جو جنگ ایران، اسرائیل کی مدد سے سعودی عرب پر مسلط نہ کر سکا
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
جو جنگ ایران اپنے دیرینہ دوست اسرائیل اور امریکہ کی مدد سے سعودی عرب پر مسلط نہ کر سکا اب ایسا لگتا ہے کہ حوثی باغیوں کی مدد سے بزدلانہ اور چھپے انداز میں اسے انجام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن پر امن اور سکون کے لئے ہمیشہ سے خواہش رکھنے والی عرب قوم اس جنگ کا جواب بڑے پرتپاک، اچھے اور انصاف پسندانہ طریقے سے حل کریں گے، ایسا تمام عالم کو اندازہ اور یقین کامل ہے، مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکہ، یمن اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے خطے کی سلامتی، توانائی کے عالمی نظام اور عام شہریوں کے مستقبل کے بارے میں کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے وقت میں سعودی عرب ایک ایسے جغرافیائی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جس کے اثرات صرف سعودی سرحدوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔ گزشتہ چند ماہ کے واقعات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کئی برس سے جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ جولائی 2026 میں تقریباً چار سال کی نسبتاً پرسکون صورتِ حال کے بعد حوثیوں نے سعودی سرزمین کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد سعودی تنصیبات، بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرات کا سامنا رہا۔ یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ محاذ آرائی کیوں بڑھی، بلکہ یہ بھی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بڑی طاقتوں کی باہمی کشمکش نے یمن کے بحران کو کس حد تک ایک وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل کر دیا ہے؟
حوثی تحریک کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور ایرانی حمایت کے بارے میں بین الاقوامی اداروں اور خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹس موجود ہیں۔ تاہم ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جو نورا کشی ہوئی اور ایران نے اپنے دشمنوں کی طرف سے دس فیصد میزائل داغے تو عرب ممالک کی جانب نوے فیصد سے زیادہ راکٹیں داغ کر کے اپنی غلط نیت کا ثبوت پہلے ہی دے دیا ہے، لہذا عالمی دباﺅ کے چلتے ایران نے سعودی عرب سے اپنی نظر بد تو ہٹا لی تھی، مگر منافقانہ چال چلتے ہوئے دوسری جانب یعنی حوثیوں کی مدد سے بلاد عرب اور امن و امان کے شہر مکہ مدینہ کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جو کہ لائق مذمت اور ایران کے ذلیل کاموں میں سے ایک شمار کیا جا سکتا ہے۔موجودہ حالات میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت نے سعودی عرب کے لیے خطرات کی نوعیت ضرور تبدیل کر دی ہے۔ ستمبر 2026 کی حالیہ رپورٹس کے مطابق حوثی یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر اہم علاقوں میں پیش قدمی کر چکے ہیں اور باب المندب کے قریب ان کی موجودگی نے خطے کی بحری سلامتی کو بھی متاثر کیا ہے۔یہ صورتحال اس اعتبار سے اہم ہے کہ باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر اس خطے میں مسلسل عدمِ استحکام برقرار رہتا ہے تو اس کا اثر سعودی عرب، یمن اور ایران سے نکل کر عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں تک پہنچ سکتا ہے۔سعودی عرب صرف ایک عام جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات کا مرکز ہے۔ اسی لیے سعودی سرزمین پر ہونے والی کوئی بھی فوجی کشیدگی معمول کے علاقائی تنازع سے کہیں زیادہ حساسیت رکھتی ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی حکام نے مکہ اور جدہ سمیت مختلف علاقوں میں سکیورٹی الرٹس جاری کیے۔ ان الرٹس کا مقصد عوام کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا تھا؛ ہر الرٹ کو کسی حملے کے کامیاب ہونے کے ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سلامتی کسی ایک حکومت یا ایک خطے کا معاملہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ اس لیے ان مقدس مقامات کو کسی بھی علاقائی جنگ یا طاقت کے مظاہرے کا میدان بنانا پوری امت اور عالمی برادری کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہوگا۔حالیہ واقعات سے کم از کم یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب کو ایک سے زیادہ سمتوں سے سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے۔ حوثیوں کے حملوں کے علاوہ خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے بھی سعودی عرب کے لیے سکیورٹی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق ستمبر میں حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی تنصیبات پر حملوں نے سعودی عرب کی توانائی کی برآمدات اور بحیرۂ احمر کے راستوں کے بارے میں نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔اس صورتِ حال میں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ سعودی عرب براہِ راست کسی ایک جنگ کا نہیں بلکہ متعدد باہم جڑے ہوئے علاقائی تنازعات اور مسابقتوں کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
سعودی عرب طویل عرصے سے امریکہ کا اہم علاقائی شراکت دار رہا ہے۔ لیکن موجودہ بحران میں واشنگٹن کا کردار بھی پیچیدہ نظر آتا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت نے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد کی خواہش ظاہر کی، جبکہ امریکہ نے براہِ راست حملوں کے بجائے انٹیلی جنس اور دیگر معاونت فراہم کرنے پر توجہ رکھی۔یہ تبدیلی اس بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ مستقبل میں خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کریں گے یا علاقائی سطح پر نئی سفارتی اور دفاعی حکمتِ عملی اختیار کریں گے۔ مشرقِ وسطیٰ کی ہر نئی جنگ کے ساتھ ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے: سیاسی اور عسکری فیصلوں کا سب سے بھاری بوجھ عام شہری اٹھاتے ہیں۔یمن پہلے ہی طویل جنگ، غربت، بے گھر ہونے اور انسانی بحران سے دوچار رہا ہے۔ موجودہ لڑائی میں دوبارہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے بے گھر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اے پی کے مطابق حالیہ کشیدگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔اس لیے کسی بھی فریق کی عسکری کامیابی سے زیادہ اہم سوال یہ ہونا چاہیے کہ جنگ کب ختم ہوگی اور خطے کے عام لوگوں کو امن کب ملے گا؟
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ صرف عسکری طاقت کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ جب سفارتی راستے بند ہوتے ہیں، مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور مختلف گروہوں کو علاقائی طاقتوں کے مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو ایک محدود تنازع کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔سعودی عرب، ایران، یمن اور خطے کے دوسرے ممالک کے درمیان اختلافات کا حل بالآخر مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے ہی تلاش کرنا ہوگا۔خاص طور پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سلامتی کو کسی بھی سیاسی، عسکری یا علاقائی تنازع سے مکمل طور پر محفوظ رکھنا پوری مسلم دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہیے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے کے ممالک ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے بجائے جنگ کے دائرے کو محدود کرنے کی کوشش کریں۔ ایران اور سعودی عرب سمیت تمام علاقائی طاقتیں اگر براہِ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تو اس کے مثبت اثرات صرف خلیج تک نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ جنگ کسی مسئلے کا آخری حل نہیں؛ جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہی کی میز پر واپس آنا پڑتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مذاکرات کی میز تک پہنچنے کے لیے مزید لاشوں، تباہ شدہ شہروں اور برباد ہوتی معیشتوں کا انتظار نہ کیا جائے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بڑھتے ہوئے علاقائی تنازعات نے ایک بار پھر سعودی عرب اور پورے خطے کے امن و استحکام کو تشویش ناک صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات کے حوالے سے پوری امتِ مسلمہ کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے ممالک اشتعال اور محاذ آرائی کے بجائے حکمت، تدبر، مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کریں۔بلادِ عرب امن، سلامتی اور بھائی چارے کی سرزمین بنے اور دشمنوں کی ہر بدنظر اور ہر سازش ناکام و نامراد ہو۔ اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب کو ہر اندرونی و بیرونی فتنے، جنگ، دہشت گردی اور بدامنی سے محفوظ فرمائے، مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی خصوصی حفاظت فرمائے، حرمین شریفین کو قیامت تک امن و سکون کا گہوارہ بنائے، وہاں آنے والے تمام حجاج و معتمرین اور زائرین کی حفاظت فرمائے، اور کسی بھی بدخواہ کو ان مقدس مقامات کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کی توفیق نہ دے۔رب کائنات سے دعا ہے کہ رب تعالیٰ! عالمِ اسلام کے تمام ممالک میں امن و استحکام عطا فرما، مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا فرما، ہر قسم کی نفرت، فساد اور خونریزی کا خاتمہ فرما، مظلوموں کی مدد فرما، بدخواہوں کی سازشوں کو انہی پر لوٹا دے، اور تمام انسانیت کو جنگ و تباہی کے بجائے امن، انصاف اور باہمی احترام کی راہ دکھا۔ آمین یا رب العالمین۔


