Articles مضامین

وارثینِ انبیاء، انتظامی اصلاحات اور منبر و محراب کا وقار نو : جعفر حسین ماپکر مہاراشٹر 

وارثینِ انبیاء، انتظامی اصلاحات اور منبر و محراب کا وقار نو:

جعفر حسین ماپکر مہاراشٹر

​آج کے اس تلاطم خیز، مادّیت زدہ اور اضطراب انگیز دور میں انسان بے شمار جدید و پیچیدہ مسائل، اخلاقی انحطاط (گراوٹ)، اور فکری، جذباتی اور معاشی کشمکش میں مبتلا ہے. ایسے دور میں یہ بنیادی سوال ہر بیدار مغز مسلمان کے دل پر دستک دیتا ہے کہ، کیا ہماری زندگی کا مقصد دینی و دنیوی تربیت سے عاری ہوکر چند دن اس دنیا میں کاٹنا ہے، یا پھر ہمیں اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کے لیے ایک جامع اخلاقی، دینی اور عملی نظام کی پیروی کرنے کی اشد ضرورت ہے؟
​تاریخِ اسلام اس حقیقت پر گواہ ہے کہ مسجد صرف پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا زندہ و جاوید ادارہ ہے، جو انسان کے دینی، اخلاقی، سماجی، تعلیمی اور دنیاوی، تمام تر معاملات کا گہوارہ اور حل فراہم کرنے کا مرکز ہوا کرتا تھا. مساجد سے معاشی حل، خاندانی تنازعات کے تصفیے، نوجوانوں کی فکری رہنمائی اور معاشرتی ناانصافیوں کے سدّباب کے لیے واضح حکمتِ عملی تیار کی جاتی تھی. مگر افسوس ناک المیہ یہ ہے کہ، آج کے دور میں جہاں انسانوں کے مسائل اور ذہنی اُلجھنیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں، وہیں مساجد سے ان کا عملی سدّباب مکمل طور پر مفقود ہو چکا ہے. مساجد کو محض چند منٹوں کے لیے کھولنے اور پھر تالے لگا دینے کی رسم نے ان کی اس عالمگیر و عملی حیثیت کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، اور اگر کہیں کوئی بیدار دل عالم بولنا یا اصلاح کی بنیاد رکھنا بھی چاہے تو مصلحت پسندی اور ملازمت سے برطرف ہونے کا خوف اس کے قدم روک لیتا ہے.
​جب ہم مساجد اور دینی اداروں کی اس موجودہ صورت حال پر تنقیدی اور اصلاحی نظر ڈالتے ہیں تو، ایک دردناک منظر سامنے آتا ہے. علمائے کرام بلا شبہ انبیاء کے وارث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے قول و فعل کے تضاد نے عام مسلمانوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے. منبر پر چڑھ کر اخلاق اور قربِ الٰہی پر بیانات تو دیے جاتے ہیں، مگر جب مساجد کے انتظامی نقائص یا ٹرسٹیز کے غیر شرعی رویّوں کی بات آتی ہے تو، نوکری کا خوف آڑے آجاتا ہے. دوسری طرف مساجد کے ٹرسٹیز کا حال یہ ہے کہ وہ مساجد کو عبادت گاہوں اور حلِ مشکلات کے مراکز کے بجائے کارپوریٹ اداروں کی طرح چلاتے ہیں، اور ائمہ کو محض ایک معمولی اور ماتحت ملازم تصوّر کرتے ہیں۔ من مانی، وعدہ خلافی اور اصلاح کی بات کرنے والوں کو دھمکانے کا یہ رویہ نہ صرف اخلاقی پستی کا مظہر ہے بلکہ اس سے مسلمانوں کا اپنے دینی اور دنیاوی نظام پر سے اعتماد بھی اٹھ رہا ہے.
​علماء کرام کے مقام اور ان کی وراثت کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمانِ مبارک مشعلِ راہ ہے جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ” (سنن ابی داؤد: 3641، جامع ترمذی: 2682)، یعنی "بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء (علیہم السلام) نے وراثت میں دینار و درہم (مال و دولت) نہیں چھوڑے، بلکہ انہوں نے وراثت میں علم چھوڑا ہے. پس جس نے اس (علم) کو حاصل کرلیا، اس نے (میراثِ نبوی سے) بہت بڑا حصہ پالیا. ” اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ، وراثتِ انبیاء محض کسی اعزاز، جبہ و دستار یا خشک دینی معلومات کا نام نہیں ، بلکہ یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے. جیسے کوئی وارث اپنے اسلاف کے وعدوں اور قرضوں کا پاس رکھتا ہے، ویسے ہی سچے عالم کا اصل سرمایہ اس کا تقویٰ، عمل، سچائی اور باطل کے سامنے بے باک حق گوئی ہے. اگر علمی صلاحیت کے باوجود کوئی مصلحت پسندی یا بُزدلی کا شکار ہو جائے، تو اس کا وراثتِ نبوی پر دعویٰ ناقص رہ جاتا ہے. حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ حق کو شخصیات سے نہ پہچانو، بلکہ حق کو پہچانو تو، حق والے خود بخود پہچان لیے جائیں گے.
​اس سنگین المیے اور معاشی گھُٹن کا حقیقی اور پائیدار حل ایک باضابطہ اور مستحکم انتظامی و معاشی نظام کے قیام میں چھُپا ہے، تاکہ علمائے کرام کسی شخصِ واحد یا مقامی ٹرسٹ کے دباؤ سے آزاد ہوکر بلا خوف و خطر دینِ حق کی رہنمائی کرسکیں اور مساجد کو ان کا کھویا ہوا ہمہ جہت رول واپس دلا سکیں۔ اس کے لیے سب سے بنیادی اور لازمی اقدام ہر شہر اور ہر ضلع کی سطح پر ایک "مرکزی وقف و اوقاف بورڈ” کی تشکیل ہے. اس نظام کے تحت شہر اور ضلع کی تمام مساجد، ان کی دکانیں، اوقافی املاک اور عوام کی طرف سے دیے جانے والے عطیات و چندہ جات کو فردِ واحد یا مقامی ٹرسٹیز کی ذاتی تحویل سے نکال کر اس مرکزی ضلعی بورڈ کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہیے۔ مقامی کمیٹیوں کے پاس ائمہ و مؤذنین کی تنخواہیں طے کرنے یا انہیں من مانے طریقے سے برطرف کرنے کا اختیار بالکل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ تمام مالیاتی اُمور اس مرکزی ضلعی اوقافی خزانے سے سنبھالے جائیں، جہاں سے ائمہ کو کسی بھیک یا احسان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک معزز اور یکساں نظام کے تحت ماہانہ وظائف اور تنخواہیں مُنتقل کی جائیں.
​اس مرکزی ضلعی اوقافی بورڈ کے تحت علمائے کرام کے لیے پروویڈنٹ فنڈ (PF) اور دیگر معاشی مراعات کا ایک شاندار اور شفاف طریقہ کار قائم کیا جانا چاہیے. اس کی عملی صورت یہ ہونی چاہیے کہ جس طرح تمام سرکاری اور پیشہ ورانہ اداروں میں پروویڈنٹ فنڈ کا اکاؤنٹ ہوتا ہے، اسی طرح ضلعی وقف بورڈ کے زیرِ اہتمام ہر امام اور مؤذن کا ایک باضابطہ پی ایف اکاؤنٹ کھولا جائے۔ *ائمہ کی ماہانہ تنخواہ میں سے ایک مخصوص تناسب (مثلاً دس فیصد) اس اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے اور اتنی ہی مساوی رقم مرکزی ضلعی وقف فنڈ کی طرف سے اس میں ملا کر شامل کی جائے*، تاکہ وقت کے ساتھ ان کا ایک مضبوط مالیاتی اثاثہ قائم ہوسکے. اس کے ساتھ ہی، تمام ائمہ اور ان کے اہل خانہ کے لیے ہیلتھ انشورنس اور میڈیکل کارڈز جاری کئے جائیں تاکہ بیماری یا ناگہانی آفت کی صورت میں انہیں کسی ٹرسٹی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے.اسی تناظر میں ائمہ و مؤذنین کے معاشی حقوق اور سروس کے اختتام پر ملنے والے مالیاتی فوائد (End of Service Benefits) کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ آف انڈیا کا فیصلہ ایک باضابطہ، تاریخی اور قانونی سند فراہم کرتا ہے. سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے "آل انڈیا امام آرگنائزیشن بمقابلہ یونین آف انڈیا” (All India Imam Organisation & Ors vs Union Of India & Ors – 13 May 1993) کے معروف و تاریخی مقدمے میں یہ حتمی فیصلہ دیا تھا کہ، ائمہ محض رضاکارانہ یا مُفت خدمات انجام دینے والے افراد نہیں ہیں، بلکہ وہ آئینِ ہند کے دفعہ 21 (Article 21 – انسانی وقار کے ساتھ جینے کا حق) کے تحت ایک باوقار اور معقول معاوضے کے مکمل حق دار ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے وقف ایکٹ کی دفعہ 15 کا حوالہ دیتے ہوئے وقف بورڈز کو پابند کیا کہ، وہ تمام مساجد کے ائمہ کے لیے باقاعدہ تنخواہوں، وظائف اور مالی تحفظ کی اسکیمیں مُرتّب کریں. اسی قانونی سلسلے کے تحت لیبر اور خدمت القوانین، بشمول پیمنٹ آف گریچوئٹی ایکٹ 1972 (Payment of Gratuity Act) کا یہ بنیادی قاعدہ لاگو ہوتا ہے کہ، خواہ کوئی امام یا مؤذن کسی مسجد میں مستقل بنیادوں پر خدمت انجام دے رہا ہو یا عارضی و معاہداتی طور پر، اگر اس نے مسلسل پانچ سال یا اس سے زائد کا عرصہ خدمت کی ہے، تو وہ ملازمت ختم ہونے، ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ کی صورت میں گریچوئٹی اور تمام الخدمتی مالی فوائد (End of Service Benefits) حاصل کرنے کا قانونی طور پر مستحق ہے. سپریم کورٹ کا یہ تاریخی فیصلہ ضلعی اوقافی بورڈز کے لیے ایک زبردست قانونی سند کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت طویل خدمات انجام دینے والے ائمہ کو گریچوئٹی، پی ایف اور ریٹائرمنٹ کے بعد وظیفہ عزت و احترام کے ساتھ دیا جا سکتا ہے.
​ان اصلاحات کو عملاً نافذ کرنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی اپنی ذمّہ داری نبھانی ہوگی۔ عوام کو چاہیے کہ وہ امامِ مسجد کو محض ایک نوکر یا خادم سمجھنے کے بجائے اپنا واقعی دینی پیشوا اور قائد تسلیم کریں، اور حق بات کہنے پر اُن کی پُشت پناہی کریں۔ دوسری طرف خود علمائے کرام کو بھی اپنے اندر اخلاقی پختگی، قول و فعل کا اتحاد، اور جدید علوم یعنی سائنس، معاشیات اور نفسیات کی روشنی میں نئی نسل کے پیچیدہ دنیاوی مسائل کے حل اور رہنمائی کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ ضلعی سطح پر علماء کا ایک غیر جانبدار احتسابی و تربیتی بورڈ بھی قائم ہونا چاہیے، جو ان کے علمی و اخلاقی معیار کی نگرانی کرے اور مسلکی تفریق سے اوپر اُٹھ کر اتحاد کو فروغ دے. جب ضلع کا مرکزی وقف بورڈ ائمہ کو معاشی تحفظ، پی ایف اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تمام سروس بینیفٹس فراہم کرے گا، تو ائمہ کسی بھی ٹرسٹی کے دباؤ سے آزاد ہو کر محض اللہ کے لیے حق کا پرچم بلند کر سکیں گے، مساجد دینی و دنیاوی مسائل کا حقیقی مرکز بنیں گی، اور یوں منبر و محراب کا کھویا ہوا وقار اور مشکل کشائی کا کمیونٹی سنٹر بنے گا اور مسلمانوں کا اعتبار اور اعتماد دوبارہ بحال ہوجائے گا. اس مضمون کو لکھنے کا مقصد، اس کو دائرہ عمل میں لانے کے لئے، بااثر اور بافہم افراد کو سمجھنا ہے اور دوسروں کو سمجھانا ہے. اللہ سے دعا ہے کہ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ. اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا، وَاهْدِنَا لِسَبِيلِ الرَّشَادِ.
اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَى أَدَاءِ الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا، وَوَفِّقْنَا لِلْعَدْلِ وَالإِخْلَاصِ فِي القَوْلِ وَالعَمَلِ.
اللَّهُمَّ احْفَظْنَا مِنَ الخِيَانَةِ، وَالمَصْلَحَةِ الذَّاتِيَّةِ، وَظُلْمِ العِبَادِ، وَاجْعَلْ أَعْمَالَنَا كُلَّهَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الكَرِيمِ.

Related posts

ओवेसी बंधु झूठे नाटककार और भावुकतावादी हैं

Paigam Madre Watan

نہ جانے کیا کمی رہ گئی ہمارے اخلاق میں صاحب

Paigam Madre Watan

اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، محبوب نہیں رکھتا،کیا آپ ظالم ہیں؟

Paigam Madre Watan