Blog

شریعت کی روشنی میں وراثت کے تنازع کا عادلانہ تصفیہ

شریعت کی روشنی میں وراثت کے تنازع کا عادلانہ تصفیہ
image.png

مفتی اشفاق قاضی
انسان اپنی پوری زندگی جس مال و متاع کو اپنے لیے باعثِ اطمینان سمجھ کر جمع کرتا ہے، اکثر اس کی وفات کے بعد وہی مال اس کے وارثوں کے لیے اختلاف، کشمکش اور آزمائش کا سبب بن جاتا ہے، ایسے موقع پر انسان کی نیت، اس کا انصاف، اس کا ایثار اور اس کا خوفِ خدا سب کا امتحان ہوتا ہے، تاریخ کے اوراق ایسے المیوں سے بھرے پڑے ہیں جہاں کل تک ایک ہی آنگن میں پلنے والے بہن بھائی، وراثت کی ایک لکیر کھنچتے ہی ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن گئے، لوگ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اینٹ، پتھر، دکان اور مکان انسان کے ساتھ قبر کی تاریکی میں نہیں جاتے، مگر جائیداد کی ہوس میں کیے گئے ظلم اور قطع رحمی کے گناہ آخرت تک اس کا تعاقب کرتے ہیں،  ربِّ کریم نے اسی لیے میراث کے احکام کلامِ پاک میں خود متعین فرمائے تاکہ بندہ اپنے جذبات اور دنیاوی مفادات کے بجائے اپنے خالق کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، لیکن جب ان احکام سے ناواقفیت یا اپنی بات پر اصرار، ضد اور انا کی روش اپنائی جاتی ہے تو وہی گھر جو کبھی الفت کا گہوارہ تھا، بدگمانی اور ذہنی اذیت کا مرکز بن جاتا ہے، ممبئی کے تاریخی علاقے ناگپاڑہ میں پیش آنے والا یہ سچا واقعہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ جب پیچیدہ ترین خاندانی معاملات میں شریعتِ اسلامیہ کی رہنمائی اختیار کی جائے تو بگڑتے ہوئے حالات بھی سنور سکتے ہیں، خاندان کے ایک نوجوان، محمد مجتبیٰ (فرضی نام)، ایک دیندار، خدا ترس اور ذمہ دار نوجوان ہیں، وہ اپنی اہلیہ، تین بچوں اور والد و والدہ کے ساتھ ایک ہی مکان میں سکونت پذیر تھے، مجتبیٰ نے اپنی جوانی کے ایام یعنی ۲۵ سال کی عمر سے ہی والد صاحب کے ساتھ دکان کے پورے نظام کو سنبھال رکھا تھا اور پچھلے ۱۰-۸ سالوں سے وہ تنِ تنہا کاروبار کو کامیابی سے چلا رہے تھے، ۱۷ اکتوبر ۲۰۲۰ء کو اچانک والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا، چونکہ والد صاحب کو کوئی طویل اور شدید بیماری لاحق نہیں تھی، اس لیے اس ناگہانی صدمے نے پورے گھر کو ہلا کر رکھ دیا، والد کی وفات کے بعد جب ترکے کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو معلوم ہوا کہ مرحوم اپنے پیچھے متفرق قسم کی جائیدادیں چھوڑ گئے ہیں، ورثاء میں بیوہ والدہ، اکلوتا بیٹا (مجتبیٰ) اور تین شادی شدہ بہنیں شامل تھیں،  بعض فطری جذبات، مختلف آرا ءاور اپنے اپنے حقوق کے تصور کی وجہ سے خاندان میں ذہنی خلجان اور کشیدگی پیدا ہونے لگی، خاندانی معاملات میں بعض اوقات جذباتی وابستگیاں اور باہمی غلط فہمیاں ایسی صورت اختیار کر لیتی ہیں کہ معمولی اختلاف بھی بڑا مسئلہ بن جاتا ہے،  ایسے حالات میں تحمل، وسعتِ ظرفی اور شریعت کی رہنمائی ہی خاندانوں کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے، جب اس صورتِ حال کو سلجھانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو محمد مجتبیٰ نے جامع مسجد بمبئی کا رخ کیا، ۲۹ جنوری ۲۰۲۱ء کو وہ جامع مسجد تشریف لائے اور اپنے خاندانی حالات اور جائیداد کی مکمل تفصیلات پیش کرتے ہوئے شریعت کے مطابق حل کے طالب ہوئے، ان کے والد صاحب کے ترکے کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا تو (۱)  بلڈنگ کی ری ڈیولپمنٹ میں ملنے والے دو مشترکہ فلیٹس (فلیٹ نمبر ۵۰۱اور ۵۰۲ون بیڈروم کچن) جنہیں جوڑ کر ایک بڑا مکان بنایا گیا تھا اور اسی میں پورا خاندان رہائش پذیر تھا،  مارکیٹ کے اعتبار سے ان دونوں کی کل قیمت تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے (۷۵۔۷۵ لاکھ روپے فی فلیٹ) تھی (۲) کرافورڈ مارکیٹ کی ایک اہم تجارتی دکان، جس کی قیمت تقریباً ایک کروڑ روپے تھی ، (۳)  دو چھوٹی چھوٹی کھولیاں ایک ۱۸ لاکھ اور دوسری ۲۰ لاکھ روپے مالیت کی جائیدادیں سامنے آئیں ، اس طرح تمام جائیدادوں کا مجموعی تخمینہ تقریباً تین سے سوا تین کروڑ روپے بنتا تھا،  لیکن جائیدادوں کے کاغذات پر درج ناموں میں کچھ انتشار تھا ، تجارتی دکان والد اور والدہ دونوں کے نام پر تھی؛ فلیٹس میں سے ایک فلیٹ والدہ کے نام اور دوسرا والد کے نام تھا؛ جبکہ دونوں کھولیوں میں سے ایک ایک بہن کے نام اور دوسری کھولی والدہ و دوسری بہن کے نام درج تھی، جبکہ تیسری بہن کے نام پر بظاہر کچھ نہ تھا، دار الافتاء والارشاد میں اس تصفیے کے لیے چار تفصیلی مجالس منعقد  ہوئیں، پہلی مجلس ۲۹ جنوری ۲۰۲۱ء، دوسری مجلس ۱۸ جون ۲۰۲۱ء (بعد نمازِ عصر)، تیسری مجلس ۷ جولائی ۲۰۲۱ء (بروز بدھ)اور چوتھی و آخری مجلس  ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۱ء کو ہوئی، پہلی نشست میں فریقین کو شرعی تناسب واضح کیا گیا کہ قرآنی اصولِ میراث کے مطابق  کہ بیوہ (والدہ) کا حصہ: کل ترکے کا ۱/۸ (ساڑھے بارہ فیصد   تقریباً ۴۰ لاکھ روپے) ، بقیہ ۸۷ء۵ فیصد حصہ اولاد کا ’لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ‘ کے مطابق تقسیم ہوگا ، بیٹا  مجتبیٰ ۳۵ فیصد (تقریباً ۱ کروڑ روپے سے زائد اور تینوں بہنیں: ۱۷ء۵ فیصد فی کس (تقریباً ۶۰-۶۰ لاکھ روپے فی کس کی حقدار ہوں گی، وارثین کو یہ سمجھایا کہ اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی اور باہمی رضامندی اصل روح ہے،  چنانچہ چاروں مجالس کی مسلسل محنت کے بعد درج ذیل عادلانہ اور حکیمانہ حل پر سب کا اتفاق ہوا کہ مجتبیٰ ۲۵ سال کی عمر سے اس دکان پر محنت کر رہے تھے اور وہی کاروبار کے سنبھالنے والے تھے، اس لیے تجارتی دکان مکمل طور پر ان کے اختیار اور ملکیت میں دے دی گئی، دونوں فلیٹس میں سے ایک فلیٹ دو بہنوں کو مشترکہ طور پر دے دیا گیا،  چونکہ اس فلیٹ کی قیمت ان کے متعین شرعی حصے سے کچھ بڑھ رہی تھی، اس لیے انہوں نے خوش دلی سے اضافی رقم اپنی تیسری بہن کو نقد صورت میں دی، ساتھ ہی چھوٹے کمروں (کھولیوں) کی ترتیب اس طرح بنائی گئی کہ تیسری بہن کو ایک کھولی بھی دی گئی، یوں تینوں بہنوں کا بالترتیب ۶۰-۶۰ لاکھ کا حصہ بلا نزاع مکمل ہو گیا، دوسرا فلیٹ (مالیت ۷۵ لاکھ) آدھا بیٹے (مجتبیٰ) اور آدھا والدہ کے حصے میں آیا، والدہ نے اپنے شرعی حصے کی تسلی کے بعد مجلس میں اپنے اس آدھے فلیٹ کو شرعی طور پر اپنے بیٹے کو ہبہ (تحفہ) کرنے پر آمادگی ظاہر کی جبکہ قانونی کاغذات میں اپنا نام برقرار رکھا تاکہ ان کی حیات تک ان کا تحفظ اور احترام قائم رہے اور ان کی وفات کے بعد قانونی و شرعی انتقالِ ملکیت بلا کسی نزاع کے بیٹے ہی کی طرف رہے، بالآخر ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۱ء کو ایک جامع فیملی سیٹلمنٹ ایگریمنٹ  تحریر کیا گیا، جس پر تمام ورثاء نے خوش دلی کے ساتھ دستخط کیے اور فیملی سیٹلمنٹ کا ایگریمنٹ بننے کے بعد تمام تر ملکیتوں کی ترتیب اور انتقالِ ملکیت کے امور بخیر و عافیت مکمل ہوئے،  اس طرح تقریباً ایک سال سے چلا آرہا انتشار اور بدگمانی کا ماحول ایک ہی قلمی دستخط سے الفت و محبت میں تبدیل ہوگیا، تین کروڑ سے زائد کی جائیداد بھی تقسیم ہو گئی اور خاندان کا شیرازہ بھی بکھرنے سے بچ گیاجب انسان اپنے حق کے ساتھ ساتھ دوسرے کے حق کا احترام کرتا ہے تو وراثت اختلاف کا عنوان نہیں رہتی، بلکہ رحمت اور قلبی سکون کا ذریعہ بن جاتی ہے،  یہی شریعتِ اسلامیہ کا آفاقی مزاج ہے، یہی اس کی حکمت ہے، اور اسی میں خاندانوں کی بقا اور معاشرے کی سلامتی مضمر ہے۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

Mufti Ashfaq Kazi
CEO & Founder

Related posts

پہلا دو روزہ کل نیپال مسابقہ حفظ قرآن کریم کا پہلا دن اختتام پذیر 

Paigam Madre Watan

ساحلِ ہند (کوکن) کے گمنام مسلم مجاہدین آزادی ! : مفتی اشفاق قاضی

Paigam Madre Watan

کیا یہی اسلام ہے؟ تبلیغ کے نام پر گھر

Paigam Madre Watan