Blog

اشہر ہاشمی: بدلتے موسم کی آہٹ یا بدلتے آدمی کی صدا؟ تحریر ؀ رشیدہ منصوری، ہوڑہ

اشہر ہاشمی: بدلتے موسم کی آہٹ یا بدلتے آدمی کی صدا؟
تحریر ؀ رشیدہ منصوری، ہوڑہ

اشہر ہاشمی کے شعری مجموعے ’’بدلتے موسم کی آہٹ‘‘ کو صرف اس کے عنوان سے پڑھنا آسان بھی ہے اور خطرناک بھی۔ آسان اس لیے کہ ’’موسم‘‘ اردو شاعری کا ایک مانوس استعارہ ہے اور ’’تبدیلی‘‘ اس سے بھی زیادہ مانوس فکری حوالہ؛ خطرناک اس لیے کہ اگر ہم موسم کو صرف موسم، آہٹ کو صرف آہٹ اور تبدیلی کو محض زمانی تغیر سمجھ کر آگے بڑھ گئے تو اشہر ہاشمی کی شاعری کے اندر موجود اصل اضطراب ہماری گرفت سے نکل جائے گا۔ یہ مجموعہ دراصل موسم کے بدلنے سے زیادہ آدمی کے اندر موسم کے بدل جانے کی کتاب معلوم ہوتا ہے۔ یہاں باہر کی دنیا بدلتی ہے تو اندر کا آدمی بھی اپنی سابق شناخت، سابق تعلق، سابق یقین اور سابق معنویت سے محروم ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ موسم بدل رہا ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس بدلتے موسم میں آدمی خود کہاں کھڑا ہے؟
اشہر ہاشمی کی کتاب 1988ء میں سامنے آتی ہے، یعنی وہ زمانہ جب اردو شاعری میں جدید شہری تجربہ، سیاسی بے اطمینانی، تنہائی، شناخت کے بحران اور بدلتے ہوئے معاشرتی رشتوں کی کئی صورتیں پہلے ہی مضبوط ہو چکی تھیں۔ لیکن ہاشمی کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ بھی ’’جدید‘‘ ہونا چاہتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک طرف کلاسیکی غزل کی ساخت، قافیہ، ردیف اور شعری موسیقیت سے رشتہ قائم رہتا ہے اور دوسری طرف وہی غزل شہری زندگی، صنعتی ماحول، اجنبیت، شکستہ داخلی دنیا اور اجتماعی بے یقینی کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ریختہ پر موجود ان کی کتابوں کی فہرست بھی بتاتی ہے کہ ’’بدلتے موسم کی آہٹ‘‘ ان کے ابتدائی شعری سفر کا اہم پڑاؤ ہے، جب کہ بعد میں ’’زیاں کدے میں دوپہر‘‘ سامنے آتی ہے۔
لیکن کسی شاعر کو صرف اس کے عہد، شہر یا موضوعات سے سمجھنا تنقید نہیں، تعارف ہے۔ تنقید اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم یہ پوچھیں کہ شاعر نے جس تجربے کو بیان کیا ہے، کیا شعر واقعی اسے شعری تجربہ بنا سکا ہے؟ کیا ’’تنہائی‘‘ محض لفظ رہ گئی یا اس نے شعر کے اندر کوئی نئی کیفیت پیدا کی؟ کیا ’’شہر‘‘ صرف پس منظر ہے یا ایک زندہ کردار؟ کیا ’’محبوب‘‘ محض روایتی محبوب ہے یا بدلتے ہوئے انسانی رشتوں کا استعارہ؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ’’بدلتے موسم‘‘ کا اعلان عنوان میں ہے، کیا وہ واقعی شاعری کے اندر کوئی نئی معنوی فضا پیدا کرتا ہے؟
یہاں اشہر ہاشمی کی کامیابی بھی سامنے آتی ہے اور ان کی کمزوری بھی۔
ان کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ بڑے دعوے کے بجائے اکثر ایک نسبتاً سادہ تصویری صورت سے معنی پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
میری دنیا میں سمندر کا کہیں نام نہیں
پھر گھٹا پھینکتی ہے مجھ پہ یہ پتھر کیسے
یہ شعر اپنی ظاہری سادگی کے باوجود ہاشمی کے شعری مزاج کی اچھی نمائندگی کرتا ہے۔ ’’سمندر‘‘، ’’گھٹا‘‘ اور ’’پتھر‘‘ تین الگ تصویری سطحیں ہیں، مگر شاعر انہیں داخلی تجربے سے جوڑ دیتا ہے۔ جس دنیا میں سمندر نہیں، وہاں بادل سے پتھر برسنے کا سوال محض منطقی سوال نہیں رہتا؛ یہ اس آدمی کی حیرت ہے جس نے اپنی زندگی میں کسی بڑی وسعت، کسی بڑی نرمی یا کسی بڑی امید کو جگہ نہیں دی، مگر مصیبتیں پھر بھی اس پر برس رہی ہیں۔ یہاں موسم باہر نہیں، باطن میں پیدا ہوا ہے۔
اسی طرح:
وہیں کے پتھروں سے پوچھ میرا حالِ زندگی
میں ریزہ ریزہ ہو کے جس دیار میں بکھر گیا
یہاں ’’پتھر‘‘ صرف منظر کا حصہ نہیں رہتا بلکہ گواہ بن جاتا ہے۔ شاعر اپنے حال کا سوال انسانوں سے نہیں کرتا؛ پتھروں سے کرتا ہے۔ یہ تبدیلی اہم ہے۔ جس معاشرے میں انسان انسان کا حال نہ پوچھے، وہاں پتھر شاید زیادہ معتبر گواہ بن جاتے ہیں۔ لیکن اس شعر میں ’’ریزہ ریزہ‘‘ اور ’’بکھر گیا‘‘ کی کیفیت اگرچہ موثر ہے، مگر یہاں ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ شکستگی کا یہ استعارہ اردو غزل میں نیا نہیں۔ ہاشمی کی قوت اس بات میں ہے کہ وہ اسے ’’دیار‘‘ اور ’’پتھروں‘‘ کے ساتھ جوڑ کر اپنی شہری/مقامی فضا بناتے ہیں؛ مگر اسے بالکل بے مثال شعری دریافت قرار دینا بھی درست نہ ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعریف اور تنقید کے درمیان فاصلہ قائم رہتا ہے ہاشمی کے اشعار میں ایک اور اہم شعر ہے:
رہ گزر بھی تری پہلے تھی اجنبی
ہر گلی اب تری رہ گزر ہو گئی
یہ شعر بظاہر محبوب سے متعلق معلوم ہوتا ہے، مگر ’’ہر گلی‘‘ کی توسیع اسے ذاتی محبت سے نکال کر ایک وسیع تر شہری تجربے میں لے جاتی ہے۔ پہلے ایک راستہ اجنبی تھا، اب محبوب کی نسبت نے ہر گلی کو ایک خاص معنی دے دیا۔ یہاں محبت نقشۂ شہر بدل دیتی ہے۔ لیکن شعر کی اصل معنویت اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے ہاشمی کی دوسری شہری نظموں اور غزلوں کے ساتھ رکھا جائے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ شہر ان کے ہاں صرف مکانوں، سڑکوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں بلکہ یاد، اجنبیت اور شناخت کا ایک نفسیاتی جغرافیہ ہے۔
اسی شہری احساس کی ایک زیادہ واضح صورت اس غزل میں سامنے آتی ہے:
شور کیسا ہے مرے دل کے خرابے سے اٹھا
شہر جیسے کہ کوئی اپنے ہی ملبے سے اٹھا
یہاں ’’دل کا خرابہ‘‘ اور ’’شہر کا ملبہ‘‘ ایک دوسرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پہلے شعر میں شہر باہر تھا اور دل اندر؛ یہاں دونوں ایک ہی شکستگی کے دو نام بن جاتے ہیں۔ ’’شہر اپنے ہی ملبے سے اٹھا‘‘ ایک اہم ترکیب ہے کیونکہ اس میں تعمیر اور تباہی ایک ساتھ موجود ہیں۔ شہر اٹھ رہا ہے، مگر کس سے؟ اپنے ہی ملبے سے۔ یعنی ترقی بھی تباہی کی باقیات سے پیدا ہو رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہاشمی کی شاعری اپنے عنوان ’’بدلتے موسم‘‘ سے آگے بڑھ کر بدلتے ہوئے شہری انسان کی شاعری بننے لگتی ہے۔مگر اسی غزل میں ایک دوسری سطح بھی ہے:
تو مرے پاس نہیں ہوتا یہ سچ ہے لیکن
تری آواز پر ہر صبح میں سوتے سے اٹھا
یہاں محبت اور غیرحاضری کا روایتی مضمون موجود ہے، مگر ’’آواز‘‘ کو صبح کے عمل سے جوڑنے کے باعث ایک نفسیاتی کشش پیدا ہوتی ہے۔ محبوب جسمانی طور پر موجود نہیں، لیکن اس کی آواز شاعر کے روزمرہ وجود میں موجود ہے۔ یوں غیرحاضری بھی حاضری کی ایک شکل بن جاتی ہے۔ یہ خیال اردو غزل کے لیے نیا نہیں، مگر ہاشمی اسے اپنے شہری اور داخلی تجربے کے ساتھ اس طرح رکھتے ہیں کہ شعر محض عشقیہ بیان نہیں رہتا۔
اور پھر:
میری پہچان تعطل کے اندھیرے سے اٹھا
یہ مصرع ہاشمی کے پورے شعری مسئلے کو ایک لفظ میں سمیٹ دیتا ہے: پہچان۔ مگر پہچان موجود نہیں؛ اسے ’’اٹھانا‘‘ پڑتا ہے۔ تعطل کا اندھیرا محض مایوسی نہیں، شناخت کا رک جانا ہے۔ آدمی زندہ ہے مگر اس کا تعارف، اس کی حرکت، اس کا مقصد، سب کسی تعطل میں پڑ گئے ہیں۔
اسی لیے ’’بدلتے موسم‘‘ کا حقیقی مرکز موسم نہیں بلکہ شناخت کا بحران ہے۔
اشہر ہاشمی کا ایک شعر ہے:
اس سے ملنے کی طلب میں جی لیے کچھ اور دن
وہ بھی خود بیتے دنوں سے برسرِ پیکار تھی
یہاں ’’بیتے دنوں سے برسرِ پیکار‘‘ ایک قابلِ توجہ ترکیب ہے۔ محبوب صرف موجودہ لمحے میں موجود شخص نہیں؛ وہ اپنے ماضی سے لڑ رہی ہے۔ یوں محبت دو افراد کے درمیان تعلق نہیں رہتی بلکہ دو ماضیوں کے درمیان تصادم بن جاتی ہے۔ ’’طلب‘‘، ’’جی لیے کچھ اور دن‘‘ اور ’’بیتے دن‘‘—یہ سب وقت کو مرکزی کردار بنا دیتے ہیں۔ شاعر کے یہاں وقت گھڑی نہیں بلکہ ایک ایسا حریف ہے جس سے آدمی مسلسل لڑ رہا ہے۔یہی وقت بعد میں ایک دوسری غزل میں بھی اپنا وجود دکھاتا ہے:
رائیگاں جاتی ہوئی عمرِ رواں کی اک جھلک
تازیانہ ہے قناعت آشنا کردار پر
یہاں ’’عمر رواں‘‘ کا روایتی تصور ’’تازیانے‘‘ کے ساتھ جڑ کر زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ شاعر وقت کو صرف گزرنے والی چیز نہیں سمجھتا؛ وقت اپنے گزرنے سے انسان کے کردار پر ضرب لگاتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ہاشمی کبھی کبھی فارسی آمیز تراکیب اور مجرد الفاظ کے زیادہ استعمال سے شعر کو قدرے بھاری بنا دیتے ہیں۔ ’’قناعت آشنا کردار‘‘ جیسی ترکیب مفہوم پیدا کرتی ہے، مگر اس میں وہ فوری گرفت نہیں جو ’’دل کے خرابے‘‘ یا ’’اپنے ہی ملبے‘‘ جیسے شعری پیکروں میں محسوس ہوتی ہے۔یہ فرق ہاشمی کی شاعری کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ ان کے بہترین اشعار وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں خیال تصویر بن جاتا ہے؛ اور نسبتاً کمزور اشعار وہاں محسوس ہوتے ہیں جہاں خیال دوبارہ محض خیال رہ جاتا ہے۔
مثلاً:
زندگی کرنا وہ مشکل فن ہے اشہرؔ ہاشمی
جیسے کہ چلنا پڑے بجلی کے ننگے تار پر
یہ شعر فوری طور پر اثر کرتا ہے۔ ’’زندگی‘‘ کو ’’مشکل فن‘‘ کہنا ایک عام فکری بات ہو سکتی تھی، مگر ’’بجلی کے ننگے تار‘‘ کی تصویر اسے جسمانی خطرے میں بدل دیتی ہے۔ زندگی یہاں فلسفہ نہیں، ایک ایسا عمل ہے جس میں ہر قدم بجلی کا خطرہ رکھتا ہے۔ اس شعر میں شاعر نے زندگی کے بارے میں ایک تجریدی خیال کو جسمانی تجربے میں تبدیل کیا ہے۔ یہی شاعری کی کامیابی ہے۔
لیکن اسی شعر کی ایک حد بھی ہے: ’’زندگی مشکل ہے‘‘ کا مرکزی دعویٰ نیا نہیں۔ شعر کی طاقت دعویٰ میں نہیں، تشبیہ میں ہے۔ اگر ’’بجلی کے ننگے تار‘‘ نہ ہوتے تو شعر معمولی رہ جاتا۔ اس سے ایک اہم تنقیدی اصول نکلتا ہے: ہاشمی کی شاعری کو ان کے فلسفیانہ دعووں سے نہیں بلکہ ان دعووں کو شعری پیکر میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے پرکھنا چاہیے۔
اسی غزل میں ایک اور شعر ہے:
شب کے سناٹے ہی میں کرتا ہے سچی گفتگو
شہر اپنا دکھ سناتا ہے در و دیوار پر
یہاں ’’شہر‘‘ انسان بن جاتا ہے اور ’’در و دیوار‘‘ اس کی زبان۔ یہ ایک خوب صورت شہری استعارہ ہے۔ دن کا شہر شاید شور، کاروبار، آمدورفت اور ظاہری زندگی کا شہر ہے؛ رات کا شہر اپنے اصل دکھ کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ مگر اس شعر کی اصل اہمیت ’’شہر‘‘ کو موضوع بنانے میں نہیں، بلکہ شہر کی خاموشی کو زبان دینے میں ہے۔یہیں ہاشمی کی شاعری میں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے: وہ شور سے بھی شہر کو دیکھتے ہیں اور خاموشی سے بھی۔ ایک جگہ ’’شور‘‘ دل کے خرابے سے اٹھتا ہے؛ دوسری جگہ ’’سناٹا‘‘ شہر کی گفتگو بن جاتا ہے۔ گویا شہر کے دو چہرے ہیں—ایک ایسا جو چیختا ہے اور دوسرا ایسا جو خاموش رہ کر زیادہ کچھ کہتا ہے۔
اس شہری شعور کے پیچھے ہاشمی کا اپنا صنعتی شہر بھی موجود ہے۔ ان کی ایک غزل میں وہ کہتے ہیں:
اک بڑے صنعتی شہر میں ہاشمیؔ
برگِ آوارہ سا بے اماں کب نہ تھا
یہ شعر خاص طور پر قابلِ غور ہے، کیونکہ یہاں ’’صنعتی شہر‘‘ براہ راست آتا ہے۔ شاعر خود کو ’’برگِ آوارہ‘‘ کہتا ہے۔ درخت سے جدا ہوا پتّا اپنی جگہ نہیں رکھتا؛ ہوا اسے جہاں لے جائے، وہیں چلا جاتا ہے۔ صنعتی شہر میں انسان کا یہ ’’بے اماں‘‘ ہونا جدید شہری تجربے کا ایک اہم استعارہ بن جاتا ہے۔ لیکن یہاں پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ صرف شہر کا مسئلہ ہے یا شاعر کے وجود کا؟ اگر صرف شہر کا مسئلہ ہے تو شاعر ایک سماجی مبصر ہے؛ اگر یہ وجود کا مسئلہ ہے تو شاعر اپنے ہی وجود کی تحلیل بیان کر رہا ہے۔ ہاشمی کے اشعار کو ساتھ رکھیں تو دوسرا امکان زیادہ قوی محسوس ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں اجنبیت بار بار آتی ہے۔ ایک مکمل غزل کا آغاز ہی ہے:
اجنبیت تھی مگر خاموش استفسار پر
نام اس نے اک علامت میں لکھا دیوار پر
یہاں ’’اجنبیت‘‘ اور ’’استفسار‘‘ دو متضاد کیفیتیں نہیں بلکہ ایک ہی انسانی صورت کے دو رخ بن جاتے ہیں۔ اجنبی شخص سوال کرتا ہے مگر بولتا نہیں؛ نام بھی مکمل طور پر نہیں لکھتا بلکہ ’’علامت‘‘ میں لکھتا ہے۔ اس طرح شناخت پھر ایک بار رمز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔یہ غزل آگے چل کر ’’قلم‘‘ کو تلوار کا مقابل بناتی ہے:
دشمنوں کے درمیاں میرا محافظ ہے قلم
میں نے ہر تلوار روکی ہے اسی تلوار پر
یہاں شاعر کا خود شعوری پہلو سامنے آتا ہے۔ قلم صرف اظہار کا وسیلہ نہیں، دفاع کا ہتھیار بھی ہے۔ لیکن تنقید کا کام یہ نہیں کہ شاعر کے اس دعوے کو فوراً سچ مان لے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خود اس مجموعے کے اشعار میں قلم واقعی تلوار کی قوت پیدا کرتا ہے؟ بعض مقامات پر یقیناً؛ بعض جگہ نہیں۔ہاشمی کے بہترین اشعار میں زبان دفاعی نہیں بلکہ انکشافی ہے۔ وہ کسی نظریے کی تقریر نہیں کرتے بلکہ ایک کیفیت کا پردہ اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں وہ براہ راست فلسفیانہ بیان کی طرف جاتے ہیں وہاں شاعری قدرے کمزور پڑتی ہے، اور جہاں وہ تصویر، شہر، دیوار، پتھر، ملبہ، سایہ، آواز اور تار جیسے مادی پیکروں سے کام لیتے ہیں وہاں شعر زیادہ دیر تک ذہن میں رہتا ہے۔
ایک اور شعر دیکھیں:
ترا غرور جھک کے جب ملا مرے وجود سے
نہ جانے میری کمتری کا چہرہ کیوں اتر گیا
یہاں ’’غرور‘‘ اور ’’کمتری‘‘ کا تعلق روایتی محبوب و عاشق کی نفسیات سے جڑا ہوا ہے، لیکن ’’کمتری کا چہرہ اتر گیا‘‘ ایک دلچسپ داخلی الٹ پھیر ہے۔ عاشق محبوب کے غرور کے سامنے خود کو کمتر سمجھتا تھا، مگر جب وہ غرور جھک کر اس کے وجود سے ملا تو اس کی اپنی کمتری کا چہرہ اتر گیا۔ یعنی دوسرے کی بلندی کا زوال اپنی کم تری کے احساس کو بھی ختم کر دیتا ہے۔
یہ شعر بتاتا ہے کہ ہاشمی کے ہاں محبت صرف وصل و ہجر کی کہانی نہیں؛ محبت خودی اور کمتری کے درمیان طاقت کا کھیل بھی ہے۔لیکن مجموعے کی سب سے اہم جہت شاید اس کی خود کلامی ہے۔ شاعر اکثر دنیا کو دیکھتے ہوئے دراصل اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس کا شہر اس کا دل ہے، اس کا موسم اس کی کیفیت، اس کی گلیاں اس کی یادیں، اس کے پتھر اس کی شکست، اس کا سایہ اس کی شناخت اور اس کا سفر اس کا وجود۔
اسی لیے یہ شعر:
اشہرؔ کہیں قریب ہی تاریک غار ہے
جگنو کی روشنی کو وہیں چل کے چھوڑ دیں
ایک عجیب داخلی اشارہ رکھتا ہے۔ ’’غار‘‘ تاریکی کا استعارہ ہے اور ’’جگنو‘‘ روشنی کا۔ مگر شاعر روشنی کو غار کے باہر نہیں چھوڑتا؛ وہ اسے وہیں لے جانے کی بات کرتا ہے۔ یہاں مزاحمت کسی بڑے نعرے سے نہیں بلکہ ایک معمولی سی روشنی سے بنتی ہے۔ یہی ہاشمی کے مزاج کی ایک اہم خصوصیت ہے: اندھیرے کے مقابلے میں ان کا ہتھیار ہمیشہ سورج نہیں ہوتا؛ کبھی ایک جگنو بھی کافی ہوتا ہے۔
یہاں ’’بدلتے موسم‘‘ کا استعارہ دوبارہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔ موسم کی تبدیلی ہمیشہ انقلاب نہیں ہوتی۔ کبھی موسم صرف آہستہ آہستہ بدلتا ہے۔ پہلے ہوا بدلتی ہے، پھر بو بدلتی ہے، پھر روشنی کا زاویہ بدلتا ہے، پھر درختوں کی آواز بدلتی ہے، اور آخر میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ جو دنیا کل تھی، وہ آج نہیں رہی۔ ہاشمی کی شاعری میں بھی تبدیلی زیادہ تر آہٹ کی صورت میں آتی ہے، اعلان کی صورت میں نہیں۔
اسی لیے عنوان میں ’’آہٹ‘‘ شاید ’’موسم‘‘ سے بھی زیادہ اہم لفظ ہےموسم بدل چکا ہے یا نہیں، شاعر ہمیشہ یقین سے نہیں کہتا؛ وہ اس کے بدلنے کی آواز سنتا ہے۔ یہی شاعری کی بنیادی کیفیت ہے۔ شاعر واقعے کے بعد نہیں، واقعے سے پہلے کی لرزش کو پکڑتا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہاشمی کو صرف ’’موسمی شاعر‘‘ سمجھنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ان کے ہاں موسم انسانی تعلقات کے بدلنے کا نام ہے، شہر کے بدلنے کا نام ہے، آدمی کے اپنی ذات سے دور ہونے کا نام ہے، ماضی کے بوجھ کا نام ہے اور شناخت کے تعطل کا نام ہے۔لیکن تنقیدی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم کہیں کہ اس مجموعے میں ہر شعر اس سطح تک نہیں پہنچتا۔ کہیں کہیں ہاشمی روایتی غزل کے مانوس استعاروں—دل، شہر، رات، سفر، پتھر، سایہ، غار، روشنی، اجنبیت—پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یہ الفاظ اپنی پوری شعری تاریخ ساتھ لے کر آتے ہیں۔ ان سے نیا شعر بنانا آسان نہیں۔ ہاشمی کئی جگہ کامیاب ہوتے ہیں، لیکن بعض جگہ پرانا استعارہ صرف نئے جملے میں منتقل ہوتا ہے، نئی شعری دریافت میں نہیں۔
یہی اس مجموعے کا بنیادی تنقیدی مسئلہ ہے: شاعر کے پاس تجربہ نیا ہے یا صرف تجربے کی ترتیب نئی ہے؟
جہاں وہ ’’شہر اپنے ہی ملبے سے اٹھا‘‘ کہتے ہیں، وہاں تجربہ نئی تصویری صورت اختیار کرتا ہے۔ جہاں ’’بجلی کے ننگے تار‘‘ پر زندگی چلنے کا استعارہ آتا ہے، وہاں بھی شعر اپنی جسمانی شدت پیدا کرتا ہے۔ جہاں ’’برگِ آوارہ‘‘ صنعتی شہر میں بے اماں آدمی کا استعارہ بنتا ہے، وہاں ایک سماجی حقیقت شعری علامت بن جاتی ہے۔ لیکن جہاں صرف تنہائی، ماضی، ہجر، اجنبیت یا زندگی کی دشواری بیان ہوتی ہے، وہاں ہاشمی کبھی کبھی اسی بڑے ذخیرۂ غزل میں واپس چلے جاتے ہیں جس سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہی ان کے شعری سفر کا دلچسپ تضاد ہے: وہ روایت سے فرار نہیں چاہتے، مگر روایت کے اندر رہ کر اپنی الگ آواز بھی تلاش کرتے ہیں۔ان کی غزل کی ساخت بھی اسی کشمکش کی گواہ ہے۔ ردیف اور قافیہ کی پابندی انہیں ایک موسیقیت فراہم کرتی ہے، لیکن بعض جگہ یہی پابندی شعر کو مانوس ترکیبوں کی طرف دھکیلتی ہے۔ بہترین اشعار میں موسیقیت معنی کو آگے بڑھاتی ہے؛ کمزور اشعار میں موسیقیت صرف شعر کو مکمل کرتی ہے۔یہ فرق معمولی نہیں۔ غزل میں قافیہ پورا کرنا اور شعر مکمل کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ شاعر اگر صرف دوسرے مصرعے کو پہلے مصرعے کی منطقی تکمیل بنا دے تو شعر بیان رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر دوسرا مصرع پہلے مصرعے کے معنی کو اچانک دوسری سمت موڑ دے تو شعر پیدا ہوتا ہے۔ ہاشمی کے کئی کامیاب اشعار میں یہی ’’معنوی موڑ‘‘ موجود ہے۔
مثلاً:
میری دنیا میں سمندر کا کہیں نام نہیں
پھر گھٹا پھینکتی ہے مجھ پہ یہ پتھر کیسے
پہلا مصرع ایک دنیا بناتا ہے؛ دوسرا مصرع اس دنیا کے اصول توڑ دیتا ہے۔ یہی شعری حرکت ہے۔
اسی طرح:
شور کیسا ہے مرے دل کے خرابے سے اٹھا
شہر جیسے کہ کوئی اپنے ہی ملبے سے اٹھا
یہاں ’’دل‘‘ سے ’’شہر‘‘ کی طرف منتقلی شعر کو وسعت دیتی ہے۔
اور:
تو مرے پاس نہیں ہوتا یہ سچ ہے لیکن
تری آواز پر ہر صبح میں سوتے سے اٹھا
یہاں عدم موجودگی سے موجودگی پیدا ہوتی ہے۔
یہی ہاشمی کے شعری ہنر کی اصل جگہ ہے: وہ تضاد کو محض فکری سطح پر نہیں، مصرعے کی حرکت میں پیدا کرتے ہیں۔اگر ’’بدلتے موسم کی آہٹ‘‘ کو اسی زاویے سے پڑھا جائے تو اس کا مرکزی کردار خود شاعر نہیں بلکہ بدلتا ہوا آدمی ہے۔ وہ آدمی جو شہر میں رہتا ہے مگر شہر سے بے تعلق ہے؛ محبت کرتا ہے مگر ماضی سے آزاد نہیں؛ زندگی کرتا ہے مگر اسے بجلی کے ننگے تار پر چلنے جیسا محسوس کرتا ہے؛ قلم کو تلوار کہتا ہے مگر اس کے سامنے دشمنوں کی دنیا موجود ہے؛ روشنی چاہتا ہے مگر غار بھی اس کے قریب ہے؛ اور سب سے بڑھ کر، وہ اپنی شناخت کو مسلسل تلاش کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مجموعے کا عنوان آخرکار ایک سوال میں بدل جاتا ہے:بدلتے موسم کی آہٹ سنائی دے رہی ہے، مگر کیا آدمی بھی بدل رہا ہے؟ہاشمی کا جواب سیدھا نہیں۔ ان کی شاعری یہ نہیں کہتی کہ نیا آدمی پیدا ہو گیا۔ بلکہ زیادہ تر جگہ یہ احساس ملتا ہے کہ پرانا آدمی اپنی شکست، اپنی یاد، اپنی محبت، اپنی تنہائی اور اپنے شہر کے ملبے کے ساتھ نئے زمانے میں داخل ہو رہا ہے۔ تبدیلی یہاں نجات نہیں؛ ایک آزمائش ہے۔اور شاید یہی ’’بدلتے موسم‘‘ کی سب سے بڑی شعری معنویت ہے۔یہ مجموعہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ موسم بدل گیا۔ یہ ہمیں اس لمحے میں لے جاتا ہے جب آدمی کو پہلی بار شک ہوتا ہے کہ موسم بدل رہا ہے اور شاید وہ خود بھی وہ آدمی نہیں رہا جو کل تھا۔
اس اعتبار سے اشہر ہاشمی کی شاعری کا اصل مسئلہ ’’موسم‘‘ نہیں، تبدیلی کا انسانی تجربہ ہے۔ وہ تبدیلی جو باہر کی دنیا میں کم اور انسان کے اندر زیادہ رونما ہوتی ہے۔ ان کا شاعر کسی انقلاب کا مورخ نہیں؛ وہ تبدیلی کی ابتدائی چاپ سننے والا شاعر ہے۔اور شاید اسی لیے ’’آہٹ‘‘
اس عنوان کا سب سے خوب صورت لفظ ہے۔
کیونکہ آہٹ خبر نہیں ہوتی، امکان ہوتی ہے۔
موسم ابھی بدلا نہیں ہوتا، مگر ہوا کچھ کہہ رہی ہوتی ہے۔
شہر ابھی گرا نہیں ہوتا، مگر دیواروں پر دراڑیں آ چکی ہوتی ہیں۔آدمی ابھی ٹوٹا نہیں ہوتا، مگر اس کے اندر کوئی پرانا یقین ریزہ ریزہ ہو چکا ہوتا ہے۔اور شاعری شاید اسی لمحے پیدا ہوتی ہے۔جب واقعہ ابھی واقعہ نہیں بنا ہوتا، مگر اس کی آہٹ روح تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔اسی معنی میں اشہر ہاشمی کی ’’بدلتے موسم کی آہٹ‘‘ کو محض موسموں کی کتاب کہنا اس کے دائرۂ معنی کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ زیادہ درست طور پر بدلتے ہوئے آدمی کی داخلی سماعت کی کتاب ہے۔ اس میں کامیاب اشعار وہ ہیں جہاں موسم، شہر اور انسان ایک ہی علامتی نظام میں داخل ہو جاتے ہیں؛ اور کمزور اشعار وہ ہیں جہاں شاعر اسی تجربے کو براہِ راست بیان کرنے لگتا ہے جسے شعر میں دریافت ہونا چاہیے تھا۔ہاشمی کی اصل اہمیت اسی کشمکش میں ہے۔ وہ نہ پوری طرح روایت کے شاعر ہیں، نہ روایت سے باہر نکل جانے والے جدید شاعر۔ وہ روایت کے اندر کھڑے ہو کر اپنے زمانے کی شکستہ آواز سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی یہ کوشش محض خوب صورت شعر بن جاتی ہے، کبھی واقعی شعری دریافت۔ مگر جہاں دریافت ہوتی ہے، وہاں ان کی آواز صاف پہچانی جاتی ہے۔اور آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اشہر ہاشمی کے ہاں موسم بدلنے سے زیادہ آدمی کے بدلنے کی آہٹ ہے۔
موسم باہر بدلتا ہے۔
آدمی اندر۔
اور ہاشمی کی شاعری کی اصل جگہ یہی ’’اندر‘‘ ہے۔
یہ کتاب بدلتے موسم کی خبر کم، بدلتے آدمی کی گواہی زیادہ ہے۔
— رشیدہ منصوری، ہوڑہ

Related posts

مشتاق دربھنگوی کے اعزاز میں شعری نشست کا انعقاد

Paigam Madre Watan

बाल एवं किशोर मानसिक स्वास्थ्य पर तीन दिवसीय राष्ट्रीय सीआरई कार्यशाला सफलतापूर्वक आयोजित

Paigam Madre Watan

جمعیۃ علماء کے تربیتی اجلاس میں ہندو مسلم اتحاد اور باہمی اخوت کے فروغ پر زور  ملک کی مسموم فضا کو تبدیل کرنے کے لئے جمعیۃعلماء کے کارکنان آگے آئیں: مولانا سید اسجد مدنی

Paigam Madre Watan