Blog

ساحلِ ہند (کوکن) کے گمنام مسلم مجاہدین آزادی ! : مفتی اشفاق قاضی

ساحلِ ہند (کوکن) کے گمنام مسلم مجاہدین آزادی !

WhatsApp Image 2026-04-15 at 11.27.28 AM.jpeg
مفتی اشفاق قاضی
۱۵/اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستانیوں کی مسلسل جدوجہد اور برسوں کی قربانیوں کے بعد اس ملک کو برطانوی سامراج کی غلامی سے نجات ملی، یہ آزادی کسی ایک شخص، جماعت یا طبقے کی مرہونِ منت نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے اس سرزمین کے لاکھوں انسانوں کی قربانیاں شامل تھیں، کتنے نوجوان پھانسی کے پھندے پر جھول گئے، کتنے قید خانوں میں سڑتے رہے، کتنے گھروں کے چراغ گل ہوگئے، کتنی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے اور کتنی عورتوں کے سہاگ اجڑ گئے، مگر آزادی کے متوالوں کے قدم نہ رکے، پلاسی اور بکسر سے لے کر میرٹھ، دہلی، شاملی، بھیونڈی، بمبئی اور ملک کے دوسرے علاقوں تک مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ہمارے سامنے ہے، نواب سراج الدولہ سے شیرِ میسور ٹیپو سلطان اور بعد کے مجاہدین آزادی تک ہندوستانیوں نے اپنے اپنے انداز میں فرنگی اقتدار کے خلاف آواز اٹھائی، علماء نے بھی اپنی ذمہ داری محسوس کی؛ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فکری بیداری سے لے کر شیخ الہند مولانا محمود حسن اور مولانا حسین احمد مدنی کی جدوجہد تک آزادیِ وطن کے لیے قربانیوں کی ایک روشن تاریخ موجود ہے، یہ جنگ کسی ایک مذہب یا طبقے کی جنگ نہیں تھی، بلکہ ہندوستان کے مختلف طبقات نے اپنے اپنے انداز میں اس میں حصہ لیا، آزادی کی جدوجہد کی اصل روح ہندوستان کو غلامی سے نجات دلانا اور یہاں بسنے والے تمام لوگوں کے لیے عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل کرنا تھی، مہاراشٹر کا ساحلی علاقہ کوکن بھی اس جدوجہد میں خاموش تماشائی نہیں تھا، رتناگیری، رائے گڑھ، تھانے، پالگھر، پنویل، ممبئی اور سندھودرگ تک پھیلا یہ خطہ جغرافیائی اعتبار سے ہمیشہ اہم رہا ہے، سمندر سے وابستگی کے باعث یہاں کے لوگوں کا تجارت، جہاز رانی، ماہی گیری اور بیرونِ ملک آمد و رفت سے گہرا تعلق تھا، یہی وجہ ہے کہ بیرونی اقتدار اور اس کے اثرات کو یہاں کے لوگوں نے قریب سے محسوس کیا، تحریکِ خلافت، عدم تعاون ، نمک ستیہ گرہ، کھادی تحریک، سمیت دیگر قومی تحریکوں کے دوران پنویل، مروڈ، مہاڈ، کھیڈ، شری وردھن، رتناگیری اور کوکن کے دوسرے علاقوں میں سیاسی بیداری پیدا ہوئی اور مسلمانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، آزادی کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسے عموماً چند معروف ناموں تک محدود کردیا، گاندھی، نہرو، آزاد، پٹیل، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللہ خان اور دوسرے معروف مجاہدین اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، لیکن ان کے پیچھے ہزاروں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اپنی زندگی، مال، وقت اور آرام کو آزادی کی جدوجہد کے لیے وقف کردیا تھا، کوکن کے مسلم مجاہدین بھی اسی سرفروش قافلے کا حصہ تھے، جن میں سے بیشتر کے نام قومی تاریخ کے صفحات میں جگہ نہ پاسکے، آزادی کی تاریخ میں کوکن کے ایسے متعدد مسلم مجاہدین بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنے وقت کے حالات کے مطابق تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، جیلیں کاٹیں، احتجاج کیا، عوام میں بیداری پیدا کی اور بعض نے انگریز حکومت کے مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچانے جیسے خطرناک اقدامات بھی کیے، ان میں سے کئی نام آج قومی تاریخ کے بڑے بیانیے میں گم ہوچکے ہیں، مگر مقامی تاریخ اور روایات میں ان کی جدوجہد کے نقوش اب بھی موجود ہیں ان ہی میں ۲۱ مسلم مجاہدین کا مختصر تعارف یہاں پیش ہے۔
(۱) علی میاں ہمدولے: بورلی مانڈلہ، تعلقہ مروڈ جنجیرہ، رائے گڑھ کے رہنے والے تھے۔ ۹ اگست ۱۹۴۲ کو قانون شکنی کے دوران پولیس کی گولی کا نشانہ بنے مگر محفوظ رہے، ۱۹۴۵ میں جنجیرہ میں پرجا پریشد قائم کرکے انگریز حکومت کے خلاف تحریک چلائی اور حکومت مخالف مضمون لکھنے پر گرفتار ہوئے، (۲) حسین بابا قاضی: کڑوئی، ضلع رتناگیری سے تعلق تھا، علاقے میں قائدانہ حیثیت رکھتے تھے اور انگریزی اقتدار سے سخت نفرت کرتے تھے۔ انگریز سامراج کے خلاف مختلف تحریکوں میں پیش پیش رہے، (۳) محمد اسحاق بھومبل: راجیواڑی، مہاڈ کے رہنے والے تھے،  اسکول کے زمانے ہی سے انگریزوں کے خلاف جذبہ پیدا ہوگیا تھا اور آزادی کی مختلف تحریکوں میں سرگرمی سے حصہ لیتے رہے ، (۴) اسماعیل کھوتو (بینڈوکاپڑی): راجیواڑی، مہاڈ سے تعلق تھا،  جدوجہدِ آزادی میں فعال کردار ادا کیا اور ان کی قیادت میں کئی نوجوان حریتِ ہند کی تحریک سے وابستہ ہوئے، (۵) ایل ایم پٹھان: اصلاً افغانستان سے تعلق تھا، بعد میں تھانہ ضلع میں سکونت اختیار کی، ۱۹۴۲ کی تحریک میں شامل ہوئے، محکمۂ جنگلات میں ملازمت کے ساتھ رات کے وقت ٹیلی فون کے تار کاٹنے اور بجلی کے کھمبے اکھاڑنے جیسے اقدامات کرکے انگریزوں کے مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچاتے رہے، جس کے باعث ’’جنگلی والے پٹھان بابا‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے ، (۶) عبدالرحمان ابراہیم ساونت (عبدو ساونت): راجیواڑی، مہاڈ سے تعلق تھا، طالب علمی ہی سے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے، کھادی تحریک سے متاثر ہوئے اور کانگریس کے سرگرم کارکن کی حیثیت سے آزادی کی تحریک کے جلسوں اور جلوسوں میں شریک رہے ، (۷) یوسف ملا احمد پرکار: مجاہدِ آزادی جرمن پرکار کے بڑے بھائی تھے، کانگریس کے متحرک رکن اور آزادی کی جدوجہد کے سرگرم کارکن رہے، متعدد مرتبہ جیل گئے، لیکن حریت کا جذبہ کم نہیں ہوا، (۸) ابو صاحب موڈک: کڑوئی، رتناگیری سے تعلق تھا،  بھارت چھوڑو تحریک میں حصہ لینے پر چھ ماہ قید ہوئے اور کھادی تحریک میں شرکت کے باعث بھی بارہا جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، (۹) عبدالرحمن بابا جان قبلے کا مروڈ جنجیرہ سے تعلق تھا، مہاراشٹر مکتی سنگرام میں نمایاں کردار ادا کیا اور ریاستِ جنجیرہ کو حکومتِ ہند میں شامل کرنے کی تحریک میں بھی پیش پیش رہے، (۱۰) باوا سیٹھ پانساری: مہاڈ، رائے گڑھ کے رہنے والے تھے، مہاڈ میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ وابستہ رہے اور تحریکِ آزادی میں مسلسل سرگرم کردار ادا کیا، (۱۱) کمال صاحب شیخناگ: کمبلہ، مہاڈ، ضلع رائے گڑھ سے تعلق تھا، آزادی کی  مختلف تحریکوں میں شرکت کے ساتھ نوجوانوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کام کیا، (۱۲) محمود علی خان دیشمکھ: توڑیل، تعلقہ مہاڈ، ضلع رائے گڑھ سے تعلق تھا،  آزادی کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ملک و ملت کے لیے قربانی دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہے، (۱۳) محمد حسین فجندار: وہور، تعلقہ مہاڈ، ضلع رائے گڑھ کے رہنے والے تھے،  ۱۹۲۱ کی تحریکِ خلافت میں مولانا شوکت علی کی آمد کے موقع پر تحریک سے وابستہ ہوئے، بدیسی تحریک اور بھارت چھوڑو تحریک میں حصہ لیا، برطانوی حکومت کا دیا ہوا ’’خان صاحب‘‘ کا خطاب بھی واپس کردیا،  ۱۹۲۷ میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے بھی ان کے گھر ناشتہ کیا تھا، (۱۴) بھائی میاں احسانے: احسانے، کانبلہ، تعلقہ مہاڈ سے تعلق تھا، آزادی کی تحریک میں قوم و ملت کی خدمات انجام دیں اور انجمن حمایت الاسلام اردو ہائی اسکول کا قیام ان کی اہم خدمات میں شمار ہوتا ہے، (۱۵) اصغر ابراہیم شیخ: پنویل سے تعلق تھا، کم عمری ہی میں تحریکِ آزادی میں شامل ہوئے اور گاندھی جی کی نمک ستیہ گرہ میں حصہ لیا، گرفتاری کے بعد معافی مانگ کر رہائی حاصل کرنے سے انکار کردیا، اور علی باغ، یروڈہ اور ویساپور جیلوں میں برسوں قید رہے، (۱۶)حاجی عبداللطیف محمد فقیہ آرائی: آپ کا آبائی گاؤں تاڑیل، تعلقہ داپولی، ضلع رتناگیری ہے، آپ مسلم لیگ میں شامل ہوکر وطنِ عزیز کی آزادی میں سرگرم رہے،عوام میں بیداری کے لیے گاؤں گاؤں، قریہ قریہ انگریز دشمنی کے بیج بوئے، جامعہ حسینہ شری وردھن کے قیام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا،  تحریکِ آزادی کے گواہوں میں شامل ہیں اور عمر عزیز کے سو سال مکمل کرچکے ہیں، ماشاء اللہ بقیدِ حیات ہیں،  (۱۷) ابراہیم عمر خان دیشمکھ: توڑیل، تعلقہ مہاڈ، ضلع رائے گڑھ کے رہنے والے تھے،  انگریز حکومت سے سخت نفرت رکھتے تھے اور مسلسل آزادی کی جدوجہد سے وابستہ رہے،(۱۸)  یوسف صاحب جولے: کڑوئی، ضلع رتناگیری سے تعلق تھا، بھارت چھوڑو تحریک میں حصہ لیا اور دو مرتبہ جیل گئے، معروف کارٹونسٹ کی حیثیت سے رتناگیری میں انگریز مخالف کارٹون بناکر تحریک کو تقویت دیتے رہے، جس پر گرفتار بھی ہوئے، (۱۹) عبدالحمید تانڈیل: ریونڈا، علی باغ سے تعلق تھا، آزاد اور خودمختار ہندوستان کا خواب دل میں لیے تحریکِ آزادی سے وابستہ رہے،۱۷ جولائی ۱۹۴۷ کو بمبئی سے واپسی کے دوران سمندری حادثے میں انتقال کرگئے، (۲۰) عبدالرحمن پرکار: کرجی، تعلقہ کھیڈ، رتناگیری سے تعلق تھا اور رائل انڈین نیوی میں سیلر تھے،۱۹۴۵ کی فوجی بغاوت میں شریک ہوئے، جس کے نتیجے میں ملازمت سے برطرف کیے گئے، مگر آزادی کا جذبہ ماند نہیں پڑا، (۲۱) حسن اسماعیل منشی: تاڑیل، تعلقہ داپولی، ضلع رتناگیری سے تعلق تھا، بچپن میں جنوبی افریقہ سے یہاں منتقل ہوئے،تحریکِ آزادی میں حاجی عبداللطیف صاحب کے ساتھ سرگرم رہے، مختلف بہادرانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا اور کئی مواقع پر حفاظتی دستے کا کردار بھی ادا کیا۔
یہ ۲۱ نام کوکن کے مسلم مجاہدینِ آزادی کی مکمل فہرست نہیں بلکہ ایک ابتدائی تاریخی دریچہ  تصور کرسکتے ہیں، ان کے علاوہ بھی کئی گمنام مجاہدین آزادی ہیں، لہذا آزادی کی تاریخ کے ان گمنام کرداروں کو تلاش کرنا ابھی باقی ہے، اس سلسلے میں ہفت روزہ کوکن کی آواز نے اپنے طور پر کوششیں سے بھی کی تھیں اور ایگزیبیشن کا انعقاد بھی کیا تھا، لیکن اسے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، کوکن کے اداروں اور تنظیمیوں کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں سنجیدگی سے غور کریں، کیونکہ رتناگیری، چپلون، رائے گڑھ، مہاڈ، مروڈ، پنویل، علی باغ، داپولی، کھیڈ، تھانے، پالگھر اور دوسرے علاقوں میں ایسے نہ جانے کتنے خاندان، مقامی روایتیں، پرانے اخبارات، جیل کے ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور ذاتی محفوظات موجود ہوں گے جو ان گمنام مجاہدین کی داستان سنانے کے منتظر ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل صرف معروف مجاہدین کے نام یاد نہ کرے بلکہ اپنے اپنے علاقے کی تاریخ کو بھی تلاش کرے، بزرگوں سے روایتیں جمع کرے اور پرانے ریکارڈز کو محفوظ کرے، ہوسکتا ہے ان کوششوں سے آزادی کی تاریخ کے ایسے کئی صفحات سامنے آجائیں جن پر ابھی تک گردِ فراموشی جمی ہوئی ہے، تاریخ صرف ماضی پر فخر کرنے کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس سے اپنے وقت کی ذمہ داری کا شعور بھی پیدا ہوتا ہے، ہمارے اسلاف نے ظلم، غلامی اور ناانصافی کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق آواز بلند کی؛ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کی قربانیوں کو محفوظ کریں، ان کی تاریخ نئی نسل تک پہنچائیں اور اپنے معاشرے میں انصاف، دیانت، اخوت اور انسانیت کے اصولوں کو زندہ رکھیں، کوکن کے ان گمنام مسلم مجاہدین کی یاد کو زندہ رکھنا دراصل ہندوستان کی اس مشترکہ تاریخ کو زندہ رکھنا ہے جس کی آبیاری میں ہمارے بزرگوں کا خون اور قربانیاں شامل ہیں۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

Related posts

”تیار ہیں ہم“ کا نعرہ لگا کر کانگریس اقلیتی شعبے نے ’ بھارت جوڑو نیائے یاترا کی کامیابی کے لئے خم ٹھونکا

Paigam Madre Watan

हीरा ग्रुप की जाँच कर रही एसएफआईओ की सूची पर सवालों के बावजूद ईडी प्रॉपर्टीज़ की नीलामी पर कायम

Paigam Madre Watan

پروفیسر ارشاد بیاروی کی والدہ کی تعزیت میں جلسہ

Paigam Madre Watan