حیدر آبادی زمین مافیاﺅں کا سپریم کورٹ میں گمراہ کن اپیل
ہیرا گروپ و ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی جائیدادوں کو قبضہ کرنے کی کوشش
دہلی / حیدر آباد(رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) کرۂ ارض خصوصا بھارت کی سرزمین پر حیدر آباد زمین مافیائی کیلئے معروف و مشہور ہے، یہاں کے لیڈران اور آفیسران اپنے عہدے کے مطابق مظلوموں اور خالی پڑی جیسے وقف کی زمینوں پر اپنا خونی پنجہ آزمائی کرتے رہے ہیں، انہیں معاملات میں ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی درجنوں زمین اور جائیدادوں پر سرکاری اور بارسوخ افراد نے قبضہ کر لیا، مذکورہ معاملہ بھی اسی طرح کا ایک ہے، سید اختر ایس اے بلڈر نے ہیرا گروپ کی ٹولی چوکی جائیدادوں پر اس وقت قبضہ کر لیا جب ہیرا گروپ سی ای او زیر حراست تھیں، آج انہیں شاطرانہ چالوں کو لے کر سید اختر ایس اے بلڈر نے سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ سید اختر کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ زمین مافیاﺅں نے 75سال پہلے کے دستاویزات پیش کئے ہیں، اور زمین مافیاﺅں نے دوسرا حوالہ جس بات کا دیا ہے وہ لمحہ اس وقت کا ہے جب ہیرا گروپ کے معاملات میں الجھنے کے بعد کا ہے اور انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی ) نے اپنے بورڈ چسپاں کئے ہیں، ظاہر سی بات ہے ای ڈی کسی دوسرے کی جائیداد پر بورڈ کیوں چسپاں کرے گی؟ اور دوسری سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہیرا گروپ نے ان جائیدادوں کو خریدتے وقت جتنے چیک، ڈی ڈی اور آر ٹی جی ایس وغیرہ کا ثبوت سب عدالت میں جمع کرا دئے ہیں، لیکن ان سب کے باوجود حیدر آبادی زمین مافیاﺅں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ اپنے قبضہ میں زمینوں کو لینے کیلئے ہر ناکام کوشش کر رہے ہیں یہاں تک کہ سپریم کورٹ جیسی عدالت علیہ کو بھی گمراہ کرنے سے باز نہیں آتے۔
تفصیل کے مطابق ہیرا گروپ آف کمپنیز اور اس کے سرمایہ کاروں سے متعلق جاری قانونی کارروائیوں کے درمیان سپریم کورٹ آف انڈیا میں 13 ستمبر 2026 کو دائر ایک درخواست نے جائیدادوں کی منسلکی، ملکیت کے حقوق اور عدالتی کارروائیوں کے حوالے سے کئی اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ سید محمد اور دیگر نو درخواست گزاروں کی جانب سے دائر اس درخواست میں حیدرآباد کے علاقے ٹولی چوکی، شیخ پیٹ میں تقریباً سات ایکڑ زمین کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی منسلکی سے آزاد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور ان سے متعلق اداروں پر اہم حقائق چھپانے اور عدالت کو گمراہ کرنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم، ایک بنیادی قانونی اصول یہ ہے کہ کسی درخواست میں لگائے گئے الزامات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان دعووں کی جانچ متعلقہ دستاویزات، سابقہ عدالتی احکامات اور تمام فریقوں کے مؤقف کی روشنی میں ہونی چاہیے۔
دستاویز کے مطابق درخواست گزار تقریباً 35 ہزار مربع گز زمین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ 1959 کی ابتدائی عدالتی ڈگری، 2018 میں سول مقدمے کے فیصلے اور مارچ 2019 میں قبضہ ملنے کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ملکیتی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے زمین منسلک کی گئی۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر درخواست گزاروں کے پاس واقعی متعلقہ زمین کی ملکیت اور قبضے کے مستند قانونی شواہد موجود ہیں تو ان کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر معاملے کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ متعلقہ جائیداد کا ہیرا گروپ سے وابستہ مبینہ مالی معاملات کے ساتھ قانونی تعلق کیا ہے اور اس سلسلے میں ای ڈی کے پاس کیا مواد موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر متنازع جائیداد کو بلاامتیاز فروخت کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر جائیداد کی ملکیت، قانونی حیثیت اور فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال کا تعین قانون کے مطابق ہو۔
درخواست کے پیراگراف 7 اور 8 میں الزام لگایا گیا ہے کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور متعلقہ فریقوں نے زمین سے متعلق سابقہ کارروائیوں کا مکمل انکشاف نہیں کیا۔ درخواست گزاروں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حقوق کو نقصان پہنچا اور متعلقہ کارروائیوں میں ان کے مؤقف کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ لیکن کسی فریق کے الزام کو بلا تحقیق شائع کرنا اور اسے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا ذمہ دارانہ صحافت نہیں۔ اس معاملے میں ضروری ہے کہ درخواست گزاروں کے دعووں کے ساتھ ڈاکٹر نوہیرا شیخ، ہیرا گروپ اور ای ڈی کا مؤقف بھی سامنے لایا جائے، نیز ان عدالتی احکامات کا جائزہ لیا جائے جن کا درخواست میں حوالہ دیا گیا ہے۔ محض الزامات کی بنیاد پر کسی فریق کو مجرم قرار دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسی طرح، صرف ہیرا گروپ کی حمایت کی بنیاد پر کسی بھی قانونی اعتراض کو بے بنیاد قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ہیرا گروپ سے متعلق قانونی کارروائیوں میں سرمایہ کاروں کے مفادات ایک بنیادی انسانی اور مالیاتی مسئلہ ہیں۔ سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے دعووں کی جانچ کب ہوگی، قانونی طور پر دستیاب اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا حساب کس طرح رکھا جائے گا اور رقم کی واپسی کے لیے کیا شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ ٹولی چوکی کی زمین سے متعلق موجودہ درخواست میں سرمایہ کاروں کی رقم کی واپسی کا براہِ راست حکم بنیادی استدعا نہیں ہے۔ لہٰذا اس درخواست کو سرمایہ کاروں کی رقم کی واپسی کا فیصلہ سمجھنا بھی غلط ہوگا اور اسے تمام سرمایہ کاروں کے حقوق کے خلاف حتمی فیصلہ قرار دینا بھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ حکام اثاثوں کی شناخت، ملکیت کے تنازعات، فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور سرمایہ کاروں کے دعووں کے درمیان واضح قانونی ربط سامنے لائیں۔ جہاں کسی جائیداد پر تیسرے فریق کا حقیقی اور مستند حق موجود ہو، وہاں اس کا تحفظ بھی ضروری ہے؛ اور جہاں قانوناً اثاثے سرمایہ کاروں کے جائز دعووں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہوں، وہاں غیر ضروری تاخیر سے بچنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
ہیرا گروپ و ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی جائیدادوں کو قبضہ کرنے کی کوشش
دہلی / حیدر آباد(رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) کرۂ ارض خصوصا بھارت کی سرزمین پر حیدر آباد زمین مافیائی کیلئے معروف و مشہور ہے، یہاں کے لیڈران اور آفیسران اپنے عہدے کے مطابق مظلوموں اور خالی پڑی جیسے وقف کی زمینوں پر اپنا خونی پنجہ آزمائی کرتے رہے ہیں، انہیں معاملات میں ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی درجنوں زمین اور جائیدادوں پر سرکاری اور بارسوخ افراد نے قبضہ کر لیا، مذکورہ معاملہ بھی اسی طرح کا ایک ہے، سید اختر ایس اے بلڈر نے ہیرا گروپ کی ٹولی چوکی جائیدادوں پر اس وقت قبضہ کر لیا جب ہیرا گروپ سی ای او زیر حراست تھیں، آج انہیں شاطرانہ چالوں کو لے کر سید اختر ایس اے بلڈر نے سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ سید اختر کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ زمین مافیاﺅں نے 75سال پہلے کے دستاویزات پیش کئے ہیں، اور زمین مافیاﺅں نے دوسرا حوالہ جس بات کا دیا ہے وہ لمحہ اس وقت کا ہے جب ہیرا گروپ کے معاملات میں الجھنے کے بعد کا ہے اور انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی ) نے اپنے بورڈ چسپاں کئے ہیں، ظاہر سی بات ہے ای ڈی کسی دوسرے کی جائیداد پر بورڈ کیوں چسپاں کرے گی؟ اور دوسری سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہیرا گروپ نے ان جائیدادوں کو خریدتے وقت جتنے چیک، ڈی ڈی اور آر ٹی جی ایس وغیرہ کا ثبوت سب عدالت میں جمع کرا دئے ہیں، لیکن ان سب کے باوجود حیدر آبادی زمین مافیاﺅں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ اپنے قبضہ میں زمینوں کو لینے کیلئے ہر ناکام کوشش کر رہے ہیں یہاں تک کہ سپریم کورٹ جیسی عدالت علیہ کو بھی گمراہ کرنے سے باز نہیں آتے۔
تفصیل کے مطابق ہیرا گروپ آف کمپنیز اور اس کے سرمایہ کاروں سے متعلق جاری قانونی کارروائیوں کے درمیان سپریم کورٹ آف انڈیا میں 13 ستمبر 2026 کو دائر ایک درخواست نے جائیدادوں کی منسلکی، ملکیت کے حقوق اور عدالتی کارروائیوں کے حوالے سے کئی اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ سید محمد اور دیگر نو درخواست گزاروں کی جانب سے دائر اس درخواست میں حیدرآباد کے علاقے ٹولی چوکی، شیخ پیٹ میں تقریباً سات ایکڑ زمین کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی منسلکی سے آزاد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور ان سے متعلق اداروں پر اہم حقائق چھپانے اور عدالت کو گمراہ کرنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم، ایک بنیادی قانونی اصول یہ ہے کہ کسی درخواست میں لگائے گئے الزامات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان دعووں کی جانچ متعلقہ دستاویزات، سابقہ عدالتی احکامات اور تمام فریقوں کے مؤقف کی روشنی میں ہونی چاہیے۔
دستاویز کے مطابق درخواست گزار تقریباً 35 ہزار مربع گز زمین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ 1959 کی ابتدائی عدالتی ڈگری، 2018 میں سول مقدمے کے فیصلے اور مارچ 2019 میں قبضہ ملنے کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ملکیتی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے زمین منسلک کی گئی۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر درخواست گزاروں کے پاس واقعی متعلقہ زمین کی ملکیت اور قبضے کے مستند قانونی شواہد موجود ہیں تو ان کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر معاملے کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ متعلقہ جائیداد کا ہیرا گروپ سے وابستہ مبینہ مالی معاملات کے ساتھ قانونی تعلق کیا ہے اور اس سلسلے میں ای ڈی کے پاس کیا مواد موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر متنازع جائیداد کو بلاامتیاز فروخت کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر جائیداد کی ملکیت، قانونی حیثیت اور فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال کا تعین قانون کے مطابق ہو۔
درخواست کے پیراگراف 7 اور 8 میں الزام لگایا گیا ہے کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور متعلقہ فریقوں نے زمین سے متعلق سابقہ کارروائیوں کا مکمل انکشاف نہیں کیا۔ درخواست گزاروں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حقوق کو نقصان پہنچا اور متعلقہ کارروائیوں میں ان کے مؤقف کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ لیکن کسی فریق کے الزام کو بلا تحقیق شائع کرنا اور اسے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا ذمہ دارانہ صحافت نہیں۔ اس معاملے میں ضروری ہے کہ درخواست گزاروں کے دعووں کے ساتھ ڈاکٹر نوہیرا شیخ، ہیرا گروپ اور ای ڈی کا مؤقف بھی سامنے لایا جائے، نیز ان عدالتی احکامات کا جائزہ لیا جائے جن کا درخواست میں حوالہ دیا گیا ہے۔ محض الزامات کی بنیاد پر کسی فریق کو مجرم قرار دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسی طرح، صرف ہیرا گروپ کی حمایت کی بنیاد پر کسی بھی قانونی اعتراض کو بے بنیاد قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ہیرا گروپ سے متعلق قانونی کارروائیوں میں سرمایہ کاروں کے مفادات ایک بنیادی انسانی اور مالیاتی مسئلہ ہیں۔ سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے دعووں کی جانچ کب ہوگی، قانونی طور پر دستیاب اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا حساب کس طرح رکھا جائے گا اور رقم کی واپسی کے لیے کیا شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ ٹولی چوکی کی زمین سے متعلق موجودہ درخواست میں سرمایہ کاروں کی رقم کی واپسی کا براہِ راست حکم بنیادی استدعا نہیں ہے۔ لہٰذا اس درخواست کو سرمایہ کاروں کی رقم کی واپسی کا فیصلہ سمجھنا بھی غلط ہوگا اور اسے تمام سرمایہ کاروں کے حقوق کے خلاف حتمی فیصلہ قرار دینا بھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ حکام اثاثوں کی شناخت، ملکیت کے تنازعات، فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور سرمایہ کاروں کے دعووں کے درمیان واضح قانونی ربط سامنے لائیں۔ جہاں کسی جائیداد پر تیسرے فریق کا حقیقی اور مستند حق موجود ہو، وہاں اس کا تحفظ بھی ضروری ہے؛ اور جہاں قانوناً اثاثے سرمایہ کاروں کے جائز دعووں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہوں، وہاں غیر ضروری تاخیر سے بچنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

