مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب کی نصیحت پر غور کریں مسلمان
موجودہ حالات میں جذبات نہیں، علم، حکمت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل وقت کی اہم ضرورت
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

موجودہ ہندوستانی حالات میں مسلمانوں کے لیے سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات کے ساتھ ساتھ اپنے الفاظ، تحریروں اور عملی رویّوں پر بھی سنجیدگی سے غور کریں۔ اختلافِ رائے، سیاسی کشمکش اور مذہبی حساسیت کے اس دور میں ایک غیر محتاط جملہ بھی پورے معاشرے کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ اسی پس منظر میں مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب کی یہ نصیحت خاص اہمیت رکھتی ہے کہ مسلمان بولنے اور لکھنے سے پہلے بولنے اور لکھنے کا سلیقہ سیکھیں۔ یہ بات محض زبان و بیان کی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ اس کے اندر ایک بڑی اجتماعی حکمت پوشیدہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں آزادی اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص اشتعال انگیز انداز اختیار کرتا ہے، دھمکی آمیز زبان استعمال کرتا ہے یا ایسے الفاظ بولتا ہے جنہیں آسانی سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاسکے، تو اس کے نتائج صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا مسلم معاشرہ اس کا خمیازہ بھگت سکتا ہے۔
مسلمانوں کے درمیان یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ ہر اشتعال کا جواب اشتعال نہیں ہوتا۔ اگر کسی شخصیت، تنظیم یا سیاسی گروہ کی طرف سے اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں کوئی قابلِ اعتراض بات سامنے آتی ہے تو اس کا جواب دلیل، قانون، تحقیق اور شائستگی کے ساتھ دینا زیادہ مؤثر ہے۔ ”ٹانگیں توڑ دیں گے“، ”آنکھیں پھوڑ دیں گے“ یا اس نوعیت کی دھمکی آمیز زبان کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ایسی زبان نہ صرف اخلاقی طور پر نامناسب ہے بلکہ مخالفین کو مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی غلط بیان کا جواب مستند حوالوں، تاریخی حقائق، آئینی اصولوں اور علمی استدلال سے دیا جائے تو اس کی تاثیر کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں مسلمانوں کو ایک بنیادی اصول یاد رکھنا چاہیے: ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، لیکن جس بات کا جواب ضروری ہو، اس کا جواب درست طریقے سے دینا ضروری ہے۔ ملک میں مذہبی اور سماجی حساسیت سے متعلق بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے بیانات پر شدید ردعمل سامنے آتا ہے، جبکہ بعض دوسرے اشتعال انگیز بیانات پر وہی شدت نظر نہیں آتی۔ اگر واقعی کسی بیان میں کسی مذہب، طبقے یا برادری کے خلاف نفرت، تشدد یا دشمنی کا پیغام موجود ہو تو اصولی طور پر قانون کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے۔ مثلاً کسی مسجد، مذہبی مقام یا مسلم شناخت سے وابستہ تاریخی معاملے کو مبینہ طور پر توہین آمیز انداز میں پیش کرنا ہو یا کسی سیاسی شخصیت کی طرف سے کسی مخصوص آبادی کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کرنا ہو، ایسے معاملات میں جذباتی ردعمل کے بجائے قانونی اور آئینی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ مسلمانوں کو یہ مطالبہ ضرور کرنا چاہیے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو۔ لیکن یہ مطالبہ بھی اسی وقت زیادہ مؤثر ہوگا جب مسلمان خود بھی قانون، آئین اور جمہوری اقدار کی پاسداری کا عملی نمونہ پیش کریں۔
ہندوتو کی سیاست اور نفرت انگیز بیانیے کا مقابلہ کیسے ہو؟ ملک میں ایک خاص سیاسی و نظریاتی حلقے کی جانب سے ہندوتو کے نام پر مذہبی شناخت کو سیاسی بحث کا مرکز بنانے کی کوششوں پر بھی سنجیدہ گفتگو ضروری ہے۔ اگر کسی نظریے یا سیاسی مہم میں مسلمانوں، دلتوں یا کسی دوسرے کمزور طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کی مخالفت ہونی چاہیے، مگر مخالفت بھی تعمیری اور آئینی انداز میں ہونی چاہیے۔ نفرت کا مقابلہ مزید نفرت سے کرنے سے معاشرہ مزید تقسیم ہوگا۔ اس کے بجائے مسلمانوں کو تعلیم، صحافت، قانونی شعور، سیاسی بیداری اور علمی تحقیق کے میدان میں اپنی موجودگی مضبوط کرنی ہوگی۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی ایک فرد کے اشتعال انگیز بیان کو پوری ہندو برادری یا پورے ہندوستانی معاشرے کے خلاف نفرت میں تبدیل کرنا بھی درست نہیں۔ ہندوستان کا سماجی ڈھانچہ بہت متنوع ہے اور مختلف مذاہب، ذاتوں اور نظریات سے تعلق رکھنے والے کروڑوں لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اس لیے کسی مخصوص گروہ کے سیاسی یا نظریاتی رویے کو پورے معاشرے پر منطبق کرنا انصاف نہیں ہوگا۔درگا پوجا یا کسی دوسرے مذہبی تہوار کے دوران کھانے پینے کی روایات سے متعلق بحث بھی کبھی کبھی سیاسی اور مذہبی تنازع کا سبب بن جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں سوشل میڈیا کی افواہوں یا سیاسی دعوؤں کے بجائے متعلقہ مذہبی متون، تاریخی روایات اور معتبر محققین کی آرا کا مطالعہ ضروری ہے۔اگر کسی مسئلے پر سوال اٹھایا جائے تو مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ جذباتی انداز میں فوری فیصلہ سنانے کے بجائے تحقیق کریں۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب کی نصیحت کی اصل روح کو ظاہر کرتا ہے: بات ہو تو علم کے ساتھ، اختلاف ہو تو اصول کے ساتھ اور جواب ہو تو دلیل کے ساتھ۔
ملک میں بعض تاریخی عمارتوں، مساجد اور مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے ہیں۔ ایسے معاملات میں سب سے بنیادی اصول قانون کی بالادستی ہے۔ اگر کسی مقام کے بارے میں کوئی تاریخی یا قانونی دعویٰ ہے تو اسے عدالت اور متعلقہ قانونی اداروں کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔کسی بھی مذہبی مقام کے بارے میں فیصلہ عدالت کے قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے یا سیاسی دباؤ کے ذریعے۔ مسلمانوں کو اپنے مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے قانونی دستاویزات، تاریخی شواہد اور مضبوط قانونی نمائندگی پر توجہ دینی چاہیے۔ مسئلہ صرف بیرونی چیلنجز کا نہیں ہے۔ مسلمانوں کو اپنے اندر موجود کمزوریوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ تاریخ میں قوموں کو بیرونی مخالفت سے زیادہ نقصان بعض اوقات داخلی انتشار، کم علمی، غلط فیصلوں اور باہمی اختلافات سے پہنچا ہے۔ اسی لیے ”میر جعفر“ اور ”میر صادق“ جیسے تاریخی استعاروں کو بار بار دہرانے کے بجائے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آج کے دور میں سیاسی، سماجی اور فکری مفادات کس طرح کام کرتے ہیں۔ کسی شخص کو محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر غدار قرار دینا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ الزامات کے بجائے شواہد اور دلیل کی بنیاد پر گفتگو ہونی چاہیے۔
آج سوشل میڈیا نے معلومات کے پھیلاؤ کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر چند منٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کے لیے قرآن کی اس بنیادی ہدایت پر عمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کہ خبر پہنچنے پر اس کی تحقیق کی جائے۔ تاریخی واقعات کے بارے میں بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔ ہر مشہور قصہ تاریخی حقیقت نہیں ہوتا اور ہر وائرل پوسٹ مستند حوالہ نہیں ہوتی۔ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں، علما، صحافیوں اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ تاریخی دعوؤں کی تحقیق کریں، اصل ماخذ تلاش کریں اور غلط مفروضات کی اصلاح کریں۔ مزاحمت کا مطلب صرف احتجاج نہیں، موجودہ حالات میں ”مزاحمت“ کے مفہوم کو بھی وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ مزاحمت صرف نعرے لگانے، احتجاج کرنے یا سوشل میڈیا پر سخت زبان استعمال کرنے کا نام نہیں۔ علم حاصل کرنا بھی مزاحمت ہے۔ قانون سمجھنا بھی مزاحمت ہے۔ صحافت میں سچ لکھنا بھی مزاحمت ہے۔ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دینا بھی مزاحمت ہے۔ جھوٹی خبر کو آگے نہ بڑھانا بھی مزاحمت ہے۔ اور نفرت کے ماحول میں امن و انصاف کی بات کرنا بھی مزاحمت ہے۔ مسلمان اگر واقعی اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں جذباتی ردعمل کے بجائے اپنی علمی، تعلیمی، معاشی، قانونی اور سیاسی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔
مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب کی نصیحت کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ موجودہ حساس حالات میں مسلمان اپنے الفاظ کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط کریں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان ظلم، ناانصافی یا نفرت انگیزی کے خلاف آواز نہ اٹھائیں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ آواز ایسی ہو جو دلیل رکھتی ہو، زبان ایسی ہو جو وقار رکھتی ہو اور موقف ایسا ہو جو قانون و انصاف کے معیار پر پورا اترتا ہو۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اشتعال انگیزی کے جال کو سمجھیں۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمان جذبات میں آکر ایسا بیان دیں جسے ان کے خلاف استعمال کیا جاسکے، ان کے عزائم کو سمجھنا ہوگا۔ ہر اشتعال کا فوری جواب دینا دانش مندی نہیں؛ بعض اوقات سب سے مضبوط جواب خاموشی، تحقیق، قانونی کارروائی اور مضبوط علمی استدلال ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے مستقبل کو جذبات کے حوالے کریں گے یا علم و حکمت کے حوالے۔ موجودہ حالات میں مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب کی یہ نصیحت اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ مسلمانوں کو خاموش رہنے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر، ذمہ داری کے ساتھ اور دلیل کی طاقت سے بولنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہی طرزِ عمل مسلم سماج کو داخلی کمزوریوں سے نکال کر ایک باوقار، باشعور اور مضبوط شہری معاشرے کی طرف لے جاسکتا ہے۔

