Blog

فضیلۃ الشیخ عبیداللہ طیب مکی بنارسی رحمہ اللہ۔ حیات، علمی سفر، تدریسی خدمات، تحقیقی ذوق اور شخصی اوصاف

فضیلۃ الشیخ عبیداللہ طیب مکی بنارسی رحمہ اللہ
حیات، علمی سفر، تدریسی خدمات، تحقیقی ذوق اور شخصی اوصاف
تحریر ۔ عبد الرحمن انصاری
علمی و تربیتی ادارے بانیان اور مصنفین سے ہی نہیں، بلکہ اُن گمنام و باکمال اساتذہ سے زندہ رہتے ہیں جو اپنی تدریسی کاوشوں اور تربیتِ طلبہ کے ذریعے ادارے کا وقار بن جاتے ہیں۔ ایسے اہل علم کی خدمات کا اصل اعتراف کتب سے بڑھ کر ان کے شاگردوں کی علمی قامت میں مضمر ہوتا ہے۔ شیخ عبیداللہ طیب مکی بنارسیؒ اسی درخشاں روایت کے امین تھے۔ آپ نے جامعہ سلفیہ بنارس کے مرکزِ علم سے وابستہ رہ کر تدریس اور طلبہ کی علمی و اخلاقی نشو و نما میں جو کردار ادا کیا، وہ آپ کے علمی نقوش کا ایک ایسا تابندہ باب ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ولادت اور خاندانی پس منظر
فضیلۃ الشیخ عبیداللہ طیب رحمہ اللہ کی ولادت 30 اپریل 1952ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر بنارس کے معروف محلہ مدن پورہ میں ہوئی۔
آپ ایک علمی، دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد محترم مولانا حافظ محمد ابوالقاسم بنارسی رحمہ اللہ (1906ء–1965ء) اپنے زمانے کے ممتاز عالم، خوش الحان قاری، جامعہ رحمانیہ بنارس کے معروف مدرس اور سرپرست تھے۔ انہوں نے طویل عرصہ تعلیم و تدریس اور دینی خدمات میں گزارا، نیز جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام و استحکام میں بھی ان کا بنیادی کردار تھا۔ ان کے علمی ذوق، تقویٰ اور تربیت نے شیخ عبیداللہ طیب رحمہ اللہ کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
آپ کا نسب یوں ہے:
عبیداللہ طیب بن حافظ محمد ابوالقاسم بن حاجی محمد رفیق بن حاجی ننھو بن شیخ ولی محمد بن پیر محمد۔
آپ کے بڑے بھائی فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالوحید رحمانی رحمہ اللہ بھی اپنے عہد کے ممتاز عالم، جامعہ سلفیہ بنارس کے اولین شیخ الجامعہ اور علمی حلقوں میں نہایت محترم شخصیت تھے۔
بچپن اور علمی ذوق
چونکہ آپ کی پرورش ایک علمی ماحول میں ہوئی، اس لیے بچپن ہی سے قرآن کریم، حدیث نبوی اور دینی علوم سے گہری دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ والد محترم کی تربیت، بڑے بھائی کی علمی رفاقت اور گھر کے دینی ماحول نے آپ کے اندر علم کی محبت کو راسخ کردیا۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ سنجیدہ مزاج، کم گو، متین، خوش سلیقہ اور غور و فکر کرنے والے تھے۔ غیر ضروری مشاغل سے دور رہتے اور فرصت کے اوقات مطالعے میں گزارتے۔ ادب اور شعر و شاعری سے بھی خاص مناسبت رکھتے تھے، جس کا اثر بعد میں ان کی تدریس، ترجمے اور گفتگو کے انداز میں بھی نمایاں ہوا۔
ابتدائی تعلیم اور جامعہ رحمانیہ بنارس
آپ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے آبائی شہر کے معروف ادارے جامعہ رحمانیہ بنارس میں حاصل کی۔ یہیں آپ کی علمی بنیادیں استوار ہوئیں۔ اساتذۂ کرام کی نگرانی اور علمی ماحول نے آپ کے اندر مطالعہ، تحقیق اور علمی سنجیدگی کا وہ ذوق پیدا کیا جو پوری زندگی آپ کے ساتھ رہا۔
جامعہ سلفیہ بنارس میں تعلیم
جامعہ رحمانیہ کے بعد آپ نے جامعہ سلفیہ بنارس میں داخلہ لیا۔ اس زمانے میں جامعہ سلفیہ برصغیر کے ممتاز دینی اداروں میں شمار ہوتا تھا، جہاں قرآن و حدیث، فقہ، اصول، عربی ادب اور دیگر اسلامی علوم کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔
آپ نے مختلف جلیل القدر اساتذہ سے استفادہ کیا اور طالب علمی ہی کے زمانے سے حدیث اور علومِ حدیث کی طرف خصوصی رجحان پیدا ہوگیا۔ آپ نصابی تعلیم پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اصل مصادر، قدیم مراجع اور اضافی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ علمی مباحث میں حصہ لیتے اور ہر مسئلے کی اصل دلیل تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے، جس سے تحقیقی مزاج بتدریج پروان چڑھتا گیا۔
۱۹۷۲ء کے فسادات اور آزمائش
طالب علمی ہی کے زمانے میں آپ نے ایک نہایت کٹھن آزمائش کا سامنا کیا۔ جون 1972ء میں بنارس میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران بعض متعلقین جامعہ سلفیہ بھی متاثر ہوئے۔ انہی حالات میں اس وقت کے شیخ الجامعہ مولانا عبدالوحید رحمانی رحمہ اللہ اور شیخ عبیداللہ طیب رحمہ اللہ پولیس تشدد کا نشانہ بنے۔
اس سانحے میں آپ کو شدید جسمانی اذیت برداشت کرنا پڑی، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مالی تعاون کا اعلان کیا گیا، لیکن اس واقعے کی تلخی آپ کی یادوں میں باقی رہی۔
جامعہ سلفیہ سے فراغت اور حجاز کا سفر
سنہ 1973ء میں آپ نے جامعہ سلفیہ بنارس سے فضیلت کی تکمیل کی۔ فراغت کے بعد آپ نے حدیث اور علومِ حدیث میں مزید تخصص حاصل کرنے کا ارادہ کیا اور 1974ء کے اواخر میں حجاز مقدس روانہ ہوگئے۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
مدینہ منورہ میں آپ نے جامعہ اسلامیہ کے کلیۃ الدعوۃ و اصول الدین میں داخلہ لیا۔
جامعہ اسلامیہ میں قیام کے دوران آپ نے حدیث، عقیدہ، دعوت، عربی زبان اور دیگر اسلامی علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ اسی عرصے میں مختلف ممالک کے علماء اور طلبہ سے علمی روابط قائم ہوئے، جن سے علمی استفادہ اور تبادلۂ خیال کے مواقع میسر آئے، جس سے آپ کے علمی افق میں مزید وسعت پیدا ہوئی۔
جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ میں تخصص
جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد آپ نے جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ میں حدیث و علومِ حدیث میں اعلیٰ تخصص اختیار کیا۔ تقریباً 1979ء میں آپ نے ماسٹرز کی سطح پر داخلہ لیا، جہاں معروف محدث و محقق شیخ سید سابق رحمہ اللہ کی نگرانی میں حدیث، تخریج، اسانید اور مناہجِ محدثین پر مسلسل محنت کی۔
یہی وہ دور تھا جس میں آپ کی تحقیقی صلاحیتیں پوری طرح نکھر کر سامنے آئیں اور حدیثی تحقیق آپ کی مستقل علمی شناخت بن گئی۔
تحقیقی مقالہ
سنہ 1983ء میں آپ نے جامعہ ام القریٰ سے ماسٹرز کی سند حاصل کی۔
آپ کے تحقیقی مقالے کا عنوان تھا:
"مسند الإمام أحمد بن حنبل سے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مرویات کی تخریج، تحقیق، دراسہ اور شرح”۔
یہ مقالہ دو ضخیم جلدوں اور تقریباً آٹھ سو صفحات پر مشتمل تھا، جس میں آپ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مرویات کو جمع کرکے ان کی تخریج، اسانید کا تنقیدی جائزہ، محدثین کے اقوال اور علمی فوائد کو نہایت محنت کے ساتھ مرتب کیا۔ یہ تحقیق آپ کے حدیثی ذوق، علمی دقتِ نظر اور تحقیقی مزاج کا روشن نمونہ تھی۔
سعودی عرب میں علمی قیام
ماسٹرز کے بعد بھی آپ کا سعودی عرب میں قیام جاری رہا۔ مجموعی طور پر تقریباً چوبیس برس آپ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علمی ماحول میں گزارے۔
اس طویل عرصے میں آپ کا زیادہ وقت مطالعہ، تحقیق، کتب خانوں سے استفادہ، اہلِ علم کی مجالس میں شرکت اور حدیث، رجال، تفسیر، فقہ اور دیگر علومِ اسلامیہ کے گہرے مطالعے میں گزرا۔ آپ ہمیشہ اصل مصادر سے براہِ راست استفادے کو ترجیح دیتے تھے، جس نے آپ کے اندر مضبوط تحقیقی مزاج پیدا کیا۔
ماسٹرز کے بعد آپ نے جامعہ ام القریٰ میں ڈاکٹریٹ کے لیے رجسٹریشن بھی کرایا، لیکن بعض اسباب کی بنا پر اس کی تکمیل نہ ہوسکی۔ تاہم آپ کی علمی شناخت کسی سند کی محتاج نہ تھی، بلکہ آپ کا اصل سرمایہ آپ کا وسیع مطالعہ، تحقیقی بصیرت اور حدیثی مہارت تھی۔
اساتذہ
جامعہ سلفیہ بنارس اور سفرِ حجاز میں آپ نے اپنے عہد کے متعدد نامور علماء و محدثین سے اکتسابِ علم کیا۔ آپ کے نمایاں اساتذہ میں فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالوحید رحمانی، مولانا آزاد رحمانی، مولانا عابد حسن رحمانی، مولانا شمس الحق سلفی، مولانا عظیم اللہ مئوی، شیخ ربیع بن ہادی المدخلی، شیخ عبداللہ الغنیمان، ڈاکٹر صالح المحیسن، ڈاکٹر عبدالکریم مراد اور معروف محدث و فقیہ شیخ سید سابق رحمہم اللہ شامل ہیں۔
وطن واپسی اور جامعہ سلفیہ بنارس میں تدریسی خدمات
سنہ 1998ء میں وطن واپسی کے بعد آپ نے اپنی مادرِ علمی، جامعہ سلفیہ بنارس، سے تدریسی وابستگی اختیار کی۔ تقریباً دو دہائیوں تک آپ نے اس ادارے میں نہایت خاموشی، اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ کے نزدیک تدریس محض نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ طلبہ کے اندر علمی ذوق، تحقیق کی صلاحیت، مطالعے کی عادت، حسنِ فہم اور دینی بصیرت پیدا کرنا بھی ایک مدرس کی بنیادی ذمہ داری شمار کرتے تھے۔
آپ ہر سبق پوری تیاری کے ساتھ پڑھاتے۔ عبارت کی تشریح کے ساتھ اس کا تاریخی و علمی پس منظر، مصنف کا منہج، مختلف اہلِ علم کی آراء اور متعلقہ مراجع کا بھی تعارف کراتے، تاکہ طلبہ کتاب کو محض امتحان کی ضرورت کے طور پر نہ پڑھیں بلکہ اس کے علمی مقام کو بھی سمجھ سکیں۔
زیرِ تدریس کتابیں
جامعہ سلفیہ میں آپ نے مختلف ادوار میں متعدد اہم کتابیں پڑھائیں، جن میں صحیح مسلم، تدریب الراوی، فقہ السنۃ، اصول الدعوۃ، امتاع العقول، مختارات، مقدمہ ابن خلدون، مناہج البحث اور طرق التدریس خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔
اگرچہ آپ مختلف علوم کی تدریس کرتے تھے، لیکن حدیث اور علومِ حدیث آپ کا اصل میدان تھا۔ تخریجِ حدیث، اسانید، رجال، مصادر اور محدثین کے مناہج پر آپ کو خاص عبور حاصل تھا، جس کا اثر آپ کے دروس میں نمایاں طور پر محسوس ہوتا تھا۔
اندازِ تدریس
آپ کا اندازِ تدریس نہایت سنجیدہ، تحقیقی اور منظم تھا۔ مشکل سے مشکل علمی مسئلے کو سادہ، رواں اور قابلِ فہم انداز میں بیان کرتے تھے۔ اختلافی مسائل میں جذبات کے بجائے دلائل اور علمی اصولوں کو بنیاد بناتے اور طلبہ کو تحقیق کا صحیح طریقہ سکھاتے۔
عربی ادب کی کتابیں پڑھاتے وقت آپ کی ادبی بصیرت نمایاں ہوجاتی تھی۔ متن کا بامحاورہ ترجمہ، ادبی لطائف اور اسلوبِ بیان کی خوبیاں نہایت سلیقے سے واضح کرتے۔ عربی نظم و نثر سے آپ کی گہری مناسبت تھی، اس لیے طلبہ ان کے دروس کو خاص دلچسپی سے سنتے تھے۔
صحیح مسلم کی تدریس کے دوران پہلے کسی طالب علم سے حدیث کی قراءت کرواتے، پھر متن کی تشریح، فقہی فوائد، اخلاقی پہلو اور محدثین کی آراء بیان فرماتے۔ جن احادیث کا تعلق زہد، رقائق اور اخلاق سے ہوتا، ان کی شرح میں آپ خاص انہماک سے گفتگو کرتے۔ بعض مواقع پر رقت طاری ہوجاتی، آنکھیں اشک بار ہوجاتیں اور درس گاہ کا ماحول بھی متاثر ہوجاتا۔
تخریجِ حدیث کی عملی تربیت
تخریجِ حدیث کی تدریس میں آپ صرف نظری مباحث پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ طلبہ کو عملی مشق بھی کراتے تھے۔ مختلف احادیث دے کر انہیں ان کے اصل مصادر تلاش کرنے، اسانید کی تحقیق کرنے اور امہاتِ کتبِ حدیث سے مراجعت کا پابند بناتے تھے۔
اس طریقۂ تدریس سے طلبہ میں تحقیق، حوالہ تلاش کرنے اور اصل مراجع سے براہِ راست استفادے کی عادت پیدا ہوتی تھی۔ آپ کی یہ خصوصیت جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں رائج جدید اندازِ تدریس سے ہم آہنگ سمجھی جاتی تھی، جس کا اعتراف آپ کے متعدد شاگردوں نے کیا۔
تدریسی تربیت کا منفرد اسلوب
"طرق التدریس” کی تعلیم میں بھی آپ نے نہایت مؤثر طریقہ اختیار کیا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ طلبہ صرف تدریس کے اصول نہ پڑھیں بلکہ عملاً انہیں اختیار بھی کریں۔ اس مقصد کے لیے ہر طالب علم کو ایک سبق تیار کرکے پوری جماعت کے سامنے پڑھانے کی ذمہ داری دی جاتی۔
سبق مکمل ہونے کے بعد آپ اس کے اندازِ تدریس، زبان، ترتیب، علمی نکات اور خامیوں پر نہایت شفقت کے ساتھ گفتگو فرماتے، اصلاح کرتے اور بہتر طریقے کی رہنمائی دیتے۔ اس عملی تربیت سے طلبہ میں تدریسی اعتماد، اظہارِ خیال اور علمی نظم پیدا ہوتا تھا۔
طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت
آپ تدریس کے ساتھ طلبہ کی اخلاقی اور فکری تربیت کو بھی یکساں اہمیت دیتے تھے۔ انہیں وقت کی قدر، اساتذہ کے احترام، کتابوں سے تعلق، علمی دیانت، تحقیق اور مسلسل مطالعے کی تلقین کرتے تھے۔
جو طلبہ درس گاہ سے باہر بھی آپ سے رجوع کرتے، ان کی نہایت خلوص کے ساتھ رہنمائی فرماتے۔ ان کی تحریروں کی اصلاح کرتے، مطالعے کے لیے کتابیں تجویز کرتے اور علمی میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے۔ آپ کی کوشش ہوتی کہ طالب علم صرف معلومات کا حافظ نہ بنے بلکہ صاحبِ نظر اور صاحبِ تحقیق بھی ہو۔
مجلہ "المنار” کی نگرانی
جامعہ سلفیہ کے علمی و ادبی مجلہ "المنار” کی نگرانی بھی آپ کے سپرد تھی۔ آپ اسے محض ایک سالانہ مجلہ نہیں بلکہ طلبہ کی قلمی تربیت کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔
آپ مضامین کے انتخاب، زبان و اسلوب کی اصلاح، علمی ترتیب، حوالوں کی صحت اور تحقیقی معیار پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ "المنار” طویل عرصے تک جامعہ کے معیاری علمی و ادبی مجلات میں شمار ہوتا رہا۔
جامع مسجد اہلِ حدیث طیب شاہ کی خطابت
اپنے بڑے بھائی فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالوحید رحمانی رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد آپ کو جامع مسجد اہلِ حدیث "طیب شاہ” بنارس کی خطابت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔
آپ کے خطبات علمی وقار، اعتدال اور اصلاحی رنگ کے حامل ہوتے تھے۔ قرآن کریم، احادیثِ نبویہ اور آثارِ سلف کی روشنی میں عبادات، اخلاق، اصلاحِ معاشرہ اور دینی ذمہ داریوں پر گفتگو فرماتے۔ خطابت میں خطیبانہ جوش سے زیادہ علمی استدلال، حکمت اور خیرخواہی نمایاں ہوتی تھی۔
علمی کاوشوں کی حوصلہ افزائی
آپ رحمہ اللہ کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ اہلِ علم اور علمی کاوشوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ اگر کسی کتاب، تحقیق یا علمی تصنیف کا جائزہ لینے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی جاتی تو وہ تعصب یا غیر ضروری تاخیر سے کام نہیں لیتے، بلکہ دیانت داری کے ساتھ اس کا مطالعہ کرکے اپنی رائے پیش کرتے۔ متعدد اہلِ علم نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ انہوں نے ان کی تصنیفات کی اشاعت اور علمی منصوبوں کی نہایت فراخ دلی سے حوصلہ افزائی کی۔ یہ طرزِ عمل ان کی علم دوستی، وسعتِ نظر، انصاف پسندی اور اہلِ علم کی قدر شناسی کا روشن مظہر تھا۔
شخصی اوصاف اور اخلاقی محاسن
آپ علم و فضل کے ساتھ عمدہ اخلاق، سنجیدہ مزاج اور متوازن شخصیت کے حامل تھے۔ وقار، متانت، شرافت، سادگی اور خاموش طبیعت آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ آپ کم گو تھے، لیکن جب گفتگو فرماتے تو اس میں وزن، ترتیب اور مقصدیت نمایاں ہوتی۔ فضول گفتگو، بے جا بحث اور غیر ضروری اختلاف سے ہمیشہ اجتناب کرتے تھے۔
پہلی ملاقات میں آپ کی سنجیدگی اور وقار کی وجہ سے بعض لوگ آپ کو نسبتاً کم آمیز محسوس کرتے، لیکن جو شخص آپ کے قریب رہتا وہ آپ کی شفقت، خوش اخلاقی، خوش مزاجی اور نرم خوئی سے بخوبی واقف ہوجاتا۔ آپ طلبہ سے محبت کرتے، ان کی علمی ترقی پر خوش ہوتے اور ان کی حوصلہ افزائی میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔
تعلقات کے معاملے میں بھی آپ نہایت متوازن تھے۔ ہر شخص سے احترام اور خوش خلقی کے ساتھ پیش آتے، لیکن غیر ضروری بے تکلفی سے گریز کرتے تھے۔ جن لوگوں سے قلبی تعلق قائم ہوجاتا، ان کے ساتھ خلوص، خیر خواہی اور شفقت کا برتاؤ فرماتے تھے۔
خوش ذوقی، نفاست پسندی اور خوشبو سے شغف
آپ کی شخصیت میں سادگی اور نفاست کا حسین امتزاج تھا۔ بلند قد و قامت، چھریرا بدن، صاف ستھرا لباس، خوش سلیقہ رہن سہن اور ظاہری پاکیزگی آپ کی شخصیت کا نمایاں حصہ تھے۔ لباس کے انتخاب میں بھی نفاست کا خاص اہتمام کرتے تھے اور ہمیشہ سادہ مگر باوقار لباس زیبِ تن فرماتے تھے۔
آپ کو خوشبو اور عطر سے غیر معمولی شغف تھا، جو گویا آپ کی شخصیت کی پہچان بن چکا تھا۔ جامعہ سلفیہ کے اساتذہ کی استراحت گاہ میں آپ کی الماری میں مختلف اقسام کے عطر نہایت قرینے سے رکھے رہتے تھے۔ وقفے کے اوقات میں جب آپ عطر استعمال کرتے تو کمرہ خوشبو سے معطر ہوجاتا۔
طلبہ بھی آپ کے اس ذوق سے واقف تھے۔ بعض اوقات کوئی طالب علم اپنی تحقیق یا تحریر خوش اسلوبی سے مرتب کرکے خوشبو لگا کر پیش کرتا تو آپ خوشی اور مسرت کا اظہار فرماتے۔ یہ استاد اور شاگرد کے درمیان محبت، احترام اور حسنِ تعلق کی ایک دل نشین جھلک تھی۔
زبان کی حفاظت اور علمی دیانت
آپ گفتگو کے معاملے میں نہایت محتاط تھے۔ غیبت، بدگوئی، فضول تبصرے اور دوسروں کے عیوب بیان کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرتے تھے۔ آپ کے رفقاء اور شاگرد بیان کرتے ہیں کہ طویل رفاقت کے باوجود انہوں نے کبھی کسی شخص کی بلاوجہ شکایت یا غیر ضروری تنقید آپ کی زبان سے نہیں سنی۔
آپ کی گفتگو ہمیشہ علم، اصلاح اور خیرخواہی کے دائرے میں رہتی تھی۔ اختلافی مسائل میں بھی آپ تہذیب، اعتدال اور حسنِ اخلاق کو مقدم رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی شخصیت طلبہ اور متعلقین کے لیے عملی نمونہ بن گئی۔
ازدواجی زندگی اور اولاد کی تربیت
شیخ عبیداللہ طیب رحمہ اللہ نے گھریلو زندگی بھی سادگی، ذمہ داری اور حسنِ تدبیر کے ساتھ گزاری۔
آپ کی پہلی اہلیہ سے سات بیٹیاں تھیں۔ آپ نے ان کی تعلیم و تربیت، ضروریات کی تکمیل اور دینی ماحول کی فراہمی کا اہتمام کیا۔
سنہ ۲۰۰۷ء میں پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد آپ نے دوسری شادی کی۔ بعد ازاں بھی آپ نے گھریلو ذمہ داریوں کو حسنِ ذمہ داری کے ساتھ نبھایا اور اپنے زیرِ کفالت بچوں کی تربیت اور تعلیم کا خیال رکھا۔
ان میں مولانا ضمیر سلفی بھی شامل ہیں، جنہوں نے جامعہ سلفیہ بنارس سے فضیلت کی تعلیم حاصل کی اور اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ ساڑی کی تجارت میں مصروف ہیں ۔
بیماری اور تدریس سے علیحدگی
سنہ ۲۰۱۲ء میں آپ کو دل کا عارضہ لاحق ہوا اور علاج کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ اس کے باوجود آپ نے حتی المقدور اپنی علمی و تدریسی ذمہ داریوں کو جاری رکھا۔
آپ ۲۰۱۸ء تک جامعہ سلفیہ بنارس سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں صحت کی کمزوری کے باعث تدریسی مصروفیات محدود ہوگئیں اور ۲۰۲۰ء کے بعد مستقل تدریس سے علیحدگی اختیار کرلی۔
آخری ایام
عمر کے آخری ایام میں اگرچہ جسمانی کمزوری بڑھ گئی تھی، لیکن آپ کا دینی ذوق، عبادات سے تعلق اور علمی مشاغل سے وابستگی برقرار رہی۔
صحت اجازت دیتی تو مسجد تشریف لے جاتے، نمازوں کا اہتمام فرماتے اور احباب و متعلقین سے ملاقات کا سلسلہ جاری رکھتے تھے۔
وفات
وفات سے کچھ عرصہ قبل آپ کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی۔ بخار، کمزوری اور بعض دیگر عوارض کے باعث آپ کو پہلے بنارس میں علاج کے لیے رکھا گیا، بعد ازاں بہتر طبی سہولت کی غرض سے میدانتا اسپتال، لکھنؤ منتقل کیا گیا۔
علاج کی کوششوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہوا اور ۲۱ فروری ۲۰۲۴ء کو تقریباً ۷۲ برس کی عمر میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
نمازِ جنازہ اور تدفین
وفات کے بعد شیخ عبیداللہ طیب مکی بنارسی رحمہ اللہ کا جسدِ خاکی لکھنؤ سے بنارس لایا گیا۔
آپ کی نمازِ جنازہ رات تقریباً ۹ بجے بنارس کی معروف جامع مسجد اہلِ حدیث طیب شاہ میں ادا کی گئی، جس میں علماء، طلبہ، جامعہ سلفیہ کے اساتذہ و تلامذہ، اہلِ محلہ، رفقاء اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔
بعد ازاں آپ کو آپ کے آبائی قبرستان مدن پورہ میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آپ کو اپنے بڑے بھائی فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالوحید رحمانی رحمہ اللہ، سابق شیخ الجامعہ جامعہ سلفیہ بنارس کے پہلو میں آرام کی جگہ ملی۔
اللہ تعالیٰ فضیلۃ الشیخ عبیداللہ طیب مکی بنارسی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، قبر کو نور و راحت سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
حوالہ جات
تراجم علمائے اہلِ حدیث بنارس
ریکارڈ جامعہ رحمانیہ و جامعہ سلفیہ، بنارس
ذاتی معلومات و شخصی استفسارات
متفرق مضامین و تعزیتی کلمات
All reactions:

Najmuddeen Ansari Salafi and 71 others

Related posts

اردو یونیورسٹی کے نظامت فاصلاتی تعلیم کے امتحانات کے نتائج جاری

Paigam Madre Watan

"Our tricolour flag conveys the message of our sacrifice and unity.”

Paigam Madre Watan

جوہر یونیورسٹی! تجھے کس بات کی سزا مل رہی ہے؟ تحریر : محی الدّین آزاد

Paigam Madre Watan