Articles مضامین

شکرانے کا دن

سنت راجندر سنگھ جی مہاراج


امریکہ میں ‘ تھینکس گیونگ ڈے’ کی اپنی اہمیت ہے۔ اس دن کو یورپ اور دیگر ممالک کے لوگوں نے امریکہ کے لوگوں کی مدد کے لیے شروع کیا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ دن ‘ تھینکس گیونگ ڈے’ کے نام سے مشہور ہوا۔ کئی بار جب ہمیں کسی سے کچھ ملتا ہے تو ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ چاہے وہ ہمارے خاندان، دوستوں، اساتذہ، معاشرے اور ملک سے ہو۔ اس کے علاوہ ہمیں ملنے والے تمام تحائف کے لیے بھی ہم اوپر والے کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اپنی زندگی میں سب سے پہلے ہمیں خداکا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس نے ہمیں یہ انسانی جسم دیا ہے۔ صرف اس جسم میں ہی ہم اپنے آپ کو جان سکتے ہیں اور خدا باپ کو پا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہماری زندگی میں بہت سی نعمتیں عطا کی ہیں۔ اگر ہم صحت مند زندگی گزار رہے ہیں تو ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ اگر ہمیں روزانہ کھانا مل رہا ہے تو اس پر بھی خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ بہت سے لوگوں کو دو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ہوتا۔ اگر ہم دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں اور بول سکتے ہیں تو ہمیں اس پر بھی پروردگا ر کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں اور نہ بول سکتے ہیں۔ اگر ہم مالی طور پر خوشحال ہیں تو ہمیں اس پر بھی خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ غربت کی وجہ سے ہمیں زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے ہیں تو ہمیں اس پر بھی پروردگا ر کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ بہت سے لوگ یتیم ہیں۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں خدا کی بے پناہ رحمت ہے، لہٰذا ہمیں نہ صرف تھینکس گیونگ ڈے پر بلکہ ہر روز خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ تھینکس گیونگ ڈے پر، آئیے ہم اپنے آپ کو صرف خدا کا شکر ادا کرنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس دن یہ عہد بھی کریں کہ ہم خدا کی طرف سے ملنے والی خوشیوں کو سب کے ساتھ بانٹیں گے اور دوسروں کی خدمت کریں گے۔ ہم جسمانی، ذہنی اور مالی طور پر کئی طریقوں سے اپنا تعاون دے سکتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی بے لوث مدد کرنی چاہیے۔ اگر کوئی بیمار ہے تو ہم اس کی جسمانی مدد کر سکتے ہیں۔ اگر کسی کو ذہنی پریشانی ہے تو ہم اسے سمجھا کر اس کی مدد کرسکتے ہیں اور اگر کوئی مالی بحران کا شکار ہے تو ہم اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کرسکتے ہیں۔ صرف سنت اور گرو ہی کسی کی روحانی مدد کر سکتے ہیں کیونکہ وہ مراقبہ اور مشق کے ذریعے لوگوں کو خدا کی روشنی اور آواز سے جوڑتے ہیں۔ وہ اپنی روح کو رب کے ساتھ ملانے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ ایسے متلاشیوں کو جو سچائی اور رب کی خواہش رکھتے ہیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اس مادی دنیا سے بڑھ کر بھی کچھ ہے۔ رب سے ملاقات میں اپنی ترقی کو تیز کرنے کے لیے، وہ شاگرد کو مراقبہ میں بیٹھنے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ وہ اپنی روح کو اس مادی دنیا سے نکال کر سچے گھر، سچکھنڈ میں بھیج سکے۔ تو آؤ! تھینکس گیونگ ڈے پر، آئیے ہم یہ عہد کریں کہ ہم نہ صرف خدا کا شکر ادا کریں گے جو ہمیں ملی ہیں بلکہ دوسروں کی مدد بھی کریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص کسی چیز سے محروم نہیں رہے گا۔ ایسا کرنے سے ہم ایک ایسی دنیا بنانے میں مدد کریں گے جس میں محبت، دوسروں کو دینا، اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ہر شخص ایسی زندگی گزارنے کا عہد کر لے تو ہم دیکھیں گے کہ وہ دن دور نہیں جب اس زمین پر مملکت خداداد قائم ہو گی۔

Related posts

کیا اب کسی” تیسری تبلیغی گروپ” کی ضرورت بھی آن پڑی ہے،جس کا تعلق ‘دونوں گروپوں’ سے ہو؟

Paigam Madre Watan

سعودیہ سے بغض کی وجہ کچھ سوا ہے

Paigam Madre Watan

دولت اور صحت کی بربادی

Paigam Madre Watan

Leave a Comment