ادارہ ’قرطاس و قلم‘ کے زیر ِ اہتمام تعزیتی و شعری نشست کی پُر وقار محفل
ادبی تنظیم ’قرطاس و قلم‘ کے زیر ِ اہتمام 20 ستمبر 2026ء بروز اتوار، بعد نمازِ مغرب، جگتدل کے ایئر کنڈیشنڈ ’لطیفی ہال‘ میں ممتاز شاعر و ادیب مرحوم حاجی زمان قاسمی کی یاد میں ایک پُروقار محفل منعقد ہوئی۔ یہ محفل تین مراحل یعنی تعزیتی، دعائیہ اور شعری نشستوں پر مشتمل تھی۔ تقریب کی صدارت جناب عظیمؔ انصاری صاحب نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض علی شاہدؔ دلکش نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
اس پُروقار محفل میں ہریانہ (میوات) کے محترم تعریف احمد (مغربی بنگال میں مامور ڈویژنل اکاؤنٹنٹ آفیسر) اور جناب عارف انصاری (مدیر: پیغامِ نور) کی شرکت خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ تعزیتی نشست میں مدعو مقررین جناب نسیم آتش، طبیب نعمانی، ڈاکٹر وحید الحق علیگ، ڈاکٹر خورشید اقبال اور حاجی عبدالودود انصاری (سابق پرنسپل) نے مرحوم کے حیات و خدمات کے مختلف گوشوں پر سیر حاصل گفتگو کی نیز ان کی ادبی و شعری خدمات پر انھیں شاندار خراجِ عقیدت و تحسین پیش کیا۔ جناب طیب نعمانی نے مرحوم پر ایک سیمینار کروانے کی تجویز رکھی۔ ڈاکٹر وحید نے تحقیقی گفتگو کرتے ہوئے کچھ انکشافات بھی کیے۔ جناب نسیم آتش نے سماجی و ملی اعتبار سے مرحوم زماں صاحب کا خوب ادبی نقشہ کھینچا۔ حاجی عبدالودود نے واضح کیا کہ مرحوم مقامی طور پر حج کا سفرنامہ لکھنے والے اولین صاحبِ کتاب ہیں۔ خواجہ احمد حسین نے ورچولی کہا کہ بنگال کے اردو ادب میں زماں صاحب کو فراموش کرنا ناممکن ہے۔
نشست کے دوسرے مرحلے میں مولانا علی رضا علوی نے مرحوم حاجی زمان قاسمی کے لیے خصوصی دعائے مغفرت کرائی، جس میں تمام حاضرین نے اجتماعی طور پر رقت آمیز ماحول میں شرکت کی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور تمام شرکائے محفل کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔
بعد ازاں، تیسرے مرحلے میں شعری نشست کا آغاز ہوا، جس میں شمیم انجم وارثی، شرر راستی، احمد منیر، مولانا علی رضا علوی، بلند اقبال، نسیم اشک، سمیع الفت، علی شاہددلکش، میم عین لاڈلہ، سہیل نور، طیب نعمانی، فرحان صبیح اور انیسہ صابری کے علاوہ رشڑا سے تشریف لائے مہمان شعرائے کرام جمشید عادل، معراج بلندی، عمران رضا قادری اور رحمت رضوی سمیت تمام مدعو شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔ خصوصی طور ہندوستان گیر شہرت یافتہ شاعر شمیمؔ انجم وارثی کو حاضرین نے کئی کلام سنانے پر اصرار کیا۔ انھوں نے بھی اپنا رنگ خوب جمایا۔
تمام معزز مدعوین، مقررین اور شعرائے کرام کی صد فیصد اور بھرپور شرکت کے باعث یہ تعزیتی و شعری نشست انتہائی کامیاب اور یادگار رہی۔ بعد نمازِ مغرب شروع ہونے والی یہ محفل رات سوا دس بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔ تقریب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں صاحبِ مکان جاوید لطیفی، محمد امجد علی، مچمد صدرالدین اور محمد سعید خان وغیرہ پیش پیش رہے۔

