جذباتی نعروں سے نہیں، سیاسی بصیرت سے مستقبل سنورے گا: عبدالحمید نعمانی
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
حضرت مولاناعبد الحمید نعمانی جو موجودہ وقت کے عظیم مفکر و مدبر شخصیت کے مالک ہیں، اور سیاسی بصیرت اور دور اندیشی ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک تحریر نقل کی ہے جو کافی مقبولیت حاصل کر رہی ہے، اس کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کیلئے اور عوامی مفاد وخدمت میں پیش کرنے کیلئے یہ مضمون تیار کیا جا رہا ہے، جناب مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب لکھتے ہیں کہ جذباتی نعروں سے نہیں، سیاسی بصیرت اور تعلیمی و معاشی استحکام سے ملت کا مستقبل سنورے گا، مسلمانوں کو جذباتی سیاست کے دائرے سے نکل کر اپنے حقیقی مسائل، اجتماعی مفادات اور مستقبل کی تعمیر پر توجہ دینی ہوگی، انہوں نے کہا کہ بہت سی باتیں آسان اور سامنے کی ہوتی ہیں لیکن جذبات اور نشے میں آدمی ان کو سمجھ نہیں پاتا، اگر فرقہ پرست اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے راجا سنگھ کے خلاف اپنے شہر میں ہی امید وار کھڑا نہ کیا جائے اور دوسری ریاستوں میں جہاں سے مسلم امید وار منتخب ہوتے رہے ہیں وہاں امید وار کھڑے کیے جائیں تو کھیل کو سمجھنا بہت آسان ہوتا ہے، اس پالیسی کی ہم بہت پہلے سے ملک و ملت کے حق میں مخالفت کرتے رہے ہیں، یہ اب بہت سے لوگوں حتی کہ گھر کے افراد کو بھی سمجھ میں آنے لگا ہے، نام کٹنے پر پورا ملک حرکت میں ہے لیکن اپنی قیادت کا نعرہ لگانے والے مسلمانوں کے نام پر اپنی قیادت باقی رکھنے کے لیے باتوں کو گھمانے میں لگے ہوئے ہیں، موجودہ حالات میں یہ کہنا سراسر نا سمجھی اور ہندوتوا وادیوں کی موافقت ہے کہ مسلمانوں کو گاندھی، نہرو کی ضرورت نہیں ہے، وہ جانتے ہیں کہ مسلمان چند جذباتی اور فرقہ واریت پر مبنی جملے سے خوش ہو جاتے ہیں مسائل کا حل ضروری نہیں ہے، آج کی تاریخ میں مسلم ملت کو سیاست بازی میں زیادہ نہیں پڑنا چاہیے، علاقے ریاست میں جو غیر فرقہ پرست پارٹی سرکار بنانے یا اپوزیشن میں رہنے کے قابل نظر آئے اس کے امیدوار کو ووٹ دے کر زیادہ توجہ اپنی اقتصادی وتعلیمی اور نظریاتی حالت بہتر بنانے پر دینا چاہیے۔ سیاست میں بہت سی حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو نہایت واضح، آسان اور سامنے کی ہوتی ہیں، لیکن جب انسان جذبات، تعصب، شخصیت پرستی اور وقتی نعروں کے نشے میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ ان حقیقتوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ یہی صورت حال آج ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کے حوالے سے بھی بڑی حد تک دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کے ووٹ، ان کی قیادت، ان کے حقوق اور ان کی سیاسی نمائندگی کے نام پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، تو دوسری طرف یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ان دعووں سے ملت کی تعلیمی، معاشی اور سماجی زندگی میں حقیقی تبدیلی کتنی آئی ہے؟
اگر کوئی سیاسی جماعت واقعی فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیتی ہے تو اس کی سیاسی حکمت عملی میں اس اصول کا عملی اظہار بھی ہونا چاہیے۔ تلنگانہ کے متنازع بیانات دینے والے بی جے پی رہنما راجا سنگھ کے خلاف اسی شہر اور علاقے میں موثر انتخابی مقابلہ کھڑا کرنے کے بجائے دوسری ریاستوں میں، جہاں سے مسلم امیدوار منتخب ہوتے رہے ہیں، امیدوار کھڑے کرنے کی حکمت عملی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ یہ سوال کسی ایک جماعت یا رہنما کی مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ سیاسی ترجیحات کا جائزہ لینے کے لیے ہے۔ اگر فرقہ پرستی کے خلاف انتخابی جدوجہد ضروری ہے تو اس کا مرکز وہ علاقے بھی ہونے چاہییں جہاں فرقہ وارانہ سیاست کے اثرات براہ راست محسوس کیے جاتے ہیں۔ محض دوسرے علاقوں میں انتخابی سرگرمیاں بڑھانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد موثر ہو رہی ہے۔ راجا سنگھ کے متنازع بیانات، بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے بیانات، کے خلاف قانونی اور جمہوری جدوجہد ہر اس شخص کا حق ہے جو آئین، مذہبی احترام اور سماجی ہم آہنگی پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں سے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ ان کی انتخابی ترجیحات ان کے اعلانات سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہیں۔کسی سیاسی جماعت کے فیصلے کا جائزہ اس کے نعروں سے نہیں، بلکہ اس کی عملی حکمت عملی، انتخابی ترجیحات اور عوام کو حاصل ہونے والے نتائج سے لیا جانا چاہیے۔
مسلمانوں کو اپنی قیادت کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ہر طبقے کو اپنے درمیان سے اہل، دیانت دار اور باصلاحیت نمائندے منتخب کرنے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اپنی قیادت کا تصور اسی وقت بامعنی ہوتا ہے جب قیادت عوام کے مسائل حل کرنے، ان کی تعلیمی و معاشی حالت بہتر بنانے، آئینی حقوق کے تحفظ اور سیاسی شعور پیدا کرنے میں موثر کردار ادا کرے۔ اگر قیادت کا بنیادی مقصد صرف اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنا، اپنی جماعت کا دائرہ بڑھانا اور ہر مسئلے کو اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق پیش کرنا بن جائے تو پھر اس پر سوال اٹھانا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ ملت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی قیادت نے تعلیم، روزگار، کاروبار، صحت، سماجی تحفظ اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے کیا عملی منصوبے پیش کیے ہیں۔ کتنے تعلیمی ادارے مضبوط ہوئے؟ کتنے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع ملے؟ کتنے خاندان غربت سے نکلے؟ کتنے علاقوں میں مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی؟ اور کتنے منتخب نمائندوں نے پارلیمنٹ، اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں عوامی مسائل کو مستقل بنیادوں پر اٹھایا؟ ان سوالات کا جواب محض جذباتی تقریروں سے نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے لیے اعداد و شمار، زمینی حقائق اور عملی کارکردگی درکار ہے۔
ووٹ کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے۔ اگر کسی اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ سے غلط طور پر حذف ہو جائے تو یہ محض انتظامی غلطی نہیں، بلکہ اس شہری کی جمہوری شرکت کو متاثر کرنے والا معاملہ ہے۔ ایسے ہر معاملے کی نشاندہی، قانونی اصلاح اور متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلا اور شہریوں کو متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔ موجودہ حالات میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور ناموں کے اخراج کے معاملے پر ملک کے مختلف حصوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس تشویش کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی دستاویزی جانچ، متاثرہ افراد کی فہرست سازی، متعلقہ حکام سے رجوع اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔ یہاں ایک بنیادی سوال بھی اہم ہے: جب شہریوں کے ووٹ کے تحفظ کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو کیا تمام سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی ضرورتوں سے بالاتر ہو کر اس پر یکساں سنجیدگی دکھاتی ہیں؟ کیا مسلمانوں کے ووٹ اور ان کے جمہوری حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی جاتی ہے، یا اسے بھی سیاسی فائدے اور نقصان کے حساب سے دیکھا جاتا ہے؟ مسلمانوں کو کسی بھی جماعت کی نیت کے بارے میں صرف دعووں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں ہر جماعت کی عملی کارکردگی، قانونی جدوجہد اور عوامی مسائل کے حل میں اس کے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔
یہ کہنا کہ مسلمانوں کو گاندھی اور نہرو کی ضرورت نہیں، موجودہ سیاسی حالات میں ایک ایسی بحث کو جنم دیتا ہے جس سے ملت کے اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو ہندوستان کی تاریخ، آزادی کی جدوجہد اور ملک کے سیاسی و آئینی ارتقا کی اہم شخصیات ہیں۔ ان کی سیاست، نظریات اور فیصلوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن تاریخ کو چند جذباتی جملوں میں محدود کر دینا سیاسی بصیرت نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آج کے مسلمان کو گاندھی یا نہرو کی ضرورت ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان کو آئینی حقوق، مذہبی آزادی، مساوی شہریت، معیاری تعلیم، روزگار، معاشی خودمختاری اور سماجی تحفظ کی کتنی ضرورت ہے۔ اگر کوئی سیاسی رہنما گاندھی اور نہرو کے ناموں کو مسترد کر کے عوامی جذبات کو متحرک کرتا ہے تو اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس کے پاس ان مسائل کے حل کے لیے کیا متبادل پروگرام ہے۔ تاریخ کی شخصیات کے بارے میں سخت جملے بولنا آسان ہے، لیکن نوجوانوں کو بہتر تعلیم، بے روزگاروں کو روزگار، غریب خاندانوں کو معاشی تحفظ اور شہریوں کو انصاف فراہم کرنا کہیں زیادہ مشکل اور اہم کام ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو شخصیات کے نام پر ہونے والی جذباتی کشمکش کے بجائے ان اصولوں اور حقوق پر توجہ دینی چاہیے جو ان کے محفوظ، باوقار اور ترقی یافتہ مستقبل کی بنیاد ہیں۔
سیاسی تقریروں میں مذہبی شناخت، فرقہ وارانہ کشیدگی اور تاریخی شخصیات کے ناموں کا استعمال فوری توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ ایسے بیانات پر تالیاں بھی بج سکتی ہیں، سوشل میڈیا پر مقبولیت بھی مل سکتی ہے اور سیاسی کارکنوں میں جوش بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس سے عوام کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں۔ کسی بیان کی مقبولیت اس کی افادیت کا ثبوت نہیں ہوتی۔ اسی طرح کسی رہنما کی جارحانہ زبان اس کی سیاسی قوت یا ملت کے لیے اس کی خدمات کا حتمی معیار نہیں بن سکتی۔ مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انتخابی سیاست میں ان کا ووٹ ایک قیمتی جمہوری طاقت ہے۔ اس طاقت کو صرف جذباتی نعروں، شخصی وفاداریوں اور وقتی سیاسی جوش کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ ووٹ کا استعمال ایسے امیدواروں اور جماعتوں کے حق میں ہونا چاہیے جو آئین، شہری مساوات، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، تعلیم، روزگار اور معاشی ترقی کے حوالے سے قابلِ اعتبار کارکردگی دکھا سکیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان اپنی سیاسی شناخت ختم کر دیں یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا چھوڑ دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی شناخت کو عملی ترقی، دانش مندی اور اجتماعی مفاد کے تابع رکھا جائے۔

