Articles مضامین

جامعہ سلفیہ بنارس میں جا کر عالمِ اوّل دوبارہ کیوں پڑھا؟ ایک دلچسپ، خوشگوار اور سبق آموز تاریخی سرگزشت

بسم اللہ الرحمان الرحیم‌
✍️ ابوالبیان رفعت سلفی
الحمد للہ! میری اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں میرے والدِ محترم نے دو عظیم دینی اداروں پر غور کیا تھا: ندوۃ العلماء، لکھنؤ اور مرکزی دارالعلوم جامعہ سلفیہ، بنارس۔ آخرکار انہوں نے جامعہ سلفیہ بنارس کو ترجیح دی، کیونکہ ان کے نزدیک وہاں علومِ حدیث، علومِ تفسیر اور منہجِ سلف کی نہایت مضبوط، منظم اور تحقیقی تعلیم دی جاتی تھی۔ بعد میں مجھے بارہا احساس ہوا کہ ان کا یہ فیصلہ میرے علمی مستقبل کے لیے نہایت دور اندیش ثابت ہوا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جامعہ سلفیہ میں میرا داخلہ بلا کسی سفارش یا ذریعے کے مطلوبہ جماعت عالمِ ثانی میں ہو گیا۔ داخلہ امتحان کے دوران استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ عزیز الرحمن سلفی حفظہ اللہ نے تفسیر جلالین اور دیگر کتب سے متعلق میرے برجستہ اور اطمینان بخش جوابات سن کر داخلے کی منظوری کی طرف واضح اشارہ فرما دیا۔
داخلہ تقریباً یقینی ہو چکا تھا، لیکن پھر ایک ایسا سوال ہوا جس نے میری علمی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔
شیخ محترم نے دریافت فرمایا:
«”مشکوٰۃ المصابیح کتنی پڑھ کر آئے ہو؟”»
میں نے بلا جھجھک عرض کیا:
«”شیخ! گزشتہ سال جامعہ سراج العلوم کنڈؤ بونڈیہار میں ایک عظیم کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اساتذۂ کرام کی غیر معمولی مصروفیات کی وجہ سے ہم مشکوٰۃ المصابیح کے صرف 67 صفحات ہی پڑھ سکے۔”»
یہ سن کر شیخ عزیز الرحمن سلفی حفظہ اللہ نے نہایت شفقت سے فرمایا:
«”آپ عالمِ ثانی میں جانے کے بجائے ایک سال عالمِ اوّل دوبارہ پڑھ لیجیے، کیونکہ ہمارے جامعہ میں مشکوٰۃ المصابیح پوری شرح، تفصیل اور اطمینان کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے۔”»
یوں محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل کی دیرینہ خواہش شیخ محترم کی زبان سے پوری کرنے کا فیصلہ فرما دیا ہو، کیونکہ میری آرزو تھی کہ مشکوٰۃ المصابیح کو ابتدا سے انتہا تک شرح و تحقیق کے ساتھ پڑھوں۔ چنانچہ میں نے بغیر کسی تردد کے عالمِ اوّل دوبارہ پڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔ بظاہر یہ ایک سال پیچھے جانا تھا، مگر حقیقت میں یہی فیصلہ میرے علمی سفر کی سب سے قیمتی بنیاد ثابت ہوا۔
مشکوٰۃ المصابیح کی یادگار کلاسیں
عالمِ اوّل میں مشکوٰۃ المصابیح کے ہمارے استاذ محترم مولانا مستقیم سلفی حفظہ اللہ تھے۔ آپ علمِ حدیث کے عاشق، نہایت محنتی اور طلبہ کے لیے بے حد مخلص استاد تھے۔ اگر نصاب کے مطابق کتاب مکمل ہونے میں تاخیر کا اندیشہ ہوتا تو صرف مقررہ کلاسوں پر اکتفا نہ کرتے، بلکہ نمازِ فجر کے بعد اور نمازِ مغرب کے بعد بھی اضافی درس دیتے، تاکہ پوری مشکوٰۃ المصابیح مکمل ہو جائے۔
آپ کا اندازِ تدریس ایسا تھا کہ آج بھی دل میں تازہ ہے۔ حدیث کا لفظ بہ لفظ ترجمہ فرماتے اور ہر لفظ کا حق ادا کرتے۔ خاص طور پر حدیثِ شفاعت میں جب ہر نبی علیہ السلام یہ فرمائیں گے:
««لستُ أنا لها»»
تو شیخ محترم اس کا ترجمہ بڑے ذوق سے کرتے:
«”میں نہیں ہوں اس کا والا۔”»
یہ مختصر سا جملہ اس انداز سے ادا کرتے کہ گویا قیامت کا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا۔
اسی طرح صحابۂ کرام کے "قال” کا ترجمہ ہمیشہ "کہا” اور رسول اللہ ﷺ کے "قال” کا ترجمہ "فرمایا” کرتے تھے۔ بظاہر یہ معمولی فرق تھا، مگر اسی سے دل میں مقامِ نبوت کا ادب راسخ ہوتا چلا گیا۔
آپ صرف ترجمہ اور تشریح ہی نہیں کرتے تھے بلکہ تعارض و تطبیق، استنباط و استدلال جیسے علمی مباحث بھی بڑی تفصیل سے لکھواتے تھے۔ ان نکات کو قلم بند کرتے کرتے میری کئی کاپیاں بھر گئیں۔ الحمد للہ! ان نوٹس کے فوائد آج بھی اپنی تدریسی، تحقیقی اور دعوتی زندگی میں محسوس کرتا ہوں۔
سادگی بھی آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ ذرا سی سردی محسوس ہوتی تو چادر اوڑھ کر اور مفلر لپیٹ کر درس کے لیے تشریف لاتے، لیکن تدریس کے ذوق اور انہماک میں کبھی کمی نہ آتی۔
اللہ تعالیٰ شیخ محترم کو صحت و عافیت، عمرِ بابرکت عطا فرمائے، ان کی تمام دینی، علمی اور تدریسی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
ایک سال پیچھے… کئی سال آگے
آج جب ماضی کے اوراق پلٹتا ہوں تو دل بے اختیار اس فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اس وقت اگر میں صرف ایک جماعت آگے بڑھنے کی فکر کرتا تو شاید علمِ حدیث کی وہ مضبوط بنیاد کبھی نصیب نہ ہوتی جو بعد کی پوری علمی، تدریسی اور دعوتی زندگی کا سرمایہ بن گئی۔
واقعی، زندگی میں بعض اوقات انسان جس چیز کو وقتی نقصان سمجھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی کو اس کے لیے دائمی فائدے کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔
بعض فیصلے ایک سال کا اضافہ نہیں کرتے، بلکہ پوری زندگی کی سمت متعین کر دیتے ہیں۔

Related posts

اویسی عمران پرتاپ گڑھی کے سامنے بونے

Paigam Madre Watan

عبیداللہ خان اعظمی کا قوم کے غداروں پر چشم کشا بیان

Paigam Madre Watan

असद ओवेसी की कारनामे, जो कम ही लोग जानते हैं

Paigam Madre Watan