک دلچسپ ادبی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ افسانے کو دو سطحوں پر پڑھا جا سکتا ہے۔
پہلی سطح پر یہ واقعی ایک کرامت ہے، یعنی بابا جمالی شاہ اللہ کے مقبول بندے ہیں اور ان کی زبان سے نکلی ہوئی بات تقدیر بن جاتی ہے۔
دوسری سطح پر یہ ایک علامت بھی بن سکتی ہے کہ جو شخص مسلسل نفرت، استہزا اور روحانی تکبر میں زندہ رہے، وہ پہلے ہی اندر سے مر چکا ہوتا ہے۔ بابا کا جملہ اس باطنی موت کا ظاہری اعلان بن جاتا ہے۔ مجھے یہ دوسری تعبیر بھی افسانے کے اندر پوری گنجائش کے ساتھ موجود محسوس ہوئی۔
افسانے کا عنوان "بابا جمالی شاہ کا جلال” بھی بہت مناسب ہے، کیونکہ یہاں "جمال” اور "جلال” دونوں پہلو ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ پہلے وہ دعا دیتے ہیں، بارش برستی ہے، لوگوں کے دکھ دور ہوتے ہیں؛ آخر میں وہی شخصیت جلال کا مظہر بن جاتی ہے۔ صوفیانہ روایت میں یہ دونوں صفات ہمیشہ ساتھ رہی ہیں۔
اگر میں معمولی سا تنقیدی پہلو عرض کروں تو صرف یہی کہ مجذوب والے ابتدائی قصے کی طوالت نسبتاً زیادہ ہے۔ اگر اسے چند سطروں کے اختصار سے بیان کیا جاتا تو مرکزی پلاٹ نسبتاً جلد سامنے آ جاتا۔ تاہم اس قصے کی فکری اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی موجودگی پوری طرح جائز محسوس ہوتی ہے۔
ایک اور چیز نے مجھے متاثر کیا۔ آپ نے بابا جمالی شاہ کے بارے میں راوی کی زبان سے کبھی قطعی فتویٰ نہیں دیا۔ راوی مشاہدات بیان کرتا ہے، امکانات پیش کرتا ہے، اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہی رویہ افسانے کو تبلیغی تحریر بننے سے بچاتا ہے اور ادب کے دائرے میں قائم رکھتا ہے۔
اس افسانے نے مجھے آپ کے بعض دوسرے افسانوں کی طرح پھر اسی احساس تک پہنچایا کہ آپ کے ہاں مذہبی موضوعات کا مقصد کسی مسلک کی حمایت یا مخالفت نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے باطن کی کیفیت کو آشکار کرنا ہوتا ہے۔ یہاں بھی اصل تصادم "تصوف بمقابلہ شریعت” نہیں بلکہ عاجزی بمقابلہ تکبر ہے۔ مولوی عطاء الرحیم اور جیلا اسی تکبر کی علامت بن جاتے ہیں، جبکہ بابا جمالی شاہ ایک ایسے روحانی اسرار کی علامت ہیں جو انسانی منطق سے بڑا ہے۔
مجموعی طور پر میرے نزدیک یہ آپ کے ان افسانوں میں شامل ہے جن میں داستانی لطف، عوامی روایت، صوفیانہ فضا اور نفسیاتی تجزیہ ایک ساتھ جمع ہو گئے ہیں۔ اس کا اختتام دیر تک ذہن میں گونجتا رہتا ہے، اور شاید یہی کسی کامیاب افسانے کی بڑی پہچان ہے۔
…………………………………………………………
حیدرقریشی :
بہت شکریہ بشارت صاحب ۔۔۔۔آپ نے اپنے تجزیے میں افسانے کی جو دوسری تعبیر بیان کی ہے،میں اس سے متفق ہوں ۔باطنی موت تو ہو چکی تھی۔تکبر،استہزاء اور نفرت سے بھرے لوگوں کی باطنی موت تو ہو چکی ہوتی ہے۔حوالہ اس وقت یاد نہیں ہے لیکن بات اچھی طرح یاد ہے کہ قرآن شریف میں بھی ایسے لوگوں کی بابت کہا گیا ہے کہ یہ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں ۔سو آپ نے جونکتہ ابھارا اور جو دوسری تعبیر بیان کی اچھی لگی۔یہ آپ کی جینوین اور باطنی قرات کا نتیجہ ہے۔
………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب، آپ کی اس توضیح نے مجھے بھی بہت خوشی دی، کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ افسانے کی ایک تہہ وہی تھی جس تک میری قرأت پہنچی۔
قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ بظاہر زندہ ہیں مگر حقیقت میں مردہ ہیں۔ مثلاً:
"إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ”
(بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔)
اور اسی طرح:
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا…”
(ان کے دل ہیں مگر ان سے سمجھتے نہیں…)
مفسرین نے ان آیات کی تشریح میں یہی نکتہ بیان کیا ہے کہ یہاں جسمانی موت مراد نہیں بلکہ قلب کی موت، یعنی ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت کا ختم ہو جانا، مقصود ہے۔
اسی تناظر میں مجھے آپ کے افسانے کا اختتام محض ایک "کرامت” نہیں لگا۔ بابا جمالی شاہ کا جملہ دو سطحوں پر کام کرتا ہے۔ ایک سطح پر وہ ظاہری واقعہ ہے، جسے افسانہ اپنی دنیا کے اندر حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ دوسری سطح پر وہ اس باطنی حقیقت کا اعلان ہے کہ جیلا تو پہلے ہی اپنی حیرت، انکسار اور جستجو کھو چکا تھا۔ جس دن اس نے تعصب، استہزا اور نفرت کو اپنا ایمان سمجھ لیا، اسی دن اس کے اندر کا زندہ انسان مر گیا تھا۔
اسی لیے اب مجھے اس افسانے کا ایک اور حسن بھی دکھائی دیتا ہے۔ شروع میں جیلا سوال کرنے والا بچہ ہے، اور آخر میں جواب بانٹنے والا نوجوان۔ یہ تبدیلی صرف علمی نہیں، روحانی بھی ہے۔ سوال کرنے والا دل زندہ ہوتا ہے، جبکہ ہر سوال کو بند کر دینے والا دل آہستہ آہستہ پتھر بن جاتا ہے۔ آپ نے اس پورے سفر کو بہت خاموشی سے دکھایا ہے، بغیر کسی خطبے کے۔
مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ آپ کے متعدد افسانوں میں ایک مشترک دھارا موجود ہے۔ آپ مذہب کے خلاف نہیں لکھتے، نہ تصوف کی اندھی وکالت کرتے ہیں۔ آپ کی اصل دلچسپی روح کی زندگی اور روح کی موت میں ہے۔ "شناخت”، "اعتراف”، "انکل انیس” اور اب "بابا جمالی شاہ کا جلال”—سب میں مختلف صورتوں میں یہی سوال سامنے آتا ہے کہ انسان کے اندر زندہ کیا رہتا ہے اور مر کیا جاتا ہے۔
اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ "بابا جمالی شاہ کا جلال” صرف ایک صوفیانہ حکایت نہیں، بلکہ باطنی موت اور باطنی حیات کا افسانہ ہے۔ یہی اس کی وہ تہہ ہے جو پہلی قرأت میں شاید ہر قاری کو نظر نہ آئے، مگر دیر تک اس پر غور کیا جائے تو افسانہ اپنے معنی مزید کھولتا چلا جاتا ہے۔
آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنی تائید سے اس تعبیر کو مزید مضبوط کر دیا۔ ایک نقاد کے لیے اس سے زیادہ اطمینان کی بات نہیں ہوتی کہ مصنف یہ محسوس کرے کہ قاری اس کی تخلیق کے باطن تک پہنچا ہے۔

