Blog

عالیہ یونیورسٹی کولکاتا میں مانو کے فاصلاتی نظام تعلیم پر قومی سمپوزیم

عالیہ یونیورسٹی کولکاتا میں مانو کے فاصلاتی نظام تعلیم پر قومی سمپوزیم

کولکاتا، 22 ستمبر (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، دور دراز، دیہی اور شہری علاقوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے ساتھ ڈیجیٹل تعلیم، ورچوئل کلاسز، اساتذہ کو بااختیار بنانے اور ہندوستانی زبانوں کے فروغ پر بھی توجہ دے رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار ، مانو نے کیا۔ وہ ”فاصلاتی و آن لائن تعلیم کے ذریعے نارساﺅں تک رسائی: وکست بھارت @2047 کی جانب پیش رفت“ کے موضوع پر قومی سمپوزیم سے خطاب کر رہے تھے۔ مانو کے مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم (CDOE)، علاقائی مرکز کولکاتا کے زیر اہتمام عالیہ یونیورسٹی، کولکاتا کے اشتراک سے عالیہ یونیورسٹی کے پارک سرکس کیمپس کے آڈیٹوریم میں سمپوزیم کا انعقاد عمل میں آیا۔ رجسٹرار مانو نے صدارتی خطاب میں فاصلاتی تعلیم کے نظام میں دستیاب لچک اور رسائی سے مؤثر استفادے پر زور دیا۔
سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے ڈائرکٹر مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم، مانو، پروفیسر محمد رضاءاللہ خان نے مانو کے فاصلاتی نظام تعلیم کی طلبہ مرکز سہولیات، معیاری خود تعلیمی مواد، تعلیمی رہنمائی، لرنر سپورٹ اور ورچوئل کلاسز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مانو جدید اور روزگار سے مربوط پروگراموں کے ذریعے اپنے فاصلاتی تعلیمی دائرۂ کار کو مزید وسعت دے رہا ہے۔
عالیہ یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر محمد عبدالخان نے مانو کی جانب سے فاصلاتی تعلیم کے فروغ کی ستائش کرتے ہوئے تعلیمی مواقع کو وسیع کرنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ سمپوزیم میں مانو کے کامیاب فاصلاتی تعلیم کے سابق طلبہ کو تہنیت بھی پیش کی گئی، جن میں ویسٹ بنگال سول سروس کے ایک گروپ ’اے‘ افسر سمیت ریلوے، محکمہ تعلیم اور دیگر شعبوں سے وابستہ سابق طلبہ شامل تھے۔
اس موقع پر عالیہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ اور ماہرین نے بھی خطاب کیا اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں مانو کے فاصلاتی نظام تعلیم کے کردار کو اجاگر کیا۔
سمپوزیم سے قبل مانو کے لرنر سپورٹ سنٹرز (LSCs) کے کوآرڈینیٹرس کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں کولکاتا کے تمام نو لرنر سپورٹ سنٹرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں داخلہ عمل کو مؤثر بنانے، تعلیمی رسائی بڑھانے اور اردو داں طبقے تک مانو کے فاصلاتی پروگراموں کی وسیع تر رسائی کے لیے حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سمپوزیم میں مانو اور عالیہ یونیورسٹی کے درمیان مشترکہ تعلیمی اقدامات، علمی اشتراک اور رسائی کی سرگرمیوں کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پروگرام میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور وکست بھارت @2047 کے مقاصد کے حصول کے لیے لچکدار اور طلبہ مرکوز تعلیمی طریقۂ کار کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

Related posts

جامعہ سلفیہ بنارس کے ہونہار فرزند ڈاکٹر مسعود عالم السلفی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مستقل اسسٹنٹ پروفیسر مقرر

Paigam Madre Watan

جامعہ سلفیہ میں نصابی تبدیلیاں اور علمی روایت کا تحفظ ۔ کتابوں کے اخراج کے تناظر میں چند معروضی گزارشات

Paigam Madre Watan

شریعت کی روشنی میں وراثت کے تنازع کا عادلانہ تصفیہ

Paigam Madre Watan